خواتین

ہم کسی سے کم نہیں

منصور مہدی
سال 2012ء میں عالمی اور قومی اعزاز حاصل کرنے والی خواتین

1shad begum۔    2012ءمیں عالمی سطح پر مقبول ہونے 15سالہ ملالہ یوسف زئی نے نہ صرف عالمی امن ایوارڈ برائے چلڈران کے لیے منتخب ہوئیں بلکہ پاکستان کا پہلا “قومی اعزاز برائے امن” بھی جیتا۔ ملالہ نے 2012ءمیں ہی دختر پاکستان کا خطاب بھی حاصل کیا۔ ملالہ پاکستان میں جبر کے خلاف ایک مزاحمت بن ابھری۔ وہپہلی مرتبہ2009ءمیں عوامی توجہ کا مرکز بنیں جب انہوں نے بی بی سی اردو کے لیے ڈائری لکھنا شروع کی۔ جس میں وہ طالبان کے دور میں اپنی زندگی کا احوال بیان کیا کرتی تھیں۔ مینگورہ، ضلع سوات سے تعلق رکھنے والی طالبہ 1997ءمیں پیدا ہوئیں۔ وہ وادی سوات میں تعلیم اور حقوق نسواں کے لئے آواز اٹھانے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ملالہ اب تک مختلف اعزازت کے اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔9 اکتوبر 2012ء کو طالبان نے کارروائی کرتے ہوئے ملالہ کو سکول جاتے ہوئے گولی مار کر جان سے مارنے کی کوشش کی ۔گولی اس کے سر میں لگی اور اسے نازک حالت میں ہسپتال داخل کرنا پڑا۔ حملے کے بعد کئی روز تک ملالہ کو ہوش نہیں آیا تاہم بعد میں حالت مستحکم ہوتے ہی انکو صدر پاکستان آصف علی زرداری کی درخواست پر متحدہ عرب امارات کی حکومت نے خصوصی ایئر ایمبولینس بھیجی اور انکو برطانیہ کے ملکہ الزبتھ اسپتال، برمنگھم میں منتقل کردیا گیا-جہاں وہ اب روبصحت ہیں۔ اقوام متحدہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں ملالہ کے نام پر ایک تعلیمی فنڈ قائم کیا ہے بلکہ 10نومبر کو ہر سال عالمی طور پر ملالہ ڈے منانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ پہلا ملالہ ڈے 10نومبر 2012ءکو منایا گیا۔
2۔    شرمین عبید چنائے
شرمین عبید وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں کہ جنہوں نے 2012ءمیں تیزاب کے حملوں کا شکار افراد پر بنائی گئی اپنی دستاویزی فلم ’سیونگ فیس‘ پر آسکر ایوارڈ جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کے کسی ہدایتکار کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔ شرمین 1978میں پیدا ہوئیں اور بطور صحافی اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ شرمین نے اس سے قبل بھی 2010میں اپنی ایک دسراویزی فلم ” چلڈرن آف دی طالبان” پر ایمی ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ جبکہ وہ پہلی غیر امریکی خاتون ہیں کہ جنھوں نے ” لیونگ سٹون ایوارڈ فار ینگ جرنلسٹ” بھی حاصل کیا۔ 2012ءمیں ہی صدر پاکستان نے انھیں ہلال امتیاز کا اعزاز دیا۔ ٹائم میگزین نے انھیں 2012ءمیں دنیا کے 100با اثر افراد میں پہلا نمبر پر قرار دیا ہے۔
3۔    پاکستانی خاتون شاد بیگم بھی ان خواتین میں ممتاز مقام رکھتی ہیں کہ جو اپنی زندگیوں کو دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر دیتی ہیں ۔ شاد بیگم دنیا کی 10 باہمت ترین خواتین میں سے ایک خاتون ہیں کہ جنھوں نے باہمت ترین خاتون 2012ءکا عالمی اعزاز حاصل کیا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع دیر سے تعلق رکھنے والی شاد بیگم کو خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کا م کرنے پر ایوارڈ دیا گیا۔ شاد بیگم کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے ہاتھوں سے ایوارڈ دیا۔ شاد بیگم خواتین کے حقوق و فلاح کے لئے ایک تنظیم انجمن بہبود خواتین کی بانی ہیں جو خواتین کو چھوٹی سطح پر قرضے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سہولیات مہیا کرتی ہے۔ انہوں نے کئی بار خود کش حملوں کی دھمکی ملنے کے باوجود بھی اپنا کام جاری رکھا اور پرعزم رہیں وہ 2001 اور 2005 لوکل گورنمنٹ کی سیٹوں سے کامیابی بھی حاصل کر چکی ہیں اور خواتین کی معاشرے میں کام کرنے کی مخالفت کرنے والوں سے بدستور اپنی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
4۔    زبیدہ مصطٰفی پاکستان کے میڈیا میں کام کرنے والی پہلی خاتون صحافی ہیں کہ جنھوں نے انٹر نیشنل وویمنز میڈیا فاﺅنڈیشن کی طرف سے ” لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2012ئ” حاصل کیا۔ اس سے قبل بھی انھوں نے امریکی میڈیا کی جانب سے بہادری کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ویسے بھی زبیدہ مصطٰفی پاکستان کے میڈیا میں کام کرنے والی پہلی خاتون صحافی ہیں۔ جنھوں نے تقریباً 30 برس پہلے بطور صحافی کام کا آغاز کیا۔اپنی 30 سالہ پیشہ ورانہ زندگی میںزبیدہ نے بحیثیت اَسسٹنٹ ایڈیٹر ڈان میں گزاری۔ڈان کے نیوز روم کی پہلی خاتون ہونے کے علاوہ زبیدہ اس کے ایڈیٹوریئل بورڈ کی پہلی خاتون ممبر بھی تھیں جہاں انہوں نے اخبار میں خواتین کے مختلف مسائل کے بارے میں لکھنے پرزور دیا بجائے اس کے کہ ایک علیحدہ خواتین کا صفحہ مختص کیا جائے۔زبیدہ کے کام کامرکز معاشرے کی وہ عدم مساوات بن گئیں جو انہیں ہرطرف نظرآتی تھیں۔ انہوں نے صحت، تعلیم اور خواتین کے اختیارات کے بارے میں بھی مضامین تحریر کیے ہیں۔
5۔    ڈاکٹر فوزیہ سعید بھی 2012ءکی اعزاز یافتہ خواتین میں شامل ہیں کہ جنھوں نے عالمی اعزاز “Battle of Crete Award” جیتا۔ یہ ایوارڈ ایک امریکی تنظیم Washington Oxi Day Foundation کی جانب سے دیا گیا۔ یہ اعزاز اس باہمت خاتون کو دیا جاتا ہے کہ جس نے کسی فیلڈ میں انتہائی ہمت اور استقلال کے ساتھ ایک عرصہ گزار دیا ہو۔ یہ اعزاز پہلی بار دوسری جنگ عظیم میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں جرآت اور ہمت دکھانے والی خواتین کو دیا گیا۔ ڈاکٹر فوزیہ سعید نے بھی خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں 40برس گزار دیے۔ چنانچہ انھیں 2012ءکا اعزاز دیا گیا۔
6۔    2012ءمیں قومی اعزات حاصل کرنے والی خواتین میں فوزیہ وہاب بھی شامل ہیں ۔ جن کا انتقال بھی اسی برس 17جون کو ہوا۔ ان کی وفات کے بعد صدر پاکستان کی طرف سے انھیں ہلال امتیاز کا قومی نشان دیا گیا۔ پاکستانی خاتون سیاستدانوں میں ایک علیحدہ شناخت کی حامل فوزیہ وہاب کا سیاسی تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔1956ءمیں پیدا ہوئیں اور طالب علمی میں ہی سٹوڈنٹ لیڈر بن گئیں۔ پیپلز پارٹی میں مختلف عہدوں پر فائز رہیں اور 2002ءمیں قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئیں۔2008ءکے انتخابات میں آپ دوبارہ قومی اسمبلی کی ممبر چنی گئیں۔شیری رحمان کے استعفیٰ کے بعد آپ پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئیںمگر ریمنڈ ڈیوس کیس میں اس وقت کے وزیر خارجہ محمود قریشی سے اختلافات کے نتیجے میں استعفیٰ دے دیا۔آپ پارٹی کی ان چند اہم خواتین رہنماﺅں میں شامل تھیں جو الیکٹرانک میڈیا پر اپنی پارٹی کا مو¿قف بھر پور انداز میں پیش کرتی تھیں۔29 مئی 2012ءکو آپ پتہ کے آپریشن کے لیے کراچی کے ہسپتال میں داخل ہوئیں، تاہم حالت بگڑنے پر آئی سی یو میں لے جایا گیا، جہاں دو ہفتے تک وینٹی لیٹر پر رہیں اور بالآخر 17 جون کو خالق حقیقی سے جا ملیں۔
7۔     صوفیانہ کلام کی گائیکی میں شہرت حاصل کرنے والی پاکستان کی معروف گلوکارہ عابدہ پروین نے2012ءمیں دو اعزاز حاصل کیے۔ صدر پاکستان کی طرف سے انھیں ان کی فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں ہلال امیتاز کا قومی نشان دیا گیا جبکہ بھارت کی بیگم اختر اکیڈمی آف غزل کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔دنیا بھر میں اردو بولنے اور سمجھنے والوں میں عابدین پروین کی گائی ہوئی بے شمار صوفیانہ کافیاں اور غزلیں جیسے ’ دمادم مست قلندر، تیرے عشق نچایا، لٹھے دی چادر، کچھ اس ادا سے آج اور بلھے شاہ کی کافیاں بہت مقبول ہیں۔عابدہ پروین کا تعلق موسیقی کے ایک گھرانے سے ہے۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کی اور اپنی فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا۔عابدہ پروین اس سے پہلے بھی حکومت پاکستان کے پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سمیت کئی ایوارڈ حاصل کرچکی ہیں۔
8۔    فاطمہ ثریا بجیا پاکستان کی معروف ڈرامہ اور ناول نگار ہیں ۔ انھیں بھی ان کی ادب میں اعلیٰ خدمات پر صدر پاکستان کی طرف سے ہلال امتیاز کا قومی نشان دیا گیا۔ فاطمہ ثریا بجیا کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے ہے۔ فاطمہ ثریا اپنے نام کی بجائے بجیا سے پہچانی جاتی ہیں۔ بجیا نے ادب میں اس سے پہلے بھی متعدد قومی اور عالمی اعزازات حاصل کیے ہیں۔ ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور تھیٹر کے لیے کئی ڈرامے تحریر کیے ۔ ان کا پہلا ڈرامہ مہمان ڈرامہ نگاری میںان کی پہچان بن گیا۔ان کے معروف ڈراموں میں افشاں، عروسہ، اساوری، گھر ایک نگر ، قرض ایک فرض اور پھول رہی سرسوں پاکستان ٹیلی ویژن کے بہت مقبول ڈرامے ہوئے ہیں۔ 2012ءمیں ہی سندھ حکومت نے بھی کراچی میںگرامر کالج سے اسٹریٹ نمبر 11- کلفٹن تک بننے والی لنک روڈ کو فاطمہ ثریا بجیا کے نام سے منسوب کیا ہے۔ فاطمہ ثریا بجیا یکم ستمبر 1930ءکو بھارت کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔
9۔    پاکستان ٹیلی ویڑن کی معروف اینکر شائستہ زید نے بھی 2012ءمیں بطور نیوز اینکر اپنی خدمات کے عوض ستارہ امتیاز کا قومی نشان حاصل کیا۔ چار عشروں سے زائد انگریزی خبریں پڑھنے کے بعد 20جولائی 2012ءکو سبکدوش ہو گئی تھیں۔ آخری بار انگریزی کا بلٹن بھی اسی روز پڑھا۔ 1969ءمیں پاکستان ٹیلی ویڑن سے وابستہ ہونے والی شائستہ زید اپنی خوبصورت شخصیت خوش لباسی اور بہترین تلفظ کی وجہ سے انگریزی خبریں پڑھنے میں خصوصی مقام رکھتی ہیں۔ وہ پاکستان ٹیلی ویڑن سے وابستگی کو اپنی زندگی کا بہترین دور قرار دیتی ہیں۔ شائستہ زید نیوز کاسٹنگ کے شعبے میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔
10۔    2012ءمیں ستارہ امتیاز کا قومی نشان حاصل کرنے والی خواتین میں پاکستان مسلم لیگ کی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر عطیہ عنائت اللہ بھی ہیں۔ جو 4مارچ 1938کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئیں۔ آپ Demographics میں پی ایچ ڈی ہیں۔آپ ایک عرصے تک فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن سے منسلک رہیں۔ یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کی ممبر رہنے کے علاوہ انٹرنیشنل پلانڈ پیرنٹ ہوڈ فیڈریشن کی ممبر بھی رہیں۔ 1980ءمیں پاپولیشن پلاننگ کے شعبہ میں حکومت پاکستان کی مشیر مقرر ہوئیں اور 1985کے انتخابات میں پہلی بار قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئیں۔ 1988ءکے انتخابات میں دوبارہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ 1999ءمیں نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ممبر بنی۔
11۔     اسی برس ستارہ امتیاز حاصل کرنے والوں میں جگنو محسن کا نام بھی شامل ہے۔ خاتون صحافی انگریزی کے معروف ہفتہ روزہ کی پبلشر اور ایڈیٹر ہیں۔ آپ 1958میں پیدا ہوئیں ۔ 1999میں انھوں نے انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ 1991میں آپ نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ جس کی پہلی کتاب تہمینہ درانی کی My Feudal Lord, تھی۔ یہ کتاب اس وقت بہت سے حلقوں میں زیر بحث رہی۔
12۔     2012ءمیں عالمی اعزاز حاصل کرنے والوں میںشیری رحمان کا نام بھی شامل ہے۔ یہ اعزاز انھیں امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے دیا گیا۔ شہر بانو رحمان جو اپنی کنیت شیری کے نام سے جانی جاتی ہیں ایک صحافی اور سیاستدان ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاست میں آئیں اور مارچ2008ءسے مارچ 2009تک وفاقی وزیر اطلاعات رہیں۔ اپنے موقف پر ڈٹے رہنے پر وزارت کو خیر باد کہا۔ تعمیر مائیکرو فنانس بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو ندیم حسین ان کے شوہر ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔23نومبر 2011ءسے امریکہ میں پاکستان کی سفیر ہیں۔آپ 21دسمبر 1960کو پیدا ہوئیں۔
13۔    2012ءمیں خواتین کی جیت اور کامیابی کے حوالے سے پاکستان وویمن کرکٹ ٹیم کا نام بھی شامل ہیں کہ جنھوں نے پہلی بار Twenty-20ورلڈ کپ 2012ءمیں بھارت کی ٹیم کو شکست دینے کا اعزاز حاصل کیا۔ س سلسے کا میچ یکم اکتوبر 2012ءکو کھیلا گیا۔
ان خواتین کے علاوہ سال2012ءمیں جن خواتین نے اپنے اپنے شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں۔
سیاست کے شعبے میںمیں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سپیکر اور تین بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔حنا ربانی کھر جولائی2011ءمیں وزیر خارجہ منتخب ہوئیں ۔ انھوں نے 2012ءبہت اہم کانفرنسوں میں پاکستان کی بھر پور انداز میں وکلالت کی اور پاکستان کا موقف مضبوط انداز میں پیش کیا۔
2012ءکی امیر ترین خواتین سیاست دان نزہت صدیق ہیں ۔ جو پاکستان مسلم لیگ ن کی خواتین ونگ کی سینٹرل چیف آرگنائزر ہیں۔اور ایک ارب پچاس کروڑ روپے کے اثاثہ جات رکھتی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ خواتین سیاست دانوں میں سب سے زیادہ دولت مند ہیں۔
بیگم عشرت اشرف جنوبی پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان کے مضافاتی گاو¿ں سے تعلق ہے۔ یہ سیاستدان چوہدری محمد جعفر اقبال کی اہلیہ ہیں۔ ان کی بیٹی زیب جعفر پنجاب اسمبلی کی ر±کن اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر (ایڈوائزر) ہیں۔بیگم عشرت اشرف مسلم لیگ ن کی ایم این اے ہیں۔ وراثتی اثاثوں کی ملکیت کی وجہ سے پاکستان کی امیر ترین خواتین میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
کاروبار کی دنیا میں نسرین قصوری کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ 1975ءمیں بیکن ہاﺅس سکول کا آغاز ایک کمرے سے کیا۔ اب یہ سکول انڈونیشیا، بنگلہ دیش، ملائیشیا، پاکستان، اومان، فلپائن، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں 18ہزار طلبہ کی تعلیم کے لیے سرگرداں ہے۔2004ءمیں درمیانے طبقے تک سکول کی تعلیم پہنچانے کے لیے ”دی ایجوکیٹرز“ کا آغازکیا۔نسرین قصوری بھی 2012ءمیں ایک نمایاں خاتون شخصیت رہیں ہیں۔
2012ءکی با اثر خواتین میں سیدہ حنا بابر علی بھی شامل ہیں۔ان کی اصل پہچان پیکجز(Packages) کی کنزیومر پراڈکٹس ڈویڑن کی سربراہ کے طور پر ہے۔ جو بہت مضبوط مالی ادارہ ہے۔ پاکستان میں گتا سازی اور پیپر مارکیٹنگ میں پہلے نمبر پر ہے۔ پیکجز کے جاپان کی موٹر ساز کمپنی مسٹوبشی اور اس جیسے دیگر کئی بڑے اداروں کے ساتھ شراکتی کاروبار ہیں۔ سیدہ حنا نے یونیورسٹی آف مشی گن سے لٹریچر میں ماسٹر ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔شاعری کا شوق ہے۔9سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ پہلا شاعری مجموعہ 1985 میں شائع ہوا۔
اسی برس کی باثر خواتین میں روشانے ظفر بھی ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے گرامین بینک کے کام سے متاثر ہوکر پاکستان میں 1996ء میں کشف فاﺅنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ لاہور کے ایک امیر گھرانے (ایس ایم ظفر کی صاحبزادی) کی چشم و چراغ ہیں۔ ان کے ادارے نے 10 ہزار امریکی ڈالر اور15ہزار صارفین کے ساتھ آغاز کیا اور اب اس ادارے کی152شاخیں ہیں۔ اب تک20کروڑسے زائد امریکی ڈالر کے ذریعے3لاکھ سے زائد خاندانوں کو مستفید کر چکی ہیں۔ روشانے ظفر پاکستان مائیکرو فنانس نیٹ ورک، این جی اوز اور جن میں وومن ورلڈ بینکنگ ، پاکستان مائیکرو فنانس نیٹ ورک، کاروانِ کرافٹس شامل ہیں، کے بورڈ کی رکن ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایڈوائزری گروپ کی فنانس سروسز کی رکن ہیں۔
سماجی بہبود کے کاموں میں حسب سابق 2012ءمیں بھی بلقیس ایدھی نمایاں رہیں۔ 14اگست1947کو پیدا ہوئیں۔بنیادی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔ ایک نرس کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ عبدالستار ایدھی سے شادی کے بعد ایدھی فاﺅنڈیشن کی شریک چیئرپرسن بن گئیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ خدمت میںاعلیٰ کارکردگی کی بنا پر ہلالِ امتیاز حاصل کیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s