سچی کہانیاں

میدان کربلا میں کردار اصحاب

– منصور مہدی

حضرت امام حسین علیہ السلام کاانقلاب توحید کی سربلندی اورانسانیت کی آزادی کاپیغام لے کرآیا تھا۔ لیکن صدافسوس کہ اس انقلاب سے پوری امت اسلامیہ نے وہ فائدہ حاصل نہ کیا جس کے امام حسین علیہ السلام خواہشمند تھے۔ بلکہ بعض افراد نے واقعہ کربلا کودوخاندانوں کی جنگ قرار دینے کی مذموم کوشش کی اوربعض افراد نے امام حسین علیہ السلام کے مقصد کو”حکومت طلبی“ سے تعبیر کیا اور بعض نے انقلاب حسین علیہ السلام پرغیرآئینی اقدام کاالزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسے بغاوت سے تعبیر کیا۔
لیکن تاریخ شاہدہے کہ ا س وقت کے علماء، صحابہ ، تابعین اورسیاست دان سب اس بات پرمتفق تھے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام  حق پرہیں انھوں نے یزید کے اس غیرانسانی اقدام کی مذمت کی اورکسی نے بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقدام کوخلیفہ المسلمین کے خلاف بغاوت نہیں سمجھا چنانچہ مولانا مودودی لکھتے ہیں۔”اگرچہ ان(حسین علیہ السلام ) کی زندگی میں اوران کے بعد بھی صحابہ وتابعین میں سے کسی ایک شخص کابھی یہ قول ہمیں نہیں ملتا کہ آپعلیہ السلام  کاخروج ناجائز تھااوروہ ایک فعل حرام کاارتکاب کرنے جارہے تھے۔“
صحابہ وتابعین کا مخالفت کرنا توکجا کثیرتعداد میں صحابہ کرام اورتابعین نے انقلاب حسینعلیہ السلام  کی حمایت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کردیں۔امام حسین علیہ السلام ایک فرد نہیں تھے جنہوں نے یزید کی باطل حکومت کے خلاف قیام کیا بلکہ آپعلیہ السلام  اس مقدس تحریک کے عظیم راہبر تھے ۔ جن کارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت ومحبت رکھنے والے شخص نے ساتھ دیا۔کسی نے تحریک کی حمایت زبانی کلامی کی اور کسی نے عملی۔ جبکہ بعض افراد جن میں اصحاب رسول کی ایک خاص تعداد تھی نے اپنی جان کی بازی لگا کراس انقلاب کوپائیدار کرنے میں مدد کی۔
ان اصحاب رسول میں سے کچھ نے کربلا میں پہنچ کرجنگ میں حصہ لیا اور لڑتے ہوئے شہید ہوئے بعض کربلا سے قبل کوفہ یادیگر مقامات پرامام حسین علیہ السلام کی حمایت میں شہید کردیئے گئے اورکچھ اصحاب واقعہ کربلا میں شریک نہ ہوسکے اور بعد میںیزیدکے مظالم کے خلاف اورامام حسینعلیہ السلام  کی حمایت میں قیام کرتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے۔
ان اصحاب کا ذکر درج ذیل ہے۔
1۔حضرت مسلم بن کثیر یا اسلم بن کثیر الازدی
عسقلانی لکھتے ہیں کہ مسلم بن کثیر بن قلیب الصدفی الازدی الاعرج صحابی رسول تھے اور فتح مصر میں شریک تھے۔ طبری لکھتے ہیں کہ مسلم بن کثیر”ازد“ قبیلہ کے فرد تھے جب امام حسین علیہ السلام  نے مدینہ سے ہجرت کی توان دنوں یہ کوفہ میں قیام پذیر تھے اور امام حسینعلیہ السلام  کوکوفہ میں آنے کی دعوت دینے والوں میں شامل ہیں پھرحضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام  جب کوفہ میں سفیرحسینعلیہ السلام  بن کرپہنچے توانھوں نے حضرت مسلم بن عقیل کی حمایت کی لیکن حضرت مسلم علیہ السلام  کی شہادت کے بعد کوفہ کوچھوڑ کرکربلا کے نزدیک حضرت امام حسین علیہ السلام سے جاملے اورپہلے حملہ میں جام شہادت نوش کیا۔
2۔حضرت انس بن حارث
یہ بھی رسول کے صحابی تھے اور جنگ بدروحنین میں شرکت کی تھی۔ابن عبدالبراپنی کتاب الاستیعاب میں لکھتے ہیں کہ حضرت انس بن حارث نے رسول خدا سے سنا تھا کہ آپ نے فرمایا”میرابیٹا(حسینعلیہ السلام ) کربلا کی سرزمین پرقتل کیاجائے گا جوشخص اس وقت زندہ ہواس کے لئے ضروری ہے کہ میرے بیٹے کی مددونصرت کوپہنچے“ چنانچہ انس بن حارث نے پیغمبر کے اس فرمان پرلبیک کہتے ہوئے کربلا میں شرکت کی اورامام حسینعلیہ السلام  کے قدموں پراپنی جان نچھاور کردی۔ابن عساکر لکھتے ہیں کہ انس بن حارث ان عظیم اصحاب رسول میں سے تھے جنھیں حضرت پیغمبرکی زیارت نصیب ہوئی اور انھیں اصحاب صفہ میں شمار کیا جاتا ہے۔
3۔ حضرت بکربن حی:
علامہ سماوی نے اپنی کتاب ابصارالعین میں لکھا ہے کہ ”بکربن حی“ کوفہ سے عمربن سعد کے لشکر میں شامل ہوکرکربلا پہچا لیکن جب جنگ شروع ہونے لگی توحضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکرعمربن سعد کے خلاف جنگ کرتے ہوئے پہلے حملے میں شہیدہوگئے ۔”الاصابہ“میں” بکربن حی“ کے صحابی رسول ہونے کی گواہی ملتی ہے ۔
4۔ حضرت جابربن عروہ غفاری
کتاب”شہدائے کربلا“ میں بیان ہوا ہے کہ آپبھی صحابی رسول خدا تھے جوکربلا میں شہید ہوئے جنگ بدر اوردیگر غزوات میں رسول اکرم کے ہمراہ شریک ہوئے یہ بوڑھے صحابی روز عاشورا رومال باندھ کراپنے ابروو¿ں کوآنکھوں سے ہٹاتے ہیں اورعازم میدان جنگ ہوتے ہیں جب امام علیہ السلام کی نظر پڑی توفرمایا:اے پیرمرد!خداتجھے اجردے۔“
5۔ حضرت جنادہ بن کعب الانصاری
جنادہ بن کعب وہ صحابی رسول ہیں جوحضرت امام حسین علیہ السلام کی نصرت کے لئے کربلا میں اپنی زوجہ اورکم سن فرزند کے ساتھ شریک ہوئے خود کواپنے بیٹے سمیت نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے قدموں پرقربان کردیا۔ علامہ رسولی محلاتی نقل کرتے ہیں جنادہ صحابی رسول خدا اورحضرت علی علیہ السلام کے مخلص ساتھی تھے جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے اورکوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل کے لئے بیعت لینے والوں میں شامل تھے حالات خراب ہونے کی وجہ سے کوفہ کوچھوڑ کرامام حسینعلیہ السلام  سے جاملے۔حضرت جنادہ کانام بعض کتب میں ”جابر“یا”جبار“یا”جیاد“ درج ہوا ہے ان کے والد کے نام کوبھی بعض نے”حارث“ اوربعض نے ”حرث“لکھا ہے۔
6۔ حضرت جندب بن حجیر الخولانی الکوفی
”جندب بن حجیر کندی خولانی“یا”جندب بن حجر“پیغمبر اکرم کے عظیم صحابی اوراہل کوفہ میں سے تھے یہ ان افراد میں سے ہیں جنھیں حضرت عثمان نے کوفہ سے شام بھیجا تھا جنگ صفین میں بھی شرکت کی اورحضرت علی علیہ السلام کی طرف سے قبیلہ” کندہ اورازد“ کے لشکر کے سپہ سالار مقرر ہوئے اورواقعہ کربلا میں امام حسینعلیہ السلام  کے ہمرکاب جنگ کرتے ہوئے شہیدہوئے۔جندب کوفہ کے نامداراورمعروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے کوفہ کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہاں سے نکل پڑے عراق میں حرکالشکر پہنچنے سے قبل حضرت امام حسینعلیہ السلام  سے مقام ”حاجر“میں ملاقات کی اورروز عاشورجنگ شروع ہوئی یہ دشمن کامقابلہ کرتے ہوئے پہلے حملہ میں مقام شہادت پرفائز ہوئے۔
7۔حبیب بن مظاہر الاسدی
آپ خاندان بنی اسد کے معروف فرد اور حضرت رسول اکرم کے صحابی اور امام علی ، امام حسن وامام حسین علیھم السلام کے وفادار ساتھی تھے۔عسقلانیلکھتے ہیں کہ حبیب بن مظاہر حضرت علی علیہ السلام کے شاگردخاص اوروفادار صحابی تھے اپنے مولاعلی کے ساتھ کئی جنگوں میں شرکت کی بہت سے علوم پردسترس تھی زہدوتقویٰ کے مالک تھے ان کاشمار پارسان شب اورشیران روز میں ہوتا ہے ہرشب ختم قرآن کرتے تھے۔حضرت حبیب بن مظاہر کاشمار راویان حدیث میں بھی ہوتا ہے۔حضرت حبیب ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے سب سے پہلے امام حسینعلیہ السلام  کوکوفہ آنے کی دعوت دی پھرجب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے توسب سے پہلاشخص جس نے حضرت مسلم کی حمایت اوروفاداری کااعلان کیا عابس بن ابی شبیب شاکری تھے اس کے بعد حبیب ابن مظاہر کھڑے ہوئے اورعابس شاکری کی بات کی تائید کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے:”خدا تم پررحم کرے کہ تونے بہترین انداز میں مختصر الفاظ کے ساتھ اپنے دل کاحال بیان کردیا خدا کی قسم میں بھی اسی نظریہ پرپختہ یقین رکھتا ہوں جیسے عابس نے بیان کیا ہے۔ جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعداہل کوفہ کی بے وفائی کی وجہ روپوش ہو گئے لیکن جونہی انھیںامام حسین علیہ السلام کے کربلا پہنچنے کی خبر ملی تورات کے وقت کوفہ سے نکل کر امام سے جا ملے۔
8۔ حجرت زاھر بن عمروالاسلمی:
”زاھر“شجاع اوربہادر شخص تھے۔ یہ بھی صحابی رسول اوراصحاب شجرہ میں سے تھے۔ رسول خدا کے ہمراہ غزوہ حدیبیہ اورجنگ خیبرمیں شریک ہوئے۔
زاھر بن عمرواسلمی محب اہل بیت تھے اور بہت تجربہ کارپہلوان اوربہادر تھے ۔حضرت علیعلیہ السلام  کی شہادت کے بعد ”عمربن حمق“کے ساتھ مل کرابن زیاد کے خلاف برسرپیکار رہے ۔بعد ازاں دونوں شہرسے فرار کرگئے پہاڑوں اورجنگلوں میں زندگی بسرکرنے لگے یہاں تک کہ ”عمروبن حمق“حکومتی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعدشہید کردیاگیا لیکن زاھر زند ہ رہے آخرکار60 ھ میں حج کے موقعہ پرامام حسینعلیہ السلام  کی خدمت میں حاضر ہوئے اورآپ کے ساتھ مل کرکربلا کی جنگ میں شرکت کی عاشورا کے دن پہلے حملے میں جام شہادت نوش کیا۔
9۔ حضرت زیاد بن عریب ابوعمرو:
زیاد بن عریب نے بھی بچپن میںپیغمبرخدا کی زیارت کی تھی جبکہ ان کے والدبزرگوار صحابی رسول تھے۔زیاد بن عریب ابوعمروشجاع، عابد وزاھداورشب زندہ دار شخص تھے زیادہ نمازگزار تھے زہدوتقویٰ کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے تھے ۔جب انھیںامام حسین علیہ السلام کے کربلا پہنچنے کا علم ہوا تو زیاد بن عرب اپنا کردار اداکرنے کی غرض سے امام حسینعلیہ السلام  کی خدمت میں پہنچے اوردشمن کے خلاف جہادومبارزہ کرنے کے بعد درجہ شہادت پرفائز ہوئے۔
10۔ حضرت سعد بن الحارث
انھوں نے بھی بچپن میں رسول خدا کی زیارت کی تھی جبکہ آپ کے والد صحابی رسول تھے۔ پھرامیرالمو¿منین علیعلیہ السلام  کے ہمراہ رہے اور کچھ عرصہ کے لئے سپاہ کوفہ کے سالار بھی رہے۔ سعد بن الحارث امیرالمومنین علی علیہ السلام  کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن علیہ السلام وامام حسین علیہ السلام  کے ساتھ رہے ۔جب حضرت امام حسینعلیہ السلام  مدینہ سے مکہ پہنچے تووہاں مولا کی خدمت میں پیش ہوئے اورپھرمکہ سے کربلا آئے اورروزعاشور جنگ کرتے ہوئے جان قربان کردی۔اس بات کاذکرضروری ہے کہ” مرحوم محقق شوشتری“ نے اپنی کتاب میں ان کے صحابی ہونے پرتنقید کی ہے اس دلیل کی بنا پرکہ اگرصحابی ہوتے توقدیم منابع نے کیوں ذکر نہیں کیا۔
11۔ حجرت شبیب بن عبداللہ مولیٰ الحرث
شبیب بن عبداللہ بن شکل بن حی بن جدیہ حضرت رسول اکرم کے صحابی اورکوفہ کی معروف ومشہور شخصیت اوربڑے بافضیلت انسان تھے۔جہاں بھی ظلم وستم دیکھا اس کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل وصفین ونہروان میں بھی شرکت کی اورحضرت علی کے وفادار اور مددگار رہے۔آپ شبیب سیف بن حارث اورمالک بن عبداللہ کے ہمراہ کربلا پہنچے اوراپنے مولااما م حسینعلیہ السلام  کی اطاعت میں جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
12۔ حجرت شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری
جناب شوذب صحابی رسول اورحضرت علیعلیہ السلام  کے باوفا ساتھی تھے۔شوذب علم وتقویٰ کے اعتبار سے بلندپایہ شخصیت تھے کوفہ کی معروف علمی شخصیت ہونے کی وجہ سے اہل کوفہ کے لئے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام  کی احادیث نقل کرتے تھے اور حضرت علی علیہ السلام  کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے۔جب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ میں پہنچے توان کی بیعت کرنے کے بعد حضرت امام حسینؑ تک اہل کوفہ کے مزید خطوط پہنچانے میں عابس شاکری کے ہمراہ رہے۔نہایت مخلص اورعابد وزاھد انسان تھے بڑھاپے کے عالم میں بھی ظلم کے خلاف عملی کردار ادا کیا کوفہ میں حضرت مسلم کی شہادت کے بعد عابس شاکری کے ہمراہ حضرت امام حسینعلیہ السلام  کی خدمت میں کربلا پہنچے اوریزیدی لشکر سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
13۔ حجرت عبدالرحمٰن الارحبی
آپ رسول اکرم کے بزرگ صحابی تھے تمام معتبر کتب میں ان کاذکرموجود ہے۔ آپ بہادر اورفصیح وبلیغ صحابی تھے۔ آپ 60ھ میں50 افراد پرمشتمل ایک وفد کے ہمراہ حضرت امام حسینعلیہ السلام  کی خدمت اقدس میں مکہ پہنچے۔اور حضرت امام حسین علیہ السلام  کواپنی وفاداری کایقین دلایا پھر حضرت کے نمائندہ خاص جناب امیرمسلم کے لئے کوفہ میں انقلابی سرگرمیوں میں مشغول رہے کوفہ میں حالات خراب ہونے کے بعد کربلا میں جنگ میں شرکت کی۔ جب عمربن سعد نے امام حسینعلیہ السلام  کے قتل کاپختہ ارادہ کرلیا تواس صحابی رسول نے اپنی جان کی بازی لگاکربھی اپنے مولا وآقا کی حمایت کااعلان کیا اپنی شجاعت کے کارنامے دکھا نے کے علاوہ فصاحت وبلاغت کے ذریعے بھی حسین ابن علیعلیہ السلام  کی حقانیت اکواپنے اشعارمیں واضح کیا تاریخ میں اس وفادار صحابی کے جورجز بیان ہوئے ہیں اس زمانہ کی بہترین عکاسی کرتے ہیں ۔
14۔ حجرت عبدالرحمٰن بن عبدربہ الخزرجی
مختلف کتب نے ان کے صحابی رسول ہونے کی گواہی دی ہے انھیں بعض نے انصاری بھی لکھا ہے اصل میں مدینہ میں مقیم تھے جب پیغمبراسلام نے مدینہ میں ہجرت فرمائی تواوس وخزرج قبائل نے اسلام قبول کیااس وقت سے ان سب کوانصاری کہاجاتا تھا ۔ آپ حضرت علی علیہ السلام کے مخلص اصحاب میں سے تھے اور ان کی تربیت بھی مولا علی نے کی تھی ۔ انھیں قرآن مجید کی تعلیم دی اورمن کنت مولاہ کی حدیث کو اس صحابی نے اس وقت بیان کیا جب حضرت علیعلیہ السلام  نے گواہی طلب کی تھی۔آپ کوفہ کے رہنے والے تھے اور وہاں کی معروف شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ کوفہ میں امام حسینعلیہ السلام  کے لئے لوگوں سے بیعت طلب کرتے تھے لیکن جب کوفہ میں امام حسینعلیہ السلام  کے لئے راہ ہموار کرنے میں ناکام ہوئے تو کربلا میں امام علیہ السلام  سے آ ملے اوردشمن کیخلاف جنگ لڑتے ہوئے پہلے حملہ میں یابعداز ظہر شہید ہوگئے۔
15۔حضرت عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب
یہ صحابی رسول ایک عظیم شاعربھی تھے اورانھوں نے پیغمبر سے بعض روایات بھی نقل کی ہے اپنے بعض اشعار میں حضرت علیعلیہ السلام  کی مدح وثنا بھی بیان کی ہے۔ رسول اکرم کی وفات کے بعدامولاعلیعلیہ السلام  کے ساتھ رہے اور انھیں کے ہمرکاب مختلف جنگوں میں شرکت کی ایک مرتبہ جب حضرت عبداللہ کوعلم ہواکہ عمروعاص نے بنی ھاشم پرطعن وتشنیع اورعیب جوئی کی ہے تو عمروعاص پرسخت غصہ ہوئے اوراسے موردعتاب قرار دیا آخر تک اہل بیت کے ہمراہ رہے کربلا میں جب حضرت امام حسین ؑکامعلوم ہواتو ان کی خدمت میں پہنچ کراپنی وفاداری کاعملی ثبوت دیا۔اس طرح عاشور کے دن رسول خدا کے نواسہ کی حمایت کرتے ہوئے یزیدی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔
16۔ حضرت عمرو بن ضبیعہ
مختلف کتب میں ذکر ہوا ہے کہ یہ صحابی پیغمبر تھے اورکربلا میں حضرت امام حسینعلیہ السلام  کے ہمرکاب شہادت پائی۔کتاب فرسان میں الاصابہ سے نقل کیاگیا ہے کہ یہ تجربہ کار اورماہر جنگجو شخص تھا کئی ایک جنگوں میں شرکت کی نیز شجاعت میں شہرت رکھتا تھا۔ابتدا میں عمرسعد کے لشکر کے ساتھ وارد کربلا ہوالیکن جب دیکھا کہ عمرسعد نواسہ رسول کے قتل کاارادہ رکھتا ہے توفوراً حضرت امام حسینعلیہ السلام  کے ساتھ شامل ہوگئے حملہ اولیٰ میں شہادت پائی زیارت ناحیہ میںبھی ذکرہوا ہے۔
17۔ حضرت عون بن جعفر طیار
آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے اور حضرت جعفربن ابیطالب کے بیٹے ہیں ۔ حضرت رسول اکرم نے جنگ موتہ میں حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد عون اوران کے بھائی عبداللہ ومحمد کواپنی گود میں بٹھایا اورپیارکرتے رہے ۔جناب عون کا شمار حضرت علی علیہ السلام  کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے ۔ آپ حضرت علیعلیہ السلام  کے ہمراہ جنگوں میں بھی شریک رہے ۔حضرت علیعلیہ السلام  کی شہادت کے بعد ہمیشہ امام حسن وحسین علیھاالسلام کے ساتھ رہے یہاں تک کہ جب حضرت امام حسینجب مدینہ سے روانہ ہوئے حضرت عون بھی اپنی زوجہ محترمہ کے ہمراہ اپنے مولا کے اس جہاد میں شریک رہے اورروز عاشور حضرت علی اکبرعلیہ السلام  کی شہادت کے بعد حضرت امام حسینعلیہ السلام  کی اجازت سے وارد میدان ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ۔
18۔ حضرت کنانہ بن عتیق
جناب کنانہ کوفہ کے شجاع اورمتقی وپرہیزگار افراد میں سے تھے اوران کاشمار قرآن کے قاریوں میں ہوتا ہے۔جناب کنانہ اوران کاباپ عتیق رسول اکرم کے ہمرکاب جنگ احدمیں شریک ہوئے ۔ جب انھیں امام حسین ؑ کے کربلا پہنچنے کی خبر ملی تو امام کی مدد ونصرت کے لئے کربلا تشریف لائے اوراپنی جان کونواسہ رسول کے قدموں میں نچھاور کیا زیارت ناحیہ میں ان پرسلام پیش کیاگیاہے۔
19۔ حضرت مجمّع بن زیاد جھنّی
آپ رسول اکرم کے اصحاب میں سے تھے جنگ بدرواحد میں شریک رہے۔ جناب مجمع نے کوفہ میں حضرت مسلم کی بیعت کی سب لوگ حضرت مسلم کوچھوڑ گئے لیکن حضرت مجمع ان افراد میں سے تھے جوڈٹے رہے اورکوفہ میں حالات سازگار نہ ہونے کیوجہ سے کربلا میں حضرت امام حسینعلیہ السلام  جا ملے۔ یہ بڑے جری اور بہادر تھے۔جب کربلا میںدشمن ان کوآسانی سے شکست نہ دے سکا توان کامحاصرہ کرلیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہیدہوجاتے ہیں۔
20۔مسلم بن عوسجہ
تاریخ طبری اور دیگر میں درج ہے کہ یہ صحابی رسول خدا تھے اورصدراسلام کے بزرگ اعراب میں شمار ہوتے تھے ابتدائے اسلام کی بہت سی جنگوں میں شریک رہے غزوہ آذربائیجان اورجنگ جمل وصفین ونہروان میں بھی شرکت کی حضرت علی کے باوفا ساتھی تھے۔آپ شجاع وبہادر ہونے کے ساتھ ساتھ قاری قرآن ،عالم علوم اورمتقی وپرہیزگار ،باوفا اورشریف انسان تھے۔حضرت مسلم بن عقیل کے کوفہ وارد ہوتے ہی ان کی مددونصرت میں پیش پیش تھے اوران کی حمایت میں لوگوں سے بیعت لیتے تھے نیز مجاہدین کے لئے اسلحہ کی فراہمی اوردیگر امدادی کاروائیوں میں مصروف رہے ۔حضرت مسلم وجناب ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد مخفی طورپررات کے وقت اپنی زوجہ کوساتھ لے کر حضرت امام حسینعلیہ السلام  کی خدمت میں پہنچے سات یاآٹھ محرم کومسلم کوفہ سے کربلا پہنچ گئے اورسپاہ یزید کے خلاف ہرمقام پرپیش پیش رہے۔ شب عاشور جس وقت امام حسینعلیہ السلام  نے اپنے اصحاب کوچلے جانے کی اجازت دی توجہاں بعض دیگر اصحاب امام نے اپنی وفاداری کایقین دلایا وہاں حضرت مسلم بن عوسجہ نے جوتاثرات بیان کئے وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں عرض کی”خدا کی قسم!ہرگزنہیں چھوڑ کے جاو¿ں گا یہاں تک کہ اپنے نیزہ کودشمن کے سینہ میں توڑ نہ دوں‘خداکی قسم اگرستر بارمجھے قتل کردیاجائے پھرجلاکرراکھ کردیاجائے اورذرہ ذرہ ہوجاو¿ں پھراگرزندہ کیاجاو¿ں توبھی آپ سے جدانہیں ہونگا۔یہاں تک کہ ہربار آپ پراپنی جان قربان کرونگا اس لئے کہ جان توایک ہی جائے گی لیکن عزت ابدی مل جائے گی۔“جب مسلم بن عوسجہ پچاس دشمنوں کوہلاک کرنے کے بعد شہید ہوگئے توحضرت امام حسین علیہ السلام فوراً ان کی لاش پر پہنچے اورفرمایا:”خداتم پررحمت کرے اے مسلم“
21۔ حجرت نعیم بن عجلان:
ایک روایت کے مطابق نعیم اوران کے دوبھائیوں نظرونعمان نے حضرت رسول اکرم کی بچپن میں زیارت کی تھی ۔یہ خزرح قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے حضرت رسول اللہ کی وفات کے بعد مولا علی علیہ السلام  کے ساتھ جنگ صفین میںشامل رہے ۔ ان کے بھائی نعمان بحرین کے علاقے کے والی تھے۔نعیم کے دونوں بھائی حضرت امام حسن علیہ السلام  کے زمانہ میں انتقال کرگئے جبکہ نعیم کوفہ میں زندگی بسرکررہے تھے کہ اطلاع ملی کہ حضرت امام حسینعلیہ السلام  عراق میں پہنچ چکے ہیں۔ چنانچہ کوفہ چھوڑ کر فوراً امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر غیرت دینی کاعملی ثبوت پیش کرتے ہیں اورنواسہ رسول کے ساتھ اپنی وفاداری کااعلان کرتے ہوئے سپاہ یزید کے خلاف جنگ میں اپنے خون کاآخری قطرہ بھی قربان کردیتے ہیں۔
حوالہ جات:
نیل الاوطار،ج۷، ص۱۲۷ از ثور العین ص۳۲، خلافت وملوکیت ،ص ۱۷۹،الاصابہ فی تمیز الصحابہ۔ ج۱۔ ص۶،اقبال الاعمال، ج۳، ص۷۹، وسیلہ الدارین، ص۱۰۶، فرسان الھیجائ، ذبیح اللہ محلاتی، ص۳۶، شہدائے کربلا، گروہ مصنفین، ص۳۵۸، تنقیح المقال، مامقانی، ج۱، ص۱۵۴،مقتل الحسین ،مقرم ،ج۲ص۲۵۳،الاستعیاب،ابن عبداللہ، ج۱، ص۱۱۲،فرسان الھیجاء، محلاتی، ص۳۷،تاریخ الکبیر، بخاری، ج۲، ص۲۰،مثیرالاحزان،ص۷۱،اسد الغابہ، ابن اثیر، ج۱، ص۱۲۳،انساب الاشراف، بلاذری، ج۳، ص۱۷۵ (دارالتعارف)،فرسان الھیجاء،ص۳۷،حیاہ الامام الحسینعلیہ السلام  ،ج۳، ص۲۳۴،الفتوح، ج۵، ص۱۹۶،الاقبال، ج۳، ص۳۴۴،الاصابہ، ج۱،ص۳۴۹،تنقیح المقال، ج۱، ص۱۹۸،وسیلہ الدارین، زنجانی، ص۱۱۲،مقتل الحسینعلیہ السلام  ، ابی مخنف، ص۱۱۵،۱۱۶،زندگانی امام حسینعلیہ السلام  ، رسول محلاتی، ص۲۵۲،تنقیح المقال،مامقانی،ج۱،ص۲۳۴،فرسان الھیجائ، ص۷۶،حماسہ حسینی ،استاد شہید مطہری ج۲،ص۳۲۷،شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۲۸۲،تاریخ طبری ،ج ۵،ص۲۲۶،انساب الاشراف ،البلاذری ،ج۳،ص۱۹۸،قاموس الرجال ،ج۲،ص۷۲۴،الکامل فی التاریخ ،ابن اثیر ،ج۴،۷۴۔،تنقیح المقال، ج۱، ص۲۳۴۔،شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۱۱۵۔،تاریخ اسلام ،ابن عساکر ،ج۱۱،ص۳۰۳۔،رجال ،شیخ طوسی ،ص۷۲،اقبال ،ج۳،ص۳۴۶۔،بحارالانوار،مجلسی،ج۴۰، ص۳۱۱۔،تاریخ الطبری،ج۵،ص۳۵۲۔، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۶۵۔،ابصارالعین، ص۱۹۹۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s