متفرق

ادرک کے فوائد

یونیورسٹی آف جارجیہ کے پروفیسر پیٹرک اوکونور کا کہنا ہے کہ ” پٹھوں کے درد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ادرک کا استعمال مفید ہوتا ہے“۔پروفیسر کا کہنا ہے کہ ادرک سے علاج ِکسی بھی درد کش دوائی سے بہتر ہے۔ا±نہوں نے کہاکہ ادرک کی خوراک ،ورزش کے سبب ہونے والے درد 52 فی صد کم کرتی ہے۔ کیونکہ اس میں پائے جانےوالے کیمیائی اجزاءمیں وہ صلاحیت پائی جاتی ہے جو جلن مخالف دوائیوں کی صلاحیت سے مماثلت رکھتی ہے،جیسے کہ بروفین اور ایسپرین۔
ویسے بھی ادرک زمانہ قدیم سے خوراک کو لذیذ بنانے او ر علاج کیلئے استعمال میں ہے۔ ادرک جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے خوراک کو ہضم کرنے میں مدد گار ہے۔ پیٹ کو نرم کرتا ہے او ر قبض کو رفع کرتا ہے۔ ثقیل او ربادی اشیاءسے پیدا ہونے والی تبخیر کو دور کرتا ہے۔ آنتوں سے غلیظ مادے اور گندی ہوا نکالتا ہے۔ مقوی باہ ہے۔اس کے علاوہ نزلہ، زکام ، دمہ ،بلغمی کھانسی، لقوہ، فالج وغیرہ میں بہت مفید ثابت ہوا ہے۔اگر معدہ مسلسل خرابی کی وجہ سے سست پڑ گیا ہو‘ بھوک کم او ردیر سے لگتی اور کھانا ہضم نہ ہوتا ہو تو ان سب کیلئے ادرک بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ادرک کے استعمال سے منہ او رسانس کی بدبو دور ہوتی ہے۔ اور منہ کا خراب ذائقہ ٹھیک ہوتاہے۔ مکھن کے ہمراہ ادرک کھانے سے بلغم ختم ہوجاتی ہے ادرک معدہ اور دماغ کے لئے مقوی ہے بھوک کو بڑھاتا ہے حافظہ کی خرابی کو دور کرتا ہے۔ ادرک جسم سے غلیظ رطوبتوں کو نکالتا ہے۔دمہ کے مریضوں کو اس کے استعمال سے راحت ہوتی ہے۔ ادرک پیس کر تیل میں ملا کر مالش کرنے سے پٹھوں کے درد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ادرک خون کی نالیوں پر جمی ہوئی چربی کی تہیں اتاردیتا ہے۔ یہ دل کے فعل کو مضبوط کر کے دوران خون میں سستی کی وجہ سے پیروں یا دوسرے مقامات پر جمع ہونے والے پانی کو نکال دیتا ہے۔ ادرک کھانے سے بواسیر میں کمی آتی ہے۔ ادرک چبانے سے گلا صاف ہوجاتا ہے۔ادرک کے پانی میں شہد ملا کر دن میںبار بار چٹانے سے ذیابیطس کے مرض میں فائدہ ہوتا ہے۔ ادرک کا مربہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اگر ادرک کو صحیح ضرورت اور فائدے کے لئے استعمال کیا جائے تو یقینا بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں لیکن ادرک روزانہ اور مقدار سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ادرک کے کیمیائی تجزئیے کے مطابق اس میںتیز تلخ رال ، گوند، نشاستہ ، ریشہ ، ایسٹک ایسڈ، ایسٹیٹ آف پوٹاش اور گندھک وغیرہ ہوتے ہیں ۔ معروف قدیم یونانی طبیب جالینوس ، ابن سینا اور پوموس کہتے ہیں وہ فالج اور گٹھیا (جوڑوں کا درد )کے مریضوں کا علاج ادرک سے کرتے تھے۔ ادرک پر ہونے والی حالیہ ریسرچ نے بھی اسے معدے کی خرابی ، گیس ، تنجیر، جی کا متلانا اور انتڑیوں کی سختی میں انتہائی مفید قرار دیا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ یرقان کے لئے بھی مفید ہے۔ اس مقصد کے لئے آدھا چائے کا چمچہ ادرک کا رس نکال لیں پھر اس میں اتنی ہی مقدار میں لیموں اور پودینے کا رس ملا دیں پھر ایک کھانے کا چمچہ شہد اس میں شامل کرکے دن میں تین مرتبہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہ نسخہ بد ہضمی ، اپھارہ، جی متلانا، بد مزاجی ، چڑ چڑا پن اور تھکن دور کرنے کے لئے بھی موثر ثابت ہوا ہے۔

Ginger Root

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s