FEATURED / سچی کہانیاں

پاکستان چار سو بلین ڈالر سے زائد مالیت کے نوادارت سے محروم ہو چکا ہے

نودارت کی سمگلنگ

منصور مہدی
pakistan_buddhaوزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے 17فروری 2010کو یورپ میں ضبط کئے گئے پاکستانی نوادرات کی وطن منتقلی کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم نے وزارت ثقافت کو ہدایت کی ہے کہ اٹلی اور برطانیہ میں ضبط کئے گئے پاکستانی نوادرات کی جلد وطن منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔اس مقصد کے لئے دو رکنی وفد برطانیہ اور اٹلی جائے گا۔ 6جنوری کو اطالوی پولیس نے 96پاکستانی نوادرات ضبط کر کے روم میں پاکستانی سفارتخانے کے حوالے کیے تھے جبکہ برطانوی کسٹم حکام نے بھی گذشتہ برس 198 نوادرات لندن ہیتھرو ائرپورٹ سے قبضے میں لیے تھے۔
محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ نوادرات مٹی کے مختلف برتن ہیں جو چار ہزار سال قبل مسیح کے ہیں۔ یہ برتن بلوچستان سے سمگل کیے گئے تھے۔اگرچہ ان آثار قدیمہ کی سرکاری طور پر تو تاحال کھدائی نہیں ہوئی بلکہ نجی طور پر کھدائی کرکے نکالے گئے ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے چارٹر کے تحت کسی بھی ملک میں سمگل شدہ نوادارت واپس ا±سی ملک کے حوالے کیے جائیں گے جس ملک سے ان کا تعلق ہے جیسا کہ اس سے پہلے بدھا کے مجسمے امریکہ سمگل کیے گئے تھے اور امریکہ نے وہ ضبط کرکے پاکستان کے حوالے کردیے تھے۔
دنیا میں تقریبا پانچ ہزار برس قبل تین تہذیبیں معرض وجود میں آچکی تھیں جن میں ایک دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے کنارے عراق میں میسوپوٹامیہ، دوسری دریائے نیل کے کنارے مصر اور تیسری وادی سندھ کی تہذیب کہلائی ہے۔وادی سندھ کی تہذیب سلسلہ ہمالیہ کے دامن سے لیکر بحیرہ عرب تک تقریبا چار لاکھ مربع میل میں پھیلی ہوئی تھی۔اس تہذیب کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ اسکا رقبہ اپنی دونوں ہمعصر تہذیبوں کے رقبے سے دوگنا ہے اور اب اس تہذیب کے پاکستان اور بھارت میں چار سو پچاس سے زائد آثار دریافت ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سرحد میں سوات، دیر، جمال گڑھی، تخت بھائی ،سندھ میں موہنجوداڑو، ٹھٹہ، کوٹ دیجی، بھمبور، چوکنڈی، پنجاب میں لاہور، روتھاس، ٹیکسلا، ہڑپا، اوچ شریف، بلوچستان میں مہر گڑھ، ژوب کے علاوہ چار سو سے زائد مقامات پر اس تہذیب کے ٓثار مل چکے ہیں ۔جہاں سے ان باشندوں کے ہاتھ کے بنے ہوئے لاتعداد نوادارات بھی ملے ہیں ۔جو ملک کے مختلف عجائب گھروں میں موجود ہیں۔ جبکہ کہ ابھی تک ایسے بیسیوں مقامات ہیں کہ جہاں پر سرکاری طور پر کھدائی نہیں کی جا رہی مگر غیرسرکاری گھدائی جا ری ہے کہ جہاں سے لاتعداد نوادارت مختلف طریقوں سے چوری ہو کر بیرون ملک سمگل ہو رہے ہیں جبکہ قومی عجائب گھروں سے بھی اکثر اوقات قیمتی اشیاءچوری ہوتی رہتی ہیں۔
ایسے ہی ستمبر2005میں امریکی شہر نیویارک میں امریکی حکام نے دو ہزار برس قدیم نوادارت کو اپنی تحویل میں لیا تھا جن کا تعلق گندھارا تہذیب سے ہے ( قدیم گندھارا تہذیب پاکستان میں دریائے سندھ کے مغرب اور دریائے کابل کے شمال میں پشاور سے لے کر سوات اور دیر جبکہ افغانستان میں بامیان تک پھیلی ہوی تھی) یہ نوادارت پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود آثار قدیمہ سے نکال کر سمگل کیے گئے تھے جو بعد ازاں امریکی سفیر ریان سی کروکر نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے ذریعے یہ نوادارت پاکستان کے وزیرِ ثقافت کے حوالے کیے تھے۔جبکہ گذشتہ برس 10فروری کو برطانوی حکومت نے چار ہزار سال پرانے ایک ملین پونڈ مالیت کے 198 قیمتی نوادرات پاکستان ہائی کمیشن کے حوالے کئے تھے۔ یہ نوادرات پاکستان سے سمگل کئے گئے تھے اور ہیتھرو ایئرپورٹ پر کسٹم حکام نے جنوری 2007میں یوکے کسٹمز قوانین کے تحت ہیتھرو ایئرپورٹ سے قبضے میں لیا تھا۔ ان نوادرات کو مٹی کے برتن یا آرائشی نمونوں کی آڑ میں سو ڈالر کی مالیت کا بتا کر دبئی سے برطانیہ سمگل کیا گیا تھا۔ جبکہ ان تاریخی اشیا کی مالیت ایک ملین پونڈ ہے ۔ان نوادرات کے بارے میں معلومات برٹش میوزیم کے ماہرین نے جانچ پڑتال کے بعد پاکستان کی حکومت کو دی تھی۔
کراچی میں کسٹم حکام نے گذشتہ سال نوادرات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی تھی جو بحری راستے دبئی اور شارجہ منتقل کی جارہی تھی۔ گندھارا اور وادی سندھ کی قدیم تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے یہ نوادرات دیگر سامان کے ساتھ ایک کنٹینر میں کراچی کی بندرگاہ بن قاسم سے شارجہ کے لیئے بک کروائے گئے تھے۔نوادرات میں مہاتما بدھ اور گندھارا کی ڈانسنگ گرل کے مجسمے بھی شامل تھے جو پتھر اور چونے کے بنے ہوئے ہیں۔ ان نوادارت کی تعداد 625تھی۔ جو مختلف ادوار سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں سے بیشتر اشیا کا تعلق تین ہزار سال قبل مسیح سے ہے جبکہ کچھ نوادرات کا تعلق اسلامی آرٹ سے بھی ہے۔
جبکہ اس واردات سے چند ماہ قبل بھی کراچی کسٹم حکام نے ہڑپہ اور گندھارا تہذیب کے قیمتی نوادرات دبئی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی تھی اور تقریباً ستر کروڑ روپے مالیت کے نودارت پکڑے تھے ۔ یہ نوادرات میسرز کشمیر کارپٹ نامی ایک فرم کی جانب سے ایک کنٹینر میں دبئی کے لیے اسلام آباد سے بک کروائے گئے تھے۔کنٹینر میں یہ نوادرات فرنیچر اور پرانے برتنوں کے ساتھ رکھے گئے تھے۔بعد ازاں ماہرینِ آثار قدیمہ نے تصدیق کی تھی کہ یہ نوادرات جن میں مجسمے، اسلامی تہذیب کے نمونے شامل تھے اصلی ہیں۔ جن کا تعلق ہڑپہ اور گندھارا تہذیب سے ہے۔جو بلوچستان سے چوری کئے گئے تھے۔ جبکہ شمالی بلوچستان میں وادی ژوب کو افغان نسل کا گہوارہ مانا جاتا ہے۔ قدیم ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں پینتیس مقامات پر پرانی تہذیبوں کے آثار مل چکے ہیں۔ انہیں میں سے ایک جنات کا ٹیلہ بھی کہلایا جاتا ہے۔ جہاں سے اکثر نودارت چوری ہوتے رہتے ہیںیہ کانسی کے دور کے آثارِ قدیمہ ہیں۔ژوب شہر کے نواح میں حد نظر تک پھیلے ہوئے میدانی علاقے میں جنات کا ٹیلہ ایک اونچے سے جزیرے کی شکل میں موجود ہے۔ اس علاقے پرائیویٹ لوگ اکثر کھدائی کرتے رہتے ہیں اور سرکاری حکام کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہیں اور یہ کھدائی نوادارت سمگل کیے جانے کیلئے کی جاتی ہے جن میں بعض با اثر افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نوادرات دنیا لوٹ کر لے جا رہی ہے لیکن حکومت بلوچستان اس سے بے خبر ہے۔
تھرپارکر کے عجائب گھر سے قرآن شریف کا قیمتی نسخہ ، تاریخی تلواریں ، خنجر اوردیگر نودارت کی چوری حکومت سندھ کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔اس بارے میں وہاں کے لوگوں نے گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباداور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے مطالبہ کیاکہ تھرپارکر میوزیم سے نوادرات کی چوری میں ملوث عناصرکیخلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اورسندھ کے تمام تاریخی مقامات اورقیمتی نوادرات کی حفاظت کیلئے ٹھوس بنیادوں پراقدامات کیے جائیں۔ جبکہ میرپورخاص کے عجائب گھر سے بھی قیمتی نوادرات چوری ہو چکے ہیں جن میں میر حکمرانوں کی تلواریں، خنجر، بندوق، دو سو سالہ قدیم قرآن مجید کے نسخے، قدیمی کتب اور سکے شامل ہیں۔ چوری شدہ قیمتی نوادرات کی مالیت دس کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ چوری کا انکشاف اس وقت ہوا کہ جب عجائب گھرکی کی نئی انتظامیہ عجائب گھر کا معائنہ کرنے آئی۔ نوادرات کی چوری کی اطلاع پر انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے اور ڈی سی او نے معاملے کی تحقیقات کیلئے ای ڈی او سی ڈی ندیم میمن کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو فوری طور پر انکوائری کر کے ایف آئی آر درج کرائےگی۔
پاکستان میں قدیم تہذیبوں کے آثاروں کی وجہ سے قدیمی نوادرات کی منڈی میں اس کا اہم مقام ہے اور یہاں سے نوادارت کی غیر قانونی تجارت ایک فائدہ مند کاروبار ہے۔ لاہور کے ایک نجی عجائب گھر کے نگران کا اس بارے میں کہنا ہے کہ گذشتہ تیس برسوں میں پاکستان سے چار سو بلین ڈالر سے زائد مالیت کے نوادارت چوری ہو کر سمگل کیے جاچکے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی خصو صاً امریکہ اور برطانیہ میں ایسے کئی ادارے موجود ہیں کہ جو ایسی قدیم چیزوں کو خریدتے ہیں اور بعد ازاں شوقین مزاج امیر لوگ ان اداروں سے یہ اشیاءخریدتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چار برس قبل لاہور کے ایک رہائشی نے ایک غیر ملکی کے ساتھ مل کر حضرت امام حسین ؑ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن کے 2عدداوراق ایک قومی عجائب گھر سے چوری کر لیے تھے جن کو اس نے صرف ایک لاکھ روپے میں لاہور ہی کے ایک شخص کو فروخت کر دیے ۔مگر بعد میں خریدار کو شک گزرا تو انھوں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے ضلع کچہری میں ایک وکیل کو دکھائے جنہوں نے ان اوراق کی فوٹوکاپیاں کروا کر تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھ لی۔ مگر اسی دوران اس چوری کا عجائب گھر حکام کو پتہ چل گیا اور خریدار کو گرفتار کر لیا گیاجس کی نشاندہی پر دیگر افراد بھی پکڑے گئے۔ ان کا کہنا ہے لاہور اس لحاظ سے ایک انفرادیت کا حامل شہر ہے کہ جہاں پانچ ہزار برس قدیم نوادرات بھی موجود ہیں جبکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے خاندان سے متعلق تبرکات بھی موجود ہیں۔جبکہ لاہور کے ایک مضافاتی علاقے میں میدان کربلا میں امام حسینؑ کی فوج کے زیر استعمال نیزے اور ڈھالیں بھی موجود ہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ہزار برس قبل یہ نیزے دمشق سے ایران لائے گئے جہاں سے پاکستان کے ایک معروف خاندان نے یہ چیزیں حاصل کر لیںتھیں۔
اسی طرح لاہور کی بادشاہی مسجد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک بھی چوری ہو گئے تھے اور اس واقعہ کا علم اس وقت ہوا تھا جب مسجد کے ایک چوکیدار نے دیکھا کہ مسجد کی بالائی منزل پر الماری کا شیشہ توڑ کر کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب وہاں رکھے ہوئے نعلین چرا لیے ہیں۔بادشاہی مسجد میں رسول خدا اور اہل بیت سے منسوب بیشتر تبرکات موجود ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نوادرات دمشق سے امیر تیمور اور اس کے جانشینوں تک پہنچے تھے اور سولہویں صدی کے اوائل میں بابر کے دور میں یہ برصغیر لائے گئے اور پھر ہدیہ ہوتے ہوتے بادشاہی مسجد میں آگئے۔ جن کے بارے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بعد ازاں یہ تبرکات یعنی نعلین مبارک برونائی کے شاہی خاندان نے خرید لیے ہیں اور اب بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
لاہور پولیس کے ایک افسر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ قیمتی نودارت کی چوری کوئی عام چوری نہیں ہوتی اور نہ ہی ایسے کیسوں میں عام افراد ملوث ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات بااثر افراد بھی ایسے کیسوں میں ملوث ہوتے ہیں جو ان اشیاءکو اپنے خاندان کا ورثہ قرار دیکر بچ جاتے ہیں۔ یہ چوریاں باقاعدہ پلاننگ کرکے کی جاتی ہیں اور ان میں عجائب گھروں کا عملہ بھی ملوث ہوتا ہے۔پاکستان میں قیمتی نودارات کی چوری کے سدباب کے حوالے سے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں ہے چنانچہ اب حکومت قدیم گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والے نوادرات کی تفصیل مرتب کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ پر کام شروع کر رہی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے حکام کے مطابق اس منصوبے پر عمل کرنے سے اور تمام تفصیل اکٹھی کرنے سے ان قیمتی نوادرات کی چوری روکنے میں مدد ملے گی۔چنانچہ صوبہ سرحد کا محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھرایک مشترکہ منصوبے کے طور پر تقریبا ایک کڑوڑ روپے سے زائد کی لاگت سے اپریل میں اس ایک سالہ منصوبہ پر کام کا آغاز کرے گا۔ اس منصوبے کے لیے اسے اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کی مدد بھی حاصل ہے۔ اس طرح صوبہ سرحد کے بعد پورے ملک کے عجائب گھروں اور دیگر مقامات پر موجود نوادرات کو باقاعدہ طور پر کمپوٹرازڈ کیا جائے گا اور یہ ریکارڈ پورے ملک کے عجائب گھروں اور دیگر متعلقہ اداروں میں آپس میں منسلک ہوگا تاکہ ہر ماہ اس ریکارڈ کے ذریعے مکمل جانچ پرتال کی جا سکے۔
پاکستانی ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور دانشوروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تقشیمِ ہند سے قبل پاکستان سے بھارت منتقل کیے گئے پانچ ہزار سال قدیم شاہی پروہت اور رقاصہ کا مجسمہ واپس لیا جائے۔یہ مجسمے گزشتہ صدی کی دوسرے دہائی میں سندھ میں موئن جوداڑوکے مقام پرکی گئی کھدائی میں ملے تھے۔ شاہی پروہت کا پتھر کا اور رقاصہ کا کانسی کا بنا ہوا تھا۔ یہ دونوں نوادرات موئن جو دڑو سے ملنے والے سب سے اہم نوادرات تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان نوادرات کو پہلے لاہور میوزیم اور پھر وہاں سے دہلی منتقل کردیا گیا تھا جبکہ ان کے علاوہ بھی لاتعداد میں پاکستانی نودارت بھارتی حکومت کے قبضے میں موجود ہیں لہذا بھارتی حکومت کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے چارٹر کے تحت مجبور کیا جائے کہ وہ پاکستانی نودارت کو واپس کرے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s