زمرہ کے بغیر

ینگ ڈاکٹرز کی بھوک ہڑتال

منصور مہدی
4-Young-doctors-setupآخر کار 17فروری 2013ءکو پنجاب کے ینگ ڈاکٹروں نے 14 روز سے جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ہڑتالی ینگ ڈاکٹرز کے وفد نے وزیراعلیٰ شہبازشریف سے ماڈل ٹاﺅن میں وزیراعلیٰ کیمپ آفس میں ملاقات کی۔جس پر وزیراعلیٰ نے ترجیحی بنیادوں پر ینگ ڈاکٹروں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی چنانچہ ینگ ڈاکٹرز نے بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
ملاقات میں سینیٹر پرویز رشید ،خواجہ سلمان ، سیکریٹری صحت کیپٹن ریٹائرڈ عارف ندیم ،ڈاکٹر فیصل مسعود جبکہ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ڈاکٹر حامد بٹ اور ڈاکٹر عامر بندیشہ سمیت دس ارکان نے شرکت کی۔ ینگ ڈاکٹرز کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سے بات چیت میں تقریباً تمام معاملات طے پا گئے ہیں اور وزیراعلیٰ نے مطالبات سنجیدگی سے سنے اور مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ بعد میں وزیر اعلیٰ نے ینگ ڈاکٹرز کی مذاکراتی ٹیم کو جوس پلا کر بھوک ہڑتال ختم کرا دی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سینیٹر پرویز رشید کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پر 25 فروری کو رپورٹ پیش کرے گی۔
نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی کال پریہ تا دم مرگ بھوک ہڑتال 4فروری 2013ءکو لاہور میںشروع ہوئی تھی ۔جس میں صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ایک سو سے زائد ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ بھوک ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پنجاب میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے، غریب مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں بلا معاوضہ معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے، اور نوجوان ڈاکٹروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے یہ بھوک ہڑتال کی تھی۔
دوسری طرفپنجاب حکومت سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نون کے ایک رہنما ڈاکٹر سعید الہی کا اس بھوک ہڑتال کے حوالے سے کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز ان مطالبات کی آڑ میں دراصل اپنے ان ساتھیوں کو رہائی دلوانا چاہتے تھے کہ جنہیںچند ہفتے پہلے گوجرانوالہ میں سینئر ڈاکٹروں کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ پچھلے ایک ماہ سے جیل میں ہیں۔ڈاکٹرسعید الہی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے عدالتی ہدایات کی روشنی میں ڈاکٹروں کے تمام مطالبات مانتے ہوئے ایک معاہدہ کیا تھا۔ جس پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے۔اور اب پنجاب میں ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں تین سے چار گنا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اب ایک عام میڈیکل افسر کی تنخواہ بڑھ کر 50 سے لیکر95 ہزار روپے تک ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر سعید الہی کے بقول پنجاب میں مخالف جماعتیں ڈاکٹروں کو حکومت کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عامر بندیشہ کا کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر معاملات کو خراب کرکے اپنی ناقص کارکردگی سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ ان کے بقول حکومت نے معاہدے میں منظور کیے جانے والے باون مطالبات میں سے ابھی صرف چار مطالبات مانے ہیں۔ ان کے بقول گوجرانوالہ کے ینگ ڈاکٹروں کا اپنے سینئرز پر تشدد غلط تھا لیکن اس کے بعد ان کے ساتھ جو ظلم کیا گیا وہ بھی درست نہیں ہے۔
ینگ ڈاکٹروں کا اس بھوک ہڑتال کے بارے میں کہنا ہے کہ ان کے ساتھ پچھلے 5 سالوں سے صوبے کے وزیر اعلی نے ظلم کی انتہا کی ہو ئی ہے اور ان کو انتقام کا نشانہ بنا یا جارہا ہے۔ان کے لئے کسی قسم کی کوئی بھی پالیسی نہیں بنائی جاتی اور 5 سالوں سے ان کے جائز مطالبات کو جبر اور ریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے کو کوشش کی جا رہی ہے اور قوم کے مسیحاوں کو تشدد کانشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اول تو اس حکومت کے آغاز سے ہی صوبے میں کوئی وزیر صحت ہی نہیں بنایا گیا تھا اور تقریبا ایک سال قبل ایک ایسے شخص کو وزارت صحت کا نگران بنا یا گیا جس کا صحت و انتظامی معاملات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کی تعیناتی صرف اور صرف اس وجہ سے لائی گئی ہے کہ وہ وزیر اعلی پنجاب کاخاص آدمی ہے اور خواجہ سعد رفیق کا چھوٹا بھائی ہے۔بھلا وہ پاکستان کے پڑھے لکھے مسیحا طبقہ کے مسائل کا حل کس طرح کرسکتا ہے ؟
یاد رہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں ڈاکٹرز کے ساتھ جو سلوک اس جمہوریت میں لپٹی بد ترین آمریت کے حامل پنجاب کے حکمرانوں نے کیا ہے اس کی مثال ماضی میں پاکستان میں نہیں ملتی۔جس ملک میں ڈاکٹروں کی تنخواہ ایک ڈراہیور کی تنخواہ کے برابر ہو اس ملک یا صوبہ کی ترقی اور آگے بڑھنے کے امکانات و اہلیت کا اندازہ آسانی سے لگا یا جا سکتا ہے۔مگر حکومت نے اپنی خواہشات کے تحت اس شعبہ کی طرف کوئی توجہ نہیں اور سسٹم نہ بننے دیا۔
ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ بھو ک ہڑتال صرف اور صرف اپنے ذاتی نفع کے لئے ہرگز نہیں کی بلکہ مریضوں کو نہ ملنے والی مراعات اور ان کے نتیجے میں مریضوں کی طرف سے ڈاکٹروں سے ناروا سلوک ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں سے مفت علاج ومعالجے کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ کر لیاہے اور اب عوام جن کی حالت پہلے ہی بیروز گاری اور بدترین معاشی تنزلی کے تنا ظر میں عبرتناک ہو چکی ہے سے علاج کے لئے پیسے وصول کیے جانے لگے ہیں۔
ایسی پالیسیاں مرتب کی جا رہی کہ صحت کے معاملے سے حکومت کی جان چھوٹ جائے اور تمام شعبہ نجی ہاتھوں میں چلا جائے۔ہسپتالوں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے علاج کی سہولتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ ہسپتالوں کے پرنسپل، چیف ایگزیکٹوز اور ایم ایس حضرات اپنی نوکری پکی کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے350 چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد صرف21 ہزار کے قریب ہے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے35 ارب65 کروڑ اور60 لاکھ روپے کی بڑی رقم مختص ہونے کے باوجود لوگوں کو علاج کی سہولتیں میسر نہیں۔ لاہور کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں کالے یرقان اور بون سکین ٹیسٹ کی سہولت میسر نہیں۔ گنگارام، جناح، چلڈرن ہسپتال کی ایم آر آئی مشینیں بھی خراب ہیں جبکہ جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی میں ویڈیواینڈوسکوپی کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں۔
ان سب باتوں کے باوجود پنجاب حکومت کا مسلسل اصرار ہے کہ تمام ہسپتالوں میں مریضوں کا بہترین علاج اور مفت ادویات دی جا رہی ہیں۔ جو حقائق کے بر عکس ہے۔
12491-youngdoctors



جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s