سچی کہانیاں

دودھ نما زہر بچوں کے لیے

منصور مہدی
دنیا کی معروف فوڈ پروسیسنگ اور پیکیجنگ کمپنی ٹیٹرا پیک نے اپنی ایک نئی تحقیق میں پیش گوئی کی تھی کہ سال 2010ءسے 2020ءتک دودھ اور دوسری مائع ڈیری مصنوعات کے استعمال میں 30 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔
ٹیٹرا پیک کے ڈیری انڈیکس کے چوتھے شمارے کے مطابق، جو دنیا بھر میں حقائق، اعدادو شمار اور عالمی ڈیری صنعت میں رجحانات کا مطالعہ کرتا ہے، دودھ کی کھپت میں یہ اضافہ معاشی و اقتصادی ترقی، شہر کاری اور ایشیا کے متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی قوت خرید کی بدولت ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق سال 2010ءاور 2020ءکے درمیان مائع ڈیری مصنوعات کی طلب میں اضافہ دنیا کے ہر خطے میں ہوگا۔ یہ اضافہ مشرق سے مغرب تک اقتصادی طاقت میں ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔ کیونکہ اب شنگھائی سے لے کر ممبئی تک ابھرتے ہوئے درمیانے طبقے بھی صحت بخش، باسہولت پیکیجڈ پروڈکٹس کو اپنی روزمرہ کی خوراک کا حصہ بنا رہے ہیں۔ اس طرح مائع ڈیری مصنوعات 2010ءکے 270 بلین لیٹرز کے مقابلے میں سال 2020ءتک 350 بلین لیٹرز تک جانے کی توقع ہے۔
ٹیٹرا پیک کے صدر اور سی ای او ڈینس جانسن کا کہنا ہے کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں اقتصادی ترقی نے لاکھوں لوگوں کو غربت سے باہر نکالا ہے۔ ان کے پاس اب زیاد پیسہ ہے، بہترتعلیم یافتہ ہیں۔ جانسن کا کہنا ہے کہ دودھ کے لیے دنیا کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ڈیری صنعت کے پروڈیوسرز کے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ مجھے یقین ہے کہ صنعت پائیدار اور جدید طریقے سے ان ترقی کے مواقع کو محسوس کرے گی، اور لوگوں کو صحت مند، متناسب، آسان مصنوعات فراہم کرے گی۔
ٹیٹرا پیک پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر اظہر علی سید کا کہنا ہے کہ درمیانے طبقے کی ترقی، شہرکاری اور صارفین کی نئے طرز کی خریداری کی عادات ، صحت کا خیال رکھنے والے اور باشعور صارفین کی جانب سے پیک شدہ دودھ کے استعمال میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
دودھ کی عالمی مارکیٹ کی پیش گوئیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب پاکستان میں بھی نہ صرف ملٹی نیشنل ادارے بلکہ صنعت کار ، تاجر، سمندر پار پاکستانی غرضیکہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد ڈیری فارمنگ میں سرمایہ کاری کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں ڈیری فارمنگ کا پیشہ دن بدن ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی آبادی اور دودھ کی مانگ میں مسلسل اضافے نے اس کاروبار کو منافع بخش بنا دیا ہے۔
اس وقت پاکستان میں پیک دودھ کے 20 ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ 10 سے زائد تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ سب سے پہلے 1981ءمیں ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے نے شیخوپورہ کے قریب جدید پلانٹ لگایا جبکہ 2005ءمیں کبیروالا میں ایشیا کا سب سے بڑا دودھ پروسس کا جدید ترین پلانٹ نصب کیا۔ جبکہ دوسرے نمبر پر 1986ءمیں ایک مقامی کمپنی نے حلیب کے نام سے پیک دودھ متعارف کروایا اور اس کا پلانٹ بھائی پھیرو میں لگایا۔ حلیب نے 2005ءمیں ایک اور پلانٹ رحیم یار خان میں نصب کیا۔ 2000ءکے بعد پاکستان میں متعدد ایسے ادارے قائم ہوئے جن میں نرالا ڈیری ملک، پریمئر ڈیری، کے اینڈ کے ڈیری، شکر گنج فوڈز، نون پاکستان، اینگرو فوڈز، رائل ڈیری، میلاک فوڈز، ملٹری فوڈز، پرائم ڈیری، بٹ ڈیری، ادارہ کسان، گورمے، آدمز ڈیری اور الفا ڈیری شامل ہیں۔
ویسے بھی پاکستان دودھ کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ملک میں بھینسوں کی تعداد پونے تین کروڑ، بھیڑوں کی ڈھائی کروڑ سے زائد اور بکریوں کی تعداد ساڑھے پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ پاکستان میں 30 تک مویشی اور بھینسیں رکھنے والے ڈیری فارموں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے۔ ملک میں پیدا کیا جانے والا دودھ زیادہ تر گھروں میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ تقریباً 30 فیصد دودھ مارکیٹوں میں فروخت ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں صرف 3.5 فیصد دودھ پروسیس کیا جاتا ہے بقیہ 96.5 فیصد کھلا اور کچا دودھ فروخت ہوتا ہے جس سے مٹھائیاں اور دیگر روایتی مصنوعات بھی بنائی جاتی ہیں۔ کچا دودھ زیادہ سے زیادہ تین سے چار گھنٹے کے بعد خراب ہو جاتا ہے جبکہ پروسس کیا ہوا دودھ دو سے تین ماہ تک قابل استعمال ہوتا ہے۔
ڈیری فارم مالکان کا کہنا ہے کہ دودھ پیدا کرنے والے صف اوّل کے ممالک، جن میں آسٹریلیا اور یورپی ممالک شامل ہیں، میں پاکستان کے برعکس جانوروں کی تعداد کم جبکہ فی کس پیداوار انتہائی زیادہ ہے۔ اور دودھ پر فی لٹر لاگت بھی انتہائی کم ہے۔ کیونکہ ان ممالک میں دودھ دینے والے جانوروں کی بہتر افزائش پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور وہاں دنیا کی بہترین نسلیں ہیں جبکہ پاکستان میں مویشیوں کی اعلیٰ نسلیں مجموعی طور پر انحطاط کا شکار نظر آتی ہیں۔ فی کس پیداوار کم ہے جبکہ مناسب نسل کشی کا نظام اور سمجھ بوجھ نہ ہونے کے باعث مخلوط نسل کے جانوروں میں، جو دودھ کی نسبتاً کم پیداوار دیتے ہیں، بہت اضافہ ہو گیا ہے۔
ڈیری مالکان کا کہنا ہے کہ چند دہائیاں قبل ہولسٹین فریزین اور جرسی گائے کی نسلوں کا تخم اور جانور درآمد کیے گئے تھے اور انہیں دیسی کم دودھ دینے والے جانوروں سے نسل کشی کرانے کے بجائے انتہائی نا عاقبت اندیشی سے کام لیتے ہوئے ساہیوال گائے جیسی اعلیٰ نسل کو اس غیر مربوط بریڈنگ پلان کا نشانہ بنا دیا گیا جس سے پہلی نسل میں تو دودھ کی پیداوار میں اضافہ دیکھنے میں آیا مگر بعد کی نسلوں میں پیداوار کم ہوتی چلی گئی۔ اس ملاپ کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی مخلوط نسل ہمارے گرم مرطوب ماحول سے مطابقت نہیں رکھتی تھی اور جونکوں اور چیچڑوں کا شکار آسانی سے ہو جاتی تھی۔ مزید یہ کہ ان جانوروں میں تیسری بار گابھن ہونے کی شرح بھی ا نتہائی کم ہو گئی۔
لیکن خوش قسمتی سے پاکستانی بھینسوں کی نسلیں باقی تمام دنیا کی نسبت بہتر پیداواری خواص کی حامل ہیں اس لیے قدرے محفوظ ہیں۔ آج حکومتی سر پرستی میں بہت سے ادارے جیسے ادارہ تحفظ ساہیوال گائے، بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پاکستان ڈیری ڈیویلپمنٹ کمپنی، لاہور میٹ کمپنی، ادارہ تحقیق برائے اونٹ اور لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ بورڈ ملکی مویشیوں کی ترویج میں سر گرداں ہیں لیکن بجٹ کی کمی اور حکومتی پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے ابھی اپنے اہداف سے بہت دور نظر آتے ہیں۔
دودھ کی بڑھتی ہوئی طلب اور اس شعبے میں ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے رواں برس کے پہلے ماہ میںسٹیٹ بینک نے طویل مدتی سرمایہ کاری سکیم میں ڈیری صنعت کو قرض دینے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ سٹیٹ بینک کے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ڈیری صنعت کو سستے قرض کی فراہمی کے لیے طویل مدتی قرض کی سکیم میں شامل کردیا گیا ہے۔ سستے قرض کی سکیم کے تحت دودھ کو خشک کرنے ، سٹوریج، پروسیسنگ اور پیکیجنگ میں استعمال ہونے والی مشینیں خریدی جاسکیں گی۔ اس سکیم کا اطلاق مقامی اور درآمد کی گئی مشینوں پر ہوگا۔جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بھی صوبے میں لائیوسٹاک و ڈیری فارمنگ کے فروغ کے لیے اربوں روپے مختص کیے ہیں۔
دوسری طرف پاکستانی شہریوں میں اس پیک دودھ کے حوالے سے بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں طبی ماہرین اور غذائی امور پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ڈبہ بند دودھ اور ڈیری مصنوعات میں پروٹین کا مصنوعی اضافہ کرنے کے لیے کیمیکلز اور یوریا کھاد کا استعمال عام ہے۔ مضرِ صحت اجزا کی ملاوٹ سے تیار کردہ دودھ اور ڈیری مصنوعات استعمال کرنے والے افراد میں بلند فشار خون، امراض قلب، زچگی میں پیچیدگیاں سمیت گردے کے امراض میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارتِ صحت اور اس کے ادارے عوام کو اس صورتحال میں تحفظ تو درکنار صحت کی بحالی کی خدمات بھی سستے داموں فراہم کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی اور مصنوعات کی کم یا عدم دستیابی اور دوسری طرف زہریلی غذائیت عوام کے سب سے بڑے مسئلے ہیں۔
انگریزی اخبار روزنامہ ”ڈان“ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عام ڈیریز یا بڑی کمپنیوں میں مضرِ صحت اجزا کی آمیزش کے تدارک کے لیے ٹیکنالوجی بھی موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان اداروں میں کام کرنے والے افراد کی اس ضمن میں تربیت کا کوئی انتظام موجود ہے۔ سوائے ایک آدھ کمپنی کے کسی بھی جگہ کھلے دودھ کا معیار جانچنے کا کوئی واضح اور جدید نظام موجود نہیں ہے۔ تمام کمپنیوں کے کوالٹی کنٹرول کے شعبے یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ اکٹھے ہونے والے دودھ کو پسچرائزنگ سے پہلے کئی بار ٹیسٹ کرنے کے بعد ہی چلر میں ڈالا جاتا ہے۔
غذائی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر دودھ میں زہریلے کیمیکلز خود ملائے گئے ہوں تو پسچرائزنگ کے باوجود ان کے زیریلے اثرات ختم نہیں ہوتے اور نہ ہوسکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بچوں کی گروتھ کے مسائل اور بچوں کے ذہنی امراض سمیت ہڈی اور جوڑوں کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر سمیت امراضِ قلب جیسے مسائل کا بچوں میں منظر عام پر آنا دودھ اور ڈیری مصنوعات میں زہریلی ملاوٹ کا بھی نتیجہ ہے۔
اس تمام پیچیدہ صورتحال کے تدارک کے سوال پر”پیور فوڈ ونگ“ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کا کہنا ہے کہ انہیں تو دودھ میں ایسی زہریلی ملاوٹوں پر مبنی کوئی شکایات موصول نہیں ہوتیں، اگر ایسا ہے اور کوئی شکایت کرے تو ہم قانون کے مطابق کارروائی ضرور کریں گے۔“
ایک زمانہ تھا کہ ”دودھ خدا کا نور“ کہلاتا تھا لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ جب منافع کی حرص میں اضافہ ہوا تو ابتدا میں کھلے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا سلسلہ شروع ہوا۔ صارفین نے پتلے دودھ کی شکایات کے ساتھ گوالوں اور دودھ بیچنے والے اداروں کے ساتھ جھگڑنا شروع کیا تو پھر دودھ کو گاڑھا کر کے بطور خالص دودھ بیچنے کا خطرناک طریقہ منظرِ عام پر آیا۔ کھلے دودھ اور ڈیری کی کھلی مصنوعات میں جراثیموں کی بھرمار ہوتی ہے، یہ کل کی بات ہے۔ آج کا معاملہ یہ ہے کہ کئی مرتبہ ڈبہ پیک خشک اور مائع دودھ اور ڈیری مصنوعات زہریلے کیمیکلز اور مضرِ صحت اجزاکے ساتھ تیار ہوتی ہیں آخر کار معصوم عوام کہاںجائےں؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s