سچی کہانیاں

فضہ گیلانی، مریم نواز اور فاطمہ بھٹو نوجوان نسل کی نمائندہ ہیں

پاکستانی خاتون سیاستدان

منصور مہدی
18 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل پاکستان جس میں خواتین مجموعی آبادی کاتقریباً52 فیصدہیں تاہم سیاست میں خواتین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہو تی ہے۔ پاکستان جہاں خواتین کو سماجی و معاشی شعبوں میںآگے بڑھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے وہیں سیاست میں بھی دشواریاں ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں اگرچہ آزادی سے قبل بھی بیگم سلمیٰ تصدق، فاطمہ بیگم اور بی اماں جیسے خواتین نے تحریک پاکستان میں اہم سیاسی کردار ادا کیا تھا لیکن پاکستان کے قیام کے بعد قائد اعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کی سیاست سے کنارہ کشی نے خواتین کی سیاست میں شمولیت کو وقتی طور پرروک دیالیکن 1964میں دوبارہ ملکی سیاست میں آنے کے بعد خواتین کو ایک نئی تحریک دی ۔
اگرچہ پاکستان میں 1951 میں پہلی بار عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا جبکہ 1970 سے 1972 تک قومی اسمبلی میں6 خواتین منتخب ہوئیں جبکہ کل نشستوں کی تعداد 144 تھی لیکن 1975 سے 1977 کے درمیان میں خواتین کی نمائندگی صرف ایک خاتون نے کی۔ 1993 سے 96 کی قومی اسمبلی کی 217 نشستوں پر 4 خواتین ہوئیں جبکہ 1996 سے 99 کی اسمبلی میں 6 خواتین منتخب ہوئیں جوکہ بلاشبہ ایک بہترین تبدیلی کی بنیاد بنی اس طرح موجود اسمبلی میں 76 خواتین ارکان اسمبلی ہیں۔
وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو ملک کی دو بار وزیر اعظم منتخب ہوئی۔ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی صاحبزادی کنیز صغریٰ سیاست میں رہ چکی ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر اہم سیاسی خواتین میں جن کا نام شامل ہے ان میںڈاکٹر فہمیدہ مرزااسلامی دنیا کی پہلی خاتون سپیکر ہیں جو تیسری دفعہ منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں آئیں۔یہ سابق وزیرِداخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی اہلیہ ہیں۔
حنا ربانی کھر پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِخارجہ ہیںجو دوسری مرتبہ قومی اسمبلی میں منتخب ہوکر آئیں۔ انھیں صرف33سال کی عمر میں پاکستان کی کم عمر وزیرِخارجہ بننے کا اعزاز حاصل ہے۔یہ ضلع مظفرگڑھ کے علاقے سے تعلق ہے اور غلام ربانی کھر کی بیٹی ہیں۔
فریال تالپورپاکستان پیپلزپارٹی خواتین کی صدر اور قومی اسمبلی کی منتخب ہیں ۔ یہ، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ہیں۔یہ دو مرتبہ ضلع نواب شاہ کی ناظمہ بھی رہیں۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پاکستان کی وفاقی وزیرِاطلاعات ہیں۔ سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔
فرح ناز اصفہانی قومی اسمبلی کی رکن ہیں۔ اپنے شوہر حسین حقانی کی وجہ سے بھی کافی شناخت رکھتی ہیں۔ یہ امریکہ میں پاکستان کے پہلے سفیر مرزا ابولحسن اصفہانی کی پوتی ہیں۔
امیر ترین خواتین سیاست دان نزہت صدیق پاکستان مسلم لیگ ن کی خواتین ونگ کی سینٹرل چیف آرگنائزر ہیں۔ گزشتہ بیس سالوں سے سیاست میں ہیں۔ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کی ر±کن بنیں۔ ان کے سسر شیخ مسعود صادق تحریک آزادیِ پاکستان کے نمایاں راہنماو¿ں میں شامل تھے۔الیکشن کمیشن کے مطابق اثاثوں کے گزشتہ گوشوارے کی رو سے ایک ارب پچاس کروڑ روپے کے اثاثہ جات رکھتی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ خواتین سیاست دانوں میں سب سے زیادہ دولت مند ہیں ۔
بیگم عشرت اشرف جنوبی پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ گوجر خاندان کے سیاستدان چوہدری محمد جعفر اقبال کی اہلیہ ہیں۔ ان کی بیٹی زیب جعفر پنجاب اسمبلی کی ر±کن اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر ہیں۔بیگم عشرت اشرف مسلم لیگ ن کی ایم،این،اے ہیں۔
بیگم حسنین پیپلز پارٹی کی ایم این اے اور خواتین ونگ کی کوآرڈینیٹر ہیں۔ سعادت حسنین خان اِن کے شوہر ہیں۔ دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کی ر±کن بنیں۔بذات خود زمیندار خاندان سے ہیں۔
عطیہ عنایت مسلم لیگ ن سے تعلق اور لاہور سے قومی اسمبلی کی رکن ہیں۔شیری رحمان بنیادی طور پر صحافی ہیںلیکن بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاست میں آئیں اور پاکستان کی وزیر اطلاعات رہیں اور اب امریکہ میں سفیر ہیں۔ مائیکرو فنانس بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو ندیم حسین ان کے شوہر ہیں۔
سمیحہ راحیل قاضی پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی و سیاسی پارٹی، جماعت اسلامی کے وومن کمیشن کی سربراہ ہیں۔قومی اسمبلی کی سابق رکن ہیں۔
یہ وہ ساری خواتین ہیں جن کا کسی بھی طور سیاسی خاندانوں سے تعلق ہے۔ مورثی سیاست کرنےوالی خواتین کو سیاست میں آنے کے لیے کئی سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ جیسے ابھی حال ہی میں قزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی بیٹی فضہ بتول گیلانی نے سیاست میں آنے کا اعلان کیا تو اس کی پرموشن کے لیے وفاقی حکومت کے ادارے انھیںسفیر خیر سگالی برائے بہبود نسواں کے طور پر اپنی خصوصی تقریبات میں بلا رہے ہیں ۔ اس طرح ان کی خبریں اور تصویریں نہ صرف اخبارات کی زینت بن رہی ہیں بلکہ دیگر ذرائع ابلاغ میں بھی موضوع بنی ہوئی ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ فضہ بتول گیلانی نے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی خواہش پر کیا ہے۔
فضہ بتول گیلانی وزیر اعظم کی اکلوتی بیٹی ہیں جبکہ ان کے چار بھائی ہیں۔ ان کی شادی 1998میں ہوئی اور ایک بیٹا ہے۔
فضہ گیلانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملک میں خواتین کی ترقی و فلاح و بہبود اور ان کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کیلئے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
فضہ گیلانی فیس بک کے اپنے صفحے پر اپنے بارے میں لکھتی ہیں کہ انھوں نے لاہور کنیرڈ کالج سے انگلش لٹریچر میں میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ۔ انھیں لکھنے کا بھی شوق ہے اور ابھی حال ہی میں ایک انگریزی اخبار میں ان کا آرٹیکل بھی شائع ہو چکا ہے۔ فیس بک پر ان کے صفحے کو ابھی صرف 333افراد نے لائق کیا ہے۔
پاکستان میں حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی اپنی عملی سیاست کا آغاز کر دیا ہے تاہم ابھی ان کے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کا بھی چونکہ سیاسی خاندان ہے اور ان کے چچا پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہے لہذا انھیں بھی سیاست میں آنے پر کوئی دشواری نہیں ہوئی بلکہ یہ بھی مختلف تقریبات میں شرکت کر رہی ہیںاور صوبائی دارالحکومت لاہور میں سماجی نوعیت کی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شریک ہورہی ہیں۔عملی سیاست میں قدم رکھنے والی مریم نواز ان تقریبات میں نہ صرف میڈیا سے گفتگو کرتی ہیں بلکہ کئی بار تو تقریب میں موجود افراد کے سوالات کے جوابات بھی دیتی ہیں۔
مریم نواز کی اچانک سیاست میں دلچپسی اور سیاست میں باضابطہ قدم رکھنا سیاسی حلقوں اور مسلم لیگ نون کے کارکنوں کے لیے کافی حد تک حیرت کا باعث ہے۔ اس کی ایک وجہ تو نواز شریف کے بچوں کا عملی سیاست سے دور رہنا ہے اور دوسرا شریف خاندان کی خواتین کا عملی سیاست میں کوئی قابل ذکر کردار نہیں رہا۔
مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر پہلے سے ہی عملی سیاست میں ہیں اور راولپنڈی سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔
ان کی والدہ کلثوم نواز بھی کچھ عرصہ سیاسی افق پر رہیں جب ان کے شوہر کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔نواز شریف کی پاکستان واپسی کے بعد عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے کاغذات جمع کرائے تھے تاہم بعد میں انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے۔کلثوم نواز نے لاہور میں کچھ انتخابی حلقوں میں ہونے والے جلسوں سے خطاب بھی کیا اور پھر وہ دوبارہ سیاسی منظر نامہ سے غائب ہوگئیں۔شریف خاندان کی اگلی نسل سے مریم نواز واحد خاتون ہیں جو عملی سیاست کا آغاز کیا ہے۔
مریم نواز کا بھی فیس بک پر اپنا ذاتی صفحہ ہے جس میں گرچہ انھوں نے اپنی تعلیم کا ذکر تو نہیں کیا لیکن ان کے صفحے کو 2230افراد likeکر چکے ہیں۔
سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کی پوتی اور بے نظیر کی بھتیجی فاطمہ بھٹو بھی سیاست میں آ چکی ہیں۔فاطمہ بھٹو نے ابتدائی تعلیم دمشق(شام) میں حاصل کی۔1993ءمیں اپنی والدہ غنویٰ بھٹو اور چھوٹے بھائی ذوالفقار بھٹو جونیئر کے ساتھ پاکستان آگئیں۔ انہوں نے کراچی امریکن اسکول سے او لیول کیا۔ پھر2004ءمیں کولمبیا یونیورسٹی ،نیویارک سے امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجویشن کیا۔گریجویشن میں ان کا خاص مضمون مشرق وسطیٰ میں بولی جانے والی زبانیں اور کلچرتھا۔2005ءمیں انہوں نے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقین اسٹیڈیز سے”ساﺅتھ ایشین گورنمنٹ اور سیاسیات“ میں ماسٹرز کیا۔
فاطمہ بھٹو شاعرہ اور لکھاری بھی ہیں ، پاکستان ، امریکہ اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں۔1997ء پندرہ برس کی عمر میں فاطمہ بھٹو کا پہلا شعری مجموعی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے شائع ہوا جس کا عنوان (صحرا کی سرگرشیاں) تھا۔2006ءمیں دوسری کتاب 8اکتوبر2005ءکو آزاد کشمیر اورصوبہ سرحد میں آنے والے زلزلے کے موضوع پرشائع ہوئی۔جبکہ تیسری کتاب blood of songs and sword زیر اشاعت ہے۔
فاطمہ بھٹو کو سماجی فلاح و بہبود کے کاموں سے گہری دلچسپی ہے، بالخصوص سندھ کی جیلوں میں قید خواتین کے ساتھ ہونےوالا سلوک، ان کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔وہ نہ صرف اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ لکھتی رہی ہیں ، بلکہ باقاعدگی کے ساتھ لاڑکانہ ویمنز جیل کا معائنہ بھی کرتی ہیں۔ انہیں کراچی میں کچی آبادیوں میں بسنے والے لوگوں کے مسائل سے بھی گہری دلچسپی ہے۔
خواتینپاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔گزشتہ چند دہائیوں کے دوران زندگی کے ہر شعبے میں خواتین اپنی اہمیت منوا چکی ہے اس طرح سیاست میں خواتین کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت صوبائی اور قومی سطح پر پارلیمینٹ میں باقاعدہ منتخب خواتین کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے جوکہ نہ صرف خواتین کے حقوق کے ہے موثر کردار ادا کررہی ہیں بلکہ اہم سیاسی مسائل کے حل میں بھی ملکی اور عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کی جنگ لڑرہی ہیں۔ اگر اس سلسلے میں حالات کی تبدیلی کا جائزہ لیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے کی نسبت حالات خواتین کیلئے مناسب اور conductive ہیں کیوں کہ ہم ایک ایسی سوسائٹی میں رہ رہے ہیں جہاں مردوں کی حاکمیت ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مردوں میں یہ شعور اور آگاہی بڑھ رہی ہے کہ خواتین کو معاشرے کا مفید رکن بنائے بغیر حقیقی تبدیلی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔

فضہ گیلانی، مریم نواز اور فاطمہ بھٹو نوجوان نسل کی نمائندہ ہیں” پر ایک خیال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s