متفرق

پی ٹی آئی نے پارٹی انتخابات کرواکر حقیقی جمہوریت کی بنیاد رکھ دی

منصور مہدی
Imran Khanپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارٹی انتخابات ملکی سیاسی تاریخ میں ایک ایساکارنامہ ہے کہ جو اس سے پہلے رونما نہیں ہوا۔ ان انتخابات کے باقاعدہ انعقاد کی تیاری کے لیے پاکستان تحریک انصاف تقریباً ایک سال سے تیاریوں میں مصروف رہی۔ جس کے بعد بالآخر شہر شہر، قصبہ قصبہ اور گاو¿ں گاو¿ں، پولنگ اسٹیشن بنے، شامیانے لگے، پولنگ آفیسرز بیٹھے، بیلٹ باکس رکھے گئے اور ووٹ ڈالے گئے۔ اس طرح لاکھوں ووٹروں نے اپنے اپنے پسندیدہ عہدیداران کا چناو¿ کیا۔
یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی پارٹی کے انتخابات اس منظم انداز میں کروا کر ایک تو باقاعدہ جمہوری روایت کو پروان چڑھایا اور دوسرے آنے والے قومی انتخابات کی ایک کامیاب فل ڈریس ریہرسل بھی کر لی۔
اس طرح پارٹی انتخابات مکمل ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف ملک کی واحد سیاسی جماعت بن گئی ہے کہ جس کے عہدیدار یونین کونسل سے مرکز تک منتخب ہوئے ہیں۔اگرچہ جماعت اسلامی بھی پارٹی انتخابات کراتی ہے مگر اس کا جمہوری انتخابی طریقہ کار بہت محدود ہے۔مگر پاکستان تحریک انصاف نے اپنے پارٹی انتخابات کے ذریعے 80ہزار عہدیدار منتخب کیے ہیں کہ جن میں 23ہزار خواتین بھی شامل ہیں۔اب یہ تمام عہدیدار 23 مارچ 2013ءکو مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے پاکستان اور تحریک انصاف کے منشور کے ساتھ وفاداری کا حلف ا±ٹھائینگے۔
پولیٹیکل پارٹیزآرڈر2002ءکے تحت ہر سیاسی جماعت کو پارٹی کے آئین کے مطابق جماعت میں انتخاب کرانے ہوتے ہیں۔کیونکہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے مطابق ہر سیاسی جماعت اپنا آئین خود بناتی ہے اور اس میں جماعتی انتخابات کا طریقہ کار اور مدت بیان کی جاتی ہے کہ پارٹی انتخابات کب اور کیسے کرائے جائیں گے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے پارٹی انتخابات نہ کرانا نہ صرف پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ءبلکہ پارٹیوں کے اپنے ہی آئین کی بھی خلاف ورزی میں شمار ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے دس سال کے بعد جولائی2011ءمیں پارٹی انتخابات کراوئے تھے حالانکہپولیٹیکل پارٹیزآرڈر2002ءکے مطابق یہ مدت چار سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ(ق) نے 2009ءمیں انتخابات کرائے تھے ۔پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز نے آخری مرتبہ2006 ءمیں پارٹیانتخابات کروائے۔ اس کے اپنے آئین کے تحت دو سال میں انتخاب کرانا لازمی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک نے2006، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل نے2007ءمیں پارٹی انتخابات کروائے تھے۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف نے اس سے قبل 2002ءمیں انتخابات کرائے تھے جبکہ پارٹی آئین کے تحت جماعت ہر چار سال بعد انتخابات کرانے کی پابند ہے۔ ایم کیوایم اور اے این پی نے2012ءمیں پارٹی انتخابات کراوئے۔ واضح رہے کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002ءکے تحت کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے آئین میں پارٹی انتخابات کی مدت کی حد چار سال سے زیادہ نہیںبڑھا سکتی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات میں اگرچہ کچھ خامیاں اور کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں مگر پاکستان تحریک انصاف کا یہ پہلا انتخاب ہے اس لیے جو خامیاں رہ گئی ہیںوہ اگلے انتخابات میں دور کرلی جائیں گی۔ ہمیں خامیاں تلاش کرنے کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کے جمہوری کلچر پر مبنی پہلے سیاسی تجربے کی تعریف کرنی چاہئے۔ان انتخابات کے ذریعے عمران خان نے عوام کو سیاسی طاقت کا مالک بنادیا ہے۔ آنے والے قومی انتخابات میں اب قیادت کی بجائے ضلعی سطح پر منتخب عہدیدار انتخابات کے لیے ا±میدواروں کا فیصلہ کریں گے جن پر صوبائی پارلیمانی بورڈ میں مشاورت ہوگی اور مرکزی پارلیمانی بورڈ حتمی فیصلہ کرے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات میں جو خامیاں بیان کی جا رہی ہیں ۔ اس حوالے سے کئی مثالیں دی جا رہی ہیں جن میں لاہور کے انتخاب کی بھی ایک مثال شامل ہے کہ یہاں پر عبدالعلیم خان نے صدارتی انتخاب جیتاہے۔ جو تحریک انصاف میں نئے ہیں اور ان کے مقابل ایک پرانے کارکن محمودالرشید انتخاب ہار گئے ہیں۔تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں سیاست کی بنیاد اگر سرمایے کی بجائے نظریات پر ہوتی تو یہ واقعہ کبھی رونما نہ ہوتا۔ ضلعی، صوبائی اور مرکزی عہدیداروں کےلئے یہ شرط ہونی چاہئے تھی کہ ان عہدوں پر صرف وہی رکن انتخاب لڑسکتا ہے جو کم از کم پانچ سال پرانا ہویا اس حوالے سے کوئی حد مقرر ہونی چاہیے تھی۔تنقید نگاروں کے مطابق سیاسی جماعتوں کو چونکہ منشور اور اساسی نظریات سے وابستہ رہنا ہوتا ہے اسلئے پارٹی انتخابات کوہر ایک کے لیے کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے اور پارٹی عہدوں پر پرانے کارکنوں کا پہلا حق تسلیم کرنا چاہیے ۔
لاہور میں محمود الرشید کی ہار اور عبدالعلیم خان کی جیت پر کی گئی تنقید کو پاکستان تحریک انصاف کے حلقے یکسر مسترد کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ عبدالعلیم کی جیت اور محمود الرشید کی ہار ایک جمہوری طرز عمل کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ جس پر محمود الرشید نے عبدالعلیم کو پھولوں کے ہار پہنا کر سراہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات میں دوسری خامی کے ضمن میں کئی علاقوں میں دوران انتخاب لڑائی جھگڑے، ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی کے واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔ کئی شہروں میں شدید بدنظمی کی وجہ سے پولنگ بھی روکنا پڑی جبکہ راولپنڈی، سیالکوٹ سمیت کئی مقامات پر انتخابات ملتوی بھی ہوئے ۔ ملتان میں ہم خیال اور نظریاتی گروپس نے بیلٹ پیپر پر نشان واضح نہ ہونے اور لسٹوں میں متعدد کارکنوں کے نام شامل نہ ہونے پر زبردستی پولنگ رکوا دی۔ الیکشن کمیشن نے بھی بیلٹ پیپرز کو متنازع قرار دے دیا۔ بعدازاں دوبارہ پولنگ کرائی گئی۔ شیخوپورہ میں پارٹی کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی۔ نارووال میں بھی ووٹنگ لسٹ پر دو گروپوں میں تصادم ہوا۔ گجرات کے پارٹی انتخاب میں بھی بدانتظامی کا واقعہ ہوا۔ مقامی رہنماو¿ں اور کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی۔ خواتین ووٹرز کے لئے علیحدہ پولنگ بوتھ نہ ہونے سے ووٹ کاسٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ سیالکوٹ میں دو گروپوں میں ہنگامہ آرائی اور اسلحہ کی نوک پر بیلٹ بکس چھیننے کے واقعات ہوئے۔کچھ جگہوں پر مشتعل کارکنوں نے کیمپوں تک کو اکھاڑ دیا۔
تاہم اس حوالے سے پارٹی کے خیر خواہوں کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں نظم و ضبط کی کبھی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے اور نہ ہی کسی ادارے میں اس کے بارے میں تربیت دی جاتی ہے اسی وجہ سے بدنظمی ہمارے خمیر میں شامل ہو چکی ہے اور یہی بدنظمی اور بے ترتیبی تحریک انصاف کے اندرونی انتخابات میں بھی اسی وجہ سے نظر آئی۔ کیونکہ تحریک انصاف میں بھی شامل لوگ یہاں کے ہی رہنے والے ہیں۔ لہذا یہ بد نظمی اتنے اچنبھے کی بات نہیں ہے ۔ویسے بھی انتخابات کے دوران مارکٹائی اور دنگا فساد وہ سیاسی کلچرہے کہ جسے یہاں کے ہی سیاستدانوں نے گزشتہ 66 سالوں کے دوران پروان چڑھایا ہے۔
تاہم ان پارٹی انتخابات کے دوران عوام الناس کے لیے کئی حوصلہ افزا واقعات بھئی ہوئے ہیں ۔ کہ جیسے ایک طرف ملکی سطح پر معروف اور صف اول کے سیاستدان، جن کا خاندانی پس منظر بھی اہم ہے۔ یعنی شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی جیسے دیگر لوگوں کو کامیاب ہونے کے لیے ووٹروںکی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے مالاکنڈ سے ایک غریب درزی کو تحریک انصاف کے لوگوں نے ووٹوں کے ذریعے اپنا صدر منتخب کرلیا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں کھڑا ہونے والا بڑا زمیندار ہار گیا ہے۔یہ ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔
تاہم عام شہریوں نے پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات کو ایک خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے ایک مثال قائم کی ہے سیاسی جماعتوں کو اپنی جاگیر اور وراثت سمجھنے والے بڑے سیاستدانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی جماعتوں کے اندر حقیقی معنوں میں الیکشن کروائیں اور محض خانہ پری نہ کریں کیونکہ پاکستان کی دیگر تمام سیاسی جماعتیں دکھاوئے کے لیے پارٹی کے جعلی اور نمائشی انتخابات کراتی رہتی ہیں جن پر الیکشن کمیشن بھی اعتراض نہیں کرتا مگرعمران خان نے شخصیت پرستی ، سیاسی ڈراموں اور مکروفن کی سیاست پر مبنی سیاسی کلچر کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کے اندرونی انتخابات مرحلہ وار مکمل کرکے حقیقی جمہوریت کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یہ مشکل مگر اہم نوعیت کا تنظیمی اور جمہوری کام کوئی ایسا شخص ہی کرسکتا تھا جو صدق دل اور خلوص نیت سے شخصیات نہیں بلکہ اداروں میں یقین رکھتا ہو۔ عمران خان قبل ازیں شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کی صورت میں صحت اور تعلیم کے مثالی ادارے قائم کرچکے ہیں اور اب وہ تحریک انصاف کے نام سے ایک ماڈل سیاسی و جمہوری ادارہ تشکیل دینے جارہے ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کا جو حقیقی چراغ روشن کیا ہے وہ مستقبل کی سیاست میں مشعل راہ ثابت ہوگا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s