سچی کہانیاں

خواتین کے لیے انتہائی بھیانک موت کا پیغام لیکر آیا ہوا ہے

منصور مہدی
سٹاپ پر بس کا انتظار کرتے ہوئے جب اسے کافی دیر ہوگئی تو اس نے کسی رکشا میں جانے کا سوچا۔کیونکہ اسے اپنی منزل پر پہنچنے میں جلدی تھی۔لیکن اب کوئی رکشا بھی نہیں آرہا تھا کہ یکایک ساتھ والی سڑک سے ایک خالی رکشاآتا نظر آیا تو اس نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔رکشا رکتے ہی اس نے اپنی منزل کا بتایا اور بیٹھ گئی۔ ابھی رکشا منزل سے دور ہی تھاکہ رکشا والے نے کہا ” باجی جی” آگے پولیس کھڑی ہے اور میرے پاس کاغذات مکمل نہیں چنانچہ میں دوسرے راستے سے آپ کو لیجاتا ہوں۔ رکشا میں بیٹھی خاتون نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے اسے کہا کہ ٹھیک ہے مگر مجھے اپنی منزل پر جلد پہنچنا ہے۔ رکشا والا بولا کہ آپ فکر نہ کریں آپ کوجلد ہی آپکی منزل پر پہنچا دیا جائے گا۔
دوسری سڑک پر مڑتے ہی رکشے کی رفتار تیز ہوگئی اور پھر اس نے تین چار موڑ کاٹے ۔ خاتون کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کون سی سڑک ہے اور پھر کچھ شام کا اندھیرا بھی بڑھ رہا تھا۔بہرحال وہ مطمئن بیٹھی رہی۔
اسی دوران رکشا والا موبائل فون پر اپنے کسی دوست سے باتیں کرنے لگا اور کہنے لگا کہ میں اس وقت فلاں جگہ پر ہوں اور سواری کوچھوڑ کر آتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد یکایک رکشا نے ایک گلی میں ٹرن لیا اور ایک کھلے دروازے کے اندر چلا گیا۔
کچھ دیر تک تو خاتون کو سمجھ نہ آئی کہ رکشا کہاں پہنچ گیا اور یہ کونسا گھر ہے ۔ خاتون گھبرا گئی اور رکشا والے سے پوچھنے لگی کہ اتنے میں رکشا والے کے دو ساتھی جو پہلے ہی گھر میں موجود تھے ، رکشا کے ارد گرد آ کرکھڑے ہوگئے اور خاتون کو نیچے اترنے کو کہا۔ انکار پر اسے زبردستی نیچے اتار لیا گیااور کھینچتے ہوئے اسے اندر کمرے میں لے گئے۔ شور کرنے پر اسے تین چار زناٹے دار تھپڑ رسید کیے گئے۔ اب خاتون خوفزدہ ہوگئی اور خاموشی سے ان کی ہر بات کو ماننا شروع کر دیا۔
تینوں نے پہلے تو خاتون کے ساتھ زیادتی کی اور یہ عمل رات کو کئی بار کیا گیا اور بعد میں اسے مار دیا۔مارنے کے بعد اس کی لاش کے آٹھ دس ٹکڑے کیے اور مختلف شاپر بیگوں میں ڈال کر رکشے میں رکھ لیا۔ اب پہلے والاڈرائیور آگے ہی بیٹھا جبکہ اس کے ساتھی پیچھے بیٹھ گئے۔جب رکشا سولجر بازار کے علاقے سے گزار تو پیچھے بیٹھے ایک شخص نے دروازہ کھول کر خاتون کے بازو والا شاپر باہر پھینک دیا۔رکشا چلتاہوا جمشید کوارٹر کے علاقے میں پہنچا تو ایک اور شاپر باہر پھینک دیا۔ اس طرح رکشا کراچی کی مختلف سڑکوں سے گزرتا رہا۔ گرومندر میں ایک شاپر پھینکا تو ایک ایم اے جناح روڈ پر اور ایک مزار قائد پر۔ ۔۔۔۔۔ ایک ایک کر کے جب سب شاپر بیگ پھینک چکے تو یہ تینوں ساتھی واپس اپنے مکان پر چلے گئے۔
سال 2012تو کراچی کے لوگوں خصوصاً خواتین کے لیے انتہائی بھیانک موت کا پیغام لیکر آیا ہوا ہے۔رواں سال کا کوئی ماہ ایسا نہیں گزرتا کہ جب نبی بخش، سولجر بازار، جمشید کوارٹرز، گرومندر، ایم اے جناح روڈ، مزار قائد اور دیگر مقامات سے مختلف خواتین کی لاشوں کے ٹکڑے نہ ملتے ہوں۔ یہ ٹکڑے شاپر بیگ میں بند ہوتے ہیں۔
اگر سولجر بازار سے شاپر بیگ میں ٹانگ ملتی ہے تو جمشید کوارٹر کے علاقے سے بازو پڑا ملتا ہے، ایم اے جناح روڈ سے دھڑ کا ایک حصہ تو دوسرا حصہ مزار قائد سے مل جاتا ہے۔ عورتوں کے جسموں کے یہ ٹکڑے رات گئے کوئی پھینک جاتا ہے اور جب صبح لوگ جاگتے ہیں اور کام کاج کے سلسلے میں اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو انھیں شاپر بیگوں میں پیک یہ ٹکڑے پڑے ملتے ہیں۔
صرف خواتین کی لاشوں کے ٹکڑوں نے ہی اہل کراچی کو خوفزدہ نہیں کر رکھا بلکہ معصوم بچیوں کی ملنے والی لاشوں سے بھی کراچی والے خوافزدہ ہیں۔ کوئی ایسا ماہ نہیں گزرتا کہ جب 7سے9سال کی معصوم بچی کی کچلی اورلتھڑی ہوئی لاش نہ ملتی ہو۔ کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 4 اے سے رواں سال کے گذشتہ ماہ کی 2تاریخ کو ایک سات سال کی بچی اغوا ہوئی اور ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی 2جون کو اس کی لاش صفورا گوٹھ کے علاقے میں ایک زیر تعمیر مکان میںپڑی ہوئی ملی۔ یہ تشدد زدہ لاش تھی۔ نہ صرف لاش پر تشدد کیا گیا بلکہ بچی کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی تھی۔ صفورا گوٹھ سے گذشتہ 3ماہ کے دوران بچیوں کے اغواء اور قتل کے بعد لاش ملنے کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔
بچیوں اور عورتوں کی لاشیں ملنے کی ان وارداتوں کے پیچھے یقیناً کوئی ظالم اور جنونی سیریل کلرز ہی کارفرما ہیں۔ جو عورتوں اور بچیوں کو اغوا کرتے ہیں، زیادتی کرتے ہیں اور بعد میں قتل کر دیتے ہیں۔ایسے واقعات صرف کراچی میں ہی نہیں ہوتے بلکہ ملک کے مختلف حصوں اور دنیا بھر میں ہوتے رہتے ہیں۔ سیریل کلنگ کی وارداتیں ہر خطے اور ہر دور میں ہوتی رہتی ہیں۔
جون 2011کی بات ہے جب سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے 25 خواتین کے اغوا اور قتل میں ملوث ایک سیریل کلر یوسف کو سزائے موت سنائی تھی۔یوسف پر نہ صرف 25 خواتین کے اغوا اور قتل کا الزام تھا بلکہ چوری، ڈکیتی اور اغوا کے بائیس دیگر مقدمات میں ملوث تھا۔ یوسف زکواة اور دیگر مالی امداد دلوانے کے بہانے بیوہ ، بوڑھی اور اکیلی خواتین کو اغوا کرتا اور کسی ویران مقام پر لے جاکر ان سے زیادتی کرتا اور بعد میں اینٹوں اور ڈنڈوں کے وار کرکے قتل کردیتا تھا۔ سیریل کلر یوسف غیر شادی شدہ تھا اور اس نے مکینیکل انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔
2007میں گوجرانوالہ سے منتخب ہونی والی خاتون ایم پی اے ظل ہما کو دن دھاڑے قتل کرنے والا مولوی سرور نامی جنونی بھی ایک سیریل کلر تھا۔ اس نے صرف ظل ہما ہی نہیں بلکہ 12دیگر نوجوان خواتین کو قتل کیا۔ یہ قتل اس نے صرف اس لیے کیے کہ اس کے نزدیک عورتیں جو گھروں سے باہر نکلتی ہیں وہ شریف نہیں ہوتی بلکہ فاحشہ ہوتی ہیں اور یہ واجب القتل ہیں۔
2005کی بات ہے جب لاہور میں دوردراز کے علاقوں سے آئے ہوئے محنت مزدوری کرنے والے جو رات کو فٹ پاتھوں اور پارکوں میں سوتے ہیں کے قتل کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اور کئی ماہ تک جاری رہا۔اس دوران 11افراد مارے گئے۔جنہیں سوتے میں اینٹیں مار کر ماردیا گیاتھا۔
دسمبر 1999میں لاہور ہی میں جاوید اقبال مغل نامی ایک سیریل کلر گرفتار ہوا ۔جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 100سے زائد نو عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کی اور بعد میں انھیں تیزاب کے ڈرموں میں ڈال کر مار دیا۔ 16مارچ 2000 کوجاوید اقبال سمیت چار ملزموں کو سزا ہوئی۔ جاوید اقبال کو سو مرتبہ سزائے موت اور اس کی لاش کے سو ٹکٹرے کرکے تیزاب میں تحلیل کرنے کا حکم دیا گیا۔عدالت نے دوسرے شریک ملزم شہزاد عرف گڈد کو 98 مرتبہ پھانسی دینے اور اس کی لاش کے98 ٹکٹرے کرکے اس کو تیزاب میں تحلیل کرنے کی سزا سنائی جبکہ ندیم کو 273 اورصابر کو 63 برس قید اور دیت کی سزا سنائی تھی۔ جاوید اقبال اور شہزاد عرف گڈو نے اپنی اپیلوں کی سماعت کے دوران ہی جیل میں خودکشی کرلی تھی۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ہتھوڑا گروپ نامی ایک سریل کلرز کا گروپ منظر عام پر آیا تھا اور اس گروپ نے ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف وارداتوں کے دوران 50سے زائد افراد کو ہلاک کردیا تھا ان میں شیرخوار بچے بھی شامل تھے۔ ان افراد کے سروں پر ہتھوڑے مار کر ہلاک کیا گیا تھا ۔اس گروپ نے اسی عرصے کے دوران راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کھبہ میں ایک واردات کے دوران ایک ہی رات میں11 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
قتل کے واقعات تو اگرچہ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر سیریل کلنگ کے واقعات لوگوں کو بہت خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ صرف پنجاب میں اس سال کے پہلے چارماہ (یکم جنوری سے30اپریل ) میں 1989افراد قتل ہوئے۔ یعنی ہر روز 16سے زائد افراد مارے گئے۔ 2010میں ملک بھر میں 12,580افراد قتل کیے گئے جبکہ گذشتہ برس یعنی2011میں 943خواتین کوصرف عزت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر ملکی سیریل کلرز
امریکی ریاست کنساس کا بلڈی بینڈر جو معروف اور امیر و کبیربینڈر خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ 1939میں اس کی موت کے بعد سے اب اس پر5 مختلف ناول بھی لکھے گئے نے 11سے زائد خواتین کو انتہائی بیدردی سے قتل کیا۔ یہ پیسے دینے کے بہانے مجبور خواتین کو گھر پر بلاتا اور بعد میں اذیت ناک طریقوں سے مار کر گھر کت صحن میں دبا دیتا تھا۔
دو چینی بھائیوں نے 2001میں آٹو پارٹس کا کاروبار شروع کیا مگر کاروبار ناکام ہو گیا۔ یہ بھائی کاروبار کی ناکامی کی وجہ فاحشہ عورتوں کو بتلاتے تھے کہ جن کے یہ شوقین تھے چنانچہShen Changyin اور Shen Changping جنونی ہو گئے اور انھوں نے قتل کی وارداتیں شروع کر دیں۔ جون 2003سے اگست2004کے دوران دونوں نے16کے قریب فاحشہ عورتوں کو جال میں پھنسا کر قتل کیا اور بعد میں ان کے دل، گردے وغیرہ پکا کر کھائے۔یہ لاشوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے تیزاب میں ڈال کر فلش میں بہا دیتے تھے۔ان دونوں کو سزائے موت دی گئی۔
امریکی ریاست فلوریڈا کا ٹیڈ بینڈی 15سے25سال کی 30سے زائد لڑکیوں کا قاتل تھا۔یہ لڑکیوں سے زیادتی کرتا اور بعد میں قتل کر کے لاش کا سر کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیتا اور لاش پھینک دیتا۔اسے1989میں بجلی کی کرسی پر بٹھا کر موت کی سزا دی گئی۔
انگلینڈ کا ایک خسرہ(gay) ڈینس نیلسن نے 1978سے 1983کے دوران15سے زائد مردوں کو قتل کیا۔یہ بعد میں لاشوں کو کاٹ کر گٹر میں بہا دیتا تھا۔اسے بعد ازاں عمر قید کی سزا ہوئی۔
آسٹریلیا کے میاں بیوی ( ڈیوڈ برنی اور کیتھرائن برنی)بھی سیریل کلرز تھے۔ انھوں نے 1980کی دہائی میں 5خواتین کواغوا کیا اور قتل کر دیا۔ان دونوں کو عمر قید کی سزا ہوئی مگر ڈیوڈ نے 2005میں جیل میں ہی خود کشی کر لی مگر بیوی ابھی تک جیل میں سزا کاٹ رہی ہے۔
امریکی ڈین آرنلڈ نامی ہم جنس پرست نے 27سے زائد نوجوان لڑکوں کو قتل کیا۔اس نے اس مقصد کے لیے دو ملازم رکھے ہوئے تھے جنہیں 200ڈالر دیتا تھا تاکہ وہ اس کے لیے شکار ڈھونڈ کر لائیں۔یہ بعد ازاں اپنے ہی ساتھی کے ہاتھوں مارا گیا۔
انڈونیشیا کا احمد سورادجی نے 11سالوں میں42سے زائد خواتین کو قتل کیا۔ یہ پیشے کا ڈاکٹر تھا۔10جولائی2008میں اسے فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت ہوئی۔
روس کے دارلحکومت ماسکو کا ایلگزینڈر پشوکن نے 60 سے زائد افراد کو قتل کیا۔ یہ سر میں ہتھوڑا مار کر اپنے شکار کو مارتا اور بعد میں اس کا خون اپنے منہ پر مل لیتا تھا۔یہ اب عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔
امریکی گرے لیون48خواتین کا قاتل ہے۔ یہ تمام خواتین جسم فروشی کے پیشے سے منسلک تھی۔ یہ اب سزائے عمر قید کاٹ رہا ہے۔
روس کا اینڈری چیکاٹلیو نے 53سے زائد نو عمرمرد و خواتین کو قتل کیا۔ قتل سے پہلے یہ ان سے زیادتی کرتا تھا۔14فروری 1994کو اسے فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی گئی۔
چین کا ینگ شن ھی نے1999سے2003کے دوران 65سے زائد خواتین کو زیادتی کے بعد قتل کیا جسے بعد میں سر میں گولی مار کر سزائے موت کی سزا ہوئی۔
امریکی کارل ایجن امریکی تاریخ کا ایک سفاک سیریل کلر تھا جس نے100سے زائد مختلف عمر کی خواتین کو قتل کیا۔پہلا قتل20سال کی عمر میں1974میں کیا۔1994میں یہ دوران قید کینسر سے ہلاک ہوگیا۔
کولمبیا کا لیوس140نوعمر لڑکوں کا قاتل تھا۔ یہ لڑکوں سے زیادتی کرتا اور بعد میں مار دیتا۔1999میں سزائے موت ہوگئی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s