زمرہ کے بغیر

ست سری اکال …… عظیم اللہ لازوال ہے

منصور مہدی

sikh yatri in pakistan

ست سری اکال …… عظیم اللہ لازوال ہے

سکھ مت کے بانی بابا گورونانک کے 544ویںجنم دن کی تقریبات26نومبر سے شروع ہوئیں۔ ان تقریبات میں شرکت کیلئے بھارت، ایران، افغانستان، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، اور پاکستان کے چاروں صوبوں سے ہزاروں کی تعداد میں سکھ ننکانہ صاحب میں اپنے مذہب کے بانی کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لئے پہنچے ہیں۔ آنے والے سکھ یاتریوں میں متعدد ایسے بزرگ بھی تھے، جو تقسیم برصغیر کے وقت پاکستان سے بھارت گئے تھے یا ان کے بزرگ یہاں رہتے تھے۔
سکھ مت دنیا کے نئے مذاہب میں سے ایک ہے اس کا آغاز15ویں صدی میں ہوا۔اس کے بانی بابا گورو نانک بت پرستی کے خلاف تھے اور فلسفہ وحدانیت کے قائل تھے۔ انہوں نے بلا تفریقِ قوم و مذہب، امن و محبت اوربھائی چارے کے پیغام کو عام کیا۔ بابا گورونانک اسلامی تصوف اورہندو یوگ سے متاثر تھے۔ آپ کے عقیدت مندوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب آپ کا انتقال ہوا تو ہندوﺅں اور مسلمانوں میں تنازعے نے سر اٹھایا۔ ہندو ان کی ارتھی جلانا چاہتے تھے اور مسلمان دفن کرنے پر مصر تھے۔ چنانچہ بابا کی وصیت کے مطابق ان کی آخری رسومات کو اگلے دن تک مو¿خر کر دیا گیا۔ دوسرے روز جب ہندو اور مسلمان موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ پھول تو بدستور تازہ تھے مگر جسد خاکی غائب تھا، یوں امن پسند اور محبت کے داعی نانک نے مرنے کے بعد بھی لوگوں کو کشت و خون سے بچا لیا۔
بابا گرونانک15اپریل 1469 میں ننکانہ صاحب کے ایک گاﺅں بھوئے دی تلونڈی میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام ترپٹھہ دیوی اور والد میتھا کلیان داس بیدی تھے جو علاقے کے مسلمان رئیس رائے بلر بھٹی کے پٹواری تھے۔ بابا گورو نانک کی صرف ایک چھوٹی بہن بی بی نانکی تھی۔ 7سال کی عمر میں مقامی سکول میں داخلہ لیا۔ یہ بچپن سے ہی خدا سے لگاﺅ رکھتے تھے اور ابتدائی عمر میں ہی بھجن لکھنے شروع کر دیے۔38برس کی عمر میں 20اگست1507میں نئے مذہب سکھ مت کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے اپنی زندگی میں چار طویل سفر کیے جن میں پہلا سفر مشرق میں بنگال اور آسام تک، دوسرا جنوب کی طرف تامل ناڈو تک، تیسرا شمال میں کشمیر، لداخ اور تبت تک، چوتھا اور آخری مغرب کی طرف بغداد، مکہ اور مدینہ تک۔ 19برس کی عمر میں بٹالہ شہر میں متہ سلکانی نامی لڑکی سے شادی ہوئی جس سے دو بیٹے سری چند اور لکھمی چند پیدا ہوئے۔ 22ستمبر1539کو کرتار پور میں 69برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔
سکھ مت کی ابتدائی تعلیمات میںایک خدا کو ماننا، 10 گرووں کو ماننا جو بابا گرو نانک سے باباگورو گوبند سنگھ تک ہیں،گرو گرنتھ صاحب، سکھوں کی مقدس کتاب کو ماننا،10 گرووں کی تعلیمات کو ماننا،ایک ایماندارانہ زندگی گزارنا، ظلم سے باز رہنا اور نیک لوگوں کی عزت کرنا شامل ہے۔
باباگورو نانک کے جانشین گورو انگد جو سکھ مت کے دوسرے گورو بھی ہیںنے ان کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے قدیم کلاسیکی پنجابی زبان میں گرمکھی رسم الخط کو متعارف کرایا۔ 1551 میں امرداس تیسرے گورو منتخب ہوئے ان کی وفات 1574 کے بعد چوتھے گورو رام داس نے امرتسر کی بستی آباد کی، جس کے لیے شہنشاہ اکبر نے اخراجات ادا کرنے کے لیے 500 بیگھے زمین وقف کی۔ رام داس کی وفات کے بعد 1581 میں اس کا بیٹا گوروارجن جانشین منتخب ہوا۔ اس نے امرتسر کا مشہور گوردوارہ دربار صاحب بنوایا، جس کا سنگِ بنیاد لاہور کے بزرگ صوفی میاں میر صاحب نے اپنے دستِ مبارک سے رکھا۔ گوروارجن دیو نے ہی سکھوں کی مقدس کتاب ”گوروگرنتھ” مرتب کی۔ یہ 3381 اشعار پر مشتمل ہے جو کہ ہندوﺅں کی مقدس کتاب ”رگ وید” سے تقریباً تین گنا بڑی ہے۔ اس میں بابا گورونانک، بھگت کبیر اور بابافرید کے اشعار شامل ہیں۔
سکھ مذہب کی کتاب گرنتھ صاحب میں زیادہ ترمسلمان صوفی شاعربابا فرید گنج شکر کا کلام شامل ہے کیونکہ بابا گورو نانک بابا فرید سے بہت لگاﺅ رکھتے تھے۔معروف صوفی بزرگ محمد ییحیٰ خان اس حوالے سے کہتے ہیں "کہ فرید الدین گنج شکر کے بعد برصغیر میں جس ہستی کو کلا م فرید کی عظمت کا ادراک ہوا وہ بلاشبہ بابا نانک کی بلند مرتبہ شخصیت ہے اس ادراک کی وجہ کوسمجھنے کے لئے گورونانک کی تعلیمات اور عملی زندگی کا اگر مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ا س عظیم ہستی نے گنج شکر کے جواہر پاروں کو چن چن کر اکٹھا کیا اور زمانے کی دست و بردسے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ گورو نانک جی کلام فریدکو گرو گرنتھ کا حصہ بنا ڈالا ور سکھ قوم کے لئے اس کلام کی حفاظت ایک مذہبی فریضہ بن گیا۔گورونانک نے اس کال کو محفوظ کر کے پنجاب پر بالخصوص اورانسانیت پر بلعموم بہت بڑا احسان کیا ہے گورونانک کا ایک د وسرے مذہب کے صوفی کے کلام کو اکٹھا کرنابلاشبہ ایک بڑی اور قابل تعریف ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے کلام فرید کی نگہداری اور بقا کیلئے سکھ پنتھ کے حصار کو پسند کیا اگر ایسانہ ہوتاتوگنج شکر کے ورثا شاید کلام فریدکوزمانے کی دست بردسے محفوظ نہ رکھ سکتے جیسے دیگر نوادرات کی حفاظت نہ کر سکے”۔
سکھ مذہب کی مقدس عبادت گاہیں زیادہ تر پاکستان میں ہیں۔ گوردارہ جنم استھ سن، گوردارہ پٹی صاحب، گوردارہ مال جی صاحب، گوردارہ کیارا ساحب، گوردارہ تمبو صاحب، گوردارہ گورو ہر گوبند صاحب اورگوردارہ نیہانگ سنگھ ننکانہ ساحب میں ہیں ۔ گوردوارہ سچا سودا فاروق آباد میں اور گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں ہے۔ گوردوارہ پہلی بادشاہی، گوردواری سری نانک گڑھ، جنم استھسن سری گورو امر داس، پرکاش استھاسن سری گورو رام داس جی، گوردوارہ دیوان خانہ، دھرم شالہ سری گورو رام داس جی، گوردوارہ گورو ارجن دیو جی، گوردواری بدھو دا آوا، گوردوارہ لال کھوہ، گوردوارہ دھیرہ صاحب سری گورو ارجن دیو جی، گوردوارہ پٹ شاہی چیون اندروں بھاٹی گیٹ، گوردوارہ پٹ شاہی چیون مزنگ، گوردوارہ شیکر گرھ پٹ شاہی چیونا فیروز پور روڈ، شہیدی آستھن بھائی تارو سنگھ جی، گوردوارہ شہید سنگھانین اور شہیدی آستھن بھائی مانی سنگھ لاہور میں ہیں۔ جبکہ ایمن آباد گوجرانوالہ میں بھی ایک گوردارہ ہے کہ جہاں بیساکھی کا میلہ لگتا ہے۔
تقریبات میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ایک سکھی یاتری کا کہنا ہے کہ باباگورونانک جی جےسی عظےم ہستی کبھی کبھی پیدا ہوتی ہے اِس وقت د±نےا مےں ہزاروں مذاہب ہےں، ہر مذہب امن اور محبت کا پرچار کرتا ہے، آج ہمےں ا±س مذہبی رواداری کی اشد ضرورت ہے، جِس کاپر چار باباگورونانک جی نے کےا، باباجی نے ”توحےد“ کو سچ جانا اور پھر ےہ پےغام لے کر د±نےا کی چاروں سمتوں مےں کئی طوےل سفرکئے۔ وہ تبت بھی گئے اور مکہ، مدےنہ بھی گئے۔ بغداد مےں آج بھی ا±ن کی اےک ےادگار موجود ہے، جس پر ”نانک فقےر“ لکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابا نانک کا توحےد پر اےمان کا پہلا اعلان تھا۔ ا±ن کا پنجابی ادب اور تارےخ پر بھی اےک بڑا احسان ےہ ہے کہ ا±نہوں نے تےن سال پاک پتن شرےف مےں، ٹِبہ بابا نانک مےں ڈےرا لگا کر گلی گلی، نگرنگر گ±ھوم پِھر کے بابا فرےد الدےن گنجِ شکرکے کلام کو نہ صرف اکٹھا کےا بلکہ ا±س کو گوروگرنتھ صاحب مےں ہمےشہ ہمےشہ کے لئے محفوظ بھی کر لےا۔
ایک اور سکھ یاتری کا کہنا تھا کہ بابا گورو نانک جی نے منافرت کو رد کیا اور امن و آشتی کی شمع روشن کی۔ اےک طرف بابا گورونانک جی، بابا مردانہ کو جو اےک مسلمان تھے، ساری عمر اپنے ساتھ رکھتے ہےں اور د±وسری طرف وہ بابا فرےد گنج ِشکر کا کلام اکٹھا کرتے ہےں، اِدھر سائےں مےاں مےر جی لاہور مےں بےٹھے ہےں تو گورو ارجن جی دربار صاحب کا سنگِ ب±نےاد رکھوانے کے لئے اِس مسلمان دروےش کو اپنے ساتھ امرتسر لے جاتے ہےں۔ ہندو پہاڑی راجے گورو گوبند جی کے خلاف جنگ چھےڑتے ہےں تو پےر ب±دھو شاہ اپنالشکر لے کے گورو صاحب کا ساتھ دےتے ہےں اور اِس لڑائی مےں ا±ن کے سےنکڑوں م±رےد اور دو بےٹے بھی شہےد ہو جاتے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ سِکھ اور مسلمان پنجاب کی دھرتی کے وارث ہیں، ہماری بولی مشترک ہمارے گےت مشترک پےشے مشترک وساکھی جےسے تہوار مشترک، لباس مشترک، جس طرح ہمارے پنجابی سماج مےں ہمسائے، رشتے داروں سے بڑھ کر عزےز ہوتے ہےں۔ اےک د±وسرے کا حد سے زےادہ ساتھ دےتے ہےں اور د±کھ س±کھ بانٹتے ہےں۔ ےہی کردار بھارت اور پاکستان کو بھی نبھانے کی ضرورت ہے۔ اور اےسا کردار ہی خطے مےں امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
سکھوںکو سہولتیںفراہم کرنے کےلئے گذشتہ سال محکمہ متروکہ وقف املاک نے ننکانہ صاحب میں ایک بہت بڑا نیا لنگر خانہ تعمیر کرایاجس پر اڑھائی کروڑ روپے کی لاگت آئی اب سکھوںکی رہائش کو وسعت دینے کیلئے ایک نیا رہائشی بلاک تعمیر کے مراحل میں سے گزر رہا ہے۔جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی خصوصی ہدیات پر سکھ یاتریوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے بچانے کیلئے سولر انرجی کا ایک پلانٹ تحفہ کے طور پر دیا ہے۔جو اب گوردوارہ میں 24گھنٹے بلا تعطل بجلی کی فراہمی کویقینی بنا رہا ہے۔سکھ پر بندھک کمیٹی کے ارکان سردار سورن سنگھ ، سردار شام سنگھ نے ان منصوبوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوردوارہ کی تزئین و آرائش سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور ہم حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردار شام سنگھ کا کہنا تھا کہ جیسے مسلمانوں کے لئے مکہ اور مدینہ افضل ہیں، سکھوں کے لئے ننکانہ صاحب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے ناطے تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی عوام اور حکومت کی طرف سے ملنے والے پیار ومحبت کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی رواداری کے معاملے میں وہ پاکستانیوں کے سفیر ہیں، سکھ جہاں بھی جاتے ہیں، پاکستان کی طرف سے اپنے مذہبی مقامات کی حفاظت اور انتظامات پر تعریف ہی کرتے ہیں۔
اب دنیا بھر میں سکھوں کی تعداد 2 کروڑ 30 لاکھ ہے اور اس کا 60فیصد بھارتی صوبہ پنجاب میں رہتے ہیں۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم منموہن سنگھ بھی ایک سکھ ہیں۔
۔۔۔

پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ ایک ادارہ ہے جس کا چیئرمین سردار شام سنگھ ہیں۔ یہ کمیٹی نہ صرف پاکستان میں موجود سکھوں کی عبادت گاہوں اور ان کے تاریخی و مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے بلکہ سکھ یاتریوں کے لیے انتظامات کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ ننکانہ صاحب میں بھی ایسے نجی ادارے کام کر رہے ہیں۔ جن میں بی بی نانکی ٹرسٹ اور گورو نانک جی مشن شامل ہیں۔ بی بی نانک ٹرسٹ کے چیئرمین گلاب سنگھ ہیں۔جبکہ جنرل سیکرٹری جواد ملک، فنانس سیکرٹری شہرام ملک ہیں۔ اس تنظیم کے تحت دو عددفری ڈسپنسریاں اور تین سلائی سنٹرز لاہور میں کام کر رہے ہیں۔
گورونانک جی مشن کےڈائریکٹر ڈاکٹر مہمپال سنگھ ہیں۔جبکہ جنرل سیکرٹری کلیان سنگھ، فنانس سیکرٹری گوروبچن سنگھ ہیں۔ اس تنظیم کے 15سو کے قریب ممبرز ہیں جو صحت کے حوالے کام کرتے ہیں۔ گورودواروں میں غیر ملکی سکھ یاتریوں کے بیمار ہونے کی صورت میں ان کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کر تی ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s