متفرق

والدین نے خاندان کی عزت کو برباد کرنے کے جرم میں قتل کیا تھا

9سال کی تفتیش اور تحقیق کے بعد شفیلیہ کے قتل کا سراغ مل گیا

منصور مہدی
shafila ahmed1پنجاب کے ایک دوردراز گاﺅں کا 18سالہ میٹرک پاس لمبی مونچھوں کے ساتھ شیو کرنے والا افتخار احمد 1978میں جب برطانیہ پہنچا تو چیشائر کے علاقے وارنگٹن میں بطور ٹیکسی ڈرائیور ایک نئی زندگی کا آغاز کیا ۔مگر مغربی حسن کو دیکھ کر خود پر قابو نہ پا سکا اور وہاں کی رنگینیوں میں کھو گیا۔ جلد ہی بار اور نائٹ کلبوں میں ” Bazza” کے نام سے پہنچانا جانے لگا۔
دوسری طرف اس کا ویزا ختم ہونے کے قریب تھا تو 1980میں اپنی عمر سے بڑی ایک ڈینشخاتون Vivi Lone Anderson سے شادی کر لی۔ ایک ہی سال بعد ان کے بیٹا پیدا ہوا ۔ افتخار نے اس کا نام ٹونی رکھ دیا۔ شادی کے بعد بھی افتخار کی رنگینیاں مدھم نہ ہوئیں بلکہ ان میں شدت آنے لگی۔ جینز پہن کر ڈسکو جانا اور ولائتی لڑکیوں سے دوستی کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن گیا۔
1984کے آخر کی بات ہے کہ افتخار کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور افتخار کوپاکستان آنا پڑا۔ پاکستان میں قیام کے دوران ہی اس نے اپنی 23سالہ کزن فرزانہ سے شادی کر لی۔ برطانیہ واپس پہنچ کر اس نے اپنی ڈینش بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی اور فرزانہ کو برطانیہ میں بلا لیا۔
فرزانہ سے اس کے چار بچے پیدا ہوئے جن میں تین لڑکیا ں اور ایک لڑکا ہے۔ جب افتخار کی بیٹیاں جوان ہونا شروع ہوئیں تو تب اسے احساس ہوا کہ جس مغربی مادر پدر آزاد معاشرے میں وہ کھویا رہا اب اسی میں اس کے بچے بھی جوان ہو رہے تھے۔
جب بڑی بیٹی شفیلہ 10برس کی ہوئی تو اس پر افتخار نے سختی کرنا شروع کر دی اور بات بے بات پر شکوک و شبہات ظاہر کرنے کے علاوہ مغربی لباس پہننے پر پابندیا ں لگانی شروع کر دی۔ شفیلیہ شروع سے ہی ایک ذہین طالبہ تھی جو وکیل بننا چاہتی تھی اور شاعری بھی کرتی تھی نے اپنے والد افتخار احمد کو کئی بار بتلایا کہ وہ ایک سمجھدار لڑکی ہے اور کبھی بھی غلط سوسائٹی میں نہیں بیٹھے گی مگر افتخار احمد نے ایک بار بھی اس کی بات نہیں سنی۔ چنانچہ شفیلہ میں والدین سے بغاوت پیدا ہو گئی اور اس نے والدین کی پابندیوں کو ماننے سے انکار کردیا۔ بار اور نائٹ کلبوں میں ” Bazza” کے نام سے شہرت رکھنے والا افتخار اب اپنے بچوں کی بغاوت کو خاندان کی بے عزتی ست تعبیر کرنے لگا۔ کئی بار اس کے بچوں نے اپنے سکول ٹیچر اور پولیس کو والدین کی زیادتی اور تشدد سے آگاہ کیا ۔ پولیس کی طرف سے کئی بار افتخار اور اس کی بیوی فرزانہ کو تھانے بلایا گیا مگر ہر بار آئندہ زیادتی نہ کرنے کا وعہدہ اور بچوں کی طرف سے صفائی پیش کرنے پر جان چھوٹتی۔
والدین اور بچوں میں یہ تنازعہ بڑھتا چلا گیا اور جب شفیلیہ 15 سال کی ہوئی تو افتخار احمد نے پاکستان میں اپنے ایک بڑی عمر کے رشتہ دار سے اسکی شادی کی کوششیں شروع کر دی جو شفیلیہ کو منظور نہ تھی۔مگر 2002ءمیں افتخار اور فرزانہ بہانے سے اپنے بچوں کو پاکستان دکھانے کے بہانے لے آئے اور شفیلیہ کی زبردستی شادی کرنا چاہی تو شفیلیہ نے بلیچ پاروڈر پی کر خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ بلیچ پاﺅڈر پینے کے بعد شادی تو رک مگر شفیلیہ ہسپتال پہنچ گئی ۔ ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں سے شفیلیہ کی جان تو بچ گئی مگر ابھی مکمل طور پر تندرست نہ ہو سکی تھی کہ ان کے سکول کی چھٹیاں ختم ہوگئی اور افتخار انھیں لیکر واپس برطانیہ چلا گیا۔ جہاں آکر چند دن بعد ہی جب وہ سکول میں تھی تو اس کی طبیعت خراب ہو گئی اور شفیلیہ کو ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ دو ماہ مزید ہسپتال میں رہنے کے بعد شفیلیہ جب تندرست ہوئی تو اس کے والد اور والدہ نے اس کے سکول جانے پر پابندی لگا دی۔
شفیلیہ سکول میں مغربی لباس پہنا کرتی تھی لیکن جیسے ہی اس کے والدین اس کو لینے آتے تو کپڑے بدل لیتی۔ آخری سالوں میں شفیلیہ کے مراسم کچھ لڑکوں سے بھی ہوگئے تھے جس کی وجہ سے افتخار نے اس کو جبری گھر بیٹھانے کی کوشش کی۔نومبر2002ءکے بعد شفیلیہ نے کئی مرتبہ اپنے دوستوں اور ٹیچرز گھر تشدد ہونے کی بابت بتلایا۔
11ستمبر 2003کو جب شفیلہ نے ایک بار پھر سکول نہ جانے کی اجازت دینے پر پولیس کو شکایت لگانے کی دھمکی دی تو افتخار بے قابو ہو گیا۔ اس نے اپنی بیٹی پر خوب تشدد کیا۔ فرزانہ نے بھی تشدد کیا۔ اب دونوں میاں بیوی باپ اور ماں کے جذبے کو بھلا کر جنونی ہوگئے اور اپنے باقی کے بچوں کی موجودگی میں شفیلہ کو صوفے پر گرا لیا ۔ قریب ہی پڑے ہوئے پلاسٹک شیٹ کو پکڑ کر شفیلہ کے منہ کو لپیٹ لیا۔ شفیلہ کے چیخنے پر پلاسٹک شیٹ کو اسکے منہ میں ڈھونس دیا اور تشدد کرتے رہے جس سے 17سالہ شفیلہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔
افتخار اور فرزانہ نے اپنے بچوں کو دھمکی دی کہ اگر انھوں نے اس کا ذکر کسی اور سے کیا تو اسے بھی ایسے ہی جان سے مار دیا جائے گا۔ بچوں کو موت کا خوف دلا کر انھیں خاموش کر دیا اورشفیلہ کی لاش پلاسٹک میں لپیٹ کر ایک بیگ میں ڈھونس دی ۔
جب اندھیرا چھانے لگا تو افتخاربیگ میں بند شفیلہ کی لاش کو ٹیکسی میں رکھ کر گھر سے تقریباً 110کلو میٹر دور دریائے کینٹ کے ایک سنسان علاقے میں پھینک دی۔ اور اگلے دن یہ مشہور کر دیا کہ اس کی بیٹی اپنے کسی بوائے فرینڈ کے ساتھ بھاگ گئی۔
مگر شفیلہ کے گھر سے بھاگنے کی یہ کہانی شفیلہ کی ہم جماعت سہیلیوں اور اس کی ٹیچر کو ہضم نہ ہوئی۔جبکہ پولیس نے بھی شفیلہ کی تلاش جاری رکھی۔
ادھر شفیلہ کی لاش کا گوشت جانوروں نے کھا لیا جبکہ کچھ ہڈیاں اور دیگر باقیات تقریباً 5ماہ بعد فروری 2004میں ایک جھاڑی میں پھنسے ہوئے پولیس کو مل گئی۔ جب لاش کی باقیات کا پوسٹ مارٹم ہوا اور اسکے تجزیاتی ٹیسٹ کیے تو وہ باقیات شفیلہ کی ثابت ہوئی مگر افتخار اور فرزانہ نے جھوٹ بولتے ہوئے پولیس کے الزام کو ماننے سے انکار کردیا۔ افتخار نے بھاری معاوضہ پر کئی وکیل مقرر کیے اور پولیس سے عدالتی لڑائی شروع کر دی۔
شفیلہ کی باقیات کو مزید ایگزامینر کے لئے لندن کے لیبارٹریوں میں بھیجی گئی تو وہاں سے رپورٹ بھی افتخار کے خلاف آئی اور باقیات کو شفیلہ کی بتلایا گیا۔ پولیس کے پاس چونکہ کوئی واضع ثبوت نہیں تھے ۔ کوئی عینی شاہد نہیں تھا۔ چنانچہ پولیس نے مزید جاننے کے لیے ان کے گھر میں خفیہ آلات لگا کر کچھ سن گن لینے کی بھی کوشش کی۔ ان خفیہ آلات سے سنی جانے والی گفتگو میں فرزانہ اکثر کہتی سنی گئی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نگرانی ہو رہی ہے ۔ ان کے فون ریکارڈ کیے جار ہے ہیں۔ان کو یہ بات بھی کرتے ہوئے سنا گیا کہ وہ کس طرح قتل کے الزام سے بچ سکتے ہیں اور وہ کس طرح میڈیا کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
چنانچہ 4سال کی سخت تفتیش و تحقیق کے بعد پولیس کو2008کے آخر میں یقین ہو گیا کہ شفیلیہ کو قتل کیا گیا۔
ادھر شفیلہ کے بہن بھائی جن کے سامنے ان کے والد اور والدہ نے بڑی بہن کو جان سے مار دیا تھا ایک خوفناک کرب میں مبتلا تھے۔ شفیلہ سے دو سالہ چھوٹی بہن علیشہ جو اب 23برس کی ہوچکی تھی ایک احساس گناہ میں مبتلا ہونے لگی ۔ اکثر بہن یاد آتی ۔ ایک دن اس نے اپنی ایک شفیلیہ کی سہیلی سیلیا کو خط لکھا جس میں بہن کو جان سے مارنے کا واقعہ کا ذکر بھی کیا ۔ آخر کار 25اگست2010کو علیشہ سے نہ رہا گیا اور اس نے پولیس کو بھی بتلا دیا کہ شفیلیہ کو اس کے والدین نے قتل کیا تھا۔ چنانچہ 7 ستمبر2011کو پولیس نے شفیلیہ کے والد افتخار احمد اور والدہ فرزانہ کو قتل کا مجرم ٹھہرا تے ہوئے گرفتار کر لیا۔
مئی 2012کو مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ شفیلہ کی بہن علیشہ نے عدالت میںبھی گواہی دی کہ کس طرح اس کے والدین نے شفیلیہ کا گلہ گھونٹ کر اس کی بہن قتل کیا۔اس نے بتلایا کہ اس کے والدین نے شفیلیہ کے منہ کے اندر پلاسٹک بیگ گھسا کر اس کے ناک اور منہ پر ھاتھ روک کر اس کا دم گھونٹ دیا تھا۔ ماں بار بار چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ ‘اسے یہی مار ڈالو’۔
عدالت میں جرم ثابت ہونے پر باون سالہ افتخار احمد اور انچاس سالہ فرزانہ احمدکو اپنی جوان سالہ بیٹی کے قتل کے جرم میں 3اگست2012کو عمر قید کی سزا سنا دی ۔ جب جیوری قتل کا فیصلہ سنا رہی تھی اس دوران افتخار ٹھنڈے سانس لیتے رہے جبکہ فرزانہ ٹشو سے اپنی آنکھیں پونچھتی رہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں ایک سوال پر بتلایا کہ 1029کے قریب پاکستانی برطانیہ کی جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں سے بیشتر غیر قانونی داخلے، جعلی ویزے، انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ، جنسی زیادتی ، اسلحہ یا منشیات کے کام میں ملوث ہونے، اپنی بیویوں اور بیٹیوں پر تشدد ، فراڈ اور قتل جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔ جبکہ 121کے قریب امریکہ میں قید ہیں۔ 41عراق اور دیگر38سے زائد شہری دیگر 33ممالک میں قید ہیں۔ افتخار احمد اور فرزانہ کے علاوہ بیس سے زائد والدین اپنے بچیوں پر تشدد اور قتل جیسے سنگین جرائم میں مبتلا ہے۔ گذشتہ برس ناروے میں 20سالہ سعدیہ کو اس نے بھائی نے اسی جرم میں قتل کر دیا تھا کہ جو جرم شفیلیہ سے سرزد ہو رہا تھا۔

والدین نے خاندان کی عزت کو برباد کرنے کے جرم میں قتل کیا تھا” پر ایک خیال

  1. ایک طرف تو آپ نے لکھا کہ
    ——————————
    شفیلہ نے اپنے والد افتخار احمد کو کئی بار بتلایا کہ وہ ایک سمجھدار لڑکی ہے اور کبھی بھی غلط سوسائٹی میں نہیں بیٹھے گی مگر افتخار احمد نے ایک بار بھی اس کی بات نہیں سنی۔ چنانچہ شفیلہ میں والدین سے بغاوت پیدا ہو گئی اور اس نے والدین کی پابندیوں کو ماننے سے انکار کردیا۔
    دوسری طرف تو آپ نے لکھا کہ
    ——————————-
    شفیلیہ سکول میں مغربی لباس پہنا کرتی تھی لیکن جیسے ہی اس کے والدین اس کو لینے آتے تو کپڑے بدل لیتی۔ آخری سالوں میں شفیلیہ کے مراسم کچھ لڑکوں سے بھی ہوگئے تھے جس کی وجہ سے افتخار نے اس کو جبری گھر بیٹھانے کی کوشش کی-
    —————————————————————
    اب کیا والدین اپنی بیٹی/ اس مسلمان لڑکی کو اپنے سامنے سیکس کرتا دیکھتے رھتے۔ والدین کیا کرتے اس کی شادی کسی مادر پدر آزاد انگریز لڑکے سے کردیتے یا ھر روز نیا بوائے فرینڈ برداشت کرتے ۔
    یہ انگریز بوائے فرینڈ مووی بناکر سیل کرتے ہین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s