متفرق

این اے 71میانوالی ون

منصور مہدی
pakistan electionتین لاکھ سے زائد ووٹرز پر مشتمل قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 71میانوالی 1ملکی سیاست میں ہمیشہ ایک اہم حلقہ انتخاب رہا ہے۔ اس برس ہونے والے انتخابات میں اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ حلقہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا آبائی حلقہ ہے۔ 2002ءکے انتخابات میں عمران خان نے یہاں سے 66733ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ یہ حلقہ پاکستان تحریک انصاف کا ایک مضبوط حلقہ رہا ہے اور اس حلقہ میں تنظیمی ڈھانچہ بھی انتہائی فعال رہا ہے۔مگر 2008ءمیں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی طرف سے بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے آزاد امیدوار نوبزادہ ملک عماد خان 83098ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ جنہوں نے بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور جو اب وفاقی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کے عہدے پر فائز ہیں۔ چنانچہ اس بائیکاٹ نے عمران خان کے اس حلقے کو کافی حد تک نقصان پہنچایا۔ اور اب کچھ عرصے سے پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اس حلقہ میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔ سیلاب زدگان کے امدادی کاموں کی نگرانی کی آڑ میں میاں شہباز شریف نے میانوالی کے10 کے قریب دورے کیے ہیں جن سے یقینا پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی اس حلقے میں پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے لاہور میں بھی اس حلقے کے حوالے سے کئی اجلاس منعقد کئے ہیں۔ ان اجلاسوں کا مدعا بھی یہ ہی تھا کہ اس حلقہ میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ تاہم ابھی اس حلقے کے بارے زیادہ وثوق کے ساتھ کسی بھی پارٹی کی جیت کے بارے میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ اس حلقہ کی تاریخ بتلاتی ہے کہ یہاں پر زیادہ اثر ورسوخ نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کے خاندان اور ان کی اعوان برادری کا ہے۔ موجودہ ایم این اے ملک عماد خان بھی نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کے پڑ پوتے ہیں۔ جنہوں پاکستان کی تاریخ میں اس حلقے سے اب تک سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس حلقے کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حلقہ این اے 71میانوالی ون 1970کے انتخابات میں جب مغربی پاکستان موجود تھا تو این ڈبلیو 44کہلاتا تھا۔ یہاں سے ملک امیر محمد خان آف کالا باغ کے بیٹے ملک مظفر خان منتخب ہوئے تھے جبکہ 1977میں یہ حلقہ این اے 60بن گیا ۔تب بھی ملک مظفر خان ہی منتخب ہوئے۔ تاہم 1988ءکے انتخابات میں پاکستان علماءاسلام کے مولانا عبدالستار خان نیازی 44847ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور آزاد امیدوار ملک مظفر خان 25043ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔ 1990ءکے انتخابات میں بھی مولانا عبدالستار خان نیازی آئی جے آئی کے ٹکٹ پر 55848ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور دوسرے نمبر پر پی ڈی اے کے ڈاکٹر شیر افگن نیازی دوسرے نمبر پر آئے۔ 1993ءکے انتخابات میں آزاد امیدوار عبید اللہ خان جنہیں اعوان برادری کی حمایت حاصل تھی 43345ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار گل حمید روکڑی 36261ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ 1997ءکے انتخابات پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد مقبول احمد خان 39147ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے عبید اللہ خان شادی خیل 36201ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔ 2002ءکے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان اور 2008ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے ملک عماد خان خامیاب ہوئے۔
اس طرح اگر دیکھا جائے تو اگر اس بار پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اس حلقے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو جاتی ہے تو ممکن ہے کہ نوابزادہ ملک عماد خان جو اس حلقے میں اس بار بھی امیدوار ہیں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بار ملک عماد خان کی بجائے ان کے بھائی ملک فواد خان انتخاب میں حصہ لیں گے۔ لیکن ان دونوں بھائیوں میں سے کسی ایک کے بھی حصہ لینے سے ان کا ووٹ بنک متاثر نہیں ہوگا۔
تاہم نواب فیملی کی عائلہ ملک نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہوئی ہے جو این اے 71سے عمران خان کی الیکشن مہم کی انچارج بھی ہے ۔ نواب خاندان کے ووٹ بنک کو متاثر کر سکتی ہیں۔ کیونکہ عائلہ ملک نے تاریخی بوہڑ بنگلہ کو پاکستان تحریک انصاف کاانتخابی دفتر بنا کر یہاں کی سیاسی فضا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ جبکہ عمران خان نے بھی دسمبر2012ءمیں اپنے حلقے میں عوامی رابطہ مہم کرکے سارے شکوک و شبہات اور سیاسی چہ میگوئیوںکا قلع قمع کردیا ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس حلقے کی عوام عمران خان کے وزیراعظم کے امیدوار ہونے کی وجہ سے عمران خان کا بھرپور ساتھ دینے کو تیار ہے ۔جس کی وجہ سے دوسری جماعتوں کو پذیرائی ملنے کا امکان کم ہے۔ کیونکہ ایک تو عمران خان کی بحیثیت کرکٹر ، سماجی کارکن اور بین الاقوامی شخصیت کے طور پر یہاں کے عوام خصوصاً نوجوان انھیں پسند کرتے ہیں تو دوسری طرف عمران خان نے پاکستان کے روایتی حکمرانوں کے بارے میں جو سوالات ا±ٹھا رہے ہیں وہ اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں ۔اور کوئی بھی حکمران ان سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین اپنے ماضی سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے اور جیسے جیسے ملک کی معاشی بدحالی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عمران خان کی شخصیت نکھر کر سامنے آ رہی ہے۔
تاہم اس حلقہ سے ابھی تک پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے کوئی واضع طور پر امیدوار سامنے نہیں آیا ہے مگر یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عبیداللہ خان شادی خیل سے رابطے رنگ لائیں گے اور وہ ہی اس بار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہونگے۔ جو 1993ءکے انتخابات میں یہاں سے کامیاب ہو چکے ہیں۔
بہرحال ابھی تک کی صورتحال میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار اور پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان ہی کے درمیان اصل مقابلہ ہوگا۔

این اے 71میانوالی 1کی کل آبادی 510911جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 307223ہے ۔ جن میں 158369مرد ووٹرز اور 148854خواتین ووٹرز ہیں۔یہ حلقہ تحصیل عیسیٰ خیل ، داﺅدخان ٹاﺅن اور تحصیل میانوالی کے قانونگو حلقے چک رالا، داﺅد خیل، روکڑی اور موسیٰ خیل کے پٹوار سرکل بوڑی خیل اور گوندی پر مشتمل ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کوشش ہے کہ اپنے سب سے بڑے حریف عمران خان کو ان کے آبائی حلقہ انتخاب میں شکست سے دوچار کیا جائے۔ جس کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنی حکمت عملی ترتیب دینے اور مختلف تجاویز اور منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔کیونکہ عمران خان ایک عرصے سے اپنے حلقہ انتخاب سے دور رہے ہیں۔ جس وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں مایوسی اور بددلی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ پاکستان مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ پھر پاکستان تحریک انصاف میں نئے چہروں کی شمولیت سے بھی پرانے کارکن بد دل ہیں۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ نئے شامل ہونے والے سیاستدان صرف پی ٹی آئی کی مقبولیت کو کیش کروانے اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ کا سہارا لے کر ایوان ہائے اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں۔کارکنوں کے بقول نئے شامل ہونے والوں میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جن کو ٹکٹ نہ ملا تو اپنے قدموں پر واپس لوٹ جائیں گے۔

میانوالی کی نئے مجوزہ صوبے بہاولپور جنوبی پنجاب میں شمولیت کے حوالے سے این اے 71میں میں بھی ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی میانوالی کی نئے صوبے میں شمولیت مخالفت کی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے بھی بیشتر کارکن مخالفت کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس حلقے کے عوام نئے صوبے کے قیام کے تو مخالف نہیں مگروہ نئے صوبے کی بجائے سینٹرل پنجاب کے ساتھ رہنے کے خواہشمند ہیں۔چنانچہ اس بار انتخابات میں سیاسی پارٹیاں جو دیگر کارڈ کھیل رہی ہیں ۔ان میں نئے صوبے کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

حلقہ 71میانوالی ون مختلف برادریوں کا علاقہ ہے۔ یہاں پر نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کی ملک اعوان فیملی بڑے اثر و رسوخ کی مالک ہے۔ ان کے علاوہ اس حلقے میں جیلانی سادات اور کاظمی سادات بھی اثر و رسوخ کا حامل ہے۔جبکہ دیگر قبائل میں قریشی، قاضی، سنبل، مشانی، خٹک، بلوچ، مغل، بھچر، مہاجرین، خوجے اور وتہ خیل شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑی اثر و رسوخ والی فیملی نیازی ہے۔یہ بنیادی طور پر پشتون ہیں جو افغانستان سے آکر آباد ہوئے۔ آج بھی کچھ نیازی قبیلے پشتو بولتے ہیں جن میں سلطان خیل اور بوری خیل سر فہرست ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی اسی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔نیازیوں میں سب سے بڑا قبیلہ عیسیٰ خیل ہے۔ جس نے تمام نیازیوں کی نمایندگی کرتے ہوئے نادر شاہ کے ساتھ مل کر جنگ کی اور نواب کا خطاب پایا تھا۔ جبکہ نیازیوں کے دیگر قبائل میںبلوخیل، سلطان خیل، بوری خیل، موسیٰ خیل، سہراب خیل، بہرام خیل،زادے خیل، خنکی خیل، پنو خیل،شہباز خیل، شیرمان خیل،عالم خیل،تاجے خیل اور روکھڑی خیل شامل ہیں۔ تاہم ان میںاب روکھڑی فیملی بھی ایک اپنا علیحدہ مقام رکھتی ہے۔

این اے 71میانوانی ون اور دیگر علاقہ معدنیات کی دولت سے مالامال ہونے کے باوجود معاشی بد حالی میں مبتلا ہے۔حالانکہموسیٰ خیل،مکڑوال،بوری خیل،اور عیسیٰ خیل کے پہاڑوں سے نکالی جا نے والی معدنیات پاکستان کی زیادہ تر صنعتوں کا پہیہ رواں رکھنے میں ممد و معان ہیں۔اس حلقہ میںخاطر خواہ انڈسٹری کے قیام کی جانب توجہ نہ دینے کی وجہ سے غربت،بیروزگاری عام ہے۔ داﺅد خیل میں آج سے تقریباً ساٹھ سال پہلے قائم کی گئی فیکٹریز اور کارخانوں میں مزید کوئی اضافہ نہ ہوا ہے۔حالانکہ صلاحیتوں، محنت،ہنر مند ی اور لیاقت کے اعتبار سے یہاں افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس حلقے میںسرکاری سطح پر چلنے والے سکولوں میں تعلیمی معیار کی ابتر صورتحال اور سرکاری ہسپتالوں میں کمیاب صحت کی سہولتوں نے عوام کو پریشان کیے ہوا ہے۔یہاں کے عوام کا کہنا ہے کہ یہاں کے سیاستدانوں ،وڈیرےاور جاگیردار عوام سے ہمدردیاں سمیٹ کر اسمبلیوں میں تو چلے جاتے ہیں مگر بعد میں یہاں کی خبر تک نہیں لیتے۔حلقہ کے بیشتر علاقوں میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ،صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے سے گلیاں گندے جوہڑوں کا نقشہ پیش کرتی ہیں۔ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے جرائم اور خود کشیوں میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں کی عوام کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی یہاں کی بہتری کے لیے کوئی قابل رشک اقدامات نہیں کیے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s