سچی کہانیاں

قائد عوام ذولفقار علی بھٹو شہید

منصور مہدی

پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم لاڑکانہ سندھ میں5جنوری 1928کو پیدا ہوئے۔ انکے والد سر شاہ نواز بھٹو بمبئی حکومت میںمشیر اعلی اور جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔ آپ کی والدہ کا نام خورشید بیگم تھا۔جبکہ ذولفقار علی بھٹو کی مادری زبان سندھی تھی ۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم 1937سے1947تک بمبئی کے کیتھڈرل ہائی سکول سے حاصل کی۔1947میں انھوں نے یونیورسٹی آف ساﺅتھرن کیلیفورنیا میں داخلہ لے لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1949 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے برکلے کیمپس میں چلے گئے پہلے ایشیائی کی حیثیت میں برکلے سٹوڈنٹ کونسل میں منتخب ہوئے اور 1950میں وہاںسے سیاسیات میں گریجویشن کی اور بعد ازاں1950میں ہی آکسفورڈ کے کرائسٹ چرچ کالج میں داخلہ لے لیا۔ 8ستمبر 1951میں ذولفقار علی بھٹو نے نصرت بھٹو سے شادی کی۔ 1952ءمیں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور1953میں لنکن ان میں چلے گئے۔ 1953ءمیں وطن واپس آ گئے اور سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ 1953میں ذولفقار علی بھٹو کی پہلی بیٹی بے نظیر بھٹو پیدا ہوئیں۔ 1954میں مرتضےٰ بھٹو 1957میں صنم بھٹو اور 1958میں شاہنواز بھٹو پیدا ہوئے۔ 1954میںکچھ عرصہ مسلم لاءکالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1957میں پاکستان کے اقوام متحدہ میں وفد کے رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور25اکتوبر 1957کو اقوام متحدہ کی Sixth Committee on Aggression سے خطاب کیا۔مارچ 1958میں پاکستانی وفد کے لیڈر کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی Conference on the Law of the Seas سے خطاب کیا۔
1958 میں آپ نے سکندر مرزا کی کابینہ میں بطور وزیر تجارت شمولیت اختیار کی۔ 1960میں صدر ایوب خان کی کابینہ میں سب سے کم عمر وزیر رہے۔ 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور ، قومی تعمیر نو اور اطلاعات ، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔بھٹو صاحب کا حکومت میں آنے کے بعدپہلا بڑا کارنامہ 2مارچ1963کو پاکستان اور چین کے درمیان سرحدوں کے تعین کا معاہدہ ہے۔ جبکہ 1964میں ترکی اور ایران کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنایااور1966میں آر سی ڈی کی بنیاد ڈالی۔جون 1966میں آپ نے صدر ایوب کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔
21جون1966کو لاہور آمد پر عوام نے آپ کا تاریخی استقبال کیا۔ اور پاکستان پیپلزپارٹی بنانے کا اعلان کیا اور اسلام ہمارا دین ، جمہوریت ہماری سیاست اور سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں کا نعرہ دیا۔
30نومبر 1967ء میں آپ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی باقاعدہ بنیاد رکھی ۔ 1968میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک چلائی جس پر 12نومبر1968کو حکموت نے آپ کو گرفتار کر لیا۔7دسمبر 1970 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی مگر مشرقی پاکستان میں اکثریتی پارٹی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کر پائے۔ 20دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی چنانچہ ذولفقار علی بھٹو20 دسمبر 1971 تا 13 اگست 1973 تک صدر مملکت اور سول چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹرکے عہدے پر فائز رہے۔
10فروری1972کو مزدوروں کی اصلاحات کا اعلان کیا اوردس مختلف اقسام کی بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے لیا جبکہ مزدوروں کو منافع میں حصہ دار قرار دیا ۔ جب1972میں برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک نے بنگلہ دیش کو آزاد ریاست کے طور پر قبول کرنے کا اعلان کیا تو انھوں نے پاکستان کی دولت مشترکہ کے ممالک اور سیٹو کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کر دیا ۔ یکم مارچ 1972کو زرعی اصلاحات کا اعلان کیا جس میں 500ایکٹر زرعی زمیں کی ملکیت کی بجائے150ایکٹر اور غیر زرعی ایک ہزار ایکٹر سے کم کر کے300ایکٹر کا اعلان کیا جبکہ 100ایکٹر سے زیادہ حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمیں کو دی گئی زمین کو واپس لیکر دوبارہ اصلاحات کے مطابق تقسیم کی گئی۔ جس سے ملک بھر کے ہزاروں غریب کسانوں کو ملکیتی حقوق ملے اور سب سے پہلے اپنی زمینوں پر بیٹھے مزارعوں کو حقوق ملکیت دیے۔ 14اپریل 1972کو لاءریفارم کمیشن کی بنیاد رکھی۔21اپریل 1972کو ملک سے مارشل لاءکے خاتمے کا علان کر دیا۔2جوالائی1972کو بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں 1971کی جنگ میں بنائے گئے پاکستان کے نوے ہزار سے زائد قیدیوں کو رہائی ملی اور بھارت کے زیر قبضہ 5ہزار مربع میل علاقے پاکستان کو واپس ملے۔24ستمبر 1972کو نیشنل بک فاﺅنڈیشن کی بنیاد رکھی۔28نومبر1972کو کراچی میںپاکستان کے پہلے ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھی۔5 فروری1973کو این ڈی ایف سی کی بنیاد رکھی۔9فروری1973کو قائد اعظم یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا۔ 21اپریل1973کو پاکستان کا آ ئین بنایا۔ 27جون 1973کو پورٹ قاسم اتھارٹی کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرف سے تمام پاکستانی سیاسی جماعتوں کے مشترکہ بنائے گئے آئین کی منظوری کے بعد14 اگست 1973 کو نئے آئین کے تحت آپ نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا۔ 28جولائی1973کو شناختی کارڈ کا اجراءعمل میں آیا۔
30دسمبر1973کو آپ نے کراچی کے قریب بننے والی پہلی پاکستان کی سٹیل مل کا افتتاح کیا۔یکم جنوری1974کو انھوں نے پاکستان کے تمام نجی بنکوں کو قومی تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا۔22فروری1974کو آپ نے تمام اسلامی ممالک کی کانفرنس لاہور میں منعقد کروائی جس میں 38اسلامی ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی۔ اگست1976کو امریکی وزیر خارجہ نے ذولفقار علی بھٹو کو دھمکی دی کہ اگر انھوں نے ایٹمی پروگرام ختم نہ کیا تو انھیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔کیونکہ بھٹو صاحب داکٹر قدیر کو پاکستان واپس بلا کر ایک بڑے منصوبے پر کام شروع کر دیا تھا جس کے نتیجے میں اگرچہ بھٹو صاحب کو نہ صرف اپنی حکومت کھونا پڑی بلکہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے مگر پاکستان کو ایک ایٹمی ملک کی حیثیت سے دنیا بھر میں روشناس کروا دیا۔ ستمبر 1976کو بھٹو صاحب نے تیسری دنیا کے ممالک کی کانفرنس کی تجویز پیش کی۔
7مارچ1977ءکے عام انتخابات میں بھٹو حکومت پر اپوزیشن کی طرف سے دھاندلیوں کے الزامات کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل محمد ضیا الحق نے ملک میںمارشل لاء نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ءمیں مسٹر آپ کو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ 18 مارچ 1978ءکو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ءکو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی اور انھیں گڑھی خدا بخش میں ان کے والد کے پہلو میں دفنا دیا گیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s