سچی کہانیاں

آہ …. فوزیہ وہاب

منصور مہدی
خاتون سیاستدانوں میں ایک علیحدہ شناخت کی حامل فوزیہ وہاب 17جون 2012ءکو انتقال کر گئیں۔ ان کا سیاسی تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا
آپ1956ءمیں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں ہی سیاست سے لگاﺅ ہو گیا اور جلد ہی طالب علم لیڈر کے طور پر ان کی پہچان بن گئی۔
1978ءمیں صحافی اور پاکستان ٹیلی ویژن کے اینکر پرسن وہاب صدیقی سے شادی ہوئی، جن سے آپ کے 4بچے ہیں۔
1991-92ءمیں آپ نے حسینہ معین کے ڈرامے ’کہر‘ میں ڈرامے کے ہیرو جنید بٹ کی کزن کا رول ادا کیا۔ 1993ءمیں وہاب صدیقی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے جن کے بعد انہوں نے معروف ماہر امراض دل ڈاکٹر اطہر حسین کے ساتھ دوسری شادی کر لی۔
1993ءسے 1994ءتک آپ پاکستان انڈسٹریل اینڈ کمرشل لیزنگ کے ساتھ بحیثیت مارکیٹنگ منیجر منسلک رہیں۔اکتوبر 1994ءمیں کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی ایڈوائزی کونسل کی ممبر چنی گئیں۔ جس کے بعد انہیں میونسپل وارڈ نمبر 59کا چارج دے دیا گیا۔ جبکہ آپ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی چیئر پرسن منتخب ہوئیں۔اسی دوران آپ کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی خواتین ونگ کا سیکرٹری اطلاعات بنا دیا۔ اس عہدے پر آپ 2002ءتک رہیں۔
1997ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر این اے 193کراچی سے حصہ لیا۔
1998ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے آپ کو پارٹی کے ہیومن رائٹس سیل کا سنٹرل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا۔ نواز شریف کے بنائے گئے نیب نے جب بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور دیگر پارٹی لیڈروں کے خلاف متعدد مقدمات بنائے تو فوزیہ وہاب نے ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے ان مقدمات کا دفاع کیا۔
2002ءمیں آپ خواتین سیٹوں پر قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئیں۔ آپ نے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی میں اہم کردار ادا کیا اورقومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کی سینئر ممبر رہیں۔
2003ءمیں آپ نے نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ کے لیے اہم امور سرانجام دیے اور 2004ءمیں بوسٹن میں ہونے والے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں شرکت کی۔
2004ءمیں جرمنی کی پارلیمنٹ کے تعاون سے سٹڈی ٹور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی کی۔
اگست2005ءکے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر آپ کی کوششوں سے کراچی ایسٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ طے پائی۔ آپ کراچی ناظم کی سیٹ کے لیے امیدوار کے طور پر کھڑی ہوئیں مگر بعد میں پارٹی کی ہدایت پر نعمت اللہ کے حق میں بیٹھ گئیں۔
2002ءسے 2007ءتک قومی اسمبلی میں آپ نے ایک متحرک اپوزیشن رکن کا کردار ادا کیا۔ آپ نے اس دروان متعدد بل اور قراردادیں پیش کیں۔ قانون ماحولیات اور پولی تھین بیگ پر پابندی کے قانون کے بل بھی آپ نے پیش کیے۔
2008ءکے انتخابات میں آپ دوبارہ قومی اسمبلی کی ممبر چنی گئیں۔
شیری رحمان کے استعفیٰ کے بعد آپ پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئیںمگر ریمنڈ ڈیوس کیس میں اس وقت کے وزیر خارجہ محمود قریشی سے اختلافات کے نتیجے میں استعفیٰ دے دیا ۔
آپ پارٹی کی ان چند اہم خواتین رہنماﺅں میں شامل تھیں جو الیکٹرانک میڈیا پر اپنی پارٹی کا مو¿قف بھر پور انداز میں پیش کرتی تھیں۔
29 مئی 2012ءکو آپ پتہ کے آپریشن کے لیے کراچی کے ہسپتال میں داخل ہوئیں، تاہم حالت بگڑنے پر آئی سی یو میں لے جایا گیا، جہاں دو ہفتے تک وینٹی لیٹر پر رہیں اور بالآخر 17 جون کو خالق حقیقی سے جا ملیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s