سچی کہانیاں

کار کو کیسے چوری سے بچایا جائے؟

منصور مہدی
car stolenآج بھوک ابھی سے لگ گئی۔حسن جعفر نے یہ سوچ کر اپنی گاڑی مین مارکیٹ گلبرگ کی طرف موڑ لی۔ گاڑی پارک کرنے کے لیے جگہ تلاش کرتے ہوئے وہ حالی روڈ پر پہنچ گیا۔ ایک خالی جگہ دیکھ کر اس نے اپنی سوزوکی مہران پارک کردی اور دروازے وغیرہ لاک کر کے قریب ہی ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے لیے چلا گیا۔
کھانا کھا کر جب وہ گاڑی کی طرف آ رہا تھا تو دور سے اسے اپنی کار نظر نہ آئی۔ چنانچہ اس نے سوچا کہ شاید اس کے سامنے کوئی بڑی گاڑی آ گئی اور وہ نظر نہیں آ رہی۔ مگر وہاں کوئی ایسی بڑی گاڑی بھی نہیں تھی۔ پھر سوچ آئی کہ شاید بہت دور کھڑی کر دی اور وہ جگہ ہی نہیں آئی۔پھر ایک جگہ کھڑے ہو کر خود سے کہنے لگا کہ” میں نے تو یہی اس کوٹھی کے گیٹ کے قریب ہی کھڑی کی تھی ۔©” وہ کہاں گئی۔ قریب ہی ایک رہڑی والے سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں تو ابھی یہاں آ یا ہوں اور یہاں کوئی گاڑی نہیں کھڑی تھی۔ چنانچہ حسن جعفر کو یقین آ گیا کہ اس کے ساتھ ہاتھ ہوگیا اور چور گاڑی چرا کر لے گئے۔ یہ خیال آتے ہی اسے وہ آدمی یاد آگیا جو اسی جگہ پر اس وقت کھڑا تھا جب اس نے گاڑی پارک کی۔ ہلکی ہلکی داڑھی، سفید شلوار قمیض میں ملبوس ایک لمبے قد اور مضبوط جسم کا آدمی۔
اس نے فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15پر فون کیا ۔ تھوڑی ہی دیر بعدپولیس پہنچ گئی۔ جس نے پورے شہر میں کار چوری کی کال چلا دی۔جبکہاسی دن تھانہ غالب مارکیٹ میں کار چوری کا مقدمہ نمبر 1271/12 زیر دفعہ 381 A ت پ درج ہوگیا۔
اس دن لاہور شہر میںصرف حسن جعفر ہی کی گاڑی چوری نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کے علاوہ کم و بیش 18دیگر افراد بھی اپنی گاڑیوں سے محروم ہو گئے تھے۔ کیونکہ لاہور میں روزانہ 19کے قریب گاڑیاں یا تو چوری ہوجاتی ہیں یا چھین لی جاتی ہیں۔ اس طرح ایک ہفتے میں اوسطاً 133اور ایک ماہ میں 570اور ایک سال میں6500سے زائد گاڑیاں چوری یا چھینی جاتی ہیں۔ جبکہ پنجاب پولیس کے مطابق جنوری 2012ءسے ستمبر 2012ءتک صرف 9ماہ میں پنجاب بھر سے 21ہزار سے زائد گاڑیاں چوری یا چھینی گئی ہیں۔اس طرح صرف نو ماہ میں پنجاب کے شہریوں سے تقریباً10ارب روپے چھین لیے گئے۔
چوروں کی قسمیں اور طریقہ واردات
گاڑی چور دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک وہ جو کسی جگہ کھڑی گاڑی کو چرا لیتے ہیں ۔ انھیں چور کہا جاتا ہے ۔جبکہ دوسرے کسی سڑک یا راستے سے گزرتی ہوئی گاڑی کو روک کر چھین لیتے ہیں۔ جنہیں رہزن یا ڈاکو کہا جاتا ہے۔ کاروں اور موٹر سائیکلوں کی چوری یا انھیں چھین لینا ملزموں کا ایک آسان ہدف ہوتاہے۔ جدید آلات سے لیس ملزم نہ صرف گاڑیوں کے ہر قسم کے لاک آسانی سے کھول لیتے ہیں، الارمنگ سسٹم کو ناکارہ کر دیتے اور ٹریکنگ سسٹم کو بھی جام کر دیتے ہیں اور آ سانی سے گاڑی چرا کرلے جاتے ہیں۔
لاک کھولنے کے لیے” ماسٹر کی” استعمال کرتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ایکسپرٹ ملزم بھی ہوتے ہیں کہ جولوہے کی ایک آڑی ترچھی تار کو بھی ماسٹر چاپی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ بڑی گاڑیاں چوری کرنے والے ملزمان” ماسٹر کی” کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن (پی ٹی اے) کی جانب سے ممنوع قرار دیے جانے والے موبائل فون جیمرزکو بھی گاڑیاں چوری کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔یہ لوگ متروک شدہ موبائل فون جیمرز کو کار میں نصب لائٹر سے جوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح جی پی ایس اور موبائل فون سگنلز کے ذریعے گاڑی کی پل پل کی خبر دینے والا ٹریکر ناکارہ ہوجاتا ہے۔ یہ جیمرز عام مارکیٹ میں 50ہزار یا اس سے کم مالیت میں بھی مل جاتا ہے۔ بعد ازاں ملزم ان گاڑیوں بڑی بڑی کوٹھیوں کے تہہ خانوں میں قائم جدید ورکشاپوں میں منتقل کر دیتے ہیں جہاں گاڑی سے ٹریکر اور دیگر آلات نکال لیے جاتے ہیں۔
جبکہ گاڑیاں چھیننے والے تمام ملزمان آتشی اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں چنانچہ مسلح ملزموں کے سامنے افراد مزاحمت نہیں کر پاتے اور وہ گاڑیاں آسانی سے چھین کر فرار ہوجاتے ہیں۔
چوری کے مقاصد
گاڑی چوروں کو گاڑی چرانے کے مقاصد کے حوالے سے مزید چارقسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ایک تو وہ قسم ہے جو گاڑیوں کو چرا کر ان کے رنگ ، نمبر وغیرہ تبدیل کر کے دوسرے شہروں میں فروخت کر دیتے ہیں۔یا پھر گاڑی کے مالک سے ہی سودا کر کے اسے واپس فروخت کر دیتے ہیں۔ گاڑی چوروں کا یہ گینگ بڑے پیمانے پر کام کرتا ہے اور عموماً بھاری مالیت کی بڑی گاڑیاں چراتا ہے۔ بیک وقت ایک گینگ میں کئی کئی افراد ہوتے ہیں۔
دوسری قسم کے ملزمان گاڑیوں کو چرا کر اپنے دیگر مقاصد میں استعمال کر تے ہیں۔ جیسے کسی بنک یا گھر میں ڈکیتی کرنی ہو تو ملزم شہر کے کسی بھی علاقے سے گاڑی چرا لیتے ہیں اور اپنا کام کرنے کے بعد اسے کسی جگہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ جبکہ اسی قسم کے ملزمان میں اب ایسے ملزم بھی شامل ہو گئے ہیں جو ان چوری شدہ گاڑیوں کو خود کش دھماکوں اور ایسی ہی بڑی تخریبی واردتوں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک سے زائد افراد مل کر واردات ڈالتے ہیں۔
تیسری قسم کے ملزموں میں شوقیہ ملزمان ہوتے ہیں جو موٹر سائیکلیں یا چھوٹی گاڑیاں چراتے ہیں اور اس پر سیر سپاٹا کر کے شہر کے کسی ویران علاقے یا دوسرے شہر یا تفریح مقامات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان ملزماں میں زیادہ تر کم عمر کے نوجوان ، طالب علم اور موٹر مکینک شامل ہوتے ہیں۔ یہ عموماً اکیلے یا دو افراد ہی کام کرتے ہیں۔
چوتھی قسم کے ملزمان میں بھی دو قسم کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔یہ نئی یا پرانی، بڑی یا چھوٹی کسی تخصیص کے بغیر ہر طرح کی گاڑیاں چراتے ہیں۔ یہ بھی کئی کئی افراد پر مشتمل گینگ ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک قسم کے لوگ گاڑیاں چرا کر چھین کر فوراً مخصوص اڈوں پر پہنچا دی جاتی ہیں کہ جہاں پر پہلے سے موجود مستریوں کا ٹولہ گاڑی کو کھول کر پرزے پرزے کر دیتا ہے اور یہ تمام پرزے بعد ازاں بلال گنج یا دیگر مارکیٹوں میں فروخت ہوجاتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کے ملزمان ان گاڑیوں کو کسی محفوظ جگہ پر پہنچا کر ان میں سے فوری اترنے والی قیمتی اشیاءجیسے گیس کٹ، گیس سلنڈر، ڈیش بورڈ، سپیڈو میٹر اور بسا اوقات سیٹیں بھی اتار لیتے ہیں اور باقی کی گاڑی کو کسی ویران جگہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ لاہور میں روزانہ اوسطاًچوری ہونے والی19گاڑیوں میں سے چار سے پانچ گاڑیاں انہی ملزموں کے ہاتھوں چوری ہوتی ہیں ۔ جو چوری کے دوسرے یا تیسرے دن کسی جگہ سے کھڑی ہوئی مل جاتی ہے۔ یہ لوگ ایک گاڑی میں سے تقریباً 50ہزار روپے تک کا سامان اتار لیتے ہیں اس طرح اگر ایک گینگ ایک دن میں چار گاڑیاں چراتا ہے تو وہ دو لاکھ روپے کی دیہاڑی لگا لیتے ہیں۔ اس طرح کی واردات میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایک تو ملزمان جلد ہی چوری شدہ گاڑیوں سے جان چھڑا لیتے ہیں اور پکڑے جانے کا احتمال ختم ہوجاتا ہے۔ جبکہ مدعی بھی خوش ہوجاتا ہے اور ملزم کو دعائیں دیتا ہے اور پولیس بھی خوش رہتی ہے۔ مدعی ایسے ملزموں کو اس لئے دعائیں دیتے ہیں کہ چلو شکر کرو کہ ابھی 40/50ہزار کا ہی نقصان ہوا ہے گاڑی تو مل گئی۔ جبکہ پولیس اس لئے خوش رہتی ہے کہ گاڑی چاہیے ڈھانچے کی صورت میں ہی ملے ، مل جانے کے بعد مدعی کا پریشر ختم ہوجاتا ہے، چنانچہ پولیس کا ملزمان تلاش کرنے کا ٹاسک بھی ختم ہوجاتا ہے اور اس طرح فائل بند کر دی جاتی ہے۔
گاڑی ملنے کے بعد کے تفکرات
تاہم ایسی گاڑیاں مل جانے کے بعد مدعی کو ایک قانون جھمیلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ حسن جعفر کا کہنا ہے کہ گاڑی چوری کے تیسرے دن اسے تھانہ چوہنگ سے ایک فون آتا ہے اور ایک پولیس ملازم ان سے گاڑی کی نشانیاں پوچھنے پر بتاتا ہے کہ آپ کی گاڑی ہمارے تھانے کی حدود میں کھڑی ہے۔ چنانچہ حسن جعفر نے دیگر افراد کی طرح پہلے چوروں کو دعائیں دیں اور پھر اسی وقت اپنے دوستوں کے تھانے پہنچ گیا۔ پولیس کی نشاندہی پر انھوں نے دیکھا کہ ایک فیکٹری کی دیوار کے ساتھ کارکھڑی ہے۔جو انہی کی تھی، حتیٰ کہ گاڑی کے کاغذات بھی تھے اور ان کا ایک بیگ بھی اسی طرح موجودتھا، تاہم گیس کٹ، سلنڈر، ڈیش بورڈ وغیرہ، سٹپنی اور جیک وغیرہ غائب تھے ۔ مگر حسن جعفر نے کاغذات اور بیگ دیکھ کر ایک بار پھر ملزموں کو دعائیں دیں کہ چلو شکر ہے کہ کاغذات ملزموں نے ضائع نہیں کیے۔
پولیس سے گاڑی واپس لینے کا طریقہ
گاڑی کو اس جگہ سے تھانہ پہنچایا گیا اور اس طرح گاڑی چوروں کے قبضے سے نکل کر پولیس کے قبضے میں چلی گئی۔ حسن جعفر کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ کہیں بچ جانے والے باقی کے پرزے کہیں یہی نہ چوری ہوجائیں مگر کیا کیا جا سکتا تھا۔ اگلے روز ایک وکیل کی خدمات حاصل کی گئیں اور علاقہ مجسٹریٹ کو گاڑی کی سپرداری کی درخواست دی۔ جس پر مجسٹریٹ تھانہ کے ایس ایچ او سے تحریری رپورٹ طلب کر لی۔ اب حسن جعفر وہ درخواست لیکر تھانے پہنچا اور پولیس سے رپورٹ لکھوائی اور پھر یہ رپورٹ لے کر دوبارہ عدالت میں گیا تو پتا چلا کہ اب وقت ختم ہو گیا ہے، اور کل آئیں۔ جب اگلے روز حسن جعفر عدالت پہنچاتو پتا چلا کہ علاقہ مسجتریٹ تو چھٹی پر ہے اور دیوٹی مجسٹریٹ کو گاڑی سپرداری پر دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگلے روز اتوار تھی اور چھٹی کا دن چنانچہ سوموار کو جب عدالت لگی اور گاڑی کی سپرداری کی درکواست پیش کی گئی تو عدالت نے گاڑی سپرداری پر دینے کے لیے 50ہزار روپے ضمانتی مچلک داخل کرنے کو کہا۔ چنانچہ پھر ایک پریشانی نے گھیر لیا تاہم ایک قریبی دوست نے اپنے مکان کی رجسٹری ساتھ لگا کر مچکے داخل کیے تب جا انھیں گاڑی ملی۔
چور اور گینگ کے بارے میں مزید معلومات
ان کار چوروں میں طالب علموں کے علاوہ کار ورکشاپوں میں کام کرنے والے لڑکے شامل ہوتے ہیں۔ جبکہ ان ملزموں کی پشت پر اثر و رسوخ رکھنے والے بڑے بڑے افراد ہوتے ہیں۔ جبکہ پولیس، ایکسائز و ٹیکسیشن کے کچھ ملازمین بھی معاونت کرتے ہیں۔ ایک شہر سے گاڑی چرا کر دوسرے شہر لیجاتے وقت پولیس ناکوں سے بچنے کے لیے اور گاڑی کے کاغذات یا نمبر تبدیل کرواتے وقت ایکسائز و ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کو حصہ دیکر کام لیا جاتا ہے۔
گاڑی چوری ہونے کے بعد کیا کیا جائے
گاڑی کی چوری کے فوری بعد پولیس ہیلپ لائن 15کو فوری فون کیا جائے۔ ایف آئی آر قریبی تھانہ میں ہر صورت میں درج کروائی جائے ۔یہ نہ ہو کہ آپ کی گاڑی کسی واردات میں استعمال ہو اور بعد میں آپ ایک نئی مصیبت میں گرفتار ہوجائیں۔ اینٹی وہیکلز لفٹنگ سٹاف کے عملے کو اطلاع دی جائے۔ ہائی وے پولیس اور موٹر وے پولیس کی ہیلپ لائن 130پر گاڑی کا نمبر درج کروایا جائے۔ پٹرول پمپ ایسوسی ایشن کو فوری طور پر اپنی گاڑی کا نمبر درج کروایا جائے۔ تاکہ وہ پٹرول بھروانے والی گاڑیوں پر نظر رکھ سکیں۔ چوری کے بعد قریبی ہسپتالوں اور دفاتر کی پارکنگ پر بھی نظر رکھی جائے ۔
گاڑی کو محفوظ رکھنے کیسے رکھا جائے
اس حوالے سے گاڑیوں کے مستریوں کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ الارمنگ سسٹم یا ٹریکنگ سسٹم یا ڈور لاک کی موجودگی میں بھی گاڑیاں چوری ہو جاتی ہیں تاہم وہ گاڑیاں کے جن کے مالکان نے سٹیئرنگ لاک یعنی سٹیئر میں چائنہ کا بڑا تالا لگوایا ہوتا ہے وہ قدرے کم چوری ہوتی ہیں۔ یہ گاڑیاں اسی وقت چوری ہوتی ہیں کہ جب چور کو گاڑی چرانے کے لیے زیادہ وقت ملے ۔ لیکن کم وقت کی صورت میں اس لاک کو کھلنا ایک تو مشکل ہوتا ہے دوسرے لاک کو توڑنے کی صورت میں سٹیئرنگ بھی ٹوٹ جاتا ہے اور گاڑی فری ہوجاتی ہے۔ اس طرح گاڑی چوری سے بچ جاتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s