FEATURED / سچی کہانیاں

چڑیل سے ایک ملاقات

 

منصور مہدی

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ تو کہہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی اور لوگوں کے معبود کی۔(پناہ مانگتا ہوں) وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والی کی برائی سے۔ جو لوگوں کے سینہ میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ جن ہو یا انسان۔(سورة الناس)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چڑیل سے ایک ملاقات

چڑیل سے ایک ملاقات

سخت سردیوں کے موسم کی بات ہے کہ میں ڈیوٹی سے فارغ ہو کر پریس کلب چلا گیا جہاں مجھے کافی دیر ہوگئی ۔رات کے کوئی ڈیرھ یا دو بج رہے تھے کہ میں ویسپا سکوٹر پر گھر کے لیے روانہ ہوا ۔نہر سے جناح ہسپتال کے چوک سے اکبر چوک کی طرف جا رہا تھا کہ جب شوق چوک سے تھوڑا سا پیچھے تھا تو دیکھا کہ شوق چوک میں سڑک کے کنارے ایک خاتون کھڑی تھی۔عام خواتین سے لمبے قد کی خاتون نے سر سے پاﺅں تک کالے رنگ کابرقعہ نما لبادہ سا لیا ہوا تھا جس سے اس کا صرف چہرہ اور ہاتھ نظر آ رہے تھے۔
لاہور کی سڑکوں پر رات کے وقت کسی خاتون کا کھڑا ہونا کوئی نئی بات نہیں تھی۔آپ نے بھی اکثر خواتین کو رات گئے تک بس سٹاپوں، نہر پر اور دیگر جگہوں پر کھڑے دیکھا ہوگا۔ ان میں سے بیشتر خواتین کسی گاہک کے انتظار میں کھڑی ہوتی ہیں۔ جب میں نے دو ڈھائی بجے کے قریب اسے کھڑے دیکھا تو دل میں اس خاتون کے لیے افسوس کا اظہار کیا کہ اب تک اسے کوئی گاہک نہیں ملا چنانچہ یہ اس وقت بھی کسی گاہک کی امیدمیں کھڑی ہے۔ آہستہ آہستہ میرا اور اس کا فاصلہ کم ہو رہا تھا۔ جب میں قدرے قریب پہنچا تو اس نے اپنا ہاتھ ہلا کر رکنے کا اشارہ کیا۔جب اس نے ہاتھ ہلایا تو میری نظر اس کے ہاتھ پر پڑی تو مجھے محسوس ہوا کہ جیسے یہ ہاتھ کسی عورت کا ہاتھ نہیں ہے۔ یہ مجھے ایک زرد سا ہاتھ لگا جیسے مرے ہوئے شخص کی رنگت ہوجاتی ہے۔ میں ڈر گیا۔ یکدم میرے جسم میں ایک سنسنی پھیل سی پھیل گئی۔ جب فاصلہ مزید کم ہوا تو اس کے چہرے پر معمولی سی مسکراہٹ آئی۔ جب وہ مسکرائی تو اس کے ہونٹوں سے دو نوکیلے دانت صاف نظر آئے۔اوہ میرے خدایا یہ عورت نہیں بلکہ یہ تو کوئی چڑیل ہے جو عورت کے بہروپ میں کھڑی تھی۔
ایسے لوگوں کی کمی نہیں کہ جن کے ساتھ ایسے واقعات پیش نہ آئے ہوں ۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کا کوئی ایسا علاقہ نہیں کہ جہاں بھوت پریت کا ذکر نہ ہو۔بھوت پریت کے حوالے سے بہت باتیں کی جاتی ہیں۔کچھ ان کے وجود پر یقین رکھتے ہیں اور کچھ ان سے انکار کرتے ہیں ۔
پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ مشرقی لوگ ہی بھوت پریت پر یقین رکھتے ہیں مگر جب سے دنیا گلوبل ویلیج میں بدلی ہے اور دنیا بھر کے واقعات آشکار ہوئے ہیں تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مشرقی سے زیادہ مغربی لوگ بھوت پریت پر یقین رکھتے ہیں ۔ مغرب میں تو “ہالووین ڈے “کے نام سے بھوتوں اور روحوں کو خوش کرنے کا دن بھی منایا جاتا ہے۔

گورنمنٹ کالج راوی روڈ لاہور کے پروفیسر محمد امین کا کہنا ہے کہ مختلف قوموں میں بھوت پریت پر الگ الگ نظریات اور تصورات پائے جاتے ہیں۔جنات کو ایک خدائی مخلوق اوربھوت و چڑیل کو انسانوں اور حیوانوں کی بھٹکی ہوئی روحیں سمجھا جاتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ بھوتوں کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ انسانی تاریخ ۔مغربی دنیا میں بھوتوں کے عامل پیرا سائیکالوجی کے ماہر کہلاتے ہیں۔انھوں نے ایک مغربی عامل جان کاکوبا کی کتاب ’گوسٹ ہنٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت بھوتوں کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔ جس کے مطابق توانائی کو فنا نہیں کیا جاسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ روح توانائی کی ایک قسم ہے، جو برقی مقناطیسی قوت کی صورت میں جسم میں رہتی ہے۔ جسم مرجاتا ہے لیکن روح نہیں مرتی، کیونکہ وہ ایک توانائی ہے۔ جب کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح جسم مٹی کے ساتھ مل کرمٹی ہوجاتاہے، اسی طرح جسم میں موجود توانائی حرارت میں تبدیل ہوکر فضا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔پیرا سائیکالوجی کے ماہر کہتے ہیں کہ انسان کاجسمانی نظام بجلی پر کام کرتا ہے جو جسم کے اندر ہی پیدا ہوتی ہے۔ جسم کی موت کے بعد یہ برقی توانائی یا روح دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے، لیکن جو افراد مرتے وقت انتقام یا محبت کے شدید ترین جذبات کی کیفیت سے گذر رہے ہوتے ہیں، ان کی روحیں اپنے مقصد کی تکمیل تک دنیا میں ہی رک جاتی ہیں اور جو بھوت بن جاتی ہیں۔صرف انسانی روحیں ہی بھوت کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ کئی گھریلو پالتو جانور، مثلاً ایسے کتوں اور بلیوں کی روحیں بھی ان کے مرنے کے بعد بھوت بن جاتی ہیں جنہیں اپنے مالکوں سے شدید محبت ہوتی ہے یا وہ کوئی خاص انتقام لینا چاہتی ہیں۔ یہ روحیں اکثر اپنے مالکوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔

مولانا شبیہ الحسن کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کی سورةالرحمن ،سورة جن،سورة نمل،سورة سبا،سورة حجراورسورة کھفمیں اس مخلوق کا ذکر موجود ہے جو انسانوں سے پہلے سے دنیا پر موجود ہے اور جنہیں جنات کہا جاتا ہے۔ ان سورتوں کی تفسیر میںجنات کی خصوصیات کچھ یوں بیان ہوئی ہیں۔ کہ یہ وجود انسان کے برعکس آگ کے شعلوں سے خلق کیا گیا ھے جب کہ انسان مٹی سے خلق ہواہے۔ یہ علم و ادراک ، اور حق و باطل کی تشخیص کی صلاحیت رکھتا ھے اور منطق و استدلال کی قدرت رکھتا ھے۔ فرائض اور ذمہ داری رکھتا ھے۔ جزا اور سزا اور حساب و کتاب رکھتا ھے۔ ان میں ایک گروہ مو¿من اور دوسرا گروہ مشرک اورکافر ھے۔ ان میں آسمانوں تک پہنچنے کی طاقت اور غیبی خبروں کو سننے کی صلاحیت تھی مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بعد روک دی گئی۔ ان میں بعض ایسے پائے جاتے ہیں کہ جن کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ ان میں انسانوں کے بعض کام انجام دینے کی صلاحیت بھی ہے( ملکہ سباءکا تخت لانے کا دعویٰ)۔ مولانا شبیہ الحسن کا کہنا ہے کہ تاہم انسان کا مقام اور منزلت ان سے بلند ہے اسی لئے خدا نے ابلیس کو بھی انسان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا، جو جنات کے سرداروں میں سے تھا۔جبکہ عوام الناس میں یہ بات مشہور ہے کہ جنات انسانوں سے بہترہیں اور طاقت ور ہیں لیکن قرآنی آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان ، جنوں سے بہتر ہیں کیونکہ خداوندعالم نے جتنے بھی انبیاء اور مرسلین ہدایت کے لئے بھیجے ہیں وہ سب انسانوں میں سے تھے، اور انھیں میں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہیں، ان پر جنوں کا ایمان تھا اور آپ کی اتباع و پیروی کی ۔ انھوں نے بتایا کہ انسان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی لاکھوں کی تعداد میں مخلوقات ہیں کہ جن کا عام انسان ادراک ہی نہیں کر سکتا۔

صوفی نذیر احمد کا کہنا ہے کہ دنیا میں لاکھوں انسانوں کا یہ خیال ہے کہ جو چیزیں انسان کے حواس خمسہ سے ثابت نہ ہوں انکا کوئی وجود نہیں ہوتا۔یہی نظریہ بہت سے لوگوں کے لئے خدا کے وجود سے انکار کا سبب بھی بنا ہے۔یعنی جو نظر نہ آئے، جو سنائی نہ دے، جسے چھوا نہ جا سکے، جسے چکھا نہ جا سکے، جسے سونگھا نہ جا سکے۔ اس کا کوئی وجود نہیں۔ تو پھر انسان شاید دنیا میں کچھ بھی کرنے کے قابل نہ رہے۔ کیونکہ خیالات، نظریات، تصورات، تشبیہات وہ چیزیں ہیں جو حواس خمسہ سے ثابت نہیں کی جا سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن، دیو، بھوت، آسیب، سایہ، پری، چڑیلیہ بھی مخلوق ہیں اور مذاق نہیں ہیں۔کہا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد اچھی ارواح تو آسمان پر ‘رفیق الاعلی’ سے جا ملتی ہیں اور سنا ہے کہ قیامت تک وہیں رہتیں ہیں۔ ‘رفیق الا اعلی’ کے بارے میں سنا ہے کہ یہ پہلے آسمان یا دنیاوی آسمان کے اوپر یعنی پہلے اور دوسرے آسمان کے بیچ میں کوئی جگہ ہے۔ جبکہ گناہ گار روحیں، بد روحوں کی شکل میں آسمان سے دھتکار دی جاتی ہیں اور وہ زمین پر بھٹکتی پھرتی ہیں۔واللہ اعلم با الصواب۔ انھوں نے بتایا کہ اس مخلوق میں بھی اچھے اور برے ہوتے ہیں۔ اچھی مخلوق چاہے انسان ہوں، حیوان ہوں یا غیبی ، ان سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ یہ سب اپنی اپنی ڈائمینشنز میں کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کو پہچانتے بھی ہیں، ہمدرد بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شیطانی مخلوقات سورج ڈوبنے کے ساتھ ساتھ زور پکڑنا شروع کر دیتی ہیں۔ سورج کی روشنی میں یہ کمزور پڑجاتے ہیں۔ اسی طرح بجلی کے بلب کی روشنی بھی انکو تکلیف دیتی ہے۔ گھروں اور عمارتوں کے کونوں میں یہ سمٹ جاتے ہیں یا باتھ رومز ان کا ٹھکانا ہوتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ چین میں جو گول عمارتیں بنائی جاتی تھیں انکے پیچھے بھی یہی نظریہ تھا کہ شیطانی ارواح اس میں داخل نہیں ہو سکتیں یا اپنا ٹھکانا نہیں بنا سکتیں۔ مسجدوں میں بھی گنبد گولائی میں ہوتا ہے۔ کراچی میں ابھی بھی کہیں پرانے گھر ایسے ہیں کہ ان کے ڈرائنگ روم یا عام کمرے کی ایک دیوار یا ایک حصّہ گولائی میں ہوتا ہے اور وہ کمرہ نسبتا ٹھنڈا ہوتا ہے۔ کیوں کہ گولائی کی وجہ سے ایک تو ہوا گردش میں رہتی ہے جبکہ کونے کی وجہ سے ہوا بلاک ہو جاتی ہے۔ جس وجہ سے شیطانی چیزیں جو گرم دھوئیں یا ہوا سے بنی ہیں، کے رکنے کا موقعہ نہیں ملتا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ چیزیں عموما اکیلے شخص پر حملہ کرتی ہیں، کسی گروہ پر یا دو تین لوگوں پر نہیںاور شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے زمانے کے بزرگ کسی ویرانے میں اکیلے جانے سے منع کرتے تھے۔گھر میں یا گھر کے اندر کمروں میں دروازوں سے یا کھلی جگہوں سے داخل ہوتی ہیں، دیواروں سے نہیں، اسی لئے بزرگ دروازہ کے سامنے سونے سے یا کھلے حصّوں کے راستے میں سونے سے منع کرتے تھے، کیونکہ وہ انکی گزرگاہ ہوتی ہیں۔ بلکہ نیک مخلوق کی بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنات دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں تاہم بیشترجن آبادیوں میں رہتے ہیں مگر دوسری مخلوق انسانوں کی آبادیوں سے دوررہتے ہیں۔ یہ خود انسانوں کے علاقوں میں نہیں آتےلیکن اگر انسان ان تک پنہچ جائیں تو انکو تنگ کرتے ہیں۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر سدرا کاظمی کا کہنا ہے کہ شیطان کی دنیا میں آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ شیطان کی آمد کیوں ہوئی۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ شیطان کیوں دھتکارہ گیا۔ کیسے وہ بلندیوں سے پستیوں میں جا پہنچا۔ یہ سب ہمیں قرآن و حدیث میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے انسان جن بھوت دیو چڑیل کو دیکھنا چاہتا ہے۔ آپ آنکھیں بند کریں آپ کے ذہن میں جن دیو۔ بھوت ، چڑیل اور دیگر مافوق الفطرت مخلوقات کا تصور ابھرتا ہے۔ خوابوں میں بھی انسان کئی دفعہ جن چڑیل یا کوئی ڈراونی مخلوق دیکھ کر گھبرا جاتا ہے۔ آنکھ کھل جاتی ہے۔ اور سردیوں میں بھی انسان پسینے سے شرابور ہو جاتاہے۔ کچھ لوگ ایسے خوابوں کی فوری تعبیر چاہتے ہیں اور اِدھر ا±دھر بھٹکتے ہیں۔ بچوں کو آج سے بیس پچیس سال پہلے ایسی باتوں سے ڈرایا جاتا تھا۔ مگر اب یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ ایسے متعدد واقعات میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی بلکہ لاشعوری سوچیں ہی انسان کو نظر آتی ہیں۔دماغی کمزوری اور دیگر بیماریوں کے نتیجے میں انسان کی سوچیں اس پر حاوی ہو جاتی ہیں جسے وہ حقیقت سمجھتا ہے۔

بابا عبداللہ شاہ صاحب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کسی پر بد روح یا ہوائی چیز کا قابض ہونا درست بات نہیں۔خبیث روحیں،بھوت یا چڑیل ہےکسی وجود کا نام نہیں ہے بلکہ یہ کردار کے نام ہیں ۔مریض اگر بد عمل ہے توخود بھی خبیث ،بھوت یا چڑیل ہوسکتاہے اور علاج کرنے والا بھی خبیث وغیرہ ہوسکتاہے۔ اور اس کا علاج چند آڑی ٹیڑھی لکیروں سے نہیں بلکہ سیدھے راستے پر چلنے اور نیک اعمال بجالانے سے ہوتاہے ۔ انھوں نے بتلایا کہ کسی بھی انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح کا بھٹکتے رہنا کی بات بھی بالکل غلط ہے۔ کیونکہ تمام روحیں خدا وند عالم کے قبضہ میں ہوتی ہیں اسی لئے” قبض روح “کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے یعنی روحیں آزاد نہیں رہتیں کہ جو چاہے کرتی پھریںجب مومن کی روح بغیر اذن پروردگارنہیں آجاسکتی تو گندی روحیں کس طرح مومنین کو ستانے کے لئے آزادنہ نکل پڑیں گی؟۔کیا خدا وند عالم گندی روحوں کو یہ اجازت دے گا کہ وہ واپس دنیا میں جا کر بنی نوح انسان کو ستائیں ؟ اور گندی روحیں تو اپنے ب±رے اعمال کی سزا کاٹنے میں مصروف رہتی ہیں ،انہیں کسی کو ستانے کا ہوش کہاں ہوتا ہے؟لہٰذا یہ بھی جھوٹ ہے کہ گندی روحیں مومنین یااللہ کے دیگر بندوں کو ستاتی ہیں۔سورہ حدیدمیں ہے کہ”سارے آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے وہی زندہ کرتاہے وہی مارتا ہے اور وہی ہرچیز پر قادر ہے“۔

کالے علم کی توڑ کے ماہر عنایت شاد کا کہنا ہے کہ گندی روحیں ، موکل اور د یگر کالی شکتیوں جیسے ہنومان ،کھیترپال ،بھیرو، ناگ دیوتا ، لوناچماڑی، چڑیل، لکشمی دیوی ، کالا کلوا ، پاروتی دیوی ، کلوسادھن، پیچھل پیری ،ڈائن ،ہر بھنگ آکھپا جیسی دیگر بلائیں ان سب کا دراصل کالے علم سے تعلق ہے ۔ہمارے ملک میں اس وقت جو بھی خود کو کالے علم کا ماہر بتلاتا ہے وہ اصل ہندووں کے کالے علم کا پیروکار ہے ۔ یہ کالے علم کرنے والے ان کالی شکتیوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر ایک دوسرے کا مخالف بنا دیتے ہیں۔کالے علم کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ جادو یا کالے علم کابانی ابلیس تھا جس نے انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے اور انہیں گمراہ کرنے کا چیلنج کیا تھا اور خدا نے اس کے وسوسوں سے بچنے کی تاکید کی تھی حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں سامری جادو گر بہت مشہور تھا مگر حضرت موسی علیہ السلام کی خدائی طاقت اور ایمان کے سامنے اس کی تمام شعبدے بازیاں کام نہ کر سکیں۔وقت کے ساتھ ساتھ جیسے حق کی قوتیں کام کرتی رہیں ویسے ہی بدی کی طاقتیں بھی اپنا اثرورسوخ بڑھاتی رہیں ،حق کے ماننے والے نوری علم سے جہاں پر لو گوں کے مسائل حل کرنے میں لگے ہوئے ہیںاور قرآن کی تعلیم کے ذریعے انہیں ذہنی آسودگی دیتے ہیں وہاں پر بدی کا ساتھ دینے والے شیطانی علوم سے عوام الناس کو مختلف مصائب میں مبتلا کرتے رہتے ہیں یہ لوگ نہ صرف کالے علم کی مختلف اقسام جیسے جنتر، منتر اور تنتر سے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر گمراہ کرتے ہیں بلکہ بنی نوح انسانوں کو تنگ کرتے ہیں۔ ان کی ہی چھوڑی ہوئی شکتیاں کبھی چڑیل ، کبھی بھوت اور کبھی کوئی ہوائی چیز بن کر لوگوں کو نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاہور میں بہت سے افراد ہو نگے جو حلفاً کہے گے کہ انھوں نے ہوائی چیز دیکھی تو یقیناً وہ درست کہہ رہا ہے کیونکہ لاہور میں ایک نہیں بیسیوں ایسے افراد ہیں کہ جو کالا علم کرتے ہیں اور ان کی چھوڑی ہوئی ہوائی چیزیں لوگوں کو نظر آ جاتی ہیں۔ انھوں نے بتایا ہندو مذہب کے نزدیک بھوت پریت جیسی 80ہزار سے زائد مخلوق موجود ہے۔

مغربی ممالک میں بھوت پریت پر کتنا یقین کیا جاتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے ملتا ہے کہ امریکہ اور یورپ کا کوئی ایسا ملک نہیں کہ جہاں گھوسٹ ہنٹر موجود نہ ہوں بلکہ ہر ملک میں کئی ایسے ادارے موجود ہیں کہ جہاں بھوتوں کو پکڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔مغربی پیرا سائیکالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض انسانوں کا جسمانی برقی مقناطیسی نظام بہت توانا ہوتا ہے یا وہ مشق کے ذریعے وہ اپنی یہ قوت اتنی زیادہ بڑھا لیتے ہیں کہ دوسروں کی سوچ اور خیالات پر اثرانداز ہونے کے قابل ہوجاتے ہیں، جس کی ایک نمایاں مثال ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کے ماہرین ہیں۔ لیکن جب کسی غلطی کی وجہ سے وہ اپنی مقناطیسی لہروں کو کنٹرول نہیں کرپاتے تو وہ توانائی بھی بھوت کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔پیرا سائیکالوجی کے ان ماہرین کو اپنے نظریے پر اتنا پختہ یقین ہے کہ وہ بھوت پکڑنے کے لیے سائنسی آلات استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً قطب نما، برقی مقناطیسی لہروں کا کھوج لگانے والے میٹر، حرارت اور توانائی کی لہروں کی تصویر اتارنے والے کیمرے، اور مخصوص قسم کے سکینر وغیرہ۔بھوتوں کی تصویریں اور ویڈیوز بڑی تعداد میں یوٹیوب اور انٹرنیٹ کی کئی سائٹس پر موجود ہیں۔ لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے مخصوص مقناطیسی میدان، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بعض مقامات پر ایسے چھوٹے چھوٹے برقی دائرے بن جاتے ہیں، جو الیکٹرانک آلات پر بھوت کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔

عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب میںمدینہ اور طائف میں جنات کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ مدینہ کے نزدیک وادی جن ہے کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پر جنات کی خاصی آبادی ہے جبکہ طائف میں ابھی بھی رسول خدا پر ایمان لانے جنات اور ان کی اولاد موجود ہے۔

بہر حال ایسے واقعات کی تعداد لا تعداد ہے کہ جس کا سائنس اور پیرا سائیکالوجی بھی جواب دینے سے قاصر ہے۔۔۔۔۔۔آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s