سچی کہانیاں

صدر مملکت کی بلوچیوں سے معافی

–  منصور مہدی

– قارئین جیسا آپ جانتے ہیں کہ آجکل ہر کوئی بلوچستان کے حوالے سے جاننے کے لیے کوشاں ہے۔ اخبار پڑھو، ریڈیو سنو یا ٹی وی دیکھو تو ہر طرف بلوچستان کے بارے میں ہی گفتگو ہو رہی ہے۔ بیشتر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھی علیحدگی کی راہ پر چل پڑا ہے اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا نہ کرے پاکستانی عوام کو پھر وہ دن دیکھنا پڑے کہ جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا۔
کیا واقعی بلوچستان کے لوگوں میں پاکستان کے حوالے سے ایسی بدگمانیاں پیدا ہوچکی ہیں؟ کیا ان کے دلوں میں بھی پاکستان کے دیگر صوبوں سے نفرت کی ایسی آگ بھڑک اٹھی ہے جسے اب بجھانا ممکن نہیں رہا؟ کیا بلوچ عوام ایک ایسے احساس محرومی اور نا انصافی کا شکار ہو چکے ہیں کہ جن کے دل میں اب پاکستان کی محبت نہیں بس سکتی؟ کیابلوچستان کے حالات اس نہج ہر پہنچ چکے ہیں کہ جہاں سے مشرقی پاکستان نے بنگلہ دیش کی راہ اختیار کر لی تھی؟
بلوچستان پر گذشتہ ہفتے کی سٹوری میں آپ نے امریکی کانگرس میں بلوچستان کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد اور واشنگٹن میں ہونی والی عوامی سماعت کی روداد پڑھی ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ بلوچستان کے حالات بہت سنگین ہو چکے ہیں اور پاکستان کے سنجیدہ طبقے تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اگرچہ وفاقی حکومت کی طرف سے بلوچوں کے خلاف سیاسی مقدمات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ دیکھنا ہے کہ کیا مقدمات کے ختم ہونے سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں تو مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیںہے بلکہ اس کے لیے نہ صرف حکومت بلکہ فوج اور ہمارے دیگر مقتدر حلقوں کو ایسے اقدامات کرنے ہو نگے کہ جس سے بلوچ عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں اور انھیں دیگر وہ تمام آسائشیں میسر آئیں کہ جن سے دوسرے صوبوں کے عوام مستفید ہو رہے ہیں ۔
صدرمملکت آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ وہ ناراض بلوچ قوم پرست رہنماﺅں سے خود جا کر ملنے کو تیارہیں اور انھوں نے بلوچوں کی ناراضگی دور کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ صدر مملکت نے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی سے ان کی رہائش گاہ پر جا کر ملاقات کی اور سابقہ ا دور میں بلوچوں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں پر معافی مانگی اور کہا کہ وہ بلوچوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
بلوچستان کے حالات کسی ایک مسئلہ یا کسی ایک دور میں کی گئی غلطیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں بلوچستان کے بہت سے عوامل کارفرما رہے ہیں۔ موجودہ بلوچستان میں 231 بلوچ قبائل رہتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ قدرتی وسائل کے حوالے سے بھی یہ ایک بڑا صوبہ ہے۔ تمام اہم نوعیت کی معدنیات اس صوبے میں وافر مقدار میں موجودہے۔
بلوچستان کی تاریخ بہت قدیم ہے اور اس کا تعلق کئی ہزار برس قبل کے ادوار سے جا ملتا ہے۔
بلوچ محقق سردار محمد خان گشکوری لکھتے ہیںکہ لفظ بلوچ کو مختلف ادوار میں مختلف اقوام نے مختلف انداز میں لکھا۔اصل میں یہ لفظ بلوص ہے جسے عربوں نے بلوش اور ایرانیوں نے بلوچ لکھا ۔لفظ بلوچ کی وجہ تسمیہ نسبی اور سکنی اعتبار سے بھی کی جاسکتی ہے۔ نسبی اعتبار سے بلوص نمرود کا لقب ہے۔ نمرود بابلی سلطنت کا پہلا بادشاہ تھا اور اسے احتراماً بلوص یعنی سورج کا دیوتا پکار ا جاتا تھا یہ وہی نمرود ہے جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے آگ کا الاو¿ تیار کرایا تھا۔
مغربی محقق رالنسن بھی لفظ بلوچ کا مخرن بلو ص ہی بتلاتے ہےں۔ لیکن دیگر مغربی محقیقین جن میں برٹن ، اسپیگل اور ڈیمز شامل ہیں اس سے اختلاف کرتے ہوئے بلوص کی تشریح یو ں کرتے ہیں کہ بلوچ دراصل ایرانی نسل سے ہیں جبکہ سر ٹی ہولڈ چ کا خیال ہے کہ یہ نسلاً عرب ہیں اور ڈاکٹربیلونے انہیں راجپوت لکھا ہے اور پروفیسر کین کے خیال میں بلوچ تاجک نسل سے ہیں۔ ما کلر نے ثابت کیا ہے کہ بلوچ مکران کے قدیم باشندوں کی باقیات ہیں۔ پوٹنگر اور خانیکوف کا خیال ہے کہ بلوچ وادی بلوص کے رہنے والے ہیں اور یہ وادی شام میں حلب کے قریب واقع ہے۔ جبکہ خود بلوچوں کے پاس اپنے بارے میں ایک نظم کے سوا کوئی قدیم مواد نہیں۔اس نظم میں آیا ہے کہ وہ امیر حمزہ کی اولاد ہیں اور حلب سے آئے ہیں۔ موجودہ بیشتر محقیقین کا کہنا ہے کہ یہی درست معلوم ہوتا ہے۔ اس میں مزید یہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے نہ صرف فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ کا ساتھ دیابلکہ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا بھی ساتھ دیا اور ان کی شہادت کے بعد وہ بامپور یا بھمپور پہنچے اور وہاں سے سیستان اور مکران میں آ کر آباد ہوئے ۔
لیکن معلوم تاریخ کے مطابق بلوچوں نے اپنے علاقے سے دومرتبہ نقل مکانی کی اور دونوں بار ہجرت کی وجہ اس علاقے میںنئے فاتحوں کی پیش قدمی تھی۔ پہلی ہجرت اس وقت ہوئی جب فارس میں سلجوقیوں کے ہاتھوں غزنویوں کا خاتمہ ہوا۔ اس موقع پر یہ لوگ کرمان چھوڑ کر سیستان اور مغربی مکران کے علاقوں میں آکر آباد ہوئے۔ دوسری بار انہوں نے اس علاقے کو چھوڑ کر مشرقی مکران اور سند ھ کا رخ کیا۔ یہ ہجرت چنگیز خان کے حملوں اور جلال الدین منگول کی وجہ سے ہوئی۔دوسری ہجرت کے نتیجے میں انھوں نے پہلی بار وادی سندھ میں قدم رکھا۔قابض قوتوں نے قلات کے علاقے پر قابض ہوکر بلوچوں کو سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقوں کی طرف جانے پر مجبور کردیا۔ یہ واقعہ بلوچی تاریخ میں ناقابل فراموش ہے۔
ایک اور بلوچ محقق محمد سردار خان بلوچ لکھتے ہیں کہ بلوچ روایت کے مطابق میر جلال خان ان بلوچ قبائل کا واحد سردار تھا جو گیارہوں صدی عیسوی میں کرمان کے پہاڑ وں میں رہتے تھے۔ بلوچوں کی مقبول عام روایات اسی سردار کے عہد سے شروع ہوتی ہیں۔ اس کے چار بیٹے رند ، کوراء، لاشار، اور ھوت تھے۔ آگے چل کر رند کی اولاد سے امیر چاکر خان رند پیدا ہوا۔جو بلوچ نسل کا عظیم سپوت کہلاتا ہے۔
سردار میر جلال خان کی سر کردگی میں یہ بلوچ قبائل کرمان کے مختلف اضلاع میں رہتے تھے مگر سیاسی انتشار کی وجہ سے بیشتر قبائلآہستہ آہہستہ کرمان چھوڑ کر سیستان چلے آئے۔ بعد ازاں پھر44کے قریب قبائل سردار امیر جلال خان کی قیادت میں ضلع بام پور میں آباد ہوئے۔پھر یہاں سے سردار جلال خان اپنے چوالیس پاڑوں (قبیلوں) کو لے کر مکران کی طرف بڑھا اور یوں مکران کو بلوچستان کا نام دیا۔
سردار جلال خان کی آمد سے پہلے مکران میں جو قبائل آباد تھے وہ بھی اگرچہ بلوچ ہی تھے مگر ان میں سے بیشتر خانہ بدوش تھے اور بھیڑ بکریاں پال کر گزارہ کرتے تھے جبکہ سردار کے ساتھ جو44 بلوچ قبائل مکران پہنچے وہ جنگجو اور شہسوار تھے اور بہت منظم بھی رہتے تھے۔ بلوچستان کا نام دینے کے بعد سردار جلال خان نے یہاں ایک باقاعدہ حکومت قائم کی اور یہاں تمام بسنے والوںکو قومیت کا احساس دیا اور قبائلی نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔
پندرھوں صدی عیسوی میں بلوچوں کے دو قبیلوں رند اور لاشار نے وسطی بلوچستان کی طرف کوچ کیا ۔ان علاقوں میں رہنے والوں میں کچھ ان سے مل گئے اور جنہوں نے مقابلہ کیا وہ مار دیے گئے۔ آخرکار میر چاکر خان رند کے عہد میں بلوچستان کا تمام رقبہ ان کے قبضے میں آگیا اور وہاں ان کی حکومت قائم ہوگئی۔
میر چاکر خان رند نے بعد ازاں خضدار فتح کیا درہ مولا پر قبضہ کیا۔ کچھی کے میدانوں کو فتح کیا۔ درہ بولان پر قبضہ کیا اور ڈھاڈر پر قبضہ کرنے کے بعد سبی کو بھی فتح کیا مگر ان فتوحات میں لاشاریوں کو ساتھ نہیں ملایا تو وہ اس کے خلاف ہو گئے۔بالآخر رند وں اور لاشاریوں میں جنگ چھڑ گئی جو تیس سال تک جاری رہی۔
شہنشاہ بابر تزک بابری میں لکھتا ہے کہ اس نے اپنے ایک فوجی سالار حیدر علمدار کو بلوچوں کی طرف بھیجا ۔جب وہ بھیرہ اور خوشاب تک پہنچا توبلوچوں نے جنگ کیے بغیر ہی اطاعت کا وعدہ کر لیا۔ جبکہ
ہمایوں نامے میں درج ہے کہ گلبدن بیگم نے بخشو بلوچ کی امداد کا خصوصی طورپر شکریہ ادا کیا۔1539 کو جب ہمایوں نے شیر شاہ سوری سے چونسہ کے مقام پر شکست کھائی اور وہاں سے ایران جاتے ہوئے جب بلوچستان سے گزرا تو نوشکی کے مقام پر پہنچا تومیر چاکر خان کے ایک امیر بخشو بلوچ نے شہنشاہ کو غلے کی امداد دی اور ایک اور بلوچ سردار ملک خطی نے اسے پناہ دی اور اگلے دن اسے ایران کی سرحد پر چھوڑ کرآیا جس پر شہنشاہ نے انعام کے طور پر اسے ایک انمول ہیرا دیا۔
جب شہنشاہ ہمایوں نے دوبارہ تحت دہلی کے لئے ہندوستان پر چڑھائی کی تو اس کے لشکر میں چالیس ہزار بلوچ جوان تھے جن کا سالار میر چاکر خان رند کا بیٹا میر شاہ داد خان تھا۔ مغلوں بادشاہوں کے تمام ادوار میں مغلوں کے بلوچوں کے ساتھ تعلقات بہت اچھے رہے لیکن جب انگریزوں نے ہندوستان کی مرکزی ھکومت پر قبضہ کر لیا اوربعد ازاں انھوں نے ہندوستان کے دیگر علاقو ں کو فتح کرنا شروع کیا تو بلوچستان پر انھوں نے کئی بار چڑھائی کی مگر مکمل طور پر اس علاقے کو اپنی حکومت میں شامل نہ کر سکے۔ البتہ ان علاقوں میں اپنے مفادات کی نگرانی کے لیے ایک ایجنٹ مقرر کیا ہوا تھا۔
قیام پاکستان کے وقت بلوچستان کا علاقہ مشرقی بنگال ، سندھ ، پنجاب اور صوبہ سرحد کی طرح برطانوی راج کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا بلکہ1947 تک بلوچستان قلات ، خاران ، مکران اور لس بیلہ کی4 ریاستوں پر مشتمل تھا۔ ان میں سب سے بڑی ریاست قلات کی تھی جس کے حکمران خان قلات میر احمد یار خان نے قیام پاکستان سے دو روز قبل اپنی ریاست کی مکمل آزادی کا اعلان کیا تھا اور پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلقات پر مذاکرات کی پیشکش کی تھی-خان قلات کے اس اقدام کی اگرچہ دوسرے تمام بلوچ سرداروں نے حمایت کی تھی تاہم بیشتر نے بلوچستان کی علیحدہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔
عنائت اللہ بلوچ جو 28دسمبر 1946کو جھوک گومل بالائی( مشرقی بلوچستان) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اور 1974سے 1978تک نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ کلچرل ریسرچ میں بطور ریسرچ فیلو وابسطہ رہے۔ بعد ازاں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت کام کرتے رہے۔وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 1946میں محمد علی جناح ( جو اس وقت خان آف قلات کے قانونی مشیر تھے) نے کیبنٹ مشن میں ایک یاداشت پیش کی جس کو مسٹر آئی آئی چندریگر، سر سلطان احمد اور سرادر ایس کے میمن نے ریاست قلات کے تاریخی اور قانونی مطالبے کے حوالے سے تیار کیا تھا۔
یہ یاداشت خان آف قلات کے اعزاز میں دیے گئے ایک عشایئے میں برطانوی پارلیمانی وفد کے سامنے پیش کی تھی۔ اس یاداشت میں خان آف قلات کے مستقبل اور اس کے قانونی حقوق اور فرائض اور قلات کی ملحقہ ریاستوں لسبیلہ اور خاران اجارہ پر دیے گئے قبائلی علاقوں کی حیثیت کی وضاحت سے پیش کیا گیا تھا۔ خان کی سلطنت کی آزادانہ حیثیت کی یاداشت میں وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا تھا۔برطانیہ کے متعدد نمائندوں نے قلات کو ایک خود مختار اور آزاد ریاست کہا۔ 1872کو سر ڈبلیو ، ایل میٹرودر، جس کو قلات کے ساتھ برطانوی حکومت کے تعلقات واضع کرنے کی ذمہ ادری دی گئی تھی۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میری رائے میں اس بات میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں کہ قلات یا بلوچستان کو جو بھی صحیح نام دیا جائے۔ عزت مآب خان اس ملک کے قانونی اور حقیقی حکمران ہیں۔ ہمارے ان کے ساتھ معاہدے ہوئے ہیں۔ جن کے تحت وہ اس بات کے پابند ہیںکہ وہ برطانوی سلطنت یا لوگوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائیں گے اور اس کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ لیکن معاہدہ ان کے ساتھ صرف حکمران کی حیثیت سے ہے۔
1946میں آئی آئی چندریگر جو مسلم لیگی لیڈر اور ایک مشہور قانون دان تھا اور بعد ازاں 1957میں پاکستان کا وزیر اعظم بنے تھے۔ نے آزاد قلات اور اس کے مستقبل کے ابرے میں اپنی یاداشت میں اس طرح لکھا ہے ۔
قلات جو کہ ہندوستانی ریاست نہیں ہے اور برطانوی حکومت نے اس کی جغرافیائی اہمیت اور ہندوستان کے ساتھ اس کی ہمسائیگی کے پیش نظر اس کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں کی حیثیت بالکل افغانستان اور ایران جیسی ہے۔ ریاست کا برطانوی ہند ، یا بعد میں بننے والی کسی حکومت کے ساتھ وفاقی رشتوں میں منسلک ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اسی طرح ریاست قلات کے وزیر اعظم نوابزادہ محمد اسلم نے 24دسمبر 1946کو حکومت ہند کے سیاسی محکمہ کے سیکریٹری مسٹر گریفن کو ان الفاظ کے ساتھ ایک خط لکھا۔کہ ریاست قلات نہ ہندوستان کا حصہ ہے اور نہ کبھی رہا ہے، یہ ہندوستانی ریاست نہیں ہے۔ برطانوی حکومت کے قیام سے پہلے بلوچستان ، جس سے مراد بلوچ قبائل کا وطن ہے، کا اپنے حکمران کے تحت ایک آزاد وجود تھا۔ جس کا حکمران خلان آف قلات تھا جسے اس وقت بلوچستان کہتے تھے۔
1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا تو پاکستان نے ریاست قلات کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت قلات کا علاقہ پاکستان میں شامل ہونے کا ذکر ہے۔ تاہم قلات پارلیمان کے دونوں ا یوانوں نے 1947 میں آزادی کا دعویٰ کر دیا تھا اور خان نے بعد میں تسلیم کیا کہ انہیں پاکستان کی طرف سے شمولیت کا مطالبہ تسلیم کرنے کا کوئی حق حاصل نہ تھا اور انہوں نے ایسا صرف فوجی طاقت کی دھمکی کے تحت کیا۔
اور بس یہی سے بلوچستان میں علیحدگی کی باتیں ہونے لگی اور مسلح تحریک شروع گئی۔
اس پہلی مسلح تحریک کے کا آغاز کیسے ہوا اور اس کی پشت پر کون کون لوگ تھے اور وہ کیوں چاہتے تھے کہ بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہو۔ بلوچستان کے 231قبائل میں سے کس کس قبیلے نے اس تحریک کا ساتھ دیا اور کیوں ؟ اور وہ کون کون سے قبیلے ہیں جو آج بھی پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اس بارے میں آئندہ شمارے میں حالات ملاحظہ فرمائیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s