سچی کہانیاں

گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو کوئی وجود محبّت کا استعارہ ہو

منصور مہدی

. . پروین شاکر نے تو یہ شعر کسی اور پس منظر میں لکھا ہوگا مگر جب میں مال روڈ پر واقع ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور کے سامنے سے گزر رہا تھا تو میں دیکھا کہ اس پر بنے ایک سٹال پر مختلف عمر کی لڑکیاں گلاب کے پھول اور کلیاں خرید رہی تھیں۔ ان میں ایک لڑکی “زلفیں راتوں سی ہے رنگت اجالوں جیسی ” کی مانند ہاتھ میں گلاب کا پھول پکڑے کسی کو فون کر رہی تھی تو مجھے پروین شاکر کا یہ شعر یاد آ گیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات بتلا رہے تھے کہ وہ اپنے محبوب کو فون کر رہی ہیں۔ گفتگو کے دوران بار بار وہ کبھی گلاب کے پھول کو دیکھتی اور کبھی اس کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگتی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ “میں اپنے حصے کے سکھ جس کے نام کر ڈالوں ، کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو”
نہ صرف لاہور بلکہ دنیا پھر کے شہروں میں 14فروری کی آمد کے قریب قریب اس قسم کے مناظر دیکھنے کو ملنے لگتے ہیں۔ پیار کرنے والے اپنے چاہنے والوں کے لیے تحفے تحائف خریدنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ان تحائف میں زیادہ ترچاکلیٹس،کارڈز، سرخ گلاب ،مصنوعی ٹیڈی بئیرزیاپانڈا، پرفیوم،کیک،دل کی شکل کے غبارے شامل ہوتے ہیں۔ جبکہ مالی طور پرمستحکم عاشق لڑکے اورلڑکیاں گلاب کے پھولوں کے ساتھ بریسلٹس ، نیکلس ، ڈائمنڈلگی یاسونے کی انگوٹھیاں خریدتے ہیں اور ایک دوسرے کو ڈنردیتے ہیں ۔
ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ہالی ووڈ سےGarry MarshallکیRunaway bride جیسی جب کہ بالی وڈ بھی متعددفلمیں جاری کرتاہے۔لڑکے اور لڑکیاں عموما تحائف دینے کے متعلق آئیڈیاز انہی فلموں سے چراتے ہیںحتی کہ وش کرنے کاانداز تک وہی ہوتا ہے جو ہیرویاہیروئن نے اپنایا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں اگر چہ ویلنٹائن ڈے منانے کاکلچر زیادہ پرانا نہیں لیکن اب کالجز،اسکولز یایونیورسٹی سطح کے طلبہ وطالبات میں یہ ایک فروغ پزیر رجحان ہے۔ اس روز نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے اظہار محبت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ویلنٹائن ڈے کو عید محبت بھی کہا جاتا ہے۔ جس روز سرخ گلاب کے پھولوں کا تحفہ دیا جاتا ہے ، سرخ رنگ کے کپڑے پہنے جاتے ہیں ، بیکری اورمٹھائیوں کی دکان میں سرخ رنگ کی مٹھائیاں اور کھانے تیار کئے جاتے ہیں اور اس پر دل کا نشان بھی بنایا جاتا ہے۔
پہلے پہل محبت کا یہ دن صرف امریکہ اور یوروپ میں ہی منایا جاتا تھا لیکن اب14فروری کو دنیا کے ہر ملک میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس کا آغاز تقریباً 1700 سال قبل رومانیوں کے دور میں ہوا ۔ اس وقت رومانیوں میں بت پرستی عام تھی ۔اسی دوران رومانیوں کے ایک سینٹ ویلینٹائن نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی جس پر روم کے لوگ اس کے خلاف ہوگئے اور عیسایت اختیار کرنے کے جرم میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔ بعد ازاں جب روم والوں نے خود عیسایت اختیار کر لی تو روم والوں کو سینٹ ویلینٹائن کو دی جانے والی سزائے موت کا پچتاوا ہونے لگا تو انھوں نے سینٹ ویلینٹائن کی سزائے موت کے دن کو ”یوم شہید محبت ” کہہ کر منانا شروع کر دیا۔ اگرچہ اس دن کے حوالے سے اور بھی روایتیں ہیں جیسے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دن محبت کی ” یونو ‘ کا دن ہے کہ جسے اس روز اس کا محبوب ملا تھا۔
بھارت میں اس دن کو بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔اس روز نئے عاشق بھی اپنے محبوب سے اظہار محبت کرتے ہیں ۔ اس روز بڑے بڑے ہوٹلوں میں خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ فلمی ستارے ان محفلوں کی جان ہوتے ہیں۔ بھارتی سٹار شاہد کپور کا کہنا ہے کہ اس برس بھی کرینہ کپور سے پہلے کی طرح محبت کا اظہار کروں گا۔
پاکستان میں اگرچہ اس دن کی مخالفت کرنے والے بہت ہیں مگر دن منانے والوں کا کہنا ہے کہ “موجودہ دور میں جب ہر ایک عدم برداشت اور”میں”کاشکار ہے یہ تہوار تھوڑی دیر کےلئے خوشیاں بانٹنے کاذریعہ ہے اسے محض لڑکے اورلڑکی کے درمیان محبت کے اظہارکاذریعہ نہ مانا جائے۔14فروری کادن لوگوں کے باہم مل بیٹھنے کاسبب اور روٹھوں کو منانے کاموقع دیتاہے۔
اس دن کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ دن فضول خرچی،دوسروں کی تہذیب کی نقالی کرنے کا دن ہے ۔ کیونکہ یہ تہوار پاکستان کاتہوار نہیں ہے بلکہ دیگر دنیا کی طرح ہمارے ہاں بھی اسے کارپوریٹ سیکٹر نے رواج دیا ہے اسی سبب یہ مصنوعی لگتا اور معاشرتی سطح پرکوئی بنیادیں نہیں رکھتا۔اس دن مخالفت کرنے والے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے 40فیصد سے زائد لوگ اسے منفی دن قرار دیتے ہیں کہ محبت جیسے لازوال جذبے کو ایک دن تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
امریکا میں ویلنٹائن ڈے پر سب سے زیادہ کارڈ اپنے ٹیچرز کو دیا جاتا ہے جو محبت کے جذبے اور اس تہوار کے ایک اورپہلوکو ظاہرکرتا ہے۔اس میں کہیں کوئی مثبت بات تلاشی جا سکتی ہے تو وہ یہ کہ وقتی طور پر سہی یہ دن دوسروں سے خوشگوار تعلق رکھنے اور ان کا خیال کرنے کوآمادہ کرتا ہے۔
روس میں اس دن سب سے زیادہ تحائف اپنی بیویوں کو دیے جاتے ہیں۔ روسیوں کو کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے اصل میں میاں بیوی کے پیار کی تجدید کا دن ہے۔ اس روز میاں بیوی ایک دوسرے سے مزید محبت کرنے کا عہد کرتے ہیں۔
جب کہ رومانوی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیار کرنا اور اپنے پیاروں کو تحائف دینے اور چاہنے والوں سے اظہار محبت کرنے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ اپنے محبوب لڑکے یا لڑکی سے ہی اظہار محبت کیا جائے بلکہ انسان اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بھی محبت کرتا ہے اور ویلینٹائن ڈے کے موقعے پر ایسے رشتوں کو یاد کرنا اچھا لگتا ہے۔

تمہی میں دیوتاوں کی کوئی خو بو نہ تھی ورنہ کمی کوئی نہیں تھی میرے اندازِ پرستش میں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s