متفرق

پاکستان میں تعلیم کا گرتا ہوا معیار

منصور مہدی
Schoolبلوچستان میں چھ سے سولہ سال کی عمر کے78 فیصد بچے سکول نہیں جاتے جبکہ بیشترسکولوں کے اساتذہ بچوں کو تعلیم نہیں دیتے۔جس سے نہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کی شرح نہایت کم ہوگئی بلکہ معیار اتنا گر گیا کہ نہ صرف سرکاری بلکہ پرائیویٹ سکولوں کے بچے اپنی قومی یا مادری زبان ہی پڑھ سکیں۔
بلوچستان میںتعلیم کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق صوبے میں سکول نہ جانے والوں میں بچوں میں سے 21 فیصد لڑکیاں اور13 فیصد لڑکے ہیں۔ سکول جانے کی عمر سے قبل کے14174 بچوں کے سروے کے دوران معلوم ہوا ان میں سے77.7 فیصد بچے پرائمری سے قبل کی تعلیم حاصل نہیں کرتے۔ گریڈ3 کے قریباً84.5 فیصد بچے نہ اردو اور نہ ہی اپنی مادری زبان کا کوئی جملہ لکھ سکتے ہیں۔ جماعت پنجم کے 64 فیصد طلبا دوسری جماعت کی کتابیں نہیں پڑھ سکتے۔
تاہم سرکاری سکولوں کی کارکردگی پرائیویٹ سکولوں کے مقابلے میں کسی حد تک بہتر رہی۔ سرکاری سکولوں کے جماعت پنجم کے36 فیصد طلبا جبکہ پرائیویٹ سکولوں کے32 فیصد طلبا دوسری جماعت کی کتاب کا متن پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جماعت پنجم کے 68.1ا، جماعت ششم کے49.5 فیصد، جماعت ہفتم کے40.9 فیصد طلبا دوسری جماعت کے انگریزی کے جملے نہیں پڑھ سکتے۔
دوسری جانب انگریزی پڑھنے میں پرائیویٹ سکولوں کی صورت حال قدرے بہتر ہے اور پرائیویٹ سکولوں کے38 فیصد طلبا انگریزی کے جملے پڑھ سکتے ہیں جبکہ سرکاری سکولوں میں یہ شرح32 فیصد ہے۔ سروے کے دوران معلوم ہوا 34 فیصد لڑکے اور 19 فیصد لڑکیاں اردو، سندھی اور پشتو کے جملے پڑھ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں بلوچستان میں صرف9.6 فیصد سرکاری ہائی سکولوں میں فعال کمپیوٹر لیب موجود ہیں تاہم نجی سکولوں میں اس کی شرح 58.3 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے جوں جوں بچے تعلیمی مدارج طے کرتے ہیں ان کے سکول جانے کی شرح کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ پہلی جماعت میں داخل ہونے والے ہر8 میں سے صرف3 بچے دسویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں تعلیم کے حوالے سے ایک اور بڑا مسئلہ وہاں کے اساتذہ کا سکول نہ جانا بھی ہے۔2012ءکی ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی سیاسی وابستگیوں کی بناء پر خود کو تمام قوانین سے بالاتر سمجھتی ہے، اور کلاسیں نہیں لیتی۔سرکاری اسکولوں کے ایسے اساتذہ بلوچستان کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اساتذہ اپنی سیاسی وابستگیوں کی بناءپر اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوئے بغیر ہی اپنی تنخواہیں باقاعدگی سے وصول کررہے ہیں۔ جبکہ اساتذہ باقاعدہ تربیت یافتہ نہیں ہیں چنانچہ وہ کلاسوں میں تعلیم دینے سے ہچکچاتے بھی ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی معیار گرنے کی اولین وجہ اساتذہ کی غیر حاضری ہے جس کی واضح مثال کیڈٹ کالج پشین کی ہے ۔جہاں پرنسپل کا اسلام آباد سے کالج چلانے اور اساتذہ کی مسلسل غیر حاضریوں کی وجہ سے درس وتدریس کا نظام مکمل تباہ ہوچکا ہے۔سکولوں کے طلباءکتابیں ہاتھ میں لئے اکثر سکولوں میں اساتذہ کے انتظار میں رہتے ہیں۔ جو ایک شرمناک اور تعلیم دشمن فعل ہے۔
تعلیم کے حوالے کچھ ایسی ہی صورتحال پورے ملک کی ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم ادارہ تعلیم و آگہی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حکومت کی طرف سے تعلیم کے شعبے میں ” ہنگامی حالت” کے نفاذ کے باوجود صورتحال بدستور خراب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے طلباءکی تعداد 75 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو دسویں جماعت میں پہنچنے سے پہلے ہی سکول چھوڑ جاتے ہیں۔
جبکہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تعلیمی زبوں حالی کی کئی جہتیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق تیسری جماعت میں زیر تعلیم81 فیصد بچے دوسری جماعت کی انگریزی کتاب کے جملے پڑھ نہیں سکتے۔ اسی طرح ریاضی کے سوالات حل نہ کر سکنے والے طلباءکی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں تعلیمی پسماندگی کے لحاظ سے صوبہ بلوچستان اور سندھ میں صورتحال زیادہ ابتر بتائی گئی ہے۔
بلوچستان کے تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں غربت اور امن و امان کے مسئلے نے تعلیم کے شعبے کو انتہائی نقصان پہنچایا ہے۔ بلوچستان کے زیادہ اضلاع میں سکول، کالج، یونیورسٹیاں بند پڑی ہیں۔ لوگ امن و امان کی وجہ سے پڑوسی اضلاع میں ہجرت کر رہے ہیں۔ جیسے خضدار سے لوگ سندھ کی طرف جا رہے ہیں اور مستونگ سے ڈھاڈر وغیرہ کی طرف جا رہے ہیں۔ اس طرح بچوں کی تعلیم پر بڑا اثر پڑا ہے۔
تعلیم کے لحاظ سے صوبہ پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا میں صورتحال قدرے بہتر ہے۔ تاہم صوبہ خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں کی وجہ سے صوبے کے تعلیمی ادارے مسلسل خطرے سے دوچار ہیں جس کا اثر براہ راست طلباءاور ان کی تعلیم پر بھی پڑتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق ملک میں تعلیم کے معیار گرنے کی ایک اہم وجہ حکومتوں کا تعلیم کے شعبے میں دلچسپی نہ لینا ہے۔ ہر دور میں حکومتوں نے تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے زبانی جمع خرچ تو کیا ہے لیکن عملی اقدامات کم ہی کیے جاتے ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ تعلیم کے بجٹ پر قومی مجموعی پیداوار کا 2 فیصد سے بھی کم خرچ کیا جاتا ہے۔ جبکہ کچھ تجزیہ کار امن و امان کی صورتحال کو قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے تعلیم ، صحت اور اقتصادی منصوبہ بندی جیسے اہم امور پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ جس کی وجہ سے مجموعی طورپر ملک میں بہتر حکمرانی قائم نہیں ہو سکی۔
ایسی تعلیمی زبوں حالی میں سپریم کورٹ نے ملک بھر کے سرکاری سکولوں میں تعلیم کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے ملک کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی سربراہی میں کمیشن قائم کر دیا ہے جو اپنے اپنے اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججوں ، ضلعی و تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے صدر و جنرل سیکرٹریز کی مدد سے 30 دن میں سرکاری سکول کا سروے کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کریں گے۔
کہ صوبوں میں کتنے سکول کام کر رہے ہیں کتنے جعلی سکول ہیں اور ان میں کتنے فنڈز کا استعمال ہو رہا ہے۔ عدالت نے کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ یہ بھی تحقیقات کی جائے کہ سکولوں کے بند کرنے یا ان پر قبضہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جا رہا۔ عدالت نے اپنے حکم میں صوبائی سیکرٹریز ایجوکیشن کوہدایت کی کہ ہے کہ وہ سکولوں کا سروے کرنے والے عدالتی افسران کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
تعلیمی ماہرین پاکستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ نصاب میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بیشتر موجودہ نصاب میں زیادہ زور نظریاتی تعلیم پر ہے ناکہ تعلیمی اہلیت پر۔ماہرین کے مطابق تعلیم ہمارے لئے زندگی و موت جیسی اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اگر ہمیں بھی ترقی کی اِس دوڑ کا حصہ بننا ہے تو ہمیں تعلیم کو ترجیح دینا ہوگا۔
اگرچہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ تعلیم بطور مراعات نہیں بلکہ اس کی حیثیت کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے یعنی ہر پاکستان کا یہ بنیادی حق ہے کہ ا±سے معیاری تعلیم کا یکساں موقع فراہم کیا جائے۔ آئین میں ترمیم کے ذریعے اور اس سے قبل بھی کئی آئینی دفعات کے تحت ریاست کے بنیادی فرائض و ذمہ داریوں میں یہ بات شامل تھی کہ وہ ہر خاص و عام کے لئے تعلیمی مواقعوں کا بندوبست کرے۔ آئین کی شق 25اے میں تحریر ہے کہ ریاست ہر خاص و عام کے لئے بنیادی تعلیم فراہم کرے گی اور پانچ سے سولہ برس تک کی عمر کے ہر فرد کے لئے تعلیمی مواقعوں کا بندوبست ریاست کی جملہ ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔ لیکن اگر اس آئینی ضرورت کے تناظر میں حکومتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آئینی ذمہ داری سے عہدہ برآءہونے کے لئے عملی طور پر اقدامات نہایت ہی واجبی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شعبہ تعلیم میں اصلاحات کا عمل سیاسی عمل دخل کے ختم ہونے اور ماہرین تعلیم کی سفارشات کے مطابق اصلاحات کے نفاذ سے ممکن ہے۔ بنیادی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے لئے مختص مالی وسائل میں اضافہ ناگزیر ہے اور اگر ہمیں اپنا پیٹ کاٹ کر بھی تعلیم پر خرچ کرنا پڑے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں، عمائدین، ذرائع ابلاغ، نجی شعبہ اور تعلیم دوست فکر و نظر رکھنے والے فروغ تعلیم کی کوششوں میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ والدین کو رغبت دلائیں کہ وہ اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں اور معاشرے کی ہر سطح پر تعلیم کی اہمیت و افادیت اجاگر کی جائے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں انتہاءپسندی اپنی تمام تر تباہ کاریوں کے ساتھ موجود ہے اور یقینی امر یہی ہے کہ فروغ تعلیم سے انتہاءپسندی سمیت جملہ منفی رجحانات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s