خواتین

خواتین کے جوان رہنے کا نسخہ

 باتونی خواتین زیادہ خوشگوار زندگی گزارتی ہیں

منصور مہدی
Motorcycle Detailsخواتین کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ باتونی ہوتی ہیں۔ گو کہ ایسے مردوں کی بھی کمی نہیں ہے جو دوسروں کو بولنے کاموقع ہی نہیں دیتے لیکن پھر بھی ماہر نفسیات کے نزدیک خواتین اوسطاً مردوں کی نسبت تین گنا زیادہ بولتی ہیں۔ کیونکہ قدرتی طورپر عورت اور مرد کے دماغ میں فرق ہوتا ہے اور عورت کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بولنے سے ہے، زیادہ فعال ہوتے ہیں۔
برطانو ی ماہرین کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک عام عورت نیند سے بیداری کے بعد ایک تہائی یا دن میں پانچ گھنٹوں سے زیادہ وقت گپ شپ لگانے میں گزارتی ہے۔ریسرچ کا دلچسپ رخ یہ بھی ہے کہ گھریلو یا ورکنگ وومن ہر روز 298 منٹ بے مقصد گفتگو کرتی ہیںاور عموماً خواتین کی گفتگو میں دیگر لوگوں کے مسائل زیر بحث آتے ہیں جبکہ خود اپنے بارے میں ایک دن میں صرف 24 منٹ بات کرتی ہیں جو اپنے وزن ، خوراک اور لباس کے سائز وغیرہ پرہوتی ہے۔ایک تہائی خواتین لنچ اور ڈنر کے متعلق گفتگو کرتی ہیں جبکہ ایک چوتھائی باقاعدگی سے کھانوں کی ترکیبوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتی ہیں۔
اس تحقیق کے برعکس امریکہ میں سائنسدانوں نے اس عام خیال کو رد کیا ہے کہ عورتیں مردوں سے زیادہ باتونی ہوتی ہیں۔جریدہ سائنس میں شائع ہونے والی یونیورسٹی آف ایریزونا کی اس تحقیق میں شامل ہونے والے سائنسدانوں نے چار سو طلبہ کی انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو طلباءاور طالبات کے الفاظ کی تعداد میں کوئی خاص فرق سامنے نہیں آیا۔حالیہ تحقیق میں شامل خواتین کے کہے ہوئے الفاظ کی روزانہ اوسط تعداد سولہ ہزار دو سو پندرہ تھی جبکہ مردوں کے اوسط الفاظ کی تعداد پندرہ ہزار چھ سو انہتر رہی۔تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ فرق کچھ زیادہ نہیں۔
انسانی تعلقات کے ماہرین کا ان تحقیقات کے حوالے سے کہنا ہے کہ اصل میں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کوئی کتنا سوشل ہے یا کتنا اپنے آپ میں رہتا ہے۔ اس بات کا تعلق کسی کے باتونی یا غیر باتونی ہونے سے نہیں ہے۔ویسے بھی گپ شپ زندگی کا حصہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ باتونی خواتین نہ صرف زیادہ خوشگوار زندگی گزارتی ہیں بلکہ زیادہ دیر تک جوان بھی رہتی ہیں۔ کیونکہ اپنی دوستانہ اور باتونی فطرت کے سبب وہ کسی بھی طرح کے ماحول میں جلد گھل مل جاتی ہیں۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر سدرا کاظمی برطانوی تحقیق سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایک عام عورت پورے دن اوسطاً 20 ہزار الفاظ بولتی ہے جوکہ ایک عام مرد سے اوسطاً 13 ہزار الفاظ بولتا ہے۔ڈاکٹر سدرا کاظمی کہتی ہیں کہ عورتوں کے زیادہ باتونی ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو وہ مردوں کی نسبت زیادہ تیز بولتی ہیں اور دوسرے دوران گفتگو ان کا دماغ بھی زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے اور بولتے وقت مردوں کے مقابلے میں ان کے دماغ کے زیادہ خلیے کام کرتے ہیں ۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین بولتے ہوئے خود کو اچھا محسوس کرتی ہیں۔اسی لیے وہ بولتی چلی جاتی ہیں۔
ماہرنفسیات ڈاکٹر لویان بریزن ڈین خواتین کے زیادہ بولنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ خواتین کے دماغ کی ساخت مردوں کے دماغ کی ساخت سے مختلف ہے۔ قدرتی طورپر عورت اور مرد کے دماغ میں فرق ہوتا ہے اور عورت کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بولنے سے ہے۔ وہ مردوں کی نسبت زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ باتیں کرتی ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین مردوں سے زیادہ ذہین ہوتی ہیں۔ جو زیادہ ذہین ہو گا وہ بحث و مباحثہ میں زیادہ حصہ لے گا۔انھوں نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی آف لندن میں 9 ہزار 600 زیر تعلیم طالب علموں پر کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 20 سے 35 سال کے درمیان خواتین کی یاداشت اورذہنی استعداد کار اتنی بہتر اور زیادہ ہوتی ہے کہ وہ مردوں کو ہر میدان میں مات دینے کے قابل ہوتی ہیں۔ دوران تجربات 10 الفاظ پر مشتمل فقرے، تصاویر، جملے ، واقعات ، فلم سکرین پر چلنے والے مناظر اور دیگر طریقوں سے ذہانت کوچیک کیا گیا۔ خواتین ان تجربات میں ہر ٹیسٹ کے اندر 5 فیصد تک زیادہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بعض خواتین کی کارکردگی 8 فیصد تک بھی نوٹ کی گئی۔ لہذا خواتین گفتگو بھی زیادہ کرتی ہیں۔
ڈاکٹر لویان بریزن ڈینخواتین کے زیادہ بولنے کی ایک وجہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ بولنے کے دوران خواتین کے دماغ کے مخصوص حصوں میں بڑی تیزی سے کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں اور یہ تبدیلیاں ان تبدیلیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جو ہیروئن کے عادی ایک شخص کے دماغ میں اس وقت آتی ہیں جب اس پر گہرا نشہ طاری ہوتا ہے۔ تو خواتین اسی رو میں ( نشہ سی کیفیت کی رو میں) بولتی رہتی ہیں۔ پھر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ بولنے کا تعلق ان ہارمونز سے ہے جو جنس کا تعین کرتے ہیں اور جذبات اور یاداشت سے بھی متعلق ہوتے ہیں۔ یہ ہارمون پیدائش سے پہلے ہی جسم میں بن جاتے ہیں۔ چنانچہ لڑکے اور مرد، لڑکیوں اور عورتوں کی نسبت کم بولتے ہیں اور وہ اس طرح اپنے جذبات کا اظہار بھی نہیں کرپاتے جس طرح عورتیں کرسکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں اس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ لفظوں کے ذریعے جذبات کے اظہار میں عورت کا دماغ آٹھ رویہ شاہراہ کی مانند ہوتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں مرد کا دماغ دیہی علاقوں کی چھوٹی سی سڑک کی طرح ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بریزن ڈین کہتی ہیں کہ اس مخصوص ہارمون کی وجہ سے دماغ کا وہ حصہ بھی متاثر ہوتا ہے جس کا تعلق سننے سے ہے۔اس بنا پر مردوں کی قوت سماعت میں ایک خاص نوعیت کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اکثر بیویاں عام طورپر یہ شکایت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ان کا خاوند یا تو ان کی بات پر دھیان نہیں دیتا یا اسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیتا ہے جیسے کہ وہ بہراہو۔ حالانکہ مرد اکثر اوقات جان بوجھ کر ایسا نہیں کررہے ہوتے۔ اس کی وجہ ان کی دماغ کی وہ قدرتی ساخت ہے جس کا تعلق سننے کی صلاحیت سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے جب کوئی مرد بات سن ہی نہیں رہا تو وہ اس پر بات کیسے کرے گا۔
ڈاکٹر سدرا کاظمی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ بات کرتے ہیں یا نہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کیا لوگ دوسرے کی بات اچھی طرح سنتے ہیں یا نہیں۔مرد اصل میں کسی کی بات زیادہ نہیں سنتے جس وجہ سے وہ گفتگو بھی زیادہ نہیں کرتے ۔ جبکہ اس کے برعکس خواتین دوسروں کی بات زیادہ توجہ سے سنتی ہیں ۔ لہذا وہ گفتگو بھی زیادہ کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر مرد سننے لگیں تو شاید انہیں معلوم ہو کہ عورتیں ہر وقت فضول باتیں نہیں کرتیںبلکہ ہم عورتیں جو باتیں کرتی ہیں اس میں بہرحال بہت کچھ قابل توجہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر سدرا کاظمی کا کہنا ہے کہ آپس میں بات چیت اور گپ شپ انسانی زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔ افراد کا آپس میں بات چیت کرنا اور معلومات کا تبادلہ ہی دراصل انسانوں کو حیوانوں سے الگ کرتی ہے۔ گپ شپ سے انسانوں میں تعاون اور بھروسے کو فروغ ملتا ہے جس سے ایک منظم اور مربوط معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گپ شپ لگانا کارکردگی پرمثبت اثر ات بھی مرتب کرتا ہے۔ کام کے دوران ایک دوسرے سے بات کرنے سے معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے جس سے کارکردگی پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دفاترمیں کام کے دوران جو لوگ ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کرتے ان کی کارکردگی اتنی بہتر نہیں ہوتی جتنی دفاترمیں کام کے دوران گپ شپ کرنے والوں کی ہوتی ہے۔
woman

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s