سچی کہانیاں

رمضان ۔۔۔۔رحمت مگر ناجائز منافع خوروں نے زحمت بنا دیا

غریب اور متوسط عوام مہنگائی کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ترس جاتے ہیں

منصور مہدی
اسلام میں روزے کے مقاصد کچھ اس طرح بیان کئے گئے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنے فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بنو“(البقرہ 183)
اس آیت کی تفاسیر میں مفکرین کا کہنا ہے کہ روزہ کا اہم مقصدایسے تمام کاموں سے بچنا ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناراض کرنے والی ہیں۔ جیسے جھوٹ بولنا، گندی اور لغوباتیں کرنا، غیبت اور چغل خوری، بداخلاقی، بہتان تراشی، امانت میں خیانت، ظلم اور زیادتی، دوسرے کی حق تلفی، فتنہ وفساد، آپس میں دشمنی پیدا کرانا ، ناجائز منافع خوری، وغیرہ۔
روزہ دار دنیا میں اپنے روزے کے احترام میں ان تمام برائیوں سے خود کو بچاتا ہے ۔اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”روزہ ڈھال ہے“(بخاری)۔اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور جہالت (کے کام) نہیں چھوڑتا اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی پرواہ نہیں ہے“(بخاری)
لیکن یہ بات تواتر سے دیکھنے میں آ رہی ہے کہ رمضان کے روزے شروع ہوتے ہی اگرچہ مساجد میں رش بڑھ جاتا ہے ، امیر اور رئیس لوگ خیرات کرنے شروع کر دیتے ہیں اور بیشتر لوگ واقعی چھوٹی موٹی برائیاں کرنے سے پرہیز کرنے لگتے ہیں۔ لیکن تاجر برادری ہمیشہ رمضان کے شروع ہوتے ہی اشیاءخورد نوش اور دیگر اشیاءکی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں اور ناجائز منافع کماتے ہیں۔گراں فروش اور منافع خور اس ماہ کو لوٹ مارکا مہینہ بنالیتے ہیں۔
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو کثرت سے یہ بتلائی جاتی ہے کہ حکومت اس معاملے میں کوئی عملی کام نہیں کرتی اور قانون ایسے لوگوں کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے سے بے بس نظر آتا ہے۔ تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ سے ہی صنعت کار ، سرمایہ دار اور تاجر براداری چونکہ حکومت میں ہوتی ہے لہذا ان کے اقدامات کو بالواسطہ تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال گزشتہ سالوں میں چینی کی قیمتوں میں اضافے سے دی جا سکتی ہے۔ جب مل مالکان نے چینی کی قیمت میں اضافہ کیا تو صارفین کی طرف سے احتجاج ہوا اور معاملہ ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک پہنچا مگر سپریم کورٹ بھی اس معاملے میں کچھ نہ کر سکی کیونکہ جب تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ تمام شوگر ملز کے مالکان یا تو حکومت میں شامل لوگوں کی ہیں یا اپوزیشن سے تعلق رکھتے والوں کی ہیں۔ چنانچہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے ہاں اشیاءضروریہ کی قیمتیں اس وجہ سے کنٹرول نہیں ہوتی۔ کیونکہ کنٹرول کرنے والوں کے ہی اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو قیمتوں پر نظررکھی جاتی ہے اور نہ ہی منافع خوروں کو لگام دی جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ قیمتوں پر کسی حد تک کنٹرول فوجی حکومتوں کے ادوار میں ہوا اور جمہوری حکومتوں میں ہمیشہ قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
اگر ہم متحدہ عرب امارات، دوبئی ، شارجہ ، سعودی عرب اور دیگر ایسے مسلم ممالک کو دیکھیں کہ جہاں پر آمریت ( بادشاہت) ہے تو وہاں پر سارا سال کوئی قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں وہاں تیل کی دولت ہے اور حکومتوں کی طرف سے سبسڈی دی جاتی ہے۔ نہیں بلکہ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ بادشاہت ہونے کی وجہ سے ویسے تو وہ پورے ملک کے مالک ہوتے ہیں مگر انفرادی کاروباروں میں ان کا کوئی مفاد نہیں ہوتا۔ خلیج ٹائمز لکھتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر ریاستوں میں حکومت کے ادارے ( کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ) ، کارخانے داروں، درآمد کندگان اور ریٹیلرز کے ساتھ مل کر سارا سال کے لیے اشیاءکی قیمتیں مقرر کرتے ہے اور پھر اگلے برس اس پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اس حوالے سے 1650اشیاءکو بنیادی ضرورتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
افغانستان کا اخبار روزنامہ آوٹ لُک اپنی 23جولائی2012کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ رمضان کی آمد پر بازاروں اور مارکیٹوں میں اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں از حد اضافہ ہو گیا۔ پاکستانی چاول 50کلوگرام کا بیگ 3000افغانی روپے سے بڑھ کر 3600روپے کا ہوگیا۔اسی طرح برازیلین شوگر کا 50کلو گرام کا بیگ 2020سے بڑھ کر 3000ہو گیا جبکہ مقامی انگور جو 100سے بڑھ 180فی کلو گرام ہو گیا۔
کچھ ایسی ہی صورتحال انڈونیشیا میں ہے ۔ جکارتہ پوسٹ لکھتا ہے کہ رمضان کی آمد پر مہنگائی میں اضافہ ہو گیا۔ اگرچہ وہاں کی حکومت نے رمضان میں لوگوں کو سبسڈی دینے کے لیے 89.4ٹریلین روپے مختص کیے ہیں۔
یورومانیٹر انٹر نیشنل لکھتا ہے کہ یورپ خصوصاً برطانیہ میںرمضان کی آمد سے یو کے ٹیسکو سپر مارکیٹ ، یو ایس سپر مارکیٹ چین اور ہول فوڈ مارکیٹ جیسے بڑے اداروں نے رمضان شروع ہوتے ہی مارکیٹ میں اشیاءضرویہ کا ڈھیر لگا دیا۔ اخبار کے مطابق چونکہ رمضان میں ہر مسلمان اوسطاً 50سے70فیصد زائد اخراجات کرتے ہیں اور اشیاءضروریہ کی مانگ بڑھ جاتی ہے ۔جن میں زیادہ تر کھانے ، پینے اور کپڑے کی مصنوعات شامل ہوتی ہیں۔تاہم ان چیزوں کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا مگر طلب بڑھنے سے اس کی رسد میں بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے جس وجہ سے ان اداروں کو ماہ رمضان میں زیادہ تعداد میںاشیاءفروخت کر کے منافع بھی زیادہ ملتا ہے۔ لیکن وہ اشیاءجو تعیش میں شمار ہوتی ہیں جیسے سونے اور ہیروں کے بنے زیورات یا تحائف جنہیں عرب شیوخ خریدتے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ اضافہ 20سے30فیصد تک ہوتا ہے۔
لیکن اس کے برعکس پاکستان میں عام اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ 50فیصد سے زائد دیکھنے کو ملتا ہے جبکہ بعض اشیاءکی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ جیسے دھنیا کی گڈی جو رمضان سے پہلے 10روپے میں ملتی تھی وی یکم رمضان کو 40روپے کی ہو گئی اور پودینہ کی گڈی جو 10سے20روپے میں ملتی تھی وہ60روپے کی ہو گئی۔ اسی طرح گھی، دالوں، کھجوروں اور بیسن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو گیا ہے جبکہ سبزیوں میں ٹماٹر80 روپے، کھیرا 80 روپے، لیموں 240 روپے جبکہ مٹر 300 روپے کلو تک پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان میں رمضان میں قیمتیں بڑھنے کی ایک اور اہم وجہ یہاں کا نظام تجارت ہے۔ اس حوالے سے بیشترتاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار ی اصولوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ تجارت کے اصولوں کے مطابق کسی بھی چیز کی قیمت اس وقت بڑھتی ہے جب کسی چیز کی رسد کم ہوجائے اور طلب اتنی ہی رہے یا رسد میں کوئی کمی نہ ہو مگر طلب بڑھ جائے۔لہذا تجارت کے ان اصولوں کی روشنی میں رمضان میں چونکہ اشیاءضروریہ ( کھانے، پینے اور کپڑے وغیرہ) کی طلب بڑھ جاتی ہے لہذا اس کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہذاماہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی چونکہ اشیاءکی طلب بڑھ جاتی ہے اس وجہ سے تاجروں کی چاندی ہوجاتی ہے ۔
اگرچہ ان سب باتوں کے باوجود پھر بھی پاکستان کی جمہوری حکومتیں عوام کو مطمئین کرنے کے لیے رمضان میں پیکج کا اعلان کرتی رہتی ہیں جیسے وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورزپرقیمت کم کرنے کا اعلان کیاہے۔ لیکن ملک بھرمیں 18 کروڑ عوام کے لیے کل 6 ہزار یوٹیلیٹی اسٹورزہیں اور بیشترشہریوں کی پہنچ سے دورہیں۔ پھر وہاں غیرمعیاری اشیاء فراہم کی جاتی ہیں اور لمبی لمبی قطاریں لگتی ہیں۔ ایک چیزخریدنے کے لیے کسی دوسری چیزکی خریداری لازم کردی جاتی ہے۔ جبکہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے 4ارب روپے آٹے کی مد میں اور سندھ کی حکومت نے2.5ارب روپے سبسڈائز کیے ہیں تو کوئی ان سے پوچھیں کہ کیا رمضان میں صرف آٹا ہی کافی ہوگا۔ جبکہ اصل میں یہ رقم عوام کو سبسڈائز نہیں کی گئی ۔ کیونکہ یہ ساری رقم تو اصل فلور مل مالکان کو دے دی گئی ہے جو حکومت میں یا اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر جو رمضان بازارلگائے جاتے ہیں وہاں بھی گھٹیا قسم کی اشیاء فروخت ہوتی ہیں۔
صوبائی حکومتوں کی طرف سے کہا جاتا ہے اور شکایتی مراکز قائم کیے جاتے ہیں ، قیمتوں کی فہرست نمایاں طورپرآویزاں کیے جانے کی ہدایات جاری کی جاتی ہیں ۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جو بارہا آزمائی ہوئی ہیں۔ پرچون فروشوں کا موقف ہے کہ جب انہیں پیچھے سے کوئی شے مہنگی ملے گی تو وہ حکومت کے مقررکردہ نرخ پرکیسے بیچیں گے۔ ان کی بات میں وزن ہے اور قباحت یہ ہے کہ انتظامیہ کے چھاپے ٹھیلے والوں اورپرچون فروشوں ہی پرپڑتے ہیں۔ کبھی کارخانے دار یا مالکان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف پاکستان میں ہی مذہبی تہواروں کی آمد پر عوام کو لوٹا جاتا ہے یا دیگر مذاہب کے لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔اس سوال کا جواب یقینا نہیں میں ہے۔دی ٹائمز آف انڈیا کی 4مارچ2012کی ایک خبر کے مطابق بھارت میں 8مارچ کو ہندووں کا مذہبی تہوار ہولی منایا گیا۔ بھارت کے ہندو تاجروں اور سرمایہ داروں نے اس موقع پر عام اور غریب عوام کی شمولیت کے لیے روزمرہ اشیاءکی قیمتوں میں نمایاں کمی کی۔ اسی طرح کرسمس اور ایسٹر کے موقع پر عیسائی ملکوں میں بھی عوام کی شرکت کو یقینی منانے کے لیے اشیاءکی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں۔ بلکہ عوام کے لیے مختلف پیکج متعارف کروائے جاتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق امریکہ اور کینیڈا میں نہ صرف اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں کمی کر دی جاتی ہے بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کر دی جاتی ہے تاکہ عوام ان دنوں میں بآسانی اپنے گھروں کو پہنچ جائیں۔بارز اور نائٹ کلبوں میں متوسط لوگوں کی شمولیت کے لیے وہاں کے چارجز میں خصوصی رعایت کی جاتی ہے۔ بچوں کی اشیاءکی قیمتوں میں بھی خصوصی کمی کی جاتی ہے جبکہ بچوں سے متعلق دیگر چیزیں کمپیوٹر گیمز وغیرہ میں بھی رعایتی پیکج دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہودیوں کے ہاں بھی بہت سے مذہبی تہوار منائے جاتے ہیں مگر Purim نامی تہوار ہماری عید کی طرح کا ہوتا ہے کہ جس روز یہودی نئے کپڑے پہنتے ہیں اور گھروں پر طرح طرح کے کھانے پکائے جاتے ہیں۔اسرائیل کے قومی اخبارHaaretz کے مطابق Purim کا تہوار 7اور8مارچ کو نہ صرف اسرائیل بلکہ ان ممالک میں بھی جہاں یہودی آباد ہیںمنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس تہوار میں غریب یہودیوں کی شمولیت کے لیے وہاں کے بڑے ادارے خصوصی پیکج کا اعلان کرتے ہیں اور تہوار کی آمد سے کچھ روز پہلے سے ہی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی جاتی ہے۔
لیکن اس کے برعکس پاکستان میںرمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ہوش ربا مہنگائی کا وہ طوفان برپا ہوتا ہے جس کے سامنے غریب عوام بے بس و لاچار ہو جاتے ہیں۔ کہنے کو توپرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال ہو جاتی ہیں اور رمضان ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن عملاً بازاروں اور مارکیٹوں میں منافع خوروں کا راج ہوتا ہے جو کھلم کھلا سرکاری عملداری کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت کو خود قیمتیں کنٹرول کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور اس کے تمام اقدامات نیم دلانہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ منافع خوروں کی لابیوں کے ساتھ اس کے میل کھاتے سیاسی مفادات منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی امدادی گروپ آکسفام اور یورپی این جی او میڈ کے مطابق ماہ رمضان کے دوران دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے مسلمانوں پر شدید اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ان کے مطابق کھانے پینے کی اشیاءمہنگی ہونے کی وجہ سے لاکھوں روزے داروں کے افطار متاثر ہوئے۔آکسفام کی جانب سے کرائے گئے سروے کے دوران متعدد خاندانوں نے بتایا کہ ان کے لئے مہنگائی کی وجہ سے اس سال افطار کا اہتمام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس خوراک کے وافر ذخائر ہیں مگر کمزور معیشت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لاکھوں افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے۔یہاں رمضان سے قبل ہی بنیادی اشیائے خوراک کی قیمتیں 17 فیصد بڑھ گئی تھیں۔ یہی صورتحال یمن اور بنگلہ دیش میں بھی ہے۔
یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ رمضان المبارک منافع خوروں کے لیے رحمت اور غریب عوام کے لیے زحمت بنا دیا گیا۔ غریب اور متوسط عوام جو کل آبادی کا 80فیصد کے قریب ہیں چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ترس جاتے ہیں۔ ان کے بچے مایوسی اور احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مقامی اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق صرف دو ہفتوں کے دوران 11سے14فیصد مہنگائی میں اضافہ ہو چکا ہے اور یہ طوفان کم نہیں ہوگا بلکہ عید تک بڑھتا ہی چلا جائے گا جبکہ ناجائز منافع خوری کی مد میں اس ماہ 50سے 70ارب منافع ہونے کی توقع ہے۔

 

 

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s