متفرق

ایل ڈی اے بمقابلہ بحریہ ٹاﺅن

منصور مہدی
Bahria-Town-Lahore-Vs-LDA-Bahria-Town-Lahore-Viewلنک کینال روڈ پر موہلنوال کے قریب بحریہ ٹاﺅن کی طرف سے توسیع شدہ تین سیکٹروں ای ڈی اور ایف کے اعلان کے بعد لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ اس لڑائی میں اس وقت زیادہ شدت آئی کہ جب ان سیکٹروں کے قریب ہی بلاول ہاو¿س کی تکمیل ہوئی۔
ایل ڈی اے نے پرنٹ میڈیا کے ذریعے بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کے خلاف ایک اشتہاری مہم کا آغاز کیا ہے۔ جبکہ ایل ڈی اے نے شہر کے مختلف مقامات پر بھی بحریہ ٹاﺅن کے خلاف بینرز آویزاں کیے ہیں۔ایل ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاﺅن کے خلاف اس مہم پر حکومت پنجاب تقریباً 3کروڑ روپے روزانہ خرچ کر رہی ہے۔ اسی طرح بحریہ ٹاﺅن والے بھی ایل ڈی اے کے خلاف اخبارات میں اشتہارات شائع کروا کر رہے ہیں۔
اس لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا کہ جب اس علاقے میں بلاول ہاﺅس کی تکمیل کے بعد اس علقے کی قیمتیں زیادہ ہوئی تو بحریہ ٹاﺅن نے اس علاقے میںسیکٹر ای ، ڈی اور ایف کا اعلان کر دیا۔ جس پر ایل ڈی اے نے کہا کہ چونکہ یہ سیکٹر ؓیر منظور شدہ ہیں لہذا ان کا اجراءنہیں ہو سکتا۔ جبکہ بحریہ ٹاﺅن کا دعویٰ ہے کہ یہ سیکٹر بھی منظور شدہ ہیں۔
حالانکہ اس سے بیشتر بھی بحریہ ٹاﺅن اس علاقے میں بیشتر سیکٹر تیار کر کے فروخت کر چکا ہے مگر ایل ڈی اے نے کبھی بھی ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی مگر اس بار ایل ڈی اے کا اشتہار بازی کرنا عجب دکھائی دے رہا ہے۔
اس حوالے پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ ہے کہ یہاں پربلاول ہاو¿س کی تعمیر کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بحریہ ٹاﺅن کے خلاف مہم شروع کی ہے اور اس مقصد کے لیے سرکاری اداروں کا استعمال کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ کیونکہ شریف برادران کی ایک مخصوص سوچ ہے اور اکثر اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ان سے دوسرے برداشت نہیں ہوتے۔
اگرچہ ایل ڈی اے کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ قانونی طور ایسا کر رہے ہیں تاکہ عوام غلط طور پر غیر منظور شدہ منصوبوں پر رقم لگانے سے بچ سکیں اور وہ کسی سیاسی پارٹی یا سیاسی لیڈروں کے کہنے پر بحریہ ٹاو¿ن کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی۔اور نہ ہی اس کا مقصد اس کاروباری گروپ بدنام کرنا مقصود ہے۔
پاکستان مسلم لیگ کے صدر سینیٹر چودھری شجاعت حسین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پنجاب حکومت ملک ریاض کی کردار کشی اور ذاتی مخالفت کی بناء پر روزانہ 3 کروڑ روپیہ ان کے خلاف اشتہارات کی اشاعت پر خرچ کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ پیسے لوگوں کی فلاح و بہبود، گلیوں، نالیوں، سڑکوں کی تعمیر، لوگوں کی صحت، تعلیم اور چھوٹے منصوبوں کیلئے رکھے جاتے ہیں ۔لیکن یہ پیسے اشتہارات کے ذریعے بحریہ ہاو¿سنگ سوسائٹی کو بدنام کرنے کیلئے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاو¿ن کے سابق چیئرمین ملک ریاض فلاحی کاموں میں پاکستان میں ایک بڑا مقام رکھتے ہیں، اس وقت لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد میں فائیو سٹار فری ہسپتال لوگوں کو فری ڈائیلائسس، کڈنی ٹرانسپلانٹ، ہپاٹائٹس جیسی مہلک بیماریوں کا مفت علاج فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے اندر روزانہ تقریباً ایک لاکھ افراد کو دوپہر اور شام کا کھانا مفت دیا جا رہا ہے۔ اگر کسی نے چیک کرنا ہو تو بحریہ دستر خوان پر جا کر دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میں اگر دیکھنا ہو تو پمز ہسپتال کے سامنے بحریہ دستر خوان پر جا کر دیکھیں کہ کس طرح کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ملک کے اندر ملک ریاض سے زیادہ امیر لوگ بھی موجود ہیں لیکن کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ چھ ماہ تک صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال رہنے والے پاکستانی بھائیوں کو چھڑوا سکے لیکن ملک ریاض نے 13کروڑ روپے تاوان دے کر اپنے ہم وطنوں کو بازیاب کروایا۔ اسی طرح انہوں نے زلزلے اور سیلاب کے دوران جو خدمات سرانجام دیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بحریہ ٹاو¿ن واحد کالونی ہے کہ جہاں پر نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے نہ سکیورٹی کیلئے کوئی چوکیدار رکھنے پڑتے ہیں۔ رہائشیوں کو ہسپتال، سپر مارکیٹ، سکول، کالج کی سہولیات میسر ہیں اور پاکستان کی سب سے بڑی مسجد بحریہ ٹاو¿ن میں تیار ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ملک ریاض کی شہرت کو اپنے ذاتی مفاد کیلئے عوام کے پیسے سے خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک ریاض حسین سے ہمارے دیرینہ خاندانی تعلقات ہیں۔بے شمار سماجی اور انسانی خدمات میں ان کا نمایاں نام ہے۔ ملک ریاض حسین کے پاس حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے کے کئی راز موجود ہیں جس کو ظاہر کرنے سے کئی شرفاءبے نقاب ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ویسے تو ان سے زیادہ پیسے لوگوں کے پاس موجود ہیں لیکن ان کو توفیق نہیں ہوتی کہ وہ دوسروں پر خرچ کر سکیں یہاں تک کہ ان کی بیگمات بچا ہوا کھانا ملازمین کو دینے کی بجائے فریج میں رکھ کر خراب کر دیتی ہیں جس کے بعد وہ پھینک دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ واقعہ سے ذاتی مخالفت کی سوچ رکھنے والے کسی کے سامنے اپنے نمبر ٹانگنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن عوام کو ملک ریاض حسین کی سماجی و انسانی خدمات کو بھی اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ خود ان کی ذاتی درخواست پر ملک ریاض نے بے شمار بائی پاس اور کینسر کے غریب اور مستحق مریضوں کا مفت علاج کروایا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ملک ریاض حسین ایک سیلف میڈ آدمی ہے اور محنت سے مقام بنانا جرم نہیں ہونا چاہئے۔ ملک ریاض حسین کے کاروباری اداروں سے لاکھوں افراد کا روزگار منسلک ہے اور اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ ملک ریاض حسین نے اپنے انٹرویو میں خود کہا تھا کہ موجودہ پنجاب حکومت کو جنوبی پنجاب میں سیلاب زدگان کےلئے مفت گھر وں کی تعمیر کروانے کے علاوہ آشیانہ پراجیکٹ کےلئے 85 کروڑ روپے کی امداد بھی دی تھی۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھاکہ میرے ذاتی علم میں ہے کہ چند ماہ پہلے ملک ریاض نے اسلام آباد میں ایک ہاﺅسنگ سکیم بنانے کا اعلان کیا تھا اس کے فارم لینے کیلئے عوام نے دفتر پر دھاوا بول دیا تھا اور انتظامیہ کو پولیس بلانی پڑی یہ ان کی ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لوگوں کو ان کے اداروں پر اعتماد ہے ان کے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کسی کے مفاد میں نہ ہو گی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s