متفرق

لاہور کی بے ہنگم ٹریفک

منصور مہدی
lahore trafficلاہور میں سالانہ23 ہزار سے زائد سڑک کے حادثات ہوتے ہیں۔ جبکہ پنجاب بھر میں70ہزار کے قریب حادثات ہوتے ہیں۔ ، جن میں تقریباًاوسطاً 5000 کے قریب افراد ہلاک ہوجاتے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افرادزخمی ہوجاتے ہیں۔ ان زخمی ہونے والوں میں سے بیشتر نہ صرف اپنی ٹانگیں اور بازو تڑاوا لیتے ہیں اور یوں زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں۔
لاہور کے حوالے سے یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کا دباﺅ اور آبادی میں اضافے نے سڑکوں پر ٹریفک کے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔ لاہور شہر میں بدقسمتی سے روڈ سیفٹی کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی یہی سبب ہے کہ لاہور میں ٹریفک حاثات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے روایتی طریقے اور اصول بھی وقت کے ساتھ ساتھ نظرانداز ہو گئے ہیں۔
تقریبآ ایک کروڑ کی آبادی والے شہر لاہور میں1.5ملین مختلف نوعیت کی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 5لاکھ کے قریب کاریں اور 8لاکھ سے زائد موٹر سائیکل ہیں۔ سڑکوں پراتنی زیادہ بے ہنگم ٹریفک کی موجودگی میں اگرچہ حادثات ہونے ہی ہوتے ہیں ۔ لیکن اگر ٹریفک قوانین پر عمل کیا جائے تو نہ صرف حادثات کی شرح میں کمی آ سکتی ہے جبکہ ان حادثات کی سنگینی بھی کم ہو جائے گی۔
ٹریفک پولیس کے مطابق لاہورشہر میں ہونے والے حادثات میں متاثر ہونے زیادہ تر موٹر سائیکل سوار اور پیدل اور سائیکل پر جانے والے افراد ہوتے ہیں جبکہ ان میں سے 80فیصد پیک ٹائم، شام اور رات کے وقت ہوتے ہیں جبکہ 20 فیصد دیگر اوقات میں واقع ہوتے ہیں۔ موٹر سائیکل کے بعد کاریں زیادہ تر حادثات کا شکار ہوتی ہیں۔ لاہور میںحادثات پر بنائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر حادثات تیز رفتاری، غفلت اورٹریفک رولز کی خلاف ورزی کی بنا پر ہوتے ہیں۔ کاروں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہر میں50فیصد زائد کاریں 800سی سی کی ہلکی کاریں ہیں جو تیز رفتاری کے دوران توازن خراب ہوجانے پر حادثے کا باعث بنتی ہیں۔ جبکہ صرف 2فیصد افراد دوران ڈرائیونگ حفاظتی سیٹ بلیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔5فیصد کاروں اور موٹر سائیکلوں میں ہارن نصب ہوتے ہیں۔ 80سے زائد کاروں اور موٹر سائیکلوں میں یا تو سائیڈ مرر موجود نہیں ہوتے یا پھر ڈارئیورز کو انھیں کھولنے کی عادت نہیں۔ موٹر سائیکلوں میں سے 60فیصد اور کاروں میں 20فیصد کے سائیڈ انڈیکیٹر نہیں ہوتے یا درست طریقے سے کام نہیں کر تے۔60فیصد کاروں کے دنڈ سکرین واشر خراب اور20فیصد کے وائپر خراب ہوتے ہیں۔40فیصد کاروں کی پارکنگ لائٹ خراب جبکہ 65فیصد موٹر سائیکلوں کی ہیڈ لائٹ خراب ہوتی ہیں۔ 20فیصد سے زائد کاروں اور دیگر گاڑیوں کی سکرین پر سکریچ پڑے ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گاڑیوں میں یہ خامیاں نہ صرف حادثات کی وجوہات بنتی ہیں بلکہ یہ ڈرائیورز حضرات کی لاپروہی اور غفلت ظاہر کرتی ہیں۔
حادثات کی وجوہات میں ڈرائیورز حضرات کی استعداد بھی بہت اہم کرادار ادا کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاہور میں 0.2فیصد ڈرائیور16برس سے بھی کم عمر کے بچے ہوتے ہیں جبکہ 18سے25برس کے 15.3فیصد، 25سے30سال کے 45.3فیصد ، 30سے40سال کے 32.8فیصد اور 40سال اور اس سے زائد عمر کے ڈرائیورز کی تعداد صرف 6.5فیصد ہے۔ ایسے میں خود انادازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس شہر میں 70فیصد نوجوان ڈرائیور ہوں اس شہر کی ٹریفک میں تیزی نہ آ ئے تو پھر کیا ہو۔ ان ڈرائیورز میں سے 30فیصد کا تجربہ 5سال سے بھی کم جبکہ 40فیصد کا تجربہ10سال کا ہے۔ جبکہ 95فیصد ڈرائیور زندگی میں کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو چکے ہیں اور 70فیصد کو کبھی نہ کبھی ٹریفک رولز کی خلاف ورزی میں کم از کم ایک بار جرمانہ ہو چکا ہے۔ 30فیصد کار اور 60فیصد موٹر سائیکل سواروں کے پاس درائیورنگ لائسنس نہیں ہوتا۔ جبکہ 40فیصد سے زائد موٹر سائیکل سوار22فیصد کے قریب کار سوار ٹریفک کے اشاروں کی پابندی نہیں کرتے۔ جبکہ 30فیصد ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہیں جن میں 90فیصد کے قریب ڈرائیورز کا تعلق پولیس یا کسی اور سرکاری اداروں سے ہوتا ہے۔
حادثات کے اسباب میں سڑکوں کی حالتبہت اہم کرادر ادا کرتی ہیں۔ لاہور شہر کی صرف چند ایک سڑکیں چھوڑ کر باقی کی تمام سڑکیں بین الاقوامی اصولوں سے ہٹ کر بنائی جاتی ہیں۔بارش کے بعد سڑکوں پر پانی کھڑاہونا اور پانی کی موجودگی سے سڑکوں کا ٹوٹنا عام بات ہے۔ شہر کی بیشتر سڑکیں جن میں نہر پر انڈر پاس بھی شامل ہیں ، نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے نہروں کا منظر پیش کرتی ہیں۔ بارش کے بعد سلپری سڑک، جبکہ جگہ جگہ سے ٹوٹی سڑکیںاور ان میں گڑھے بھی حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ دیگر ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے ٹریفک کا دوسری سڑکوں پر رش اور وہاں مناسب انداز میں ٹریفک کا کنٹرول نہ کرنا بھی اسباب میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لاہو شہر میں چلنے والی 87فیصد کے قریبکاروں میںٹیپ ریکارڈر ، ریڈیویا دیگر میوزکل آلات نصب ہوتے ہیں جو ڈرائیورز کی توجہ ہٹانے کا سبب بنتے ہیں۔ بشمول موٹرسائیکل، کار اور دیگر گاڑیوں کے97فیصد ڈرائیورز کے پاس موبائل فون ہوتے ہیں جن میں سے 80فیصددوران ڈرائیونگ ہی فون سننتے ہیں۔10فیصد ڈرائیورز کی توجہ سڑکوں پر لگے ہوئے نیون سائن کی وجہ سے بھٹکتی ہے ۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ حادثات میں درج بالا تمام عوامل کسی نہ کسی انداز میں ملوث ہوتے ہیں جبکہ موٹر سائیکلوں حادثوں میں ون ویلنگ بھی اب ایک اہم عنصر ہے۔
موٹر سائیکل اور کاروں کے علاوہ دیگر ٹرانسپورٹ جن میں رکشا، ویگن، بس، ٹرک، ٹریکٹرٹرالیاں اور اب موٹر سائیکل رکشا(چن چی) شامل ہیں ۔ میں سے 60فیصد کے قریب سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔ قابل حیرت بات یہ ہے کہ ان سب کے پاس متعلقہ محکموں کے فٹ نس سرٹیفیکیٹ بھی ہوتے ہیں جو اس بات کے غمازی کرتے ہیں کہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کو کنٹرول کرنے والے اداروں کے ہی کچھ افراد غیر قانونی طور پر ان گاڑیوں کو سرتیفیکیٹ جاری کر دیتے ہیں۔ جو حادثات کی باعث بنتے ہیں۔
تاہم پنجاب کے بیشتر شہروں اور خصوصاً لاہور میں 1122ریسکیو بننے کے بعد بعد از حادثات سنگینی کی کیفیت میں کمی آئی ہے۔ 1122کی ایک رپورٹ کے مطابق 10اکتوبر2004سے9جون2012تک صرف لاہور میں 183672ٹریفک حادثوں میں زخمی کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ جبکہ پنجاب کے 36بڑے شہروں میں555333 حادثات کے دوران طبی امداد پہنچائی گئی اورزخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ سب کوتائیاں اور خلاف ورزیاں ٹریفک حادثات کی وجہ بنتی ہےں۔ جن میں نہ صرف قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ بیشتر ساری عمر کے کے لیے معذور اور اپاہج بن جاتے ہیں۔ لہذا ٹریک حادثات میں کمی اور ان کی سنگینی کم کرنے کے لیے نہ صرف متعلقہ محکموں کا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا بلکہ سڑک پر چلنے والی ہر ٹرانسپورٹ کے مالک اور ڈرائیور کو اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں ، دفاتر، فیکٹریوں اور ذرایع ابلاغ پر ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی کی مہم بھی اشد ضروری ہے۔کیونکہ ٹریفک کے حادثات کے یہ اعدادو شمار پر باشعور شخص کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s