سچی کہانیاں

روزہ قوت ارادی میں اضافہ کرتا ہے۔

منصور مہدی
اسلام نے انسانی فکر وعمل کی پاکیزگی اور تندرستی کےلئے جتنی بھی عبادات مقرر کی ہیں ان میں روزہ ایک بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے ۔ اور فطرت انسان کی کمزوریوں سے بخوبی آگا ہ ہے۔ چنانچہ اس نے روزے کو فرض قرار دے کر اصل میں انسانی عادتوں کے مقابلے میںانسان کی خود اعتمادی کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔
کیونکہ روزے کی سب سے پہلی ضرب انسانی عادتوں پر پڑتی ہے۔ روزے کی وجہ سے سونے جاگنے کے اوقات تبدیل ہو جاتے ہیں۔پھر دوسرے روزہ انسان کے کھانے پےنے کے معمولات بدل دیتا ہے۔ تیسرے روزہ انسان کی اور بہت سے ضروریات پر پابندی عائد کردیتا ہے۔
ضروریات پر پابندی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ ضرورتیں یا چیزیں انسانی دسترس سے باہر کردی جاتی ہے اور انسان اس مجبوری کی وجہ سے انہیں استعمال کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے ۔ بلکہ اس کے برعکس کھانے پینے کا سارا سامان اور دوسری لوازمات اور ضروریات سب کی سب سامنے ہوتی ہیں۔ لیکن روزے دار انسان ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ یعنی روزہ رکھنے کے بعد انسان اپنی سابقہ عادات اور طریقے کو ترک کر دیتا ہے ۔ انسان اپنی عادت کے سامنے ہتھیار بھی نہیں ڈالتا اور پورا ایک مہینہ اسی طرح گزارتا ہے گویا ان عادتوں کا وہ کبھی محکوم ہی نہیں تھا۔
اس طرح ہرگیارہ مہینے کے بعد ایک مہینہ انسان اپنی عادتوں کو یکسر بدل دیتا ہے۔روزے دار نیند کی زنجیروں کو توڑتا ہے۔ پیاس کے شدید مطالبے کو رد کرتا ہے۔ بھوک کی تکلیف کو نظر انداز کرتا ہے۔ نفسانی خواہشات کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتا ہے۔
پھر اگر روزے دار کو روزے کے حقیقی مقصد یعنی تقوی کا خیال ہو تو انسان ہر قسم کے منکرات سے بھی پرہیز کرتا ہے۔ جس سے انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک زندہ قوت ارادی کا مالک ہے۔ وہ اپنی عادتوں کا غلام نہیں بلکہ عادتیں انسان کی غلام ہیں۔
اس ایک ماہ کی ریاضت سے انسان اس قابل بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مضر عادتوں کو چھوڑ کر مفید اور نئی عادتیں اختیار کر سکتا ہے۔ایک نئے اخلاق و کردار کے سانچے میں ڈھل سکتا ہے۔ ان عادتوں کی تبدیلی سے انسان میں اعتماد نفس کا جو ہر پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان اس جوہر کو محفوظ کر لے تو آئندہ زندگی کے دیگر معاملات و مسائل پر غالب آ سکتا ہے۔ یعنی اس ایک ماہ کی ثابت قدمی اس کے اندر ایسے جذبات، احساسات اور محرکات بیدار کر دے گی کہ جن کی مدد سے وہ انتہائی سخت، کھٹن اور صبر آزما حالات سے بھی نمردآزما ہو سکتا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ” انسان کی قدروقیمت اور اس کی شناخت خوداس کی ہمتوں کے ذریعے کی جاسکتی ہے ۔ وہ جتنی بلند ہمتی سے کام لیتا ہے اتنا ہی بڑا اور قیمتی انسان ہوتا ہے”۔ یعنی چھوٹے،معمولی اور پست انسانوں کی ہمتیںبھی چھوٹی اور پست ہوتی ہیں۔جو نہ صرف یہ کہ بڑی ہمت والے کام نہیں کر سکتے بلکہ ان کا تذکرہ سنتے ہی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اوراپنے دل میں تنگی کا احساس کرنے لگتے ہیں۔
ایسے بہت سے کم ہمت افراد دیکھنے میں آتے ہیں کہ وہ روزہ رکھنے کی ہمت ہی نہیں کرتے ۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہمت تو کر لیتے ہیں مگر ان کا صبح میں کیا ہوا ارادہ شام کوٹوٹ جاتا ہے اور شام میں کیا ہوا ارادہ سحر میں توٹ جاتا ہے۔ جبکہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ تھوڑی سے ہمت زیادہ کر کے روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن ذرا سا حلق میں خشکی کا احساس ہوتا ہے تو انھیں یہ فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا بہانہ مل جائے کہ جس کی وجہ سے روزہ توڑا جا سکے۔
بعض ذرا زیادہ ہمت دکھاتے ہیں تو وہ اپنا روزہ تو کامل کر لیتے ہیں مگر دو چار روزے رکھنے کے بعد ان کی ہمت جواب دے جا تی ہے۔ بعض افراد سردیوں کے موسم کے روزے دیکھ کر اپنی ہمت بلند کرتے ہیں اور روزے رکھ لیتے ہیں مگر گرمیوں کا موسم دیکھ ان کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔ ایسی ہمت رکھنے والے کو ایک بلند ہمت انسان نہیں کہا جا سکتا۔ کم از کم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نظر میں یہ ایک کم ہمت انسان ہوگا کیوں کہ آپ کو گرمیوں کے روزے زیادہ عزیز تھے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s