غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کا جال


غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کا جال

منصور مہدی
لاہور کی 140غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں میں شہریوں کے اربوں روپے ڈوب گئے جبکہ سرکاری اداروںکے ذمہ دار افسروں نے اپنا حصہ لے کرخاموشی اختیار کر لی۔ لاہور کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ جہاں پر سرکاری ہاﺅسنگ سکیمیں بن رہی ہیں وہی پر نجی ادارے بھی اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ شہر اور اس کے گردونواح میں353 ہاوسنگ سکیمیں موجود ہیں۔جن میں سے کثیر تعداد میںلینڈ مافیا اور قبضہ مافیا نے ضرورت مند اور سادہ لوح شہریوں کو سستے پلاٹ اور گھروں کا لالچ دے کر لوٹا جا رہا ہے۔جبکہ ہاﺅسنگ سکیموں کی جانچ پڑتال کرنے والے ترقیاتی ادراے لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کرنے میںبے بس نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لینڈ مافیا کو ترقیاتی اداروں کے بعض کرپٹ افسروں کی پشت پناہی حا صل ہوتی ہے۔اگرچہ حکومت پنجاب نے ایسی ہاﺅسنگ سکیموں کے مالکان کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے جبکہ متاثرین کو ازالے کے لیے ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو لاہورکے دفتر میں شکایات درج کرانے کو کہا گیا ہے۔
پراپرٹی کے کام سے منسلک محمداحمد ان140غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں میں شہریوں کو لوٹنے کے طریقہ کار کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے پیشتر ایسی سکیمیں ہیں کہ جو80کی دہائی میں بنائی گئی تھیں اور سینکڑوں افراد نے ان میں 5۔10مرلہ اور ایک کنال کے پلاٹ لاکھوں روپے میں بک کروائے تھے۔ مگر ان میں سے بیشتر ابھی بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں اور جبکہ بیشتر سکیموں کے کرتا دھرتا غائب ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں سے بیشتر سکیمیں ایسی ہیں کہ جہاں پر اگر ایک ہزار پلاٹ تھے تو سکیم انتظامیہ نے تین ہزار افراد سے رقم وصول کر لی۔ جیسا کہ بنکرز سٹی ہاﺅسنگ سکیم میں ہوا کہ جہاں پر 4 ہزار پلاٹ کے لئے 20 ہزار درخواستیں وصول کی گئی۔ جبکہ کچھ ایسی سکیمیں ہیں کہ جنہوں نے زمین خریدے بغیر ہی سکیم کا اعلان کر دیا اور بکنگ شروع کر دی جبکہ وہ زمین کے حصول میں ناکام رہیں اور شہریوں کی رقم ڈوب گئی۔ ان میں سے کچھ ایسی سکیمیں ہیں کہ جو قانونی طریقہ کار کے مطابق رجسٹرڈ نہیں کروائی گئی جبکہ کچھ ایسی ہیں کہ جنہوں نے دوسری معروف سکیموں یا اداروں کا نام استعمال کیا اور لوگوں کو لوٹ کر چلتے بنے، جیسا کہ عسکریہ ٹاو¿ن کے نام سے ہاو¿سنگ سکیم شروع کرکے عوام کو تاثر دیا گیا کہ یہ فوجی نوعیت کی سکیم ہے اور لوگوں سے کروڑوں روپے بٹور لئے گئے جبکہ سکیم کے لئے زمین تک حاصل نہیں کی گئی۔ جیسا کہ گذشتہ ماہ محکمہ اینٹی کرپشن نے ایجوکیشن سٹی ہاوسنگ سکیم راولپنڈی سکینڈل کی انکوائری مکمل کرنے کے بعد راولپنڈی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے سابق چیئرمین اور دیگر حکام کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کرنے اور ان کے بیرون ملک جانے کے خدشے کے پیش نظر نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے لئے حکومت سے رجوع کیا ہے۔ اس کیس میں بھی سکیم کیلئے زمین نہیں خریدی گئی تھی۔ انھوں نے اس تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایک بیوہ خاتون اور دیگر شکایات کنندگان نے درخواست دی تھی کہ ایجوکیشن سٹی ہاوسنگ سکیم کے نام پر اس وقت کی انتظامیہ نے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لئے رقم وصول کی اور کبھی بتایاجاتا ہے کہ سکیم کی اراضی فتح جنگ روڈ پر ہے اور کبھی دوسری جگہ کے متعلق بتایا جاتا ہے۔
دسمبر2010میں حکومت پنجاب نے محکمہ مال کے سینئرعہدیداروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے لاہور اور گردونواح میں نئی ہاوسنگ سکیموں کی رجسٹریشن پر پابندی اور غیر قانونی ہاوسنگ سکیموںکے خلاف کارروائی کی تجاویز پیش کی تھیں۔ کمیٹی نے اپنی جوسفارشات وزیراعلیٰ کو بھجوائیں ان کے مطابق لاہور اور اس کے گردونواح میں213 قانونی اور140 غیر قانونی ہاوسنگ سکیمیں موجود ہیں۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں صوبہ پنجاب کے دیگر شہروں کے بارے میں بھی حکومت کو مطلع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملتان میں30 قانونی اور19 غیر قانونی ہاوسنگ سکیمیں جبکہ فیصل آباد میں 88 قانونی،72 غیر قانونی ہاﺅسنگسوسائٹیز موجود ہیں جہاں لینڈ مافیا سادہ لوح افراد کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ کمیٹی نے حکومت پنجاب کو دی جانیوالی سفارشات میں مزید کہا تھا کہ لاہور میں موجود قانونی ہاوسنگ سکیموں میں7 لاکھ کے قریب پلاٹس موجود ہیں جو شہریوں کی رہائشی ضروریات کے مطابق کافی ہیں۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ صرف انہی ہاوسنگ سکیموں کواین او سی جاری کیے جائیں گے جو تمام تر قوانین کی پاسداری کرتی ہیں۔
ان سفارشات کی روشنی میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے میٹروپولٹین ونگ نے ابھی تک لاہور کی منظور شدہ 213 ہاوسنگ سکیموں میں سے169 ہاوسنگ سکیموں کی چھان بین مکمل کرلی ہے۔ جن میں100کے قریب ہاوسنگ سکیموں میں بڑے پیمانے پر قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے جبکہ ادارے نے69 ہاوسنگ سکیموں کا ریکارڈ درست قرار دیا ہے۔ جن پرائیویٹ ہاوسنگ سکیموں کو قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں پارک، قبرستان، ڈسپنسریوں اور دیگر پبلک استعمال کی زمینیں غیر قانونی طریقے سے پلاٹ بناکر رہائشی اراضی کے نرخ پر کروڑوں روپے مالیت میں فروخت کی گئی ہیں۔ ان پلاٹوںپر اس وقت مختلف قسم کی تعمیرات کی جاچکی ہیں۔ علاوہ ازیں رہن رکھے گئے پلاٹوں کو ریلیز کرائے بغیر فروخت کیا گیا اور ان پر بھی تعمیرات کروادی گئیں۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی دھندے میں ایل ڈی اے بلڈنگ انسپکٹروں اور شعبہ اسٹیٹ منیجمنٹ کے اہلکاروں نے اہم کردار ادا کیا جنہوں نے نقشوں کی منظوری دیے بغیر یہاں کروڑوں کے گھر بنانے کی کھلی چھٹی دے دی۔
لاہور میں پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے احسان مجید نے بتایا کہ ڈی ایچ اے کے نام سے لاہور میں ایک بڑا فراڈ شروع ہوا ہے اور جس کے تحت ابھی حال ہی میں تقریبا تمام بڑے اخبارات میں پورے صفحے کا ایک اشتہار شائع ہوا ہے جس کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ڈی ایچ اے نے کوئی نیا منصوبہ شروع کیا ہے مگر درحقیقت یہ فراڈ ہے اور ڈی ایچ اے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس اشتہار میں منصوبے کی کوئی لوکیشن نہیں دی گئی کہ یہ کہاں پر شروع ہوگا کیونکہ اس منصوبے کیلئے ابھی کوئی زمین ہی نہیں خریدی گئی ۔کہا جاتا ہے کہ سابق دور کے ایک صوبائی وزیرکے علاوہ ایک بڑی ہاﺅسنگ سکیم کے ڈائریکڑاور ایک ریٹائرڈ بریگیڈیر نے یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔جبکہ ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹ ایسوسی ایشن کے صدر میاں طلعت کا کہنا ہے کہ اس اشتہار کے بعد بہت سے خواہشمند شہریوں نے اس منصوبے میں جگہ خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا اور معلومات مانگی مگر میرے علم میں نہیں کہ یہ ڈی ایچ اے کا ہی منصوبہ ہے۔
پراپرٹی رجسٹریشن کے شعبے سے منسلک ایک وکیل کا کہنا ہے کہ نیب کہ پاس55سے ہاﺅسنگ سکیموں کے کیس موجود ہیں اور ان بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں جبکہ بیشتر مقدمات ماتحت عدالتوں اور اعلیٰ عدالتوں میں میں زیر سماعت ہےں مگر لینڈ مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ ان کے خلاف عملی طور پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ انھوں نے بتایا کہ فارمانیٹ ہاﺅسنگ سکیم کا ایکسٹیشن فیز ایل ڈی اے نے غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس حوالے سے کمشنر لاہور کے پاس کیس زیر سماعت ہے مگر اس کے باوجود سکیم کی انتظامیہ جو ایک سیاسی پارٹی اور میڈیا سے تعلق رکھتی ہے اب بھی پلاٹ فروخت کر رہی ہے۔ جبکہ محکمہ انٹی کرپشن میں بھی کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں ۔ ان میں ایک راولپنڈی کے ایک بڑے ہاﺅسنگ پراجیکٹ کے مالک کے خلاف مقدمہ بھی درج ہے۔ جس کا ایف آئی آر نمبر 29ہے مگر کسی بھی قسم کی کوئی مزید کاروائی نہیں ہو سکی۔ انھوں نے بتایا کیونکہ زمینوں کا کاروبار ایک منعفت بخش کاروبار ہے اور اس میں بڑے بڑے سیاستدانوں کے علاوہ ، بیوروکریٹ، آرمی کے ریٹائرڈ افسران، پولیس کے افسران کے علاوہ انڈر گراﺅنڈ ورلڈ کے سرکردہ ٹاپ ٹین بھی شامل ہیں جس وجہ سے اس مافیا کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ انھوں نے بتایا کہ ہاں جو انفرادی طور پر کوئی عام شخص کسی پلاٹ کا فراڈ کرتا ہے تو پولیس فوراً اس کے خلاف کاروائی کر کے اخبارات میں مشتہر کرادادیتی ہے ۔ جبکہ اصل ملزموں کو تحفظ دیا جاتا ہے اور ان سے باقاعدہ اپنا حصہ وصول کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اور تو اور پنجاب حکومت کی آشایانہ ہاﺅسنگ سکیم بھی رولز آف بزنس کی منظوری کے بغیر شروع کی ہے اس کا ابھی تک کوئی نقشہ وغیرہ بھی موجود نہیں ہے بلکہ اس کے بارے میں سنیئر وفاقی وزیر اورسابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی اسے روٹی سکیم سے بھی بڑا فراڈ قرار دیتے ہیں۔
ایل ڈی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے میٹروپولیٹن ونگ نے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی100کے قریب ہاوسنگ سکیموں کے ڈویلپرز مالکان اور انتظامیہ کو لینڈ آڈٹ کی روشنی میں شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں جن میں ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ پبلک استعمال مثلاً پارک ، مسجد اور سکول وغیرہ کے لیے مختص اراضی پر غیر قانونی تعمیرات فوری طور پر مسمار کردیں بصورت دیگر ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کردی جائے گی۔ جبکہ ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ اب ان خطوط پر کام کیا جا رہا ہے کہ آئندہ کوئی غیر قانونی سکیمیں نہیں بن سکے گی اور اب ہر ہاوسنگ سکیم میں کم ازکم20 فیصد اراضی کم آمدن والے افراد کے لیے ہو گی ۔
حکومت پنجاب کی ہدایت پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسرز ریونیو کے دفتر میں اب تک00 50سے زیادہ ایسے متاثرین کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن کی اراضی پر قبضہ مافیا نے قبضہ جما رکھا ہیں یا پھر ہاو¿سنگ سکیموں کے مالکان نے ان سے لاکھوں روپے رقم بٹور کر انہیں پلاٹس کی الاٹ منٹ نہیں کی۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر لاہور کے دفتر میں موجود متاثرین میں سے ایک شخص نے محمد شاہد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آج سے تین سال قبل لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں ایک شخص سے 10 لاکھ روپے فی مرلہ کے نرخ پر پانچ مرلے زمین خریدنے کا معاہدہ طے ہوا تھا۔معاہدے کے مطابق دو مرلے اراضی کی قیمت 20 لاکھ روپے پہلے ادا کی گئی تھی جبکہ تین مرلے کی قیمت پلاٹ کی الاٹ منٹ کے بعد ادا کرنا طے پائی تھی تاہم تین سال گزرنے کے بعد ابھی تک پلاٹ کی الاٹ منٹ نہیں ہو پائی۔ محمد شاہد کے بقول اب اسی پلاٹ پر نامعلوم افراد نے قبضہ کر رکھاہے۔ جن کا دعویٰ ہے کہ یہ پلاٹ انہیں فروخت کیا گیاہے۔ محمد شاہد نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے قبضہ مافیا اور غیر قانونی ہاو¿سنگ سکیموں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے کیونکہ قبضہ مافیا کا تعلق انتہائی اثر و رسوخ والے افراد سے ہے اور انہیں ایل ڈی اے حکام کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s