خواتین

عورت ایک بکاﺅ مال

منصور مہدی

pkistani woman1اگرچہ دنیا کے ہر خطے میں اور کسی نہ کسی دور میں عورت ایک بکاﺅ مال رہی ہے۔ کبھی اسے خاندانی عزت و حشمت کا نام دیکر ذلیل کیا گیا تو کبھی علاقائی اور قومیت کی بنیاد پر بنے ہوئے نام نہاد رسم و رواج کے نام پر رسوا کیا گیا اور کبھی مذہب اور اعتقاد کے نام پر اسے قربانی کی بھینٹ چڑھایا گیا۔
اگرچہ اب کچھ ممالک کی خواتین کو کہنے کو تو انسان کا درجہ مل چکا ہے مگر بیشتر ممالک اور علاقوں میں اب بھی عورت ایک ایسی ہی جنس ہے کہ جس کی نہ صرف خرید و فروخت جائز سمجھی جاتی ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر اسے بطور مال دوسروں کے تصرف میں بھی دے دیا جاتا ہے۔
جبکہ عورت پر تشدد، مار پیٹ کو تو معمولی بات سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے ماں ، بہن، بیٹی ،بیوی یا محبوب کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ پاکستان اور خصوصاً اس کے کچھ علاقے تو اس حوالے سے اتنے مشہور ہیں اور وہاں خواتین کے حوالے سے ایسے ایسے سنگین رسم و رواج ہیں کہ جس کا کوئی مہذب معاشرہ سوچ بھی نہیں سکتا ۔ ان رسم و رواج میں ”سووَرہ“، ”وٹا سٹا“، ”ولوار“، ”کارو کاری“،”قرآن سے شادی“،“ سنگ چٹی“ جیسی ظالمانہ رسوم بھی شامل ہیں۔
سووَرہ
سووَرہ نامی رسم زیادہ تر بنجاب اور سندھ کے دیہی علاقوں میں اب میں رائج ہے۔ اس رسم کے مطابق کسی بھی قسم کے جھگڑے کو نمٹانے کے لیے ایک فریق دوسرے فریق کو اپنی لڑکی دے دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ کچھ ماہ پہلے پنجاب کے ایک دیہات میں پیش آیا کہ جب بچوں سے شروع ہونےوالی لڑائی بڑھتی بڑھتی اس حد تک پہنچ گئی کہ ایک فریق جو غریب تھے اور جن کے بچوں کا کوئی قصور بھی نہیں تھا مگر غربت کی وجہ سے ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی تھی۔ جب اس خاندان کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تو انھوں نے اس لڑائی کو ختم کرنے کے لیے اپنی جوان سال لڑکی کو بھینٹ چڑھاتے ہوئے دوسرے فریق کو دے دی۔ ( نوٹ: اب مذہبی خوف اور ڈر کی وجہ سے ایسی لڑکی کا نکاح کر دیا جاتا ہے وگرنہ پہلے دور میں یہ نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ وہ لڑکی بحیثیت غلام یاکنیز کے دی جاتی تھی اور اس کے ساتھ ہر طرح کا سلوک کیا جاتا تھا)۔ اس رسم کے تحت لڑکی کی کوئی عمر یا رشتہ ملحوظ نہیں رکھا جاتا بلکہ صرف لڑکی ہونا شرط ہے۔
وٹا سٹا
وٹا سٹا نامی رسم تو عام رسم ہے کہ جس کے تحت کسی لڑکی کا رشتہ لیتے وقت اپنی لڑکی کو رشتہ دینا ہوتا ہے۔ اس میں بھی عمر کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ جس لڑکی کا رشتہ لیا جا رہا ہے وہ اگر جوان ہے تو اس کے بدلے میں اگر جوان لڑکی نہیں تو نابالغ لڑکی ہی دے دی جاتی ہے۔ یہ رسم پنجاب میں بہت عام ہے۔ اسے علاقائی رسم کا نام دیا جاتا ہے ۔
ولوار
ولوار نامی رسم صوبہ خیبر پختونخواہ کے کچھ علاقوں میں عام ہے جبکہ پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس رسم کے تحت آپ پیسوں کے بدلے میں دلہن خرید سکتے ہیں۔
کارو کاری
کاروکاری نامی قبیح رسم سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں عام ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابقسندھ میں گذشتہ سال 481 خواتین کو قتل کیا گیا جن میں سے زیادہ پر”کاری”ہونے کا الزام تھا۔جبکہ ملک بھر میں ہرماہ اوسطاَ20سے23خواتین کو”کاری”ہونے کے الزام میں زندگی سے محروم کردیا جاتا ہے۔جیکب آباد،شکارپور،کشمور،گھوٹکی اور لاڑکانہ سندھ کے وہ اضلاع ہین کہ جہاں سب سے زیادہ کواتین کو کاری قرار دیا جاتا ہے۔
سندھی زبان میں “کارو” کا مطلب ہے سیاہ اور اسی کی مناسبت سے عورت کے لئے “کاری”استعمال ہوتا ہے یعنی سیاہ کار بدکردار جوڑا۔ وہ جوڑے جو محبت کرتے ہیں اور اگر وہ پکڑے جائیں تو انھیں کارو اور کاری قرار دے کر مار دیا جاتا ہے۔ تاہم کارو کے تحت لڑکے بہت کم قتل کیے جاتے ہیں جبکہ لڑکیوں کے قتل کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ لڑکے عموماً اس صورت میں کارو کی بھینٹ چڑھتے ہیں کہ جب ان کا تعلق غریب خاندانوں سے ہو۔
سندھ کے علاوہ بلوچستان اور پنجاب کے وہ اضلاع جو سندھ کے ساتھ لگتے ہیں وہاں پر بھی کارو کاری کی رسم ہے۔ کسی لڑکی کو کاری قرار دیتے ہی اس کا باپ یا بھائی یا بیٹا یا قریبی رشتہ دار غصے میں پھنکارتا ہوانیم پاگل کلہاڑی یا بندوق لہراتا ہوا گھر میں داخل ہوتا ہے جبکہ بزرگ مرد عورتیں اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں۔ پاک کتاب کا واسطہ دیتے ہیں۔ نشانہ بننے والی ماں ، بہن، بیٹی یا بیوی اپنا ڈوپٹہ اس کے قدموں میں ڈال کر زندگی کی بھیک مانگتی ہے لیکن وہ شخص کسی بھی رشتے کی پروا نہ کرتے ہوئے مطلوبہ کاری کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ اور بعد میں وہ بڑے فخر سے سر اٹھا کر باہر چلا جاتا ہے جیسے اس نے کوئی بہت ہی بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔
اس رسم کے تحت صرف قابل اعتراض حالت میں پکڑے جانا ہی کوئی واحد شرط نہیں بلکہ اپنی مرضی سے کسی سے شادی کرلینا یا پھر کسی پر کوئی شک و شبہ ہوجانا یا پھر کسی کو بھی پھنسانے یا بدلہ لینے کے لیے الزام لگا دینا ہی کافی ہوتا ہے۔ بس الزام لگنے کی دیر ہوتی کہ غیر تو غیر اپنے ہی پالنے پوسنے والے جان کے درپے ہوجاتے ہیں اور اپنے ہی ہاتھوں اسے لاش میں بدل دیتے ہیں۔ابھی چند دن پہلے ذرائع ابلاغ میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ایک بہادر اور جری شوہر نے اپنی بیوی کو محض اس لئے موت کے گھاٹ اتار دیا کہ اسے شبہ ہوا کہ اس کی بیوی موبائل فون پر جس سے بات کر رہی ہے وہ کوئی اجنبی شخص ہے۔
کاروکاری کی ایک اور قسم بھی ہے ۔ وہ اس وقت لاگو ہوتی ہے کہ جب ایک قبیلے کی لڑکی دوسرے قبیلے کا لڑکا اگر گھر سے بھاگ کر نکاح کر لیں تو اس سے قبائلی دشمنی پیدا ہو جاتی ہے اور خصوصاَ لڑکی کا قبیلہ مطالبہ کرتا ہے کہ لڑکے لڑکی کو اس کے حوالے کیا جائے۔ باقاعدہ قبائلی قاتل دستہ بھی اسی جوڑے کا تعاقب کرتا ہے اور موقع ملنے پر اسے قتل کردیا جاتا ہے اور پھر اس واقعہ سے شروع ہونے والی دشمنیاں برسہا برس چلتی ہیں۔
بعض قبائل میں تو رواج ہے کہ اگر گھر سے بھاگنے والے جوڑے کو زندہ پکڑ لیا جائے اور قبیلے کے سربراہ کو ان کے باہم جنسی تعلقات کا یقین ہو جائے تو پورے اہتمام سے ان کا نکاح کرایا جاتا ہے اور پھر ان کے رشتہ دار اجتماعی کاروائی کرکے ان کے سر تن سے جدا کر دیتے ہیں۔ قبائلی جرگے بھی ایسے”جوڑوں”کو “کارو کاری”کا مجرم قرار دے دیں تو انہیں قتل کر دیا جاتا ہے اور اسے غیرت مندی کی علامت اور قابل فخر سمجھا جاتا ہے۔ پھر برادری کا کوئی بوڑھا شخص کلہاڑی کندھے پر رکھ کر تھانے میں پیش ہو جاتا ہے اور اعتراف کر لیتا ہے کہ یہ قتل اس نے غیرت کی وجہ سے کیا ہے اور پورا قبیلہ اس کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
اس رسم کا اور بھی قبیح پہلو ہے کہ اگر ایسے واقعات میں لڑکا مارا جائے اور لڑکی زندہ بچ جائے تو اس بےچاری کی مٹی پلیت ہو جاتی ہے ۔بااثر وڈیرے اور قبیلوں کے بعض نام نہاد معززین اسے مال غنیمت سمجھتے ہیں جو چاہتے ہیں اس کے ساتھ سلوک روا رکھتے ہیں۔
قرآن سے شادی
قبائلی معاشرے میں بہنوں بیٹیوں کو جائداد اور املاک سے شرعی حصہ دینے کا رواج بہت کم ہے۔ زمینیں املاک دولت کی تقسیم سے بچنے کے لئے یہ لوگ جائیداد کو بچانے کے لیے اپنی بہنوں بیٹیوںکی “قرآن سے شادی”کی رسم کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔
سنگ چٹی
جاگیردارانہ قبائلی معاشرے میں ایک اور مکروہ اور ظالمانہ رسم اب بھی موجود ہے جسے سنگ چٹی کہا جاتا ہے۔ اور یہ خواتین کے خلاف ظلم و استحصال کی بدترین شکل ہے۔ اس رسم کے تحت بھی کسی لڑائی یا جھگڑے کی صورت میں صلح کے عوض دوسرے فریق کو اپنی لڑکیاں دی جاتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں کچھ عرصہ پہلے یہ خبر شائع ہوئی کہ شکارپور کے مہر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں چند ہزار کی رقم کے لین دین کے تنازعے پر خونریز جھگڑے کے نتیجے میں 4 افراد قتل ہو گئے تھے۔چنانچہ پنو عاقل کے قریب واقع گوٹھ ابراہیم مہر میں اس تنازعے کو طے کرنے کے لئے ایک وڈیرے کی زیرصدارت ایک جرگہ ہوا۔ اس تنازعے میں ایک طرف ماموں تھے تو دوسری طرف بھانجے۔جرگے نے اپنے روائتی طریقہ کار کے مطابق ایک فریق پر 4 افراد کے قتل کا جرم ثابت کیا اور اس کی سزا یہ سنائی کہ مدعا علیہ فریق اڑھائی لاکھ روپے کے علاوہ 12 لڑکیوں کے رشتے بھی مقتولین کے خاندان کو دے گا۔ چنانچہ جن بچیوں کو دونوں خاندانوں میں صلح کی بھینٹ چڑھایا گیا ان میں 5 بچیوں کی عمر 10 سال سے کچھ زیادہ اور باقی کی عمر 6 سے 10 سال کے درمیان تھی۔
pkistani woman2
خواتین کے خلاف ان تمام انسانیت سوز عوامل کو رسم و رواج کا نام دیکر آج کے جدید دور میں بھی جاری رکھا گیا ہے ۔ جبکہ درحقیقت ان کاکسی مذہب یا معاشرتی اقدارسے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ملکی قوانین ان کی جازت دیتے ہیں۔ یہ قانون کی نظر میں جرم ہیں مگر چونکہ جن علاقوں میں رسم و روایات کے نام پر یہ جرم کیے جاتے ہیں ۔وہاں کے صاحب اقتدار افرد حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور انہی صاحب اقتدار ، طاقتور سردار ،وڈیرے اور ان کے زیرسایہ پلنے والے افراد ہی عام طور پراس جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اس لئے عموماَ ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی نہیں ہوتی۔

pkistani woman

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s