خواتین

کیا مجھ سے شادی کرو گے ؟

منصور مہدی
pakistani_brideکراچی سے آئے ہوئے ایک دوست عاصم ملک ایڈو وکیٹ سے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی کہ "صرف کراچی سٹی کورٹ میں روزانہ 35سے40 لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر آتی ہیں اور کورٹ میرج کر تی ہیں۔ کورٹ میرج کرنے والے ان جوڑوں میں کالج ، یونیورسٹی اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔یہ لڑکیاں عموماً16سے 35برس اور لڑکے 20سے 40برس کے ہوتے ہیں۔لڑکیوں میں 75فیصد کے قریب کنواری اور 25فیصد کے قریب شادی شدہ( یعنی دوسری شادی کرنے والی) ہوتی ہیں۔اسی طرح لڑکوں میں 60فیصد کے قریب کنوارے اور 40فیصد شادی شدہ ہوتے ہیں جبکہ ان میں سے 80فیصد پڑھے لکھے ہوتے ہیں ( پانچ جماعت سے ایم اے اور دیگر پروفیشنل ڈگری ہولڈر) اور لڑکیوں کی اس حوالے سے تعداد زیادہ ہوتی ہے۔”۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر سال صرف کراچی میں 14ہزار کے قریب لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر شادیاں کرتی ہیں۔ اس حساب سے پورے ملک میں یہ تعداد لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان ہونے والی شادیوں میں سے کچھ ہی کامیاب ہو تی ہیں اور باقی کی شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ جبکہ کچھ لڑکیوں کو نہ صرف کورٹ کچہری اور قید و بند بھگتنا پڑتی ہے تو کچھ کو جان سے جانا ہوتا ہے۔
جس پر ہمارے لاہور کے دوست شاہد حسن ایڈووکیٹ نے بتایا کہ گذشتہ برس صرف لاہور کی فیملی کورٹس میں 14ہزار سے زائد طلاق کے مقدمات دائر ہوئے جبکہ رواں برس میں جنوری سے 15فروری تک900سے زائد مقدمات دائر ہو ئے ہیں۔ یعنی جس تیزی کے ساتھ شادیاں ہو رہی ہیں تقریباً اتنی ہی طلاقیں ہو رہی ہیں۔یہ طلاقیں عموماً لڑکیوں کی طرف سے ہی لی جاتی ہیں۔
ملنا ، ملنے کا وعدہ ، جدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟
کچھ کا خیال ہے کہ ٹی وی ڈراموں ،والدین کا رویہ، معاشی و معاشرتی حالات ، سماجی رسومات اور خاندانی مشکلات کے باعث سال بہ سال جہاں گھروں سے بھاگنے والی لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں طلاق کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ بلکہ لو میرج کیسز میں طلاق کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ ان وجوہات میںروزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری بھی شامل ہے کہ جس کے نتیجے میں عموماً مرد پریشانی اور جھنجھلاہٹ میں عورت پر تشدد بھی کرتا ہے ۔
طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کو ایک قانونی سقم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ کہ 1964ءکے عائلی قوانین کہ جن کے تحت طلاق لی جاتی ہے کہ ایک قانونی سقم بھی طلاق کی شرح میں ایک اضافہ ہے۔جس کا سارے کا سارا فائدہ لڑکیاں اٹھارہی ہیں۔ یاد رہے کہ پہلے اس قانون کے مطابق جب عورت کی طرف سے خلع کادعویٰ دائر ہوتا تھا تو عورت کوخلع کی وجوہات شخصی اور دستاویزی شہادت کے ذریعے ثابت کرنی پڑتی تھیں۔اس سلسلے میں عورت اپنی طرف سے کم از کم دو گواہ پیش کرنا پڑتے تھے جو عدالت کے روبرو حلف اٹھا کر گواہی دیتے تھے۔جن کو عدالتیں قلمبند کرتیں تھیں۔گواہوں پرجرح ہوتی اور پھروکلاءکی بحث کے بعد عدالتیں فیصلہ سناتیں۔ اس طرح طلاق کے لینے اوردینے پرکچھ وقت ضرور لگتاتھا ۔جس دوران خاندان، عزیز و اقارب یا دوستوں کے سمجھانے اور ان کی کوششوں سے لڑکے اور لڑکی کے درمیان صلح ہو جاتی ۔
مگر مغربی معاشرے سے متاثر کچھ غیر سرکاری اداروں کی تحریک پر اس قانون میں تبدیلی کر دی گئی۔ اور اب اس قانون کے تحت صرف تین ہی ماہ میں طلاق مل جاتی ہے۔دوستوںاور عزیز و اقارب کو طلاق ہوجانے ہی خبر ملتی ہے۔ اب خلع لینے کے لئے کوئی وجہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بس لڑکاایک دفعہ عدالت میں حاضرہوکر اپنا جواب دعویٰ دائرکردے ۔ جس کے بعد ایک تاریخ پر عدالت فریقین میں صلح کرانے کی کوشش کرتی ہے اور صلح نہ ہونے پر خلع کی ڈگری جاری کردی جاتی ہے۔
اسی طرح شادی ( کورٹ میرج )کرنے کا بھی طریقہ کار بہت آسان ہے۔ کورٹ میرج سے مراد عدالتی نکاح ہے۔ہمارے ہاں کورٹ میرج کا عمومی طریق کار یہ ہوتا ہے کہ جب کسی لڑکے اور لڑکی میں باہمی میل جول، بات چیت اور ملاقاتوں کے نتیجے میں معاشقہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو لڑکا اور لڑکی خفیہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ بسا اوقات یہ شادی لڑکا اور لڑکی دونوں اپنے اپنے والدین سے خفیہ رکھتے ہیں اور بسا اوقات کسی ایک کے والدین کو پتا ہوتا ہے اور دوسرے فریق کے والدین بے خبر ہوتے ہیں۔
چنانچہ دونوں اپنے نکاح کو قانونی تحفظ دینے کے لیے وکلاءسے رجوع کرتے ہیں ۔ وکیل ان کا بیان اشٹام پیپر پر تحریر کرواتا ہے اور ان کے دستخط کے علاوہ دو گواہان کے بھی دستخط ہوتے ہیں۔جس پر اوتھ کمشنر کی تصدیق کے بعد ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس بیان میںعموماً یہ تحریر کروایا جاتا ہے کہ لڑکی یہ بیان بغیر کسی جبر واکراہ کے اپنی آزاد مرضی سے دے رہی اور یہ نکاح کر رہی ہے۔
نکاح کا باقی کا عمل اور ‘ایجاب وقبول’ وکیل کے دفتر میں ہی ہو جاتے ہیں۔ وہی پر مولوی اور رجسٹرار آ جاتے ہیں۔ اگر لڑکی یا لڑکے ساتھ کوئی گواہ نہ ہو تو وہ بھی وہی سے مل جاتے ہیں۔
طلاق کی شرح کے اضافے میں میڈیا کا کردار بھی بہت زیادہ ہے۔ ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں بس یہی کچھ دکھایا جاتا ہے ۔جسے دیکھو وہی لڑکا یا لڑکی کسی نہ کسی کی محبت میں گرفتار ہے۔ محبت کا اظہار کوئی انٹرنیٹ کے ذریعے کر رہا ہے تو کسی نے موبائل فون کو نامہ بر بنایا ہوا ہے۔ یہ ڈرامے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہمارے بچوں بھی اس میڈیا سے متاثر ہو رہے ہیں کہ جن کے ذہن بھی ابھی تک پختہ نہیں ہوئے۔ اسی طرح محبت کی شادیاں ہر ڈرامے کا لازمی جزو ہوتی ہےں۔ انٹر نیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی وجہ سے نو عمر بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔جس انتہائی خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔جو روایت پسند پاکستانی اور اسلامی معاشرے میں قابل تشویش ہے۔
سماجی امور کے ماہرین اس کی ایک اہم وجہ خواتین کا اپنے اس اعلی اوصاف کو ترک کرنا بیان کرتے ہیں کہ جو کسی عورت (Female) کا اصل حسن کہلا تا تھا۔ امریکہ کے مشہور و معروف فلسفی ولیم جیمس کا کہنا ہے” کہ حیا اور خودداری عورت کا زیور ہی نہیں بلکہ دختر ان حوا کی پوری تاریخ بتلاتی ہے کہ انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا کہ ان کی عزت اور احترام اس میں ہے کہ وہ کبھی کسی مرد کی تلاش میں نہ نکلیںاورخود کو بے توقیر نہ کریں۔ اپنے آپ کو مردوں کی پہونچ سے دور رکھیں۔ عورتوں نے اپنی پوری تاریخ میں اس بات کو اپنے پلے باندھ لیا اور اپنے عمل سے اسے ثابت بھی کیا اور پھر یہی کچھ انہوں نے اپنی بیٹیوں کوبھی سکھایا "۔
"مگر اب عورت خود ہی بے توقیر ہو رہی ہے۔ وہ جلد ہی ایک ایسے جنس مخالف کے چکر میں خود کو پھنسا لیتی ہے کہ جس کے ماضی کے بارے میں قطعاً کچھ نہیں جانتی۔ وہ اسی کی بات پر یقین کر لیتی ہے۔ حالانکہ قانون فطرت کے مطابق مرد ( mali) نیاز ، طلب اور خواہش کا مظہر ہوتا ہے اور عورت ( female) مطلوبیت اور محبوبیت کی پہچان ہوتی ہے۔ فطرت نے عورت کو پھول اور مرد کو بلبل ، عورت کو شمع اور مرد کو پروانہ بنایا ہے۔قدرت کی یہ ایک حکیمانہ اور شاہکار تدبیر ہے کہ جس کے ذریعے مرد کی طبیعت میں چاہت اور عورت کی طبیعت میں ناز و نزاکت۔یہی اصول عورت کی حیثیت اور احترام کا بہترین ضامن اور محافظ ہوتا ہے جو مرد کی جسمانی طاقت کے مقابلہ میں اس کے ضعف اور کمزوری کو تقویت دیتا ہے۔یہ اصول جہاں مرد وعورت کی مشترکہ زندگی میں اعتدال اور توازن کا باعث بنتا ہے وہاں یہ ایک طرح کا طبیعی امتیاز اور برتری ہے جو عورت کو دی گئی ہے اور دوسری طرف مرد کے لیے یہ ایک طبیعی ذمہ داری ہے جو مرد کے کاندھے پر رکھی گئی ہے۔جن معاشروں میں انسان کے بنائے گئے قانون اور ضابطوں میں یہ اصول نہیں رکھے جاتے وہ بے راہ روی کی طرف چل پڑتے ہیں اور جب تک ان اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے تو اس کے مثبت نتائج نکلتے ہیں اور خاندان اور معاشرہ پر امن رہتا ہے”۔
لیکن جب سے عورت نے خود کو مطلوب کی بجائے طالب بنا لیا تب سے ہی یہ صعبتوں میں گرفتار ہو گئی۔ طالب بن کرمساوی سلوک اور مساوی حقوق حاصل کر کے عورت نے اپنے مفادات اور اپنی قدر و منزلت کو خود نقصان پہنچایا۔جس کا فائدہ پھر مردوں نے اٹھایا۔
پہلے لڑکا یااس کے گھر والے پیغام لیکرلڑکی یا اس کے گھر والوں سے تقاضا کرتے تھے۔جس سے عورتوں کی حیثیت اوران کی عزت و احترام کی حفاظت ہوتی تھی۔مگر اب لڑکیاں یہ کام خود سے ہی کر رہی ہیں ۔ لڑکوں سے محبت کا اظہار اور شادی کی پیشکش کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتیں ۔ مجھ سے شادی کرو گے ؟ اس بات کو برابری سمجھتی ہیں۔سماجی ماہرین لڑکیوں کی اس بات کو عورت کے اعلیٰ اوصاف کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ "یہ بات عورت کی حیثیت اور احترام کے خلاف ہے کہ وہ کسی مرد کی تلاش میں جائے۔ لیکن مرد کے لئے یہ بات قابل برداشت ہے کہ وہ کسی عورت سے شادی کی پیشکش کرے اور منفی جواب سننے کے بعد کسی دوسری عورت سے پیشکش کرے اور وہاں سے بھی جواب ملنے کے بعدکسی اور سے رجوع کریں کہ یہاں تک اس سے کوئی نہ کوئی عورت شادی کے لیے تیار ہوجائے۔ اسی طرح یہ عورت شادی کی رضایت ظاہر کرکے دراصل محبوب اور معشوق کا درجہ حاصل کر لیتی ہے اور مرد کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔لیکن اس کے برعکس کسی لڑکی کا کسی لڑکے کو شادی کی پیشکش کرنے کے بعد اور پھر انکار سننے پر کیا کسی دوسرے لڑکے کو تلاش کرناعورت کی شان ہو سکتا ہے؟”
بہرحال ان بہت سے برائیوں اور کمزریوں کے بعد اب ہمارے معاشرے میں طلاق یافتہ خواتین کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس رجحان میں کمی کے لیے مردوں اور عورتوں دونوں کو فطری اصولوں کی پاسداری کرنا ہوگی اور مل کر صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s