سچی کہانیاں

معذور افراد کی تعداد میں اضافہ

منصور مہدی
disableلاہور کے علاقے ساندہ کی رہنے والی رونا لیلیٰ کی21سال پہلے جب شادی ہوئی تو اس نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ اس کی زندگی ایک معذور بچی کی دیکھ بھال میں گزر جائے گی۔ شادی کے ایک سال بعد اس کے بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام روسا رکھا۔ رونا لیلیٰ اور اس کا شوہر روسا سے بہت محبت کرتے تھے ۔ ابھی روسا تین سال کی تھی کہ اس کا والد فوت ہو گیا۔ اگرچہ تین سال کی عمر ہوتی ہی کتنی ہے۔ مگر اس نے والد کی غیر موجودگی کو بہت محسوس کیا اور چند روز بعد ہی بیمار پڑ گئی۔ اس کی بیماری بڑھتی گئی اور کسی ڈاکٹر کو سمجھ بھی نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ بچی والد کی کمی کو بہت محسوس کر رہی ہے جس کی وجہ سے وہ بیمار ہے۔ بیماری کے دو سال کے عرصے میں ہی روسا کی ٹانگیں جواب دے گئی اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئی۔ جوان سال رونا لیلیٰ پہلے ہی شوہر کے فوت ہونے پر بیوگی کی زندگی گزار رہی تھی اب اس پر اس معذور بچی کی پرورش کا بوجھ بھی پڑ گیا۔ عزیز و اقارب نے اسے دوسری شادی کا مشورہ دیا مگر اس نے دوسری شادی کروانے سے انکار کر دیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ دوسرا شوہر ویسے ہی پہلے شوہر کی اولاد کو اچھا نہیں سمجھتا اور اب تو روسا معذور ہو چکی ہے۔ لہذا اس نے روسا کی خاطر دوسری شادی سے انکار کر دیا اور اپنی ساری زندگی اسی کی پرورش میں صرف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اب روسا 18برس کی ہو چکی ہے ۔ جو نہ صرف چلنے پھرنے سے معذور ہے بلکہ بستر پر ہی اسے رفع حاجت کروائی جاتی ہے اور کپڑے وغیرہ بدلے جاتے ہیں۔ مگر رونا لیلیٰ کی ممتا کو سلام۔۔۔ ۔۔کہ کبھی اس کے ماتھے پر ایک معمولی سی بھی شکن نہیں آتی۔
رونا لیلیٰ ہی پاکستان میں اکیلی نہیں کہ جو اپنی معذور بچی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے بلکہ ایسی لاکھوں مائیں اور باپ موجود ہیں کہ جو اپنی معذور اولاد کو پال رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت معذور افراد کی تعداد 17.5 ملین کے لگ بھگ ہے ۔ 1998کی قومی مردم شماری میں پہلی بار ایسے افراد کی بھی گنتی کی گئی جن کی تعداد اس وقت 34لاکھ سے زائد) (33,79,930تھی ۔ جن میں پنجاب میں18,26,623، سندھ میں9,29,400، خیبر پختونخوا میں3,75,448، بلوچستان میں1,46,421، فاٹا میں21,705اور آزاد کشمیر میں ایسے افراد کی تعداد80,333تھی ۔
جبکہ اس وقت 18کروڑ کی آبادی میں ان معذوروں میں سب سے زیادہ 40فیصد جسمانی معذور ہیں جن میں ٹانگوں سے معذور ،ہاتھوں اور بازووں سے معذوراور جسمانی تشددکے کیسز شامل ہیں جبکہ 20.20فیصد ذہنی و بینائی سے معذور افراد10.10فیصد سماعت سے معذوری کے حامل معذور افراد ہیں۔ صوبائی سطح پر آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ معذور 3.05فیصدسندھ میں ہیں جبکہ 2.48فیصد کے ساتھ پنجاب دوسرے، 2.23فیصد کے ساتھ بلوچستان تیسرے اور 2.12فیصد کے ساتھ سرحد چوتھے نمبر پر ہے۔ ملکی سطح پر 2.8فیصد مرد اور 2.2فیصد خواتین معذور ہیں۔
وزارت سوشل ویلفیئر اور سپیشل ایجوکیشن پاکستان کے مطابق ملک میں 18سال کی عمر تک کے60لاکھ سے زائد بچے جسمانی معذور ہیں جبکہ اس عمر کے حامل 14لاکھ10ہزارنوجوان بینائی سے ، 17لاکھ 5ہزار سماعت سے محروم ہیں جبکہ14لاکھ 10ہزار ذہنی معذور اور 16لاکھکے قریب ایک سے زائد معذوری رکھتے ہیں۔
ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ 14سالوں میں پاکستان میں معذور افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔1998کی مردم شماری کے مطابق اس وقت پاکستان کی کل آبادی 145.5 ملین تھی جس میں سے 34لاکھ کے لگ بھگ افراد معذور تھے یعنی کل آبادی کا 2.54فیصد اور اب جبکہ پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق 16اکتوبر 2012کو پاکستان کی اندازاً آبادی 181.10 ملین ( 181068295 ) ہے میں سے معذور افراد کی تعداد ایک کروڑ 70لاکھ سے زائد ہے یعنی کل آباد ی کا 7فیصد سے زائد۔ چنانچہ دوسرے الفاظ میں صرف 14سالوں میں 5.46فیصد زائد آبادی معذور ہو چکی ہے۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی معذوری کے حوالے سے اقوام متحدہ کے عالمی ادرہ صحت کے مطابق نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں معذوری بچوں کی پیدائش کا سبب غربت اور زیادہ بچوں کی پیدائش ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق زیادہ تر معذور بچے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں پیدا ہوتے ہیں۔ جب کہ پیدائشی معذوری کے علاوہ معذوری کی وجوہات میں پولیو اور اسی طرح کی دیگر موذی بیماریاں، حادثات، تشدد ، جنگیں ، لڑائیاں، قدرتی آفات اور بد امنی شامل ہے۔عالمی بنک کے اعدادوشمار کے مطابق عالمی سطح پر غربت کے باعث 10سے20فیصد نوجوان ذہنی معذور ہیں جبکہ ساڑھے 4کروڑ افراد نابینا ہیں۔
پاکستان میں جاری دہشت گردی اور جنگ کی وجہ سے گذشتہ صرف تین سالوں میں سوات کے علاقے میں 10,323 افراد معذور ہوئے جنہیں حکومت نے بطور معذور رجسٹرد کیا جبکہ ہر سال روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے بھی 10ہزار سے افراد معذور ہو رہے ہیں۔
تا ہم دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی معذور بچوں کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ ایک تو ویسے غربت اور مہنگائی کی وجہ سے والدین اپنے نارمل بچوں کی بہتر انداز میں پرورش کرنے سے قاصر ہیں چہ جائیکہ معذور بچوں کی پرورش کی جائے ۔ چنانچہ بیشتر معذور بچوں کو ان کے والدین ہی ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور ان کی نگہداشت سے لاپروا ہوتے ہیں لہذا معاشرہ بھی ایسے لوگوں کو بوجھ سمجھتا ہے۔ جبکہ ایسے افراد کے وقار اور احترام کو قائم رکھنے اور اسے فروغ دینے کیلئے حکومت کی طرف سے موجودہ اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
حالانکہ ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچے بھی انہی والدین کی اولاد ہوتے ہیں ۔ مگر والدین اور معاشرے کی عدم دلچسپی،معاشی اور نفسیاتی وجوہات کے سبب ایسے بچے مزیداحساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور معاشرے کا فعال حصہ نہیں بن پاتے۔ جبکہ ان بچوں کے والدین بھی مناسب راہنمائی نہ ملنے پرخود بھی ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ شہروں میں تو چند ادارے ان بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے کام کر رہے ہیں مگر دیہاتوں میں ان بچوں کو کوئی پرسان حال نہیں۔ایسے بچوں کیلئے قائم سکول ، اداروں اور اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے جبکہ بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
ان 60لاکھ سے زائد معذور بچوں میں30فیصد ایسے بچے ہیں جو ذہنی معذور ہیں جبکہ20فیصد نابینا پن کا کا شکار ہیں، 10فیصد بہرا پن اور40فیصد بچے جسمانی معذور ی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعلیم وتربیت کے ادارے بہت کم تھے مگر اقوام متحدہ نے 1981کو جب معذور افراد کا سال قرار دیا اور 1983سے 1992کا عشرہ معذور افراد کے نام پر منایا اور بعد ازاں1993میں 3دسمبر کو خصوصی افراد کا عالمی دن قرار دیا تو پاکستان میں بھی ان کی اہمیت کا احساس بڑھنے لگا۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ خصوصی افراد کی بحالی کی کوششیں جاری و ساری رکھی جائیں تاکہ وہ بھی معاشرے میں اہم مقام پاسکیں۔وقار اور انصاف تمام لوگوں کیلئے خواہ وہ نارمل ہوں یا خصوصی افراد ، اور یہی اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی صاف طور پر تحریر ہے۔
دنیا بھر میں کسی نہ کسی معذوری میں مبتلا افراد عمر کے فرق کے ساتھ ہر جگہ موجود ہیں۔دنیا کی آبادی کا 10 فیصد کسی نہ کسی معذوری کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں۔ 13دسمبر2006کو اقوام متحدہ نے ایک اور چارٹر پاس کیا جس پر ممبر ممالک کو عمل کرنے کو کہا کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ دیگرعام انسانوں جیسے حقوق بھی معذور افراد کو دیں اور ایسے افراد کے وقار اور احترام کو قائم رکھنے اور اسے فروغ دینے کیلئے مزیداقدامات کریں۔ جبکہ ایسے بچوں کی تعلیم تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ معذور بچوں کا جنسی اور جسمانی استحصال نہ کیا جائے ، ان کا غلط استعمال نہ کیا جائے جیسے بھیک منگوانا، انھیں نظر انداز نہ کیا جائے اور ان کی معذوری کے حوالے سے ان سے تعصب نہ برتا جائے، ان کی کسی خوبی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی خدمات لی جائیں اور انھیں بھی روزگار کیلئے برابر کے حقوق دیے جائیں۔ کشور جہاں کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس میدان میں سرگرمِ عمل ہیں حکومت کو چاہئے کہ ان کے ساتھ مل کر اس عمل میں بہتری لائے اور پبلک سیکٹر میں اس شعبے کو خودمختار اور مستحکم بنانے کی جانب توجہ دے۔ حکومت اور نجی سیکٹر مل کر اس میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دے سکتے ہیں اور معاشرے کو درپیش اس بڑے چیلنج سے نبٹ سکتے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت معذور بچوں کے حوالے حکومتی اور نجی اداروں کی طرف سے جو سہولتیں ہیں وہ دو لاکھ کے قریب بچوں کو حاصل ہیں جبکہ 58لاکھ بچے ان سہولتوں سے محروم ہیں۔حالانکہ انہیں بھی زندہ رہنے کے اسباب مہیا کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا عام بچوں کو تعلیم ، کھیل اور دیگر حقوق دینا۔ خصوصی افراد ہمارے قومی وجود کا حصہ ہیں اور ان کی بحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا ئے جانے کی ضرورت ہے – ایسے ادارے قائم کئے جانے چاہئیں جہاں معذور افراد کی بحالی کے لئے تمام تر سہولتیں میسر ہوں – نجی و سرکاری سطح پر ہمارے ارد گرد برائے نام ہی ایسے ادارے ہیں جو اس کارخیر میں حصہ ڈالے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں الفارابی سپیشل ایجوکیشن سنٹر، المختوم سپیشل ایجوکیشن سنٹر، فاطمہ جناح سپیشل ایجوکیشن سنٹر، ابن سینا سپیشل ایجوکیشن سنٹر، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سپیشل ایجوکیشن سمیت12کے قریب ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ لاہور میںعزیز جہاں بیگم ٹرسٹ، انسٹیٹیوٹ آف فیزیکل ہینڈی کیپ چلڈرن، سپیشل ایجوکیشن سنٹر فار چلڈرن، سپیشل ایجوکیشن سنٹر فار مینٹلی ریٹارڈڈ چلڈرن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ، سعدیہ کیمپس ، امین مکتب ٹرسٹ ، پنجاب ٹرسٹ فار ڈس ایبل چلڈرن ، حمزہ فانڈیشن ، ادارہ بحالی معذوراں سمیت 40کے قریب ادارے موجود ہیں۔ جبکہ کامونکی، ساہیوال، اوکاڑہ، جھنگ، جہلم، سرگودہا، شیخوپورہ اور گجرات سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں ایسے ادارے قائم ہیں۔ کراچی میں سپیشل ایجوکیشن سنٹر، وکیشنل سنٹر فار سپیشل چلڈرن سمیت 20سے زائد ادارے کام کر رہے جبکہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ایسے ادارے موجود ہیں۔ بلوچستان کے شہروں خضدار، سبی اور کوئٹہ کے علاوہ خیبر پختونخوا میں سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، مردان، ایبٹ آباد، کوہاٹ اور چار سدہ میں، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی خصوصی بچوں کیلئے ایسے ادارے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو معذور افراد کی بحالی کا کام کررہے ہیں۔ ثواب کا یہ کام کرنے والے ادارے اور افراد انتہائی قابل ستائش ہیں۔
عزیز جہاں بیگم ٹرسٹ کے مطابق پاکستان میں کل معذور بچوں میں سے صر ف 8 فیصد کوسہولتیں میسر ہیں جبکہ 92فیصد بچے خاندان پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ لہذا بچوں کی تعداد کے حوالے سے یہ ادارے بہت کم ہیں۔ ابھی نہ صرف حکومت کو اس سلسلے میں مزید کام کرنا ہو گا بلکہ معاشرے کے مخیر افراد کو زیادہ سے زیادہ آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ ان بچوں کو عام بچوں کے ساتھ بٹھایا جائے اور انہی کی طرح تعلیم دی جائے تاکہ ان کی احساس محرومی دور ہو اور وہ نارمل زندگی گزارنے کی طرف راغب ہوسکیں۔ بلاشبہ ایسی مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ہم ایسے بچوں کو احساس کمتری سے نکال کر انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں اور انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے اپنے لئے تگ و دو کرنے کے قابل ہوسکیں اور معاشرے میں اپنی شناخت اور حیثیت منوانے کا چیلنج قبول کرسکیں۔
معاشرے کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معذور بچوں کو اس طرح سپورٹ کرے کہ یہ کسی پر بوجھ بننے کی بجائے معاشرے کے مفید اور فعال رکن بنیں اور اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں اور دنیا میں معاشرتی رویوں اور تبدیلیوں کو سمجھتے ہوئے اپنے لئے خود تگ و دو کے قابل ہو سکیں۔یہ بچے معاشرے میں ایک بڑا ہی فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ان میں سے بعض بچے بڑے ہی باکمال ہوتے ہیں۔ ان کو مجنون، مجذوب اور معذور سمجھ کر انھیں دھتکارنا اور ان سے تعصب برتنا بری بات ہے۔ وگرنہ یہ نہ ہو ایک دن پاکستان معذوروں کا ملک بن جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s