خواتین

کیا سعودی عورت معاشرے کا فعال رکن بن پائے گی

منصور مہدی
19Saudi Arabia's contingent takes part in the athletes parade during the opening ceremony of the London 2012 Olympic Games at the Olympic Stadiumجنوری2013ءسعودی عرب کی خواتین کے لیے ایک اہم دن ہے کہ جب وہاں کی 30خواتین نے قانون ساز ادارے شوریٰ کونسل کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ سعودی عرب کو ایک قدامت پسند معاشرہ سمجھا جاتا ہے اور وہاں خواتین پر مختلف معاشرتی پابندیاں عائد ہیں۔ ان کو خود گاڑیاں (کاریں) چلانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ ملازمت، سفر یا بینک میں اکاو¿نٹ کھلوانے کے لیے بھی ا±نہیں مرد سرپرست کی اجازت درکار ہوتی ہے۔حتیٰ کہ اکیلے طور پر طبی معائنہ بھی نہیں کروا سکتی۔ ان پابندیوں کی وجہ سے بعض اوقات ایمرجنسی کی صورت میں عورت کو طبی امداد بھی نہیں ملتی یا ڈاکٹر ہی قانون کی تعزیز سے بچنے کے لیے انکار کر دیتے ہیں۔
تاہم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے سعودی معاشرے کو جدید معاشی وسماجی رجحانات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں اور خواتین کو قومی دھارے میں لانے کے لیے حال ہی میں متعدد اصلاحات نافذ کی ہیں۔
سعودی عرب کی شوریٰ کونسل میں تیس خواتین کی شمولیت سعودی عرب کا پہلا واقعہ ہے۔ حلف برداری کی تقریب کو سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویڑن پر براہ راست نشر کیا گیا۔واضح رہے کہ شوریٰ کونسل یا مشاورتی اسمبلی کے ارکان کو سعودی شاہ خود مقرر کرتے ہیں۔یہ کونسل سعودی عرب کے مشاورتی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے اور حالات کے تقاضوں کے مطابق قوانین کے مسودے تیار کرکے شاہ کو بھیجتی ہے۔اس کے بعد شاہ ان قوانین کی منظوری دیتے ہیں اور ان کا ملک میں نفاذ کرتے ہیں۔
شوریٰ کونسل میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے شاہ عبداللہ نے 11 جنوری کو جاری کردہ ایک تاریخی حکم نامے کے تحت تیس خواتین کو شوریٰ کونسل کا رکن بنانے کی منظوری دی تھی۔اس شاہی فرمان کے تحت ایک سو پچاس ارکان پر مشتمل شوریٰ کونسل کے دستور کی دو دفعات میں ترامیم کی گئی تھیں۔ دفعہ تین میں پہلی ترمیم کے تحت شوریٰ کونسل میں خواتین کے لیے بیس فی صد کوٹا مختص کیا گیا جس کے تحت شاہ عبداللہ نے شوریٰ کونسل میں تیس خواتین کا تقرر کیا جبکہ اس سے پہلے صرف مرد حضرات ہی اس مشاورتی اسمبلی کے ارکان چلے آ رہے تھے۔ جبکہ دفعہ بائیس میں ترمیم کے تحت خواتین کو شوریٰ کونسل کی مکمل رکنیت کا حق دیا گیا۔
اس موقعے پر شوریٰ کی خواتین ارکان سے مخاطب ہو تے ہوئے شاہ عبداللہ کا کہنا تھا، ’آپ اِس شوریٰ کونسل کا حصہ اِس لیے بنائی گئی ہیں، کیونکہ نہ صرف آپ اس کی اہل تھیں، بلکہ معاشرے کے ایک اہم طبقے کی نمائندگی کرنے کی وجہ سے آپ پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کی گئی ہیں۔‘
اس کے ساتھ شاہ عبداللہ نے سعودی خواتین کو2015ءمیں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں نہ صرف ووٹ دینے کا حق دے دیا بلکہ وہ انتخاب میں بطور امیدوار بھی کھڑا ہو سکے گی۔ سعودی خواتین سال 2013ءکو آزادی کا سال قرار دے رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے وہ افراد جو اپنے ملک کو ایک قدامت پرست ہی دیکھنا چاہتے ہیں وہ شاہ عبداللہ کے فیصلوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں ۔ چنانچہشوریٰ کونسل میں خواتین کی تعیناتی پر مظاہرے بھی کیے گئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ خواتین کا کام کرنا شریعت کے منافی ہے۔
شورٰی کونسل میں تعینات کی جانے والی 30 خواتین کوئی عام خواتین نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں اعلی تعلیم و تجربے کی حامل ہیں۔ انہوں نے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر طب، سائنس، شعبہ انتظام و انصرام، ادب وغیرہ میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہوا ہے۔
انمیں سے ایک ڈاکٹر ثریا عبید ہیں کہ جنہوں نے 1963 ءمیں حکومتی وظیفے پر امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون تھیں۔ اور 2000ءسے 2010ءکے دوران “یونائیٹڈ نیشنز ڈیویلپمنٹ فنڈ” کی سربراہ کے طور پر وہ پہلی سعودی شہری تھیں جس نے اقوام متحدہ کے کسی ادارے کی سربراہی کی ہو۔ان کے علاوہ دیگر خواتین بھی اپنی اپنی فیلڈ میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
خواتین کی یونیورسٹیوں میں اب قانون، اور انجنیئرنگ جیسے شعبوں میں تعلیمی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں کہ جن شعبوں میںاس سے قبل لڑکیوں کے لئے داخلہ منع تھا۔ جلد ہی visual اور ڈیجیٹل digital علوم بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف علماءکی جانب سے شاہ عبداللہ کے ان اقدامات کی بھرپور مخالفت کی جا رہی ہے۔ مگر شاہ عبداللہکا شوریٰ کونسل کے افتتاحی اجلاس سے کہنا تھا کہ ”ہم خواتین کو معاشرے میں دیوار سے لگانے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم نے سینئر علماء اور اعلیٰ سطح کے دیگر افراد سے مشاورت کے بعد شریعت کے مطابق خواتین کو معاشرے میں حاصل تمام کردار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سعودی خواتین کو معاشرتی زندگی میں ایک فعال رکن بنانے کے شاہ عبداللہ کی حکومت نے 2009ءمیں ہی عملی اقدامات شروع کر دیے تھے کہ جب 2009ء میں جدہ کے شمالی علاقے میںسعودی عرب کی پہلی مخلوط یونیورسٹی قائم کی۔جہاں طلباء وطالبات ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ سعودی حکومت کا ایک بڑا اور انقلابی قدم اولمپکس گیمز میں دو سعودی خواتین ایتھیلیٹ کی شرکت تھی۔جبکہ اس سے قبل اولمپکس کھیلوں میں شرکت کرنے والے سعودی کھلاڑیوں کے دستے میں صرف مرد ہوتے تھے۔اس حوالے سے ایک اور قدم یہ تھا کہ خواتین کو ایسے گارمنٹس اسٹورز پر جہاں صرف خواتین کے ملبوسات فروخت کیے جاتے ہوں۔ ملازمت کی اجازت دی گئی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ کی اصلاحات کی وجہ سے اب سعودی عرب تبدیل ہورہا ہے، گوکہ اس تبدیلی کی رفتار بہت س±ست ہے اور بیرونی دنیا کو ابھی اس کا احساس نہیں ہو پارہا۔ جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہائی اسکول کی انگریزی کی نصابی کتب میں خواتین کی تصاویر شامل کی گئی ہیں۔یاد رہے کہ 1926ء میں سعودی عرب کے قیام سے آج تک تمام اسکولوں کی نصابی کتب میں خواتین کی تصاویر شامل کرنے پر پابندی عائد رہی ہے۔تاہم موجودہ تدریسی سال کے دوران اسکولوں میں تقسیم کی جانے والی نصابی کتب میں پہلی مرتبہ خواتین کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔فی الحال صرف انگریزی کتب ہی میں نقاب پوش خواتین کی تصاویر کو شامل کیا گیا ہے اور اسے بھی ایک غنیمت قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے نصابی کتب میں خواتین کے صرف خاکے شائع کرنے کی اجازت تھی۔صرف خواتین کی تصاویر کی نصابی کتب میں شمولیت ہی پہلی بڑی تبدیلی نہیں ہے بلکہ کتاب کے مختلف اسباق میں لڑکیوں اور پیشہ ورانہ زندگی میں ان کے تعلیمی کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ سعودی عرب میں عورت کی تعلیم کے حوالے یہ کوئی پہلے اقدامات ہیں اور سعودی عرب میں خواتین کی تعلیم نہیں۔ بلکہ سعودی عرب کی ہزاروں خواتین نے نہ صرف سرکاری وظیفوں پر اور صاحب حیثیت خواتین نے بیرون ملک تعلیم حاصل کی ہوئی ہے بلکہ دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہوئیں ہیں ۔ مگر یہ خواتین جب بیرون ملک سے اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس وطن آتی ہیں تو ان کے قابلیت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا اور ایک عضو معطل بن کر رہ جاتی ہیں ۔ اور معاشرے میں کوئی مثبت کردار بھی ادا نہیں کر پاتی ۔مختلف قوانین اور روایات کی وجہ سے ان پر کئی جگہوں پر ملازمت کے دروازے بند رہتے۔ جس سے سعودی عرب کی خواتین میں نہ صرف ذہنی اضطراب بڑھ رہا ہے بلکہ بے روزگاری کی شرح بھی بہت زیادہ بڑھ رہی ہے۔
لیکن اب سعودی عرب کے بیشترعالم بھی اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ عورت کی تعلیم اس لیے بھی ضروری ہے کہ پڑھی لکھیں مائیں ہی ایک تعلیم یافتہ، جدید اور مہذب معاشرہ تشکیل دینے میں بڑی معاون ہو سکتی ہیں۔ سعودی عرب کے سنجیدہ طبقات میں اس بات کا بھی ادراک بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ آئندہ صدیوں میں سعودی نسلیں جدید دنیا کا مقابلہ نہ کر پائیں گی ،اگر اس کی موثر انداز میںمنصوبہ بندی نہ کی گئی۔
ویسے بھی تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان کے لئے اس طرح ہی ضروری ہے جس طرح آکسیجن زندگی کے لئے ضروری ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان بالکل حیوان کی مانند ہے۔ خواہ مرد ہو یا عورت۔ یہی تعلیم ہی ہے جو انسان کو عقل و شعور کی دولت سے مالا مال کرتی ہے۔ اور زندگی کی حقیقوں سے آگاہ کرتی ہے۔ علم کے بغیر انسان کبھی بھی سیدھی راہ پر چل نہیں سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک واحادیث میں بھی علم کے حصول پر کافی زور دیا گیا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s