سچی کہانیاں

معروف غیر ملکی فوڈکمپنیوں کے مسترد شدہ پیکنگ میٹریل میں موت بیچی جاتی ہے؟

قوم کے دشمن
معروف غیر ملکی فوڈکمپنیوں کے مسترد شدہ پیکنگ میٹریل میں موت بیچی جاتی ہے؟

منصور مہدی
بچے قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں چنانچہ ان کی تندرستی کا خیال رکھنا معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے بچوں کی صحت کا خیال رکھتی ہیں وہی ترقی کی منزلیں طے کرتی ہیںجبکہ بیمار بچوں کا معاشرہ آسودگی کی منزل کھو دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا ملک بچوں کی صحت مندانہ نگہداشت کے حوالے سے ابھی بہت پیچھے ہیں۔ پاکستانی بچوں میں پیٹ کی بیماریاں بہت عام ہیں۔ جن سے ہر سال ہزاروں بچوں کی اموات بھی ہوتی ہےں۔ پیٹ کی یہ تمام بیماریاں بچوں میں زیادہ تر بغیر ابلا ہوا پانی پینے ، ناقص اور مضر صحت اشیاءکھانے سے ہوتی ہیں۔ میو ہسپتال میں بچوں کی امراض کے ماہر ڈاکٹر فرید کا کہنا ہے کہ لاہور کے سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں بھی ساٹھ فیصد مریض بچے ہی ہوتے ہیں اگرچہ ان میں ہر طرح کے امراض میں مبتلا بچے پائے جاتے ہیںمگر پیٹ سے متعلقہ امراض کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے اور اس کی وجہ مضر صحت کھانے کی اشیاءہیں۔
کھانے پینے کی چیزوں میں مضر صحت اجزا کی ملاوٹ اورغیر معیاری پیکنگ میٹریل کا استعمال عام ہونے کی وجہ سے شاید کوئی گھر ایسا ہو کہ جہاں بچے ان اشیاءکو کھانے سے بیماری کا شکار نہ ہوئے ہوں۔ بچوں کے کھانے کی اشیاءمیں جہاں دیگر طریقوں سے ملاوٹ کی جاتی ہے وہاں معروف غیر ملکی کمپنیوں کے مسترد شدہ پیکنگ میٹریل میں بعض جعلساز گھٹیا اور غیر معیاری ٹافیاں ،چاکلیٹ ،بسکٹ ، چپس ، ادویات اور دیگر اشیائے خوردونوش پیک کر کے اور انھیں امپورٹڈ ظاہر کر کے فروخت کر رہے ہیںجس سے بچے پیٹ ،معدہ اور جگر کے امراض کے علاوہ کینسر جیسی موذی بیماری کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر فرید نے بتایا کہ مضر صحت ریپرز میںفروخت ہونے والی غیر معیاری چاکلیٹ، بسکٹ، آئس کریم اور دیگر اشیاءکھانے سے سب سے پہلے دانتوں اور مسوڑوں کی بیماریاں ہوتی ہیں بعد ازاںایسی اشیاءگلے کی خرابی کا باعث بن جاتی ہیں پھر معدہ کی بیماری کا سبب بنتی ہے اور معدہ اور انتڑیوں میں سوزش پیدا کرتی ہے جس سے بعد میں ورم ہو جاتا ہے اور جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے انہوں نے بتایا جب اشیاءکو ویسٹ پلاسٹک جسے یہ کمپنیاں تکنیکی بنیادوں پر مضر صحت سمجھتے ہوئے ضائع کر دیتی ہیں میں پیک کیا جاتا ہے تو اس کے کیمیائی اجزا کھانے کی چیزوں میں شامل ہو جاتے ہیں جو بعد ازاں کنسیر کا باعث بنتے ہےں ۔ انھوں نے بتایا کہ خالص خوراک کا نہ صرف بچے کی صحت سے تعلق ہوتا ہے بلکہ تعلیم اور ذہانت سے بھی اس کا بڑا تعلق ہے کیونکہ طب کی تحقیق کے مطابق ملاوٹ شدہ چیزیں کھانے والے بچوں کی ذہانت نارمل سے کم ہوتی ہے۔
یہ پیکنگ میٹریل لاہور میںاخبارات کی فروخت کی سب سے بڑی مارکیٹ پیسہ اخبار کے بالمقابل مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہے جہاں سے نہ صرف لاہور بلکہ دیگر شہروں کے بد نیت تاجر 80سے150روپے کلو کے حساب سے خریدتے ہیں اور اس میںٹافیاں ،چاکلیٹ،چپس،آئس کریم اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءپیک کر کے انھیں امپورٹڈ ظاہر کر کے فروخت کرتے ہیں جن کو کھانے سے مرد عورتیں اور خصوصاً بچے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو تے ہیں۔ اس میٹریل میں نہ صرف مقامی فوڈ کمپنیوں کا میٹریل ہوتا ہے بلکہ یورپ کی مشہور زمانہ ملٹی نیشنل فوڈکمپنیوںکی پراڈکٹ پارکل،ڈبل کریم،ڈائجسٹوبار چاکلیٹ،ہب نب چاکلیٹ،بن گوٹی بسکٹ،سنکر آئس کریم،ایروبریک وے چاکلیٹ،روکی کریم ون،کٹ کیٹ جیلی اور وش کاش جیلی اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءکے خالی اور مسترد شدہ پلاسٹک کے لفافے (ریپرز) بھی شامل ہوتے ہیں۔
سماجی تنظیم سانجھی سوچ جو 18سال سے بچوں کی اشیاءمیں ملاوٹ کے خلاف قانونی لڑائی لڑ رہی ہے کے سیکرٹری محمد نذیر نے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یورپ میں صنعتی ترقی کا دور شروع ہوا تو کارخانوں سے نکلنے والے سکریپ نے وہاں کے لوگوں کے لئے مسائل پیدا کرنے شروع کر دیئے چنانچہ یورپی صنعت کاروں نے سکریپ کی زائد مقدار کو خوشحالی اور ترقی کے نام پر افریقی ممالک میں فروخت کرنا شروع کردیا مگر جب افریقہ میں اس ضائع شدہ اور مضر صحت سکریپ (پلاسٹک )سے بیماریاں پھیلنے لگیںتو افریقی عوام اس کے خلاف ہو گئے اور وہاں کی سماجی تنظیموں نے اس کی درآمد کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر دیا یہ احتجاج اتنے جاندار اور موثر تھے کہ جس پر 1992میں یورپی کمپنیوں اور افریقی ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا جس کے تحت افریقہ میںاس سکریپ(ویسٹ) پر درآمد پر پابندی لگ گئی۔چنانچہ یورپی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنے اس ویسٹ کو (Dump)ڈمپ کرنے کا مسئلہ درپیش ہوا تو انھوں نے جنوبی ایشیاءکا رخ کر لیا اور پھر ان ممالک میں نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت ، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں ہر سال لاکھوں ٹن سکریپ پلاسٹک آنا شروع ہو گیا۔1992کے اعداد و شمارکے مطابق میں صرف پاکستان میں ڈیرھ لاکھ ٹن کے قریب سکریپ آیا جس میں دیگر میٹریل کے علاوہ فوڈ کمپنیوں کا سکریپ بھی شامل تھا ۔ جب وہ سکریپ مارکیٹ میں فروخت کیلئے آیا تو بد عنوان تاجروں نے اسے خرید کر اس میں مقامی سطح پر تیار کردہ غیر معیاری اشیاءبھر کر بیچنا شروع کر دیا جو سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انھوں نے ہم شہری کے نمائندے کے ساتھ جا کر سرکلر روڈ نزد شاہ عالمی گیٹ وہ مارکیٹ دکھائی کہ جہاں پر یہ ریپرز فروخت ہو رہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ ریپرز نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پابندی کے باوجود لاکھوں ٹن رولوں کی شکل میں درآمد ہو رہا ہے بلکہ سر عام اہم مارکیٹوں میںفروخت ہو رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ جب 1993میں کچھ ایسے کیس سامنے آئے کہ جن کی تحقیق سے پتہ چلا کہ بیمار ہونے والے بچوں نے غیر ملکی ریپرز میں پیک چاکلیٹ اور دیگر اشیاءکھائی تھیں تو ہم نے وفاقی محتسب کو اس حوالے سے ایک درخواست دی ۔ جن کے جواب طلب کر نے پر پاکستان سٹینڈرڈز انسی ٹیوٹ نے وزارت صنعت کی معرفت 17جون1993کو وفاقی محتسب کو لکھا کہ یہ بہت بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ سالہاسال سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی غیر معیاری اور خطرناک پراڈکٹس کا قبرستان بنا ہوا ہے مگر امپورٹ پالیسی چونکہ منسٹری آف کامرس کا کام ہے اور ہم اس میں کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ پاکستان سٹیندرڈ انسی ٹیوٹ نے چاکلیٹ وغیرہ کا معیار مقرر کیا ہوا ہے چنانچہ غیر معیاری اشیاءکی درآمد پر مکمل چیک اور کنٹرول ہونا ضروری ہے۔جبکہ منسٹری آف کامرس نے مضر صحت ویسٹ کی درآمد کے حوالے سے 21جون1993کو اپنے لیٹر نمبر8(7)93-imp-IIمیں لکھا کہ آئی ٹی سی شیڈول کے مطابق اگرچہ پیکنگ میٹریل ملک میں درآمد کیا جا سکتا ہے مگر مسترد شدہ اور خطرناک میٹریل درآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔یہ محکمہ کسٹم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ممنوعہ چیزیں درآمد نہ ہونے دیں۔ 1994میں وفاقی محتسب نے تمام متعلقہ محکموں کو اس بارے میں مناسب کاروائی کرنے کی ہدایت کی اس کے باوجود مسترد شدہ سکریپ کو درآمد کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 2000کے اوئل میں پھر ایک درخواست دی مگر اسکا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا جبکہ 2006میں بھی ایک درخواست دی۔ انھوں نے کہا اب2010ہے اور لاہور کی وہی مارکیٹ ہے کہ جہاں پر یہ ریپرز فروخت ہو رہے ہیں ۔ اس سے پاکستان کے اداروں کی کارکردگی کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور ایسا ہی حال تقریباً کم و بیش ہر جگہ پر ہے۔
پاکستان کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ” بعض ایسے جرائم ہوتے ہیں جن کے لئے نرم ترین دل رکھنے والے بھی ایک مثالی سزا دینے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ ان میں زنا با لجبر ، بچوں کے ساتھ زیادتی، بچیوں کا اغوا، اغوا برائے تاوان، بیگناہ لوگوں کا چھوٹے سے تنازع پر قتل شامل ہیں۔ میں اس فہرست میں ایک اور گھناو¿نا جرم شامل کرنا چاہتا ہوں اور وہ کھانے ،پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ اور جعلی دواو¿ں کی تیاری اور ان کی فروخت ہے۔ سخت سے سخت ترین سزا بھی ان بھیانک جرائم کرنے والوں کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ یہ انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی، اسی طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس نے کسی ایک انسان کی جان لی گویا اس نے پوری انسانیت کو ہلاک کیا۔
ڈاکٹر قدیر کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ جن طریقوں اور جن چیزوں سے اشیاءمیں ملاوٹ کی جاتی ہے اسے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے کہ یہ انسانیت کے مجرم ہمیں کیا کیا کھلا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ادرک کو تیزاب میں ڈبو کر صاف کرنا ، نالوں کا پانی دودھ اور مشروبات میں ملانا ، چمڑے کو رنگنے والے زہریلے رنگوں کوکھانے کی اشیاءمیں استعمال کرنا خصوصاً بچوں کی اشیائ، چنے کے چھلکوں کو زہریلے رنگ سے رنگ کر چائے کی پتی میں ملانا ،گاڑیوں کے تیل کو گھی اور کھانے کے تیل میں ملانا اور ان سے پکوڑے اور سموسے تیار کرنا جیسے جرائم ہیں۔ یہ سب کچھ حکومتی عہدیداروں کی آنکھوں کے سامنے بلکہ ان کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ یہ جرائم جاری ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے کیونکہ حکومت اس سلسلے میںکوئی موثر اقدام نہیں اٹھا رہی ہے۔ اس میں عدلیہ کی جانب سے مقدموں کی سماعت میں تاخیر اور سخت سزاو¿ں کے فقدان نے بھی بڑا رول ادا کیا ہے۔ ابھی ہماری جوانی کے دور میں ہی کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ لوگ خاص طور پر مسلمان اس پست اخلاقی اور کردار کے مرتکب ہو سکتے ہیں اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ ممکن ہے کہ مسجد میں ہمارے ساتھ کھڑا نماز پڑھنے والا انہی لوگوں میں سے ایک ہو”۔
ملکی و غیر ملکی فوڈ کمپنیوں کے ناقابل استعمال اور مضر صحت ہونے کی وجہ سے مسترد شدہ ریپرز کی سرعام فروخت کے حوالے سے جب ضلعی انتظامیہ سے پو چھا گیا کہ پیور فوڈ کے قوانین کے برعکس یہ ریپرز اور ان میں لپٹی یہ زہریلی گولیاں، ٹافیاں، چاکلیٹ اور چپس وغیرہ کیسے فروخت ہو رہے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو مختلف علاقوں میں جا کر نہ صرف فوڈ کا معیار بلکہ ان کے پیکنگ میٹریل کا معیار بھی چیک کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے متعدد افراد کے خلاف کاروائی بھی کی جا رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف پنجاب حکومت کی طرف سے ٹاسک فورس برائے اشیائے ضروریہ کے چیئرمین ایس اے حمید کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی پیکنگ اور اس پر صارف قیمت، تاریخ تیاری، استعمال کی آخری تاریخ اور اجزائے ترکیبی کے اندراج کو ممکن بنانے کے حوالے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چیئرمین سمیت دیگر اعلیٰ حکام کی نگرانی مختلف ٹیمیں شہر کی مختلف مارکیٹوں اور سٹوروں کر چیک کر رہے ہیں اور پنجاب حکومت کے عوام کو معیاری اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کے وعدے کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے- انہوں نے بتایا کہ پیور فوڈ رولز 2007 اور پرائس کنٹرول ایکٹ 1977ءکے تحت اشیائے خورد ونوش تمام معلومات کا اندراج ضروری ہے اور غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاءکی تیاری ایک جرم ہے-

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s