سچی کہانیاں

جہاں تک موسیقی سننے کا تعلق ہے تو وہ ضرور سنتا ہوں اور اگر گانے والی گلوکارہ ہو تو پھر کیا کہنے : راجہ ریاض

 

منصور مہدی، عامر سہیل

راجہ ریاض 26 جولائی 1961ءکو فیصل آباد میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تعلیم گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے حاصل کی۔ آپ تین دفعہ پنجاب اسمبلی کے ممبر بنے۔ پہلی مرتبہ 1993ءمیں، دوسری بار 2002ءمیں الیکشن جیت کر منتخب ہوئے۔ جبکہ تیسری بار 2008ءکے انتخابات میں جیت کر آئے۔ اس وقت پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی میں بطور سینئر وزیر بھی کام کیا اور وزیر زراعت بھی رہے۔ راجہ ریاض سے ”ہم شہری“ نے پنجاب کا بجٹ پیش ہونے سے ایک دن قبل ان سے جو گفتگو کی وہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

ہم شہری: راجہ صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب نے آج کل عوامی مسائل حل کرنے اور خادم اعلیٰ کا عملی ثبوت دینے کے لیے مینار پاکستان پر خیمہ کیمپ آفس بنایا ہے اور وہیں اجلاس بھی ہوتے ہیں۔ آپ اس عمل کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
راجہ ریاض: آپ کو یاد ہوگا کہ ہمارے قائد صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ یہاں سٹیج لگیں گے اور سیاسی اداکار عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ڈرامہ کریں گے۔ جو مینار پاکستان میں ٹینٹ آفس کا ڈرامہ ہو رہا ہے، دراصل یہ الیکشن کے لیے ایک فلم بن رہی ہے جس کے ہیرو میاں شہباز شریف ہیں۔ اس کا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیاسی اداکار فلم بنا رہے ہیں اور یہ ایک ناکام اور ڈبہ فلم کہلائے گی جبکہ مسلم لیگ (ن) اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے جو یہ نہیں کر پائے گی اور نہ ہی اسے سیاسی اداکاری سے کوئی سیاسی فائدہ ہوگا کیونکہ پنجاب کے عوام باشعور ہیں، وہ ہر خبر کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں اور میاں برادران کی یہ سیاسی فلم فلاپ ہو جائے گی۔
ہم شہری: پنجاب بھر میں اگر گڈ گورننس کے ایشو کو دیکھا جائے تو صحت، تعلیم اور امن و امان اور بعض دیگر معاملات سے متعلق مسائل پر خادم اعلیٰ نے قابو پایا ہے اور کچھ بہتری نظر آتی ہے؟
راجہ ریاض: پہلی بات یہ کہ شہباز شریف کو ”خادم اعلیٰ“ کہنا اس شخص کی توہین ہے جو عوامی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔ یہ ایک آمر ہے جو ون مین شو کا عادی ہے اور یہ وہی شخصیت ہے جس نے جنرل جیلانی کی گود میں سیاسی پرورش پائی ہے۔ ان کی کوئی سیاسی ٹیم نہیں ہے۔ یہ خود ہی سوچتے ہیں، خود ہی فیصلہ کرتے ہیں اور خود ہی عمل کرنے کے لیے حکم جاری کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ اس فیصلے سے کیا نقصان ہو گا۔ پنجاب کی تاریخ میں بورڈ کے رزلٹ تبدیل ہوئے، طالب علموں نے خودکشیاں کیں، پرچے آو¿ٹ ہوئے اور اگر ہم شعبہ صحت کی حالت زار دیکھیں تو ابھی گزشتہ دنوں لاہور کے سروسز ہسپتال میں ڈاکٹروں اور انتظامیہ کی غفلت سے 9 کے قریب بچے شہید ہوئے۔ محکمہ پولیس اور امن و امان کی صورتحال پنجاب میں مذاق بن چکی ہے۔ راجن پور، ڈی جی خان اور اس جیسے دیگر پنجاب کے حصوں میں روزانہ سو کے قریب وارداتیں ہوتی ہیں مگر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ صوبے میں اس وقت مکمل ڈاکو راج ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب میں شہباز شریف صرف اشتہاری مہم چلا کر پنجاب حکومت کے اربوں روپے اخباروں اور ٹی وی میں اشتہارات کی نذر کرتے ہیں، جس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ اگر یہی فنڈ صحت اور تعلیم کے شعبے میں لگایا جاتا تو آج ان دونوں شعبوں کے حالات بہتر نظر آتے۔ آج بھی طلبہ درختوں کے نیچے پڑھائی کرنے پر مجبور ہیں۔ ہسپتالوں میں مفت ادویات کا کہا گیا تھا، آج آپ اندرون پنجاب میں جائیں، وہاں مفت دوائی تو دور کی بات ہے بنیادی ہیلتھ یونٹ بھی ویران ہو چکے ہیں۔ تو یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن کی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں کہ میاں شہباز شریف ایک ناکام وزیراعلیٰ ہیں جو صرف پنجاب کے سرکاری پیسے کے بل بوتے پر اشتہاری مہمیں چلا کر کبھی خادم اعلیٰ بنتے ہیں اور کبھی کوئی اور ڈرامہ کرتے ہیں۔ اور ہاں میں یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ اب ان کا یہ پتلی تماشا نہیں چلے گا۔ یہ جو کچھ بھی کر لیں پنجاب کے عوام انہیں رد کر دیں گے۔
ہم شہری: پنجاب میں مزید صوبے بنانے سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کا مو¿قف سامنے آ چکا ہے اور صدر زرداری نے ملتان اور بہاولپور کے نام سے دو نئے صوبوں کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کو ایک ریفرنس بھی بھیجا ہے کہ جس میں نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق امور کو طے کرنے کے لیے فوری طور پر کمیشن بنانے کا کہا گیا ہے۔ دوسری طرف اگرچہ پنجاب حکومت نے بھی نئے صوبوں کی بات کی ہے لیکن کیا آپ سمجھتے کہ مسلم لیگ (ن) نیک نیتی سے نئے صوبے بنانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی؟
راجہ ریاض: دیکھیں یہ ایک حقیقت ہے کہ شریف برادران جنوبی پنجاب کے صوبے بنائے جانے کے حق میں نہیں ہےں۔ یہ اعزاز بھی پاکستان پیپلزپارٹی کو حاصل ہے کہ ہم نے انہیں مجبور کیا اور عوامی پریشر بنایا، جس کے نتیجے میں اسمبلی قراردار کو متفقہ طور پر منظور کرایا۔ مسلم لیگ (ن) نے قرارداد کی منظوری ضرور دی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک شرارت بھی کی ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے بہاولپور صوبے کی بحالی کا ایشو پیدا کیا ہے۔ اس سے ان کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ کبھی بھی مخلص ہو کر صوبے کی تشکیل نہیں ہونے دیں گے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب کے عوام سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کرے گی۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ واقعی زیادتی ہو رہی ہے اور ان کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں اور ان کے فنڈز تخت لاہور پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ان کی محرومیوں کو ختم کرنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ جنوبی پنجاب کو ایک نیا صوبہ بنایا جائے۔
ہم شہری: کہا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب کی قوم پرست پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے عملی کام کر رہی ہے؟
راجہ ریاض: یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب کے قوم پرستوں کے ساتھ مل کر کوئی رکاوٹ پیدا کرے گی۔ اس کی عملی مثال یہ ہے کہ میں نے چند روز پہلے گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کے ہمراہ جنوبی پنجاب کا دورہ کیا ہے اور وہاں کی مقامی قیادت اور عوام سے رائے لی ہے۔ وہ سب صوبے کے بنائے جانے پر متحد ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹرینز کی ایک بڑی تعداد بھی نئے صوبے کے حق میں ہے اور وہ اس معاملے پر کسی دوسری رائے کے حامی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں تخت لاہور کے ساتھ نہیں رہنا بلکہ اپنی آزادانہ شناخت بحال کرنی ہے۔
ہم شہری: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بہاولپور صوبے سے متعلق قرارداد کامیاب نہیں ہو سکے گی؟
راجہ ریاض: ہم اس شرارت کو عوامی طاقت سے ریجیکٹ کرائیں گے۔
ہم شہری: چیف جسٹس نے اب تک کرپشن سے متعلق بہت سے مقدمات سنے اور کرپشن سے متعلق از خود نوٹس بھی لیے لیکن اب کرپشن کی بات چیف جسٹس کے گھر تک پہنچ گئی تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اس مشکل وقت سے نکل پائیں گے؟
راجہ ریاض: اب چیف جسٹس افتخار چوہدری پر بہت مشکل وقت آ گیا ہے، تاہم ان کا یہ اقدام قابل تعریف ہے کہ انہوں نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اس بینچ سے الگ کر لیا ہے جو ارسلان چوہدری کا کیس سن رہا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گو انہوں نے اپنے آپ کو الگ تو کر لیا لیکن بہرحال چیف جسٹس کے زیر اثر سپریم کورٹ کے دیگر تمام ججز تو ہوتے ہیں۔ میرا یہ انہیں مشورہ ہے کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے بھی الگ ہو جائیں اور استعفیٰ دے دیں۔ پھر ایک اچھا تاثر جائے گا جس سے ان پر پاکستانی عوام کا زیادہ اعتماد اور یقین پیدا ہو گا۔
ہم شہری: پنجاب حکومت کے غیر جماعتی بلدیاتی الیکشن کے اعلان پر آپ کیا کہتے ہیں؟
راجہ ریاض: پنجاب میں جب تک میاں برادران کی حکومت ہے یہ بلدیاتی الیکشن نہیں کرائیں گے۔ دیگر سیاسی ڈراموں کی طرح وہ یہ بھی ایک ڈرامہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے جو سب سے بڑا غیر جمہوری ہونے کا ثبوت دیا ہے، وہ بلدیاتی الیکشن غیر جماعتی کرانے کا اعلان ہے جس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ آمرانہ سوچ کے لوگ ہیں۔ یہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ ہم غیر جماعتی الیکشن کرائے جانے کی بھرپور مخالفت کریں گے اور اس کے لیے تمام فورمز کو استعمال کریں گے۔ بلدیاتی الیکشن اگر ہوں گے تو صرف جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔
ہم شہری: پنجاب حکومت وفاقی حکومت پر کرپشن کا الزام لگاتی ہے، کیا پنجاب کرپشن سے پاک صوبہ ہے؟
راجہ ریاض: چار سالوں کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 750 ارب روپے بنتا ہے لیکن غریب عوام کے پیسے کا پچاس فیصد کرپشن اور کمیشنز کی نذر ہو گیا۔ سستی روٹی سکیم، فوڈ سپورٹ پروگرام میں بھی اربوں روپے کی کرپشن کی گئی۔ 74 ارب کے مختلف اکاﺅنٹس کا آڈٹ نہیں کرایا گیا حالانکہ اکاﺅنٹنٹ جنرل پنجاب اس معاملے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو خط بھی ارسال کر چکے ہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کے ترقیاتی کام 49 فیصد کی بجائے 30 فیصد رہ گئے۔ حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کی وجہ سے پرائمری سکول میں بچوں کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہوئی جبکہ زرعی گریجویٹ ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ سب سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں میں لاہور پہلے، شیخوپورہ دوسرے، راولپنڈی تیسرے، گجرات 16ویں، ملتان 25ویں نمبر پر جبکہ راجن پور اس فہرست میں سب سے آخری نمبر پر ہے۔
ہم شہری: کیا آپ بھی صرف سیاست کرتے ہیں؟
راجہ ریاض: نہیں میرا اپنا کاروبار ہے، میں زمیندار ہوں اور زراعت کرتا ہوں۔
ہم شہری: دیگر کیا شغل ہیں؟
راجہ ریاض: گلف کھیلتا ہوں اور شکار کھیلتا ہوں۔
ہم شہری: فلم اور موسیقی سے کتنا شغف ہے؟
راجہ ریاض: فلموں سے کوئی خاص رغبت نہیں ہے اور جہاں تک موسیقی سننے کا تعلق ہے تو وہ ضرور سنتا ہوں اور اگر گانے والی گلوکارہ ہو تو پھر کیا کہنے ہیں۔

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s