سچی کہانیاں

آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے

آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے
میرے دل میں یونہی رہنا تم پیار پیار بن کے

– منصور مہدی

– جب بھی وہ یہ گانا گنگناتی قریب سے گزرتی تو بہت سے احساسات جاگ اٹھتے۔ لیکن اس بار جب میں نے یہ گانا یو ٹیوب پر سنا تو محسوس ہوا کہ واقعی کسی کے پیار سے دل میں زندگی کی بہاریں جاگ اٹھتی ہیں۔ بہار بھی کیا چیز ہے جب یہ آتی ہے تو ٹھٹھرتی سردی سے سن ہوتے ہوئے جسموں میں واقعی ایک زندگی آ جاتی ہے۔ ٹھنڈ سے مرجھائے ہوئے پودوں میں کونپلیں پھوٹنی شروع ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ ہر طرف ہریالی پھیل جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے دور دور تک زمین نے بھی ایک نئی زندگی پا لی۔ یہ موسم بڑا خوش گوار ہوتا ہے۔ بہار کے موسم میں پرندوں کی چہچاہٹ ایک خوشگوار موسیقی کا احساس دیتی ہے۔مختلف اقسام کے پودے اپنے اندر کا حسن پھولوں کی صورت نکل آتے ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ کرہ ارض پر جتنے بھی موسم ہیں ان مین سے موسم بہار ہی ایک ایسا موسم ہے کہ جس میں بنی نوع انسان سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر کی تمام قومیں اور معاشرے اپنے اپنے طریقے سے اس موسم کو انجوائے کرتے ہیں ۔
بہار کا موسم شمالی نصف کرہ میں مارچ اور اپریل میں ہوتا ہے اور جنوبی نصف کرہ میں ستمبر اکتوبر کے مہینوں میں آتا ہے۔ یہ نہ گرم ہوتا ہے نہ سرد۔ اس موسم میں پھول کھلتے ہیں اوردرختوں پر نئے پتے آتے ہیں۔ موسم بہار کی آمد سے ہر طرف خصوصاً باغوں میں رونق اورچہل پہل شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ اس موسم کی آب وہواسے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ صبح کے وقت لوگ کھلے میدانوں اور پارکوں میں سیر کرتے ہیں۔ اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
موسم بہار ایک ایسا موسم ہے کہ اس کو ہر کوئی انفرادی طور پر انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر انجوائے کیا جاتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے ہر خطے میں بسنے والی قومیں خصوصی میلے اور تہوار مناتی ہیں۔پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں موسم بہار فروری کے آخری دنوں میں شروع ہوتا ہے ۔ پاکستان میں بھی موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی مختلف علاقوں میں اس کی مناسبت سے تہوار شروع ہو جاتے ہیں۔
پنجاب میں بسنت کا تہوار منایا جاتا ہے۔یہ تہوار بہار کے موسم کو خوش آمدید کہنے کا ایک خاص طریقہ ہے۔ کچھ سال پہلے تک یہ تہوار ایک خصوصی اہمیت کا تہوار بن چکا تھا ۔ ہر طرف آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں اڑتی رہتی تھی لیکن جب سے ان پتنگوں میں کچھ لوگوں کی جانب سے دھاگے کی جگہ دھاتی تار کا استعمال شروع کیا اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی گردنیں کٹنے لگی تو اس پر حکومت کی جانب سے پابندی لگا دی گئی۔
پاکستان کے شمالی علاقوں میں بسنے والے لوگ اس موسم کو بہت انجوائے کرتے ہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے بھی سیاحوں کی خصوصی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ وادی کیلاش اور چترال کے تہوار “چلم” پر ہر طرف ایک میلے کا سماں ہوتا ہے۔ ہر طرف دل موہ لینے والے مناظرسیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ تا حد نگاہ سرسبزو ہریالی اپنی جوبن دکھا رہی ہوتی ہے۔ پھولوں کی مہک بکھیرتی یہ سر زمین سردی سے تھکے ہوئے لوگوں کی تھکان کو اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔
اسی طرح پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں اس مقسم میں سرسوں کھیلنے لگتی ہے اور ہر طرف سبزے پر پیلے پھول اپنی ایک عجب بہار پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ گاﺅں کے لوگ اس موسم میں اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے مختلف تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ بیشتر علاقوں مین میلے لگتے ہیں ۔ جن میں بچے ، بوڑھے ، جوان اور خواتین بھرپور طریقے سے شامل ہوتے ہیں ۔ اس موقع پر مختلف کھیلوں کے مقابلے بھی ہوتے ہین جن مین کبڈی اور کشتی کے خاس مقابلے ہوتے ہین ۔ جبکہ بعض علاقوں میں بیلوں ، گھوڑوں اور گائیوں وغیرہ اور دیگر جانوروں کی نمائش بھی سجائی جاتی ہے۔ لاہور میں ہارس ایند کیٹل شو بھی اسی موسم میں ہوتا ہے جبکہ لاہور کا معروف میلہ “میلہ چراغاں “بھی اسی موسم میں لگتا ہے۔
پاکستان کے ہمسائے ملک ایران میں بھی اس موسم کی آمد پر “عید نوروز” کے نام سے جشن منایا جاتا رہا ہے۔ایرانیوں کے لئے “نوروز” صرف جشن بہاران ہی نہیں بلکہ ایرانی رسم و رواج اور تہذیب و ثقافت کی علامت بھی ہے اور ایرانی عوام کی بہت سی یادیں بھی اس سے وابستہ ہیں ، یہ قومی و روایتی جشن اپنی تمام تر رسم و رواج کے ساتھ ہی مسرت و شادمانی ، حسن و جمال ، اور خلوص و محبت کا پیغام دیتا ہے کہ جو اسلامی اقدار و ثقافت سے مرکب ہے ۔یہ تہوار ایران میں 13روز تک منایا جاتا ہے اور اس دوران ایرانی اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور تاریخی و قدرتی مقامات اور فطری مناظر کی سیر و سیاحت میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ اب یہ تہوار صرف ایران کا تہوار ہی نہیں رہا بلکہ وسطیٰ ایشیائی ریاستوں اور افغانستان میں بھی منایا جاتا ہے۔
پاکستان کے مشرقی ہمسائے بھارت کے صوبے پنجاب میں تو بسنت کے نام سے ہی اس موسم کا تہوار منایا جاتا ہے۔ مشرقی منجاب اور اترپردیش میں خصوصی تقریبات منائی جاتی ہیں اور میلے ٹھیلے لگتے ہیں۔ جبکہ باقی کے بھارت میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ موسم بہار کے آغاز پر ہولی کا تہوار رنگ و خوشبو اور خوشیوں کی ایک بہار اپنے ساتھ لے کر آتا ہے جس کو ہندو، سکھ، بدھ مت اور دیگر سب بڑے جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔ یہ تہوار صرف بھارت میں ہی نہیں بلکہ نیپال، سری لنکا کے علاوہ جنوبی افریقہ، برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی منایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر خصوصی پکوان بنانے کی تیاریوں کا آغاز کئی دن قبل شروع ہوجاتا ہے۔ ہولی کے دن لوگ ایک دوسرے کے چہروں پر ہولی کے رنگ لگاتے ہیں۔
یورپ کے بیشتر ممالک خاص طور پر ڈنمارک میں موسم بہار کی آمد پر سالانہ تعطیلات شروع ہوجاتی ہیں۔یہاں کے لوگ کیتھولک عید مناتے ہیں۔ کیتھولک عید کے نام سے یہ موسم بہار کا ایک تہوار ہے اور اس جڑیں قدیم یونان تک جاتی ہیں۔ کیتھولک عید عیسائی عقیدے کے مطابق روزوں کے شروع ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ قدیم رسوم کے مطابق، بچے زرق برق کپڑے پہنتے ہیں اور ایک ڈرم بجاتے ہیں۔ ڈرم میں پرانے وقتوں میں ایک بلی ہوتی تھی۔ آج، جو شخص ڈرم توڑ دیتا ہے اسے بلی بادشاہ کہتے ہیں۔
پاکستان کے ہمسائے ملک چین میں بھی اس موسم پر خصوصی تقریبات منائی جاتی ہیں۔چین میں موسم بہار کے آغاز سے ہی چین کے نئے سال کا بھی آغاز ہوجاتا ہے۔۔ چینی لوگ یہ تقریبات قومی تہوار کی حیثیت سے مناتے ہیں۔ چینی تہذیب کے تہواروں میں سے یہ سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے اسے چین سے باہر رہنے والے لوگ بھی روائتی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔
چین میں اس حوالے سے سب سے بڑی تقریب شنگھائی میں ہوتی ہے
غرضیکہ دنیا کے ہر خطے چاہے امریکہ ہو یا افریقہ ،ایشاءہو یا یورپ ، ہر جگہ کے لوگ اس موسم کو اپنے اپنے انداز میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ بقول فیض احمد فیض
بہار آئی تو جیسے ایک بار
لوٹ آئے ھیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے شباب سارے
جو تیرے ھونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ھیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مشکبو تھے
جو تیرے عشاق کا لہو تھے
ابل پڑے ھیں عذاب سارے
ملال احوال دوستاں بھی
خمارآغوش مہ وشاں بھی
خمار خاطر کے باب سارے
ترے ہمارے
سوال سارے جواب سارے
بہار آئی تو کھل گئے ھیں
نئے سرے سے حساب سارے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s