سچی کہانیاں

بیچاری شمیم ۔۔ جوئے میں اپنا سب کچھ ہار گئی

۔منصور مہدی
۔۔۔صبح سویرے محلے سے شور کی آواز سن کر جب بیدار ہوا تو ایسے محسوس ہوا کہ جیسے گھر کے باہر کوئی لوگ لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ گالی گلوچ کر رہے ہیں۔ مردوں کی آوازوں کے درمیان عورتوں کی آوازیں بھی آ رہی تھی۔ پہلے تو پتا نہیں چلا کہ یہ کن کی آوازیں ہیں ۔ لیکن تھوڑی دیر بعد جب ایک مخصوص گالی دینے کی آواز آئی تو اندازہ ہوا کہ یہ شمیم کے خاوند کی لڑائی ہو رہی ہے۔ شمیم کا خاوند بھی عجیب شخصیت ہے یا پھر شمیم خود کوئی نرالی عورت ہے کہ جس کا شوہر اس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شمیم اصل میں علاقے کی ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس کی شہرت کی وجہ کوئی اچھائی نہیں بلکہ ایک برائی ہے۔ شمیم اپنے والدین کی اکلوتی لڑکی ہے۔ اس کا والد اور چار بھائی علاقے میں بک کا کام کرتے ہیں۔ یعنی بکی ہیں۔ بکی اسے کہتے ہیں جو جوئے میں حصہ لینے والوں کے اندراج کرتا ہے اور جہاں وہ جیتنے والوں کو رقم دینے کے پابند ہیں وہی ہارنے والوں سے رقم نکلوانے کا کام کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں چونکہ نہ صرف کھیلوں خصوصاً کرکٹ پر بلکہ دیگر بھی مواقع پر جیسے کوئی سیاسی ایشو اٹھ کھڑا ہو یا کسی قومی نوعیت کے مقدمے کا فیصلہ آنا ہو یا حکومت کے گرنے کی پیشگوئیاں ہو رہی ہوں۔ تو جوا کے رسیا یہ تمام مواقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے بلکہ ان پر شرطیں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ بکی کی اس تمام کام میں کمیشن ہوتی ہے۔ کھیل کا یا مقدمے کا کوئی بھی فیصلہ ہو ، کوئی ہارے یا جیتے بکی کی کمائی ہر حال میں ہونی ہوتی ہے۔
چنانچہ شمیم کی فیملی بھی دیکھتے ہی دیکھتے امیر سے امیر تر ہوتی چلی گئی اور ساتھ ہی زمانے کے نرالے دستوروں کے مطابق معزز بھی کہلوانے لگی۔ شمیم شروع سے ہی بڑی ناک چڑی، مغرور اور بد زبان تھی۔ شاید مکافات عمل کے تحت جو کمائی اس کے والد اور بھائی کر رہے تھے اور وہ لا کر شمیم کو کھلا رہے تھے تو پھر ویسا ہی شمیم کا کردار بن رہا تھا۔ مگر قانون فطرت سے بے بہرہ شمیم کے والدین بکی کے کام کو اپنے اور خاندان کے لیے رزق کا ذریعہ سمجھ کر اس میں اور محنت کرتے رہے اور دولت کماتے رہے۔ وقت کے ساتھ شمیم جوان ہو گئی اور محلے میں ہر طرف اس کا نام سننے میں آنے لگا۔
ایک دن جب یہ بات سننے میں آئی کہ شمیم ایک اور علاقے کے بکی کے لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے تو بیشتر لوگوں کو کوئی حیرانی نہ ہوئی۔ شمیم کے بھائیوں اور والدین اس کے یوں بھاگ جانے پر ایک مرتبہ تو غصے میں ضرور آئے اور شمیم کے شوہر اور اس کی سسرال والوں پر مقدمہ بھی کروا دیا مگر چند دن بعد ہی بات ختم ہو گئی۔ شیم کے والد نے شمیم اور اس کے شوہر کو اس کے والدین نے جائیداد سے عاق کر دیا ۔ لیکن شمیم کے والد نے اسے کے ساتھ یہ نیکی ضرور کر دی کہ اسے ہماری گلی میں ایک مکان خرید کر لے دیا جس میں شمیم اور اس کا نوبیاہتا شوہر منتقل ہو گئے۔
ایک روز شمیم کے شوہر کے بارے میں پتہ چلا کہ اس نے بھی اپنی بک کھول لی ہے ۔ شہر کے ایک معروف ریسٹورنٹ میں اس نے اپنا ٹھکانہ یادفتر بنا لیا ہے۔
میں جس روز کا واقعہ آپ لوگوں کو سنا رہا ہوں اس سے دو روز قبل یعنی 18مارچ 2012کو بنگلہ دیش کے شہر میر پور میں کرکٹ کے ایشیاءکپ میں پاکستان اور بھارت کا میچ ہو ا تھا۔ قارئین کو پتہ ہو گا کہ اس میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 50اورز میں 6وکٹوں پر 329رنز بنائے۔ مجھے محلے کے دیگر لوگوں سے معلوم ہوا کہ جب محمد حفیظ اور ناصر جمشید نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 224رنز بنائے۔ ناصر جمشید نے 112اور محمد حفیظ نے 105رنز بنائے تو پاکستان کی ٹیم کا ریٹ یکدم بلند ہونے لگا اور جوئے کے رسیا لوگوں نے دھڑا دھڑ پیسے لگانے شروع کر دیے۔
پڑھنے والوں کی معلومات کے لیے میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے شہر میں صرف شمیم کا شوہر یا اس کے والد اور بھائی ہی اس میچ کے روز اپنی اپنی بکی پر کام نہیں کر رہے تھے بلکہ ملک کے تمام بڑے شہروں اور بیرون ملک میں بھی اسی طرح بکی میچ کے ہار اور جیت پر جوا بک کر رہے تھے۔ کیونکہ جوئے اور خصوصا کرکٹ کے حوالے سے جوئے کا نیٹ ورک پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ جیسے اس میچ کے دوران بڑی بکیں دبئی اور بھارت کے شہر ممبئی اور کلکتہ میں کام کر رہی تھی۔ درحقیت دبئی اور شہر ممبئی میں بیٹھے بکی ہی ان میچوں کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کس ٹیم نے جیتنا ہے اور کس نے ہارنا ہے اور اسے مناسبت سے یہ داﺅ میں رقم لگاتے ہیں مگر شمیم کے شوہر اور اس جیسے دیگر بکی چونکہ ان بڑے بکیوں کے فیصلوں سے بے خبر ہوتے ہیں تو مار کھا جاتے ہیں۔ اس میچ میں بھی پاکستان کی عمدہ کارکردگی سے پاکستان کے جتینے کی امید قوی ہوتی جا رہی تھی جس پر جوئے کے رسیا بھی خوب رقم لگا رہے تھے۔
پاکستان کی یقینی فتح پر امید کرتے ہوئے شمیم کے شوہر نے تمام جمع پونجی بشمول نیا خریدا ہوا مکان بھی جوئے میں لگا دیا۔ مگر پاکستانی ٹیم کے بعد بھارت نے کھیلنا شروع کیا تو بھارت کے کھیل کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا چنانچہ جب بھارت کی پہلی وکٹ صفر پر گوتم گھمبیر کی صورت میں گری تو شمیم کے شوہر نے شمیم کے تمام زیوارت بھی جوئے میں لگا دیے لیکن جب کوہلی کا کیچ چھوٹا تو شمیم کے شوہر جیسے چھوٹے بکیوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ تو انھیں سابقہ میچ یاد آنے لگے۔
جب انگلینڈ اور پاکستان کے ایک میچ میں ایک کھلاڑی نے کیچ تھام لینے کے بعد خود اسے چھوڑ کر گیند زمین پہ پھینک دی تھی۔ ویسے بھی میچ فکسنگ میں پاکستان پہلے سے ہی بدنام ہے ۔ بھارت‘ جنوبی افریقہ کے نام بھی اس حوالے سے لیے جاتے ہیں۔ بھارت اور جنوبی افریقہ میں تو ایسے کھلاڑیوں کے خلاف کافی سختی کی جا چکی ہے اور اب وہاں کے کھلاڑی میچ فکسنگ کرتے ہوئے کانپتے ہیں۔ مگر پاکستان میں ایسا نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی ٹیم جوئے بازوں کی فیورٹ بن چکی ہے۔
بکیوں کا پاکستانی ٹیم کے حوالے سے کہنا ہے کہ اس کے کھلاڑی بہت اچھے ہیں۔ جب انہیں میچ فکسنگ کرنے والوں کی طرف سے جیتنے کا ہدف ملتا ہے‘ تو یہ جیت کر رقم کما لیتے ہیں اور ہارنے کا ہدف دیا جاتا ہے‘ تو اس سے بھی زیادہ کماتے ہیں۔ کھیل پر ان کی توجہ ملک کے لئے نہیں‘ پیسے کے لئے ہوتی ہے۔ ہم خواہ مخواہ ان کی جیت پر تالیاں بجاتے اور شکست پر غمزدہ ہوتے ہیں۔ ہمارے کھلاڑی دونوں صورتوں میں کچھ نہیں گنواتے۔ ان کی فتح بھی پیسے کے لئے ہوتی ہے اور شکست بھی۔
پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں کی دولت کا اگر اندازہ کرنا ہو تو صرف شعیب ملک کی شادی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شعیب ملک کی شادی کے موقع پر جو شان و شوکت کی نمائش ہوئی وہ حیران کن تھی۔ شعیب ملک بنیادی طور پر ایک غریب خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ رشتہ داروں میں کوئی ایسا کروڑ پتی نہیں‘ جو اپنی دولت شعیب ملک پر لٹاتا۔ ایک انگریزی ہفت روزہ کے مطابق وہ ایک نچلے متوسط گھرانے میں پیدا ہوا اور اس کے والد کو شعیب کی پیدائش کے وقت ضروریات کے لئے قرض لینا پڑا تھا۔ لیکن جب اسے بطور کرکٹر پاکستانی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملا‘ تو بقول اس کے ”مقدر نے آسمان کو چھو لیا۔“ 15سال کی عمر میں کرکٹ شروع کر کے وہ تیزرفتاری سے دولت مندی اور کامیابی کی طرف بڑھنے لگا۔ کپتان بننے تک وہ صرف آسودگی کی منزل تک پہنچا تھا۔ خوشحالی کا دور کپتانی کے بعد شروع ہوا۔ جب اس کی ثانیہ مرزا سے شادی ہوئی اور ذرائع ابلاغ نے اس شادی کی وجہ دلہن کی دولت کو بتایا‘ تو شعیب کے بیشتررشتہ داروں نے فخر سے کہا کہ ہمارا کھلاڑی بھی دولت مندی میں اس سے کم نہیں۔ وہ بھی کروڑوں کا مالک ہے۔ 65لاکھ روپیہ تو اس نے بھارتی روپوں میں حق مہر رکھا ہے‘ جو پاکستانی روپے میں ایک کروڑ 30 لاکھ ہو جاتا ہے اور اسے دوبئی کے سب سے پرتعیش علاقے میں ایک ولا تحفے میں دیا ہے۔ پاکستان میں اس نے دو جگہ ولیمہ کیا اور اس طرح دولت لٹائی کہ خاندانی رئیس بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔
اسی طرح کرکٹ کے بکی بھی لاکھوں پتی اور کروڑ پتی بن گئے۔ لیکن ان میں چھوٹے بکی اور جوا کھیلنے والے عام لوگ عموما مار کھا جاتے ہیں اور جیتے کی امید میں ہر دفعہ جوئے میں رقم لگاتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ شمیم کے شوہر نے بھی پاکستان کی یقینی فتح کی امید میں اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا دیا مگر اس کا نتیجہ جب برعکس نکلا تو شمیم کا شوہر اپنا سب کچھ ہار گیا۔ صرف شمیم کا شوہر ہی نہیںبلکہ پاکستان میں سٹے کا کاروبار اور بک میکرز کے اربوں ڈوب گئے۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور میں صرف تین یا چار ایسے بکی تھے کہ جنہیں اس میچ کے نتیجے کا علم تھا چنانچہ وہ جیت گئے جبکہ باقی کے سب ہار گئے۔
لاہور کے بک میکروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 18مارچ کو کھیلے جانے والا میچ طے شدہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں ویسے تو اسی روز خدشہ ہو گیا تھا کہ جب بھارت نے بنگلہ دیش سے جیتا ہوا میچ ہار دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹر نیشنل کرکٹ مافیا نے ٹیموں کی ہار جیت کا جو طریقہ اپنایا ہوا ہے اس کے مطابق وہ کرکٹ کی کسی بھی ٹیم سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لیتے ہیں ۔
بہرحال اس میچ میں شمیم کا شوہر اپنا سب کچھ لٹا بیٹھا، شمیم کے والدین اور اس کے اپنے والدین اسے چھوڑ چکے تھے لہذا جس پارٹی سے وہ ہارا وہ پہلے ہی شمیم کے سسرکی مخالف پارٹی تھی۔ چنانچہ انھیں ان سے بدلہ لینے کا موقع مل گیا اور انھوں نے دیگر غندوں کے ساتھ علاقہ پولیس سے ملی بھگت کر کے جب محلے کے تمام لوگ سو رہے تھے شمیم کے گھر پر ہلہ بول دیا اور ان کے گھر پر قبضہ کر لیا۔ اس پارٹی کا موقف تھا کہ شمیم کے شوہر نے مکان کی رجسٹری لگائی ہے جو وہ اب ہار گیا ہے۔
اس میچ میں شمیم ہی صرف اپنے مکان اور زیوارت سے محروم نہیں ہوئی بلکہ سینکڑوں خواتین اس میچ کے نتائج سے متاثر ہوئیں ، کسی کے شوہر ، بھائی یا والد نے رقم لگائی ہوئی تھی تو کسی نے مکان یا دکان جوئے میں لگا دی تھی تو کسی نے بیوی کے زیوارت ہار دیے۔ کرکٹ پر جوا اب ہمارے معاشرے میں ایک لعنت بن چکا ہے ویسے بھی جوا ایک لعنت ہی ہے۔
اب یہ سنا جا رہا ہے کہ پاکستان کی اس حوالے سے بین الاقوامی طور پر ہوتی ہوئی بدنامی کی وجہ سے پاکستانی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی محض پرانے گناہوں کی تفتیش تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جواریوں کو بھارت اور جنوبی افریقہ کی طرح ایسی سزائیں دی جائیں کہ وہ دوبارہ کھیل کے میدان میں داخل نہ ہو سکیں۔ خواہ ان کا کیرئیر عروج پر ہی کیوں نہ ہو۔ جنوبی افریقہ نے اپنے بہترین کپتان اور کھلاڑی کو اس کے عروج کے زمانے میں فارغ کیا تھا۔ بھارت نے اظہرالدین اور جدیجہ کو اس وقت کھیل سے باہر کیا‘ جب دونوں اپنے عروج پر تھے۔ اگرچہ پاکستان میں بھی جوئے باز کھلاڑیوں کو سزائے دینے کا عمل شروع ہو چکا ہے اگرچہ یہ کافی نہیں ہے۔ اس احتسابی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s