زمرہ کے بغیر

جسے کال کوٹھری بھی کہتے ہیں

منصور مہدی
1995میں جب موت کی سزا ہوئی تو مجھے عام قیدیوں سے علیحدہ کر کے پھانسی کی سزا پانے والے قیدیوں کی کوٹھری میں بند کر دیا گیا۔ جسے کال کوٹھری بھی کہتے ہیں۔ فیصلے کے فوراً بعد مجھے سوچوں نے جکڑ لیا۔ مجھے کبھی بیوی اور کبھی بچوں کے چہرے نظر آئے ، کبھی مخالف گروپ کی سازشوں کا جال نظر آتا اور کبھی اپنے رویے پر نظر ڈالتا۔ایسے عالم میں نیند کہاں؟ مگر کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے چنانچہ رات گئے دیر تلک جاگنے کے بعد آخر کار سو گیا۔
ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پھانسی کا دن آپہنچا اور صبح سویرے جیل حکام نے مجھے قیدیوں والے کپڑے اتارنے کا کہا اور کالا چولا پہنادیا گیا۔( سزائے موت دیتے ہوئے جو کپڑے پہنائے جاتے ہیں) دو سپائیوں نے مجھے شانوں سے پکڑ ا اور پھانسی گھاٹ کی طرف لے گئے جہاں جیل سپرنٹنڈنٹ، جیل کا ڈاکٹر، علاقہ مجسٹریٹ اور پیشہ ور جلاد موجود تھا۔مجھ سے میری آخری خواہش پوچھی گئی۔اس کے بعد میرے ہاتھ اور بازو پیچھے کی طرف باندھ دئیے گئے اور سر پر کالا غلاف چڑھادیا گیا۔تختہ دار پر کھڑا کرنے کے بعد میرے پیروں کے دونوں انگوٹھوں کو آپس میں باندھا دیاگیا ۔ پھرموٹی رسی کا ایک پھندہ میرے گلے میں ڈالا گیا۔ سر پر غلاف چڑھانے کے بعد اگرچہ مجھے جیل کا عملہ تونظر نہیں آرہا تھا البتہ میں سب کچھ محسوس کر رہا تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے علاقہ مجسٹریٹ کے اشارے پر جیل سپرنٹندنٹ نے جلاد کو اشارہ کیا جس پر جلاد نے میرے پیروں کے نیچے سے تختے کھینچنے کے لیے لیور پر ہاتھ رکھ دیا اور جونہی اس نے لیور کا بٹن دبایا تو میرا جسم ایک جھٹکے کے ساتھ لٹک گیا۔
لاہور کے مضافاتی علاقہ مڑل ماری کے رہائشی اللہ دتہ ولد چنن دین سے جب میری ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ 6فٹ سے لمبے قد، سفید لمبی داڑھی والے بوڑھے کے چہرے پراب بھی جہاں عزم و ہمت کی جھلکیاں نظر آ رہی تھیں وہی ابتلا و آزمائش کے طویل ماہ و سال کے تہہ در تہہ نقوش بھی نمایاں تھے۔کم و بیش14 سال تک جرمِ بے گناہی میں جیل کی کال کوٹھری میں گزانے والا اب 75برس کا ہو چکا ہے۔
اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ جب دنیاوی قانون کسی انسان کو سزائے موت دیتا ہے تو سزائے موت پانے والا ہر وقت موت کو اپنے سامنے کھڑا دیکھتا ہے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتا رہتا ہے۔حالانکہ ہر انسان بھی موت کا قیدی ہے لیکن ا±س کو کسی جج نے ا±س کے سامنے موت کا حکم نہیں دیا ہوتا اس لیے اس کو فکر نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی موت کا وقت مقرر کرکے ا±سے دنیا میںبھیجا ہے لیکن انسان کو اس وقت کا پتہ نہیںہوتا جس وجہ سے اسے موت کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔
اللہ دتہ نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ اسکے 10بچے ہوئے جن میں سے 5بیٹے اور ایک بیٹی فوت گئے جبکہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں زندہ ہے اور بیوی بھی باحیات ہے۔ اس کا دادا لاہور کے تھانہ مناواں کے علاقے مڑل ماری کا زمیندار تھا۔دادا کے 8بیٹے تھے۔ دادا کے فوت ہونے کے بعد ان کے والد کے حصے میں 511کنال اور12مرلے زمین آئی۔ جو ان کے فوت ہونے کے بعد اللہ دتہ اور اس کے بہن، بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوگئی اور اس طرح اللہ دتہ کو حصے میں66کنال19مرلہ کے قریب زمین ملی ۔جبکہ سالم کھاتے میں بھی 30کنال کے قریب زمین بنتی ہے۔ لیکن یہ زمین اللہ دتہ اور اس کے خاندان کے لیے ایک بربادی کا پیغام لیکر آئی ۔ والد کی وفات کے بعد اللہ دتہ اور اس کے بھائیوں میں پھوٹ پڑ گئی اور وہ زمین میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے اور اچھی زمین پر قبضہ کرنے کے چکر میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔
اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ والد کے فوت ہونے کے بعد سے ہی بھائیوں میں زمین پر تنازعے شروع ہو گئے مگر ان میں شدت 13 نومبر1990کو آئی جب بھائیوں نے اللہ دتہ کی ٹانگ توڑ ڈالی۔جبکہ 1991میں چھوٹے بھائیوں نے تایا کے بیٹے کو قتل کر دیا۔تایا کے دیگر بیٹوں نے ملزمان میں میرے بھائیوں کہ جنھوں نے وہ قتل کیا تھا کے ساتھ میرا نام بھی درج کروا دیا حالانکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت میں ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ گھر پر پڑا تھا۔ بہرحال مجھے بھی پو لیس نے گرفتار کر لیا۔
میں نے اپنی بے گناہی کا یقین دلانے کی بھرپور کوشش کی مگر کہیں بھی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ 4برس تک جیل میں رہا اور یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں چلتا رہا اور1995میں مجھے سزائے موت کا حکم ہو گیا۔ سزا کے بعد مجھے کال کوٹھری میں بند کر دیا گیا جہاں10سال تک قید رہا۔ میرے ساتھ چونکہ دیگر دو بھائی بھی قید تھے چنانچہ ان کی کوششوں سے مقدمہ کے مدعی سے صلح ہو گئی اور اس صلح کے عوض مدعی پارٹی کو مشترکہ کھاتے میں سے 40کنال زمین دینا طے ہوئی۔ مدعی مقدمہ کے ساتھ اشٹام میں بھی یہی تحریر ہوا مگر جو ڈگری جاری ہوئی وہ میرے اکیلے کے حصہ میں سے دی گئی۔
اللہ دتہ خلاﺅں میں گھورتا ہوا بولا کہ میری کہانی کا الم ناک پہلو یہ ہے کہ میرے قید ہونے کے بعد میری بیوی اور بیٹا بھی مجھ سے منہ موڑ گئے اور انھوں نے تایا زاد اور چچا زاد کا ساتھ دیا۔ ۔۔اللہ دتہ یہ سنا کر خاموش ہو گیا اور بڑ بڑاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔پتا نہیں مجھ سے ایسی کون سی غلطی سرزد ہوئی کہ اپنے بھی ساتھ چھوڑ گئے۔۔۔ جن کے لیے میں جی رہا تھا۔۔جن کے لیے میں لڑ رہا تھا ۔۔ وہ بھی بیگانے بن گئے۔۔ کہنے لگا اب میرے پاس کوئی زمین نہیں ، کوئی جگہ نہیں ۔۔ اب میں گاﺅں میںشاملات کی جگہ پر رہتا ہوں۔
میں نے اللہ دتہ کو افسردگی سے باہر نکالنے کے لیے اس کی زندگی کے دیگر پہلوﺅں کے حوالے سے سوال کیے تو وہ مجھے دیکھنے لگا اور بولا ۔۔۔ اولاد کے غم خدا دشمن کو بھی نہ دے۔۔۔ اور مسکراتے ہوئے بولا کہ میں نے پاکستان بھی بنتے ہوئے دیکھا اور1965کی جنگ میں بھی حصہ لیا۔
پاکستان بننے کے حوالے سے اس نے بتایا کہ اس وقت میری عمر 12/15سال کی ہوگی۔مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے جو واہگہ باڈر سے آتے تھے انھیں میں نے بہت قریب سے دیکھا۔ ان لوگوں کے چہروں پر کرب کے آثار مجھے آج بھی یاد ہیں کہ ان لوگوں نے اس وطن کے لیے کیا کیا قربانیاں دیں۔ اللہ دتہ نے بتایا کہ سکھوں کے قافلے بھی یہاں سے گزر کر بھارت جاتے تھے۔جب یہاں اطلاع ملی کہ سکھوں نے بھارت سے آنے والے مسلمان قافلوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، قتل و غارت گری اور لوٹ مار مچا دی ہے تو یہاں کے لوگوں نے بھی سکھوں کو مارنا شروع کر دیا۔ انھوں نے بتایا سکھوں کے ان مظالم کو دیکھ کر یہاں دو گروہ وجود میں آئے جن میں سے ایک "نوری نت والا "اور دوسرا "نوری نت منجا والا "جن میں بہت سے جوان شامل ہوتے گئے۔ جو بارڈر سے ہی مسلمان قافلوں کو اپنی پناہ میں لے لیا کرتے تھے۔
1965کی جنگ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ میں نے 114بریگیڈ کےساتھ بطور volunteer جنگ میں حصہ لیا۔فوج کے ساتھ مل کر نہ صرف علاقے میں مورچے کھودے بلکہ اسلحہ کی ترسیل میں بھی فوج کا ہاتھ بٹایا۔ اس نے بتایا کہ یہاں کا پیدائشی ہونے کی وجہ سے اس علاقے کے چپے چپے سے واقفیت تھی چنانچہ راستوں کے حوالے سے فوج کی معاونت کی۔
اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد صرف ذولفقار علی بھٹو ایسی شخصیت تھی کہ جنہیں لیڈر کہا جا سکتا ہے۔ اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ جب 1971کی جنگ کے بعد بھٹو صاحب ایوب خان ھکومت کو چھوڑ کر لاہور تشریف لائے تو میں بھی انھیں سننے گیا۔ اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ ذولفقار علی بھٹو کی شخصیت میں ایک ایسا سحر تھا کہ جو اس میں ایک دفعہ گرفتار ہو جاتا ۔ وہ آخر تک رہا نہیں ہوسکتا۔
جیل میں قید کے واقعات بتلاتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا اس وقت میں کوٹ لکھپت جیل میں بند تھا۔وہاں میں نے یہ باتیں سنی تھیں کہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا جائے گا۔انھوں نے بتایا کہ جیل کی دنیا جہاں باہر کی دنیا سے مختلف ہوتی ہے مگر بہت سے معاملات میں مشترک بھی ہوتی ہے۔ جیسے باہر کی دنیا میں امیر غریب کا فرق ہے، با اثر افراد اور عام لوگوں کے لیے قانون مختلف ہیں،دولت مند اور محتاج لوگوں کی خوراک مختلف ہوتی ہے، بیماری کی صورت میں امیر اور غریب کے علاج میں فرق ہے، بااختیار لوگوں کا حکم سب مانتے ہیں چاہے وہ حکم غلط ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح جیل میں بھی امیر اور غریب کا فرق بہت واضع ہے۔ جیل میں بھی دولت مند قیدی کی بات سنی جاتی ہے، با اختیار طبقے سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کا حکم چلتا ہے۔ جیل میں بااختیار ہونے کے معنی بتلاتے ہوئے اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ طاقتور لوگ کہ جن کے رابطے باہر کی دنیا کے طاقتور لوگوں ، گروہوں اور طبقوں سے ہوتے ہیں۔ اللہ دتہ کا کہنا ہے کہ جیل میں نے جن مشکلات میں وقت گزارا ہے انہیں بیان نہیں کیا جاسکتا اور وہاں پیش آنے والی تکلیفیں شمار میں لائی جاسکتی ہیں۔
سزائے موت کی کال کوٹھری میں 10برس گزارنے والے للہ دتہ اب بھی اپنی زمین کے حصول کے لیے مختلف سرکاری دفتروں اور عدالتوں میں چکر لگا رہا ہے۔ اس کی زمین کا فیصلہ تو عدالتوں میں ہونا ہے مگر اس کے پاس چند گھنٹے بیٹھ کر احساس ہو رہا ہے کہ سزائے موت کے قیدی کس کرب سے گزرتے ہیں۔ان میں کچھ واقعی مجرم ہوتے ہیں اور کچھ بے گناہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت بھی پاکستان بھر کی جیلوں میں 7000 سے زائد سزائے موت کے قیدی ہیں۔ پاکستان میں سزائے موت کی سزا پھانسی گھاٹ پر چڑھا کر دی جاتی ہے جبکہ مختلف ملکوں میں مختلف طریقے سے موت کی سزا دی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں سرعام سر قلم کیا جاتا ہے لیکن سر جسم سے جدا کرنے سے پہلے درد کا انجکشن لگایا جاتا ہے تاکہ تکلیف کم ہو۔ امریکہ، چین اور چند دیگر ممالک میں ’لیتھل انجکشن‘ یعنی مہلک زہر کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں ’فائرنگ سکواڈ‘ یعنی پولیس کے گولیاں مارنے والے دستے کے ذریعے گولی مار دی جاتی ہے۔
انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال سینکڑوں لوگوں کو سزائے موت سنائی جاتی ہے اور درجنوں کی تعداد میں قیدیوں کو ہر سال پھانسی دی جاتی ہے۔اس تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سال 2004ءمیں 394 لوگوں کو سزائے موت سنائی گئی اور 15 کو پھانسی دے دی گئی جبکہ 2005ءمیں 477 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور 52 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔2006ءمیں 446 لوگوں کو سزائے موت سنائی گئی اور 82 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی تھی جبکہ 2007ءمیں 309 لوگوں کو سزائے موت سنائی گئی اور 134 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی۔تاہم موجودہ دور ھکومت میں گذشتہ ادوار کی نسبت بہت کم مجرموں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔
نوید عباس ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ جب پاکستان قائم ہوا تھا تب صرف قتل اور بغاوت ہی ایسے دو جرم تھے جن میں سزائے موت دی جاسکتی تھی مگر اب بیس کے قریب ایسے جرائم ہیں جن میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔پاکستان کی غیر جمہوری اور جمہوری حکومتوں نے سزائے موت کے حامل جرم کی فہرست میں شادی سے باہر جنسی تعلقات رکھنا، توہین رسالت، منشیات سے وابستہ جرم سمیت دیگر جرائم بھی شامل کر دیئے ہیں۔ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم (ایشین ہیومن رائٹس کمیشن) کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ایسے جرائم میں اضافہ ہوا جن کی سزا موت ہے اور مشرف کے دورِ حکومت میں ہی زیادہ تر قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد ہوا۔ موجود حکومت نے بھی موت کی سزا کی حامل فہرست میں ایک جرم کا مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ا س حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کیلئے سات نومبر کو آرڈیننس 2008ءجاری کیا ہے جس کے مطابق ’سائبر دہشت گردی‘ کے ذریعے کسی کی جان لینے والے کو بھی موت کی سزا دی جائے گی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s