سچی کہانیاں

پنجاب میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ

منصور مہدی
پنجاب میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ رواں سال میں یکم جنوری سے 30اپریل تک صرف 4ماہ میں815ریپ اور53گینگ ریپ کے مقدمات رجسٹرڈ ہوئے ہیں ۔گذشتہ سال 2011میں پنجاب میں ایسے 1800 واقعات رپورٹ ہوئے۔جبکہ 2010میںملک بھر میں2838، 2009میں2519، 2008میں 2300 اور2007میں 1996مقدمات درج ہوئے۔جبکہ ان سے کئی زیادہ تعداد ایسے واقعات کی ہے کہ جو درج نہیں ہوئے۔
ان سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خصوصاًصوبہ پنجاب میں خواتین کے خلاف زیادتیوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف زیادتیوں کے واقعات میں سرکاری ملازمین کا ملوث ہونا انتہائی تشویش ناک بات ہے۔
ابھی چند دن پہلے ڈیرہ غازی خان میں فورٹ منرو کی سیر کیلئے آنیوالی 5لڑکیوں کیساتھ 3 سرکاری اہلکاروں سمیت پانچ افراد نے اجتماعی زیادتی کی۔زیادتی کا شکار ہونے والی 4لڑکیوں کا تعلق لاہور اور ایک کا بھاولپور سے تھا۔07جون رات 9:30بجے ڈیرہ غازی خان کی طرف سے ایک کار میں گڑیا ، شمع ، عالیہ، صائمہ اورصنم نامی پانچ لڑکیاں اپنے عزیز محمد آصف عمران کے ساتھ آ رہی تھی کہ فورٹ منرو کی حدود سے تھوڑا پہلے بارڈر ملٹری پولیس کی چیک پوسٹ پر تھانہ فورٹ منرو کے اہلکاروں سوار محمد ظفر ، سوار امجد علی، سوار نوید احمد نے انہیں روکا اور کار کی تلاشی لینے کے بعد مزید پوچھ گچھ کی۔ اس دوران تلخ کلامی بھی ہوئی جس پر تینوں اہلکار ڈرائیور نور محمد سمیت آصف عمران اور پانچوں لڑکیوں کو تھانہ فورٹ منرو لے گئے۔ جہاں آصف اور کار ڈرائیور نور محمد کو مارا پیٹا اور حوالات میں بند کر دیا اور ان سے 46ہزار روپے نقد اور موبائل فون بھی چھین لئے۔ اس دوران دو اور افرادجن میں سے ایک کا نام مجید لغاری تھا آگئے۔ ان پانچوں نے پانچوں لڑکیوں کو گن پوائنٹ پر تھانے کی حدود میں قائم وائرلیس روم میں لیجا کر ان سے تمام رات اجتماعی زیادتی کی۔
ملزمان رات بھر خواتین کو بار بار زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔جبکہ وائرلیس روم میں ہی عریاں حالت میں ویڈیو بھی بنائی اور بعد میںسب سے سفید کاغذات پر دستخط بھی کرائے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دیں۔
لڑکیوں میں صائمہ اور عالیہ کا تعلق لاہور کے علاقہ داتا دربار کی ایک نواحی آبادی سے ہے جبکہ شمع اور گڑیا دونوں بہنیں ہیں اور ان کا تعلق ماڈل ٹاو¿ن لاہور سے ہے جبکہ صنم بہاولپور کے علاقہ عباسیہ ٹاو¿ن کی رہائشی ہے۔ ان لڑکیوں کے بارے میںیہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان لڑکیوں کی آصف سے کوئی رشتہ داری نہیں تھی جبکہ آصف نے کہا ہے کہ ان میں ایک لڑکی اس کی منگیتر ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی لڑکے ساتھ رشتہ داری کی بحث صرف اسی غرض سے شروع کی گئی کہ اس سے یہ ثابت ہو سکے کہ لڑکیاں خود اچھے کردار کی مالک نہیں تھی۔حتیٰ کہ ڈی سی او افتخار علی جیسے سنیئر آفیسر بھی اسی بحث میں پڑ چکے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ متاثرہ خواتین کے بیانات میں تضاد کے باعث ان کی شناخت میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔جبکہ آصف عمران نے اپنے آپ کو خواتین کا رشتہ دار ظاہر کیا ہے لیکن کسی واضح رشتہ کا تعین نہیں کیا۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا قانون کسی برے کرادر کی لڑکی سے زیادتی کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
یا کیا پاکستان کا قانون کسی نامحرم کے ساتھ سیر پر جانے یا کہیں بھی جانے پر پابندی عائد کرتا ہے؟
قانونی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نہ تو قانون کسی برے کردار کی لڑکی سے زیادتی کو جائز کردار دیتا ہے اور نہ ہی کسی غیر محرم کے ساتھ جانے پر پابندی عائد کرتا ہے۔
دوسری جانب لڑکیوں سے مبینہ زیادتی کیس میں نامزد بارڈر لیویز فورس کے مفرور تینوں اہلکاروں نے گرفتاری دے دی ہے اور ان کا کہناہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور انھوں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔ تینوں نامزد اہلکاروں امجدعلی،نوید احمد اور محمد ظفر کے مطابق انہوں نے لڑکیوں سے گاڑی چیک کرنے کا کہا تھا جس پر تلخ کلامی ہوئی۔ لڑکیوں نے دھمکیاں دیں جس کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔
اس واقعہ پر اگرچہ نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ صوبائی حکومت کی طرف سے حسب معمول نوٹس لیا گیا اور تینوںملزم اہلکاروں سمیت تھانہ فورٹ منرو کے انچارج محمد نواز سمیت 14 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
لڑکیوں کے ساتھ پولیس ملازمین کی زیادتی کا یہ کویہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ پولیس کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔24مارچ 2012کو صوبائی دارلحکومت لاہور سے 40کلومیٹر دور شیخوپورہ میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد نے ایک مقامی کالج کی طالبہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی کی۔ پولیس کے مطابق 24مارچ بروز ہفتہ کو 2یونیفارم میں ملبوس پولیس اہلکار اور 3 دیگر افراد نے فرسٹ ایئر کی طالبہ کو زبردستی اٹھا کر جنڈیالہ روڈ پر واقع ایک مکان میں لے گئے ۔ملزمان کے مقدمہ درج ہوچکا ہے مگر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
اپریل 2012 تحصیل ٹیکسلا کے ایک گاو¿ں لب ٹھٹھو کے رہائشی اسلم کی14سالہ بیٹی نتاشا اور اس کے 18 سالہ بھائی یاور سعید کو پولیس نے غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر 20 روز تک تھانہ واہ کینٹ کے ایک کمرے میں رکھا اور مبینہ طور پر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔اس کیس میں بھی ایس ایچ او اور تفتیشی افسر سمیت چار پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیشی افسر کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ گرفتاری کا سن کر سابق ایس ایچ او واہ کینٹ انسپکٹر ساجد گوندل سی پی او آفس سے فرار ہوگیا۔ اس کیس میں پولیس کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ جب 19مئی کو اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تو لڑکی سے بیان بدلوانے کیلئے پولیس23مئی بروز بدھ کو صبح 8 بجے اسے گھر سے اٹھاکر نامعلوم مقام پر لے گئی اور رات 8 بجے اسے دوبارہ گھر پہنچادیا گیا۔اس دوران پولیس نے لڑکی سے کیسا برتاﺅ کیا کہ لڑکی اتنی خوفزدہ ہوگئی تھی کہ اس نے بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا۔
اسی طرح رواں سال کے شروع میںگھوٹکی کی ریتی پولیس چوکی کے انچارج نے رشتہ داروں سے ناراض ہو کر گھر سے نکلنے والی گاو¿ں حاصل بھٹو کی رہائشی نوجوان لڑکی کو راستے سے پکڑ کر پولیس چوکی کے ایک کوارٹر میں قید کردیا جس کے بعد ریتی پولیس نے نوجوان لڑکی کے ماموں زاد بھائی منیر احمد کو بھی لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کر کے ایک کمرے میں بند کردیا جسے بعدازاں پولیس نے رشوت کے عوض آزاد کردیا۔جبکہ دوران قید پولیس اہلکار تین روز تک لڑکی سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرتے رہے۔بعد ازاںریتی پولیس چوکی کا انچارج عبدالشکور لاکھو لڑکی کے بیان پرعدالت سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
ضلع کرک کی عظمی ایوب کا کیس جو آجکل عدالت مین زیر سماعت ہے۔ 16سالہ عظمیٰ کو اغواکر کے ایس ایچ او پیر محسن شاہ ، امیر خان اور اے ایس آئی حکیم خان اس کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کرتے رہے جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی اور ابھی حال ہی میں اس نے ایک بچے کو جنم بھی دیا ہے۔
مارچ 2011میں سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2010اور2009میں 300سے خواتین ( نوعمر بچی سے بڑی عمر کی عورت تک )کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔ جبکہ دو ہزار سے زائد خواتین کو قتل کیا اور 13ہزار سے زائد خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان13ہزار مقدمات میں سے صرف پنجاب میں 6754 واقعات رپورٹ ہوئے جس میں قتل، ریپ اور گینگ ریپ کے واقعات سرفہرست تھے جب کہ سندھ کا نمبر تین ہزار تشدد کے واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ خبیر پختون خواہ اٹھارہ سو کے ساتھ تیسرے اور بلوچستان آٹھ سو تشدد کے واقعات کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔
سماجی تنظیم مددگار ہیلپ لائن کی بشریٰ سیّد کا کہنا ہے کہ پاکستان میںخواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس پر صدائے احتجاج بھی بلند کی جاتی ہے،کم عمر بچیوں سے لے کر کالج ، یونیورسٹی کی طالبات اور ِاسکے علاوہ ملازمت پیشہ خواتین کے ساتھ بھی اس نوعیت کے حادثات ہو چکے ہیں۔والدین کی بہت بڑی تعداد کم عمر بچیوں کو گھروں سے باہر بھیجتے ہوئے شدید خوف و ہراس محسوس کرتی ہے اس معاملے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کی بہت بڑی تعداد قانونی اداروں سے رجوع بھی نہیں کرتی۔بشریٰ سیّد کا کہنا ہے کہ ریپ ہونے والی خواتین اگر پولیس سے مدد طلب کرتی بھی ہیں تو محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہیں: یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نوجوانوں میں سیل فون کا بڑھتا استعمال اور اسکے ذریعے کی جانے والی دوستیاں خصوصاً نوجوان لڑکیوں کیلئے تباہی کا باعث ثابت ہوتی ہیں، ایسے میں والدین کی غلط تربیت، میڈیا کا منفی کردار اور نوجوانوں میں بڑھتی بے راہ روی کم عمر لڑکیوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرتی ہے: اس سلسلے میں یہ رجحان بھی سامنے آیا ہے کہ ریپ کی جانے والی خواتین کی غیر اخلاقی تصاویر اور وڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہیں اس طرح ان خواتین کو نہ صرف بلیک میلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افرادنے غیر اخلاقی تصاویر اور وڈیوز کی فروخت کو کاروبار بنا رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائمز کے حوالے سے نہ تو کوئی قانون موجود ہے اور ہی عام لوگ انٹر نیٹ کے ذریعے ہونے والے دھوکہ دہی سے آگہی رکھتے ہیں،حال ہی میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر خواتین کو بلیک میل کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد وڈیوز اورتصاویر کے ذریعے خواتین کو بلیک میل کرنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے: جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین اور ا±نکے اہل خانہ بدنامی اور رسوائی کے خوف سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور یوں مجرموں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے ،کچھ عرصے قبل کراچی شہر میں وائٹ کرولا کار کے حوالے سے کئی واقعات سامنے آئے تھے جن میں درجنوں خواتین کی حرمت پامال کی گئی لیکن جب یہ گینگ گرفتار ہوا تو زیادہ تر متاثرہ خواتین نے اس گروہ کے خلاف گواہی دینے سے انکار کر دیا۔
سماجی مسائل پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کے طبی معائنے سے لے کر عدالتی کارروائی تک تمام لائحہ عمل اس قدر پیچیدہ اور وقت طلب ہے کہ بیشتر خواتین ہمت ہار دیتی ہیں ایسے میں مختلف محکموںکی کرپشن کا فائدہ بہت دفعہ مجرمان کو ہوتا ہے اور وہ قانون کی گرفت سے صاف بچ نکلتے ہیں۔جب
پنجاب پولیس کے افسر کا کہنا ہے کہ اسلحے کے زور پر دن دہاڑے لڑکیوں کے اغواکی وارداتیں برائے نام ہیں جبکہ محبت اور دوستی کے نام پر خواتین کو ورغلا کر انکے ساتھ زیادتی کے واقعات زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔اسکے علاوہ ملازمت پیشہ خواتین کو افسران اعلیٰ یا ساتھی کولیگز کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر انھیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s