متفرق

کیا اعلٰی تعلیم لڑکیوں کی شادی میں رکاوٹ ہے؟

– منصور مہدی

– ہمارے معاشرے میں اکثریہ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی لڑکی کی عمر 20، 22 سال ہوجاتی ہے تو اس کے رشتے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن والدین کہتے ہےں کہ لڑکی ابھی پڑھ رہی ہے اور لڑکی کی اپنی مرضی بھی یہی ہوتی ہے کہ میں نے ابھی اور پڑھنا ہے۔ لڑکی جوں جوں پڑھتی جاتی ہے اور ڈگریاں ملتی جاتی ہیںاس کی عمر بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے بعد رشتوں کا حصول مشکل ہو جاتا ہے ۔ جس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جن میں سے ایک تو یہ کہ خاندان میں اتنا پڑھا لکھا لڑکا نہیں ملتا اور اگر کسی دوسرے خاندان سے مل بھی جائے تو ان کی طلب بھی زیادہ ہوتی ہے اور پھردوسرے خاندان میں شادی کرنے پر تحفظات بھی ہوتے ہےں۔ چنانچہ انہی چکروں میں بہت سی لڑکیوں کی عمر شادی کی مناسب عمر سے زیادہ ہو جاتی ہے اور بعد میں ان کے رشتے آنے بند ہو جاتے ہیں۔جس سے والدین کے لئے ایک پریشان کن صورتحال پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس قسم کی پریشانی سے ہمارے معاشرے کے اکثر خاندان دوچار ہیں۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کڑور سے زائد لڑکیاں شادی کے انتظار میں بیٹھی ہیں( 20سے 35 سال کی لڑکیاں )۔ جبکہ ان میں سے دس لاکھ سے زائد لڑکیوں کی شادی کی عمر گزر چکی ہے ( 30سے35سال) ۔ ان 10لاکھ لڑکیوں میں 78فیصد تعلیم یافتہ لڑکیاں ہیں ( بی اے یا اس سے زائد تعلیم، مختلف پروفیشن جیسے ڈاکٹر، وکیل، بینکر، نرس اور دیگر سرکاری و نجی اداروں میں کام کرنے والی لڑکیاں) اس وقت ہر گھر میں اوسطاً دو یا دو سے زائد لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہیں۔یونیسف پاکستان میں لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر کی وجہ جہاں معاشی اور سماجی ناہمواریوں کو بتلاتا ہے وہاں اہم وجہ لڑکیوں کا لڑکوں کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ ہونا بتلاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم لڑکیوں کی شادی میں رکاوٹ ہے ؟ اس حوالے سے روزنامہ نئی بات کے خواتین میگزین نے مختلف طبقہ فکر کے اصحاب سے گفتگو کی جن میں سے بیشتر افراد نے کہا کہ اگرچہ تعلیم کو لڑکیوں کی شادی میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے بلکہ تعلیم کو لڑکی کا پلس پوائنٹ ہونا چاہیے لیکن اس حقیقت سے بھی آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں کہ واقعی ہمارے معاشرے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی اکثریت غیر شادی شدہ ہے۔ کچھ اصحاب نے اسے معاشرے کی بے قدری قرار دیا تو کچھ نے تعلیم یافتہ لڑکیوں کی خود سری کو موردالزام ٹھہرایا۔
سپریم کورٹ کے وکیل مبازر احمد ملہی کا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ لڑکیوں کی شادیاں نہ ہونا معاشرے کا ایک المیہ ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ایک تو معاشی مسائل کی وجہ سے بیشتر لڑکے اپنی تعلیم کو جاری نہیں رکھ پاتے جس وجہ سے تعلیم یافتہ لڑکوں میں کمی آتی جا رہی ہے جبکہ تعلیم یافتہ لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسرے لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد قدرے خود سر ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے سے کم پڑھے لکھے لڑکے سے شادی کے لئے تیار نہیں ہوتی اور اکثر ان کے والدین یا سرپرست بھی اس خود سری کو شہہ دیتے ہیں جس وجہ سے غیر شادی شدہ لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اگر کچھ لڑکیاں والدین کی بات مان کر کم پڑھے لکھے سے شادی کر بھی لے تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسا جوڑا زیادہ عرصہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چلتا اور ایسے شادی شدہ جوڑے میںتعلیم کی کمی بیشی ایک کو احساس کمتری میں مبتلا کردیتی ہے تو دوسرے کو احساس برتری کی شکایت ہو جاتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ لاہور میں روزانہ تقریبا15 سے20 واقعات میں شادی شدہ افراد قانونی علیحدگی کے لئے مقامی عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں جن میں 70فیصد تعلیم یافتہ لڑکیوں کے مقدمات ہوتے ہیںجبکہ اسلام آباد میں روزانہ 12سے16 طلاق کے مقدمات دائرہوتے ہیں۔ اگرچہ طلاق کے واقعات میں بسا وقات لڑکوں کی طرف سے بھی زیادتی اہم وجہ ہوتی ہے مگر اپنی بیویوں کو طلاق دینے کے خواہشمند مردوں کے مقابلے میں ایسی خواتین کی شرح مقابلتا زیادہ ہوتی جا رہی ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے شوہروں سے قانونی علیحدگی کے لیے پاکستانی عدالتوں سے رجوع کرتی ہیں اور ان میں تعلیم یافتہ لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔
پروفیسر فردوس کرامت کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی بھی تعلیم بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنا لڑکوں کی تعلیمبلکہ لڑکیوں کو مستقبل میں ماں بننا ہوتا ہے اور ایک پڑھی لکھی اورتعلیم یافتہ ماں ہی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی سچی فکر کر سکتی ہے۔ کیونکہ ایک مرد کو تعلیم دینا ایک فرد کو تعلیم دینا ہے، مگر ایک عورت کو تعلیم دینا گویا ایک پورے خاندان اور معاشرے کو تعلیم دینے کے برابر ہے۔ اس لئے کہ ماں کی گود بچے کی اول اور عظیم و مستحکم تربیت اور تعلیم گاہ ہے، اس لئے کہ بچہ چوبیس (24) گھنٹے ماں کی نگرانی میں رہتا ہے اور بچہ کی یہ عمر موم کے مثل ہوتی ہے اس پر جو نقوش مرتب کئے جائیں وہ با آسانی نقش ہو جاتے ہیں اور پھر وہ کبھی نہیں مٹتے۔ اس لئے ہمیں لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں پر توجہ دینی چاہئیے۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ بات دیکھنے میں آ رہی ہے کہ زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں شادیاں نہیں کرتی۔ انھوں نے بتایا کہ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ لڑکی کو اس کے برابر کا رشتہ نہیں ملتا یا پھر کم پڑھے لڑکوں کے والدین خود ہی ایسی لڑکی کا رشتہ لینے نہیں جاتے کیونکہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا لڑکا لڑکی کی نسبت کم تعلیم یافتہ ہے۔یہ سوچ بالکل غلط ہے جیسے پڑھے لکھے لڑکوں کے ساتھ کم پڑھی لکھی لڑکیوں کے ساتھ شادی ہو تی ہے اور وہ کامیاب بھی ہوتی ہے تو زیادہ تعلیم یافتہ لڑکیوں کی کم تعلیم یافتہ لڑکوں سے شادی کیوں نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے بھی ایسی لڑکیوں اور ان کے والدین کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ معاشرے کی ضرورتوں کو نہیں سمجھ پاتے اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں لڑکیوں کا مستقبل تاریک کر دیتے ہیں۔
گھریلو خاتون بلقیس خانم کا کہنا ہے کہ درحقیقت جب آپ فطرت کے اصولوں سے روگرانی کرتے ہیں ، تو زوال شروع ہو جاتا ہے اور ہماری پریشانیوں کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ نبی کریم نے جلد از جلد نکاح کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں شرافت کے عنصر کو سب سے زیادہ ترجیح دی ہے نہ کہ تعلیم کو۔موزوں رشتے کی تلاش لڑکیوں کو تنہائی کے اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔ پھر ڈھلتی عمر میں تعلیم اور بہترین ملازمت بھی کام نہیں آتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرتی حالات کا حقیقت پسندانہ ادراک کرتے ہوئے تھوڑے پر توکل کیا جائے تاکہ لڑکی کی زندگی محفوظ رہ سکے۔
جبکہ ماجدہ حبیب جنہوں نے کامرس میں ماسٹر کیا ہے اور ایک بینکر ہیں کا کہنا ہے کہ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے۔ میری والدہ ابھی چاہتی ہیں کہ میںمزید تعلیم حاصل کروں۔ ان کا کہنا ہے آج کل کے لڑکوں کا یہ حال ہے کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کم عمر بھی دیکھنا چاہتے ہیں، جب کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے کرتے لڑکی کی عمر کم ازکم 24یا اس سے زیادہ بھی ہوجاتی ہے۔ویسے بھی آجکل لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے تعلیم زیادہ اہم ہے۔
مولانا سراج الدین کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں شادی کے مسائل پر روز افزوں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے۔ رشتے لڑکیوں کے ہوں یا لڑکوں کے ، دونوں ہی معاملات میں اچھے رشتے نہ ملنے کی شکایت سننے کو ملتی ہے۔ رشتوں کے حوالے سے مسلسل الجھتی اور پیچیدہ ہوتی صورتحال کے ذمہ دار لڑکوں اور ان کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ لڑکی اور اس کے گھر والے بھی ہیں۔ آج کل لڑکیاں خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شادی کی عمر نکل جاتی ہے اور پھر بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر بعض اوقات اسی چکر میں لڑکی گھر ہی میں بیٹھی رہ جاتی ہے۔اسی طرح بعض اوقات خود لڑکی کے والدین بوجہ مجبوری یا بصدشوق بیٹے جیسی ذمہ داری نبھانے والی بیٹی کو بیٹا ہی سمجھنے لگتے ہیں اور اس کے لئے ایک ائیڈیل کا خواب دیکھنے لگتے ہیںاور اس تلاش میں سرکرداں رہ کر اس تلخ حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ لڑکی کی عمر نازک ہوتی ہے۔ حالانکہ مردوں کی بات مختلف ہوتی ہے مرد تو50/60 سال کی عمر میں بھی شادیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن لڑکی کی عمر تھوڑی سی بھی زیادہ ہو جائے تو اس کا رشتہ ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن سا لگتا ہے۔ لہذا نہ صرف والدین بلکہ خود لڑکیوں کو بھی اللہ پر توکل رکھا چاہیے۔ انھوں نے بڑے بزرگوں کی بات سناتے ہوئے کہا کہ “اچھے سے نبہا تو سب ہی کر لیتے ہیں بروں سے نبہا کرنا ہی اصل بات ہے”
بیگم فضیلت حسین جو ایک پرائیویٹ ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں کا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ اور برسرِ روزگار لڑکیوں کے لیے گھر کے اندر اور باہر کے مسائل کے علاوہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ان کی شادی سے متعلق ہے۔ اکثر لوگ پڑھی لکھی لڑکیوں کو پسند ہی نہیں کرتے اور ان سے شادی کرنے سے کتراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی ہمارے معاشرے میں ایسی دقیانوسی سوچ کا حامل افراد کی کمی نہیں جو تعلیم یافتی لڑکیوں کو بے راہ رو سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے مخلوط اداروں میں تعلیم حاصل کی ہوتی ہے اور نامحرموں کے ساتھ دفاتر میں کام کرتی ہیں۔انھوں نے اسلام آباد میں واقع ایک ادارے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں کام کر رہی ہیں مگر ان میں 80فیصد غیر شادی شدہ ہیں۔
پنجاب یو نیورسٹی کی شعبہ کیمسٹری کی ایک طالبہ بکا بھی یہی کہنا ہے کہ تعلیم نے ہمیں شعور دیا ہے لیکن مردوں کو پریشانی میں مبتلا کردیا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین سے خائف ہی نظر آتے ہیں اور انہیں جیون ساتھی بنانے سے گریز کرتے ہیں۔
گھریلو خاتون صبیحہ شادی شدہ ہیں اور اسلامک ہسٹری میں ایم۔ اے کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں موجودہ دور کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم لڑکیوں کی شادی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ حالانکہ معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ ماں ایک اَن پڑھ ماں سے زیادہ قابل اور سودمند ثابت ہوتی ہی، اس کے باوجود بعض لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے بہت نخرے ہوتے ہیں، وہ مزاج کے برخلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتیں، جبکہ کم تعلیم یافتہ لڑکی ان سے ہر معاملے میں ایک قدم پیچھے رہے گی اور ان کے ہر حکم پر سر جھکا دے گی۔ انھوں نے کہا کہ صرف لڑکیاں یا ان کے والدین ہی انکار نہیں کرتے بلکہ زیادہ پڑھی لکھی بیویاں شوہروں سے بھی ہضم نہیں ہوتیں۔ مگر اصل معاملہ شاید شعور کا ہے شعوری طور پر طرفین کو ملتا جلتا اور قریب قریب ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ معاشرے میں پسماندگی کے سبب اس طرح کے حالات پیدا ہو رہے ہیں تو بعض کا خیال ہے کہ مذہبی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔ تاہم سماجی ماہرین ان دلیلوں سے متفق نہیں ہیں جبکہ مذہبی لوگوںکی اس سلسلے میں مختلف رائے ہے اور کوئی اسے فلم اور ٹی وی سے جوڑ کر دیکھتا ہے تو کوئی اس کی وجہ اور ہی گردانتا ہے۔ لیکن یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس منہہ نہیں موڑا جا سکتا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے نہ صرف حکومت اور سماجی ادارو ں کو لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم یافتہ لڑکی ہی ایک ترقی یافتہ قوم کو بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے جبکہ والدین اورلڑکیوں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی خوب سے خوب تر کی تلاش سے اجتناب برتے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s