سچی کہانیاں

سرداروں نے حکومت کے مزے لوٹے اور عوام کو لڑنے کے لیے چھوڑ دیا

منصور مہدی
—  قارئین جیسا آپ جانتے ہیں کہ آجکل ہر کوئی بلوچستان کے حوالے سے جاننے کے لیے کوشاں ہے۔ اخبار پڑھو، ریڈیو سنو یا ٹی وی دیکھو تو ہر طرف بلوچستان کے بارے میں ہی گفتگو ہو رہی ہے۔ اس بحث کی بنیاد امریکی گانگرس میں بلوچستان کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد ہے ۔
نئی بات میگزین نے اپنے قارئین کو بلوچستان ایشو سے باخبر رکھنے کے لیے بلوچستان پر تحریروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس میں اب تک امریکی کانگریس میں پییش کی جانے والی قرار داد ، اس کا پس منظر اور پیش کرنے والے اصحاب پر بحث کی گئی جبکہ بلوچستان کی تاریخ، بلوچستان کی ثقافت، بلوچستان کی سیاست اور بلوچ قوم کے حوالے سے لکھا جا چکا ہے۔ اس بار ہم بلوچستان میں ہونے والی بغاوتوں کا جائزہ لیں گے۔

پہلی بغاوت
عنائت اللہ بلوچ پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ کلچرل ریسرچ سے بطور ریسرچ فیلو وابسط ہو گئے ۔ بعد ازاں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت کام کرتے رہے۔انھوں نے بلوچستان پر خصوصی طور پر ریسرچ کی ہے۔ وہ اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں کہ 1946میں محمد علی جناح (جو اس وقت خان آف قلات کے قانونی مشیر تھے) نے کیبنٹ مشن میں ایک یاداشت پیش کی جس کو مسٹر آئی آئی چندریگر، سر سلطان احمد اور سرادر ایس کے میمن نے ریاست قلات کے تاریخی اور قانونی مطالبے کے حوالے سے تیار کیا تھا۔
یہ یاداشت خان آف قلات کے اعزاز میں دیے گئے ایک عشایئے میں برطانوی پارلیمانی وفد کے سامنے پیش کی تھی۔ اس یادداشت میں خان آف قلات کے مستقبلکے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ
قلات جو کہ ہندوستانی ریاست نہیں ہے اور برطانوی حکومت نے اس کی جغرافیائی اہمیت اور ہندوستان کے ساتھ اس کی ہمسائیگی کے پیش نظر اس کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں، کی حیثیت بالکل افغانستان اور ایران جیسی ہے۔ ریاست کا برطانوی ہند ، یا بعد میں بننے والی کسی حکومت کے ساتھ وفاقی رشتوں میں منسلک ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ریاست قلات کے وزیر اعظم نوابزادہ محمد اسلم نے 24دسمبر 1946کو حکومت ہند کے سیاسی محکمہ کے سیکریٹری مسٹر گریفن کو ان الفاظ کے ساتھ ایک خط لکھا۔
ریاست قلات نہ ہندوستان کا حصہ ہے اور نہ کبھی رہا ہے، یہ ہندوستانی ریاست نہیں ہے۔ برطانوی حکومت کے قیام سے پہلے بلوچستان ، جس سے مراد بلوچ قبائل کا وطن ہے، کا اپنے حکمران کے تحت ایک آزاد وجود تھا۔ جس کا حکمران خلان آف قلات تھا جسے اس وقت بلوچستان کہتے تھے۔
قارئین یاد رہے کہ بلوچستان میںصرف بلوچ قبائل ہی آباد نہیں بلکہ دیگر قومیں بھی رہتی ہیں۔ 2011ءکی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 79 لاکھ 14ہزار افراد بستے ہیں، جن میں 54 فیصد بلوچ اور 30 فیصد پختون اور 15فیصد دیگر رہتے ہیں۔ جن میں پنجابی بولنے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے، اور اردو بولنے والے بھی رہائش پذیر ہیں۔ سندھ کے بعد ہندووں کی سب سے بڑی آبادی بلوچستان میں ہے۔ جبکہ کوئٹہ اور اس کے اطراف میں 10 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین بھی مقیم ہیں۔ بلوچ قبائل میں مری، مینگل، بگٹی، مزاری، رند، جمالی، رئیسانی، مگسی، کھوسہ، جام، لاشاری، ہوت اور لہڑی زیادہ بڑے قبیلے ہیں۔ ان قبائل میں نسل درنسل دشمنیاں چلی آرہی ہیں جس کی و جہ سے اکثر خونریز قبائلی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔
1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو حکومت پاکستان نے ریاست قلات کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت قلات کا علاقہ پاکستان میں شامل ہونے کا ذکر ہے۔ تاہم قلات پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بس یہی سے بلوچستان میں علیحدگی کی باتیں ہونے لگی اور مسلح تحریک شروع گئی۔ خان آف قلات میر احمد یارخان نے اگرچہ بعد میں یہ بات بھی کہی کہ ان سے معاہدہ پر زبردستی دستخط کرائے گئے۔ چنانچہ خان کا چھوٹا بھائی شہزادہ عبدالکریم مسلح بغاوت پر اتر آیا اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت افغانستان چلا گیا اور چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کردیا۔ کچھ عرصہ بعد ھکومت پاکستان کی طرف سے باغیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا لیکن شہزادہ عبدالکریم اور اس کے 200 ساتھیوں کو واپس آتے ہی جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ یہ پاکستان میں بلوچوں کی پہلی مسلح بغاوت تھی۔

دوسری بغاوت
اسکندر مرزا کے دور میں خان آف قلات پاکستان میں رہتے ہوئے ریاست قلات کی بحالی کی کوششیں شروع کیں۔ انہوں نے متعدد سرداروں کو ساتھ ملا کر مہم چلائی۔لیکن معاملہ مذاکرات سے حل نہ ہو سکا اور ایوب خان نے 6 اکتوبر 1958ءکو قلات میں فوج اتارکر میر احمد یار خان کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کرلیا۔جس پر بلوچوں نے ایک بار پھر ہتھیار اٹھالیے۔لیکن بعد ازاں معافی تلافی ہوگئی اورایوب خان نے میر احمد یار خان کو رہا کرکے بلوچستان کے لیے حکومت کا مشیر مقرر کردیااور باقی کا آپریشن انہی کی نگرانی میں جاری رہا۔
اس بغاوت کے دوران شیر محمد مری عرف جنرل شیروف نے بلوچوں کو عسکری تربیت دینے کے لیے 23 کیمپ قائم کیے۔ فوجی چوکیوں پر حملے، ریل کی پٹریوں پر دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔جبکہ حکومت کی طرف سے بغاوت کو کچلنے کے لیے ہوائی جہازوں کے ذریعے بمباری بھی کی گئی۔ عطاءاللہ مینگل، خیربخش مری اور اکبربگٹی کی سرداریاں ضبط ہو گئی۔ تاہم بھاری جانی نقصان کے بعد 10 سالہ لڑائی 28 جنوری 1967 کو ختم ہو گئی۔

تیسری مسلح بغاوت
یکم مئی 1972ءکو نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جے یو آئی نے مل کر بلوچستان میں حکومت بنائی جس میں غوث بخش بزنجو گورنر اور عطاء اللہ مینگل وزیراعلیٰ بنے۔جبکہ نیپ کے سربراہ خیربخش مری تھے۔اس وقت سردار اکبر بگٹی حکومت کے ساتھ تھا ۔انہی دنوں عراقی سفارت خانے سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا جس کا الزام بلوچستان کی صوبائی حکومت پر الزام لگاکہ اس نے اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے منگوایا تھا۔ چنانچہ اس بنیاد پر 15 فروری 1973ءکو مخلوط حکومت توڑ کر گورنر راج نافذ کردیا گیا اور سردار اکبر بگٹی کو گورنر بنادیا گیا۔
جس پر بلوچ پھر ایک بار اٹھ کھڑے ہوئے ۔ گورنر بلوچستان سرادر اکبر بگٹی کی سربراہی میں بلوچوں کے خلاف ایک بار پھر مسلح کاروائی شروع ہو گئی۔ اسی لڑائی کے دوران اکبر بگٹی ایک بار پھر حکومت سے ناراض ہو کر علیحدہ ہوگئے۔ ان کے بعد حکومت نےنواب آف قلات احمد یار کو پھر گورنر بنا دیا۔ انہوں نے بھی بلوچوں کے خلاف آپریشن روکنے کے بجائے اسے مزید تیز کردیا جو 1977میں جا کر ختم ہوا۔

چوتھی بغاوت
پرویز مشرف کے صدر بنتے ہی حکومت اور بگٹی میں کھینچا تانی شروع ہوگئی۔ اس کی ابتدا گیس رائلٹی اور علاقے میں فوجی چھاﺅنی کے قیام، سڑکوں کی تعمیر اور ایسے ہی دیگر وجوہات کی بنا پر پرویز مشرف حکومت اور اکبر بگٹی میں اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ جس پر پرویز مشرف نے بگٹی قبیلے میں نواب اکبر کے مخالف دھڑے کلپروں کی سرپرستی شروع کر دی جس سے یہ کشیدگی مزید بڑھ گئی ۔ نواب اکبر بگٹی نے کلپروں کو سالہا سال سے اپنے علاقے سے بے دخل کررکھا تھا جو مشرف کلپروں کو دوبارہ اپنے آبائی علاقے میں بسانا چاہتے تھے۔جب 2003ءمیں سوئی میں چھاﺅنی کی تعمیر شروع ہوئی تو بگٹی قبیلہ حکومت کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ فورسز اور سرکاری تنصیبات پر بم اور راکٹ حملے شروع ہوگئے۔
جنوری 2005ءمیں ڈاکٹر شازیہ خالد کی مبینہ طور پر ایک فوجی افسر کے ہاتھوں بے حرمتی کے واقعہ نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اکبر بگٹی نے اسے بلوچوں کی عزت پر وار قرار دیا۔باالآخر یہ لڑائی بڑھتی چلی گئی اور اکبر بگٹی مسلح ساتھیوں سمیت پہاڑوں پر چلے گئے۔ 26 اگست 2006 کو ایک فوجی آپریشن کے دوران اکبر بگٹی مارے گئے ۔بگٹی کے مارے جانے کے بعد بلوچستان میں لڑائی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہواجو آج بھی جاری ہے۔
قارئین آپ نے پڑھا کہ بلوچستان میں اب تک چار بغاوتیں ہو چکی ہیں ۔ ان تمام بغاوتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ جب بھی حکومت نے کسی سردار یا نواب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی (غلط یا صحیح) تو بلوچوں نے مسلح مزاحمت شروع کر دی۔یہ کہنا درست ہوگا کہ بلوچستان میں ہونے والی تمام بغاوتوں کا بلوچ عوام کے مسائل سے نہی بلکہ سرداری مسائل سے تعلق تھا۔ جیسا کہ نئی بات میگزین اس سے پہلے بلوچ قبیلوں کی تاریخ پر لکھ چکا ہے کہ بلوچوں میں بھی سرادری نظام ہے۔ یہاں کے معاشرے میں سردار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ عام بلوچی اپنی روایات کے مطابق اپنے قبیلے کے سردار کے لیے جان دینے اور لینے سے گریز نہیں کرتا چنانچہ بلوچ سردار اس قبائلی نفسیات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔
نئی بات میگزین نے اپنی ایک اشاعت میں بلوچستان کی سیاست پر مضمون دیا ہے جس میں قارئین نے پڑھا ہوگا کہ یہی سرادر اور نواب ہمیشہ حکومتوں میں بھی شامل رہے ہیں۔ اکبربگٹی وفاقی وزیر، گورنر اور وزیراعلیٰ رہے، عطاءاللہ مینگل وزیراعلیٰ رہے، نواب خیربخش مری رکن قومی اسمبلی اور وزیر رہے، اختر مینگل وزیراعلیٰ رہے، خیربخش مری کے چاروں صاحب زادے گزین، حیربیار، بالاچ اور چنگیزخان رکن اسمبلی رہے، گزین اور چنگیز وزیر بھی رہے۔ بگٹی، مینگل اور مری قبائل کے سردار گھرانوں کا شاید ہی کوئی فرد ہو جو کبھی اقتدار کے ایوانوں میں نہ رہا ہو۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے لیے ان لوگوں کو کروڑوں روپے دیے گئے لیکن ان میں سے ایک پیسہ بھی بھی عوام پر خرچ نہیں ہوا ان سرداروں نے علاقوں میں نہ تو اسکول بننے دیے اور نہ ہی ہسپتال۔ سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں ڈالی۔ اصل میں یہی سردار صوبے کی پس ماندگی کے ذمہ دار ہیں اور ملبہ حکومت پاکستان پر ڈال کر معصوم عوام کواستعمال کرتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s