خواتین

کربلا کی بے مثل خواتین

منصور مہدیNight_of_Ashura_in_karbala
مرد اور عورت دونوں معاشرہ کوتشکیل دینے میں برابر کے شریک ہیں۔ اسی طرح اس معاشرے کی حفاظت کرنے میں بھی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔تاہم ان کا طریقہ کار مختلف ہے۔پہلا کردار اپنے گھر، بچوں اور شوہر کی اطاعت اور مدد کرنا ہے جبکہ دوسرا کردارسماجی، سیاسی اور معاشرتی امور میں حصہ لےکراپنی فعالیت دکھانا ہے ۔
اگر دنیا کی عظیم شخصیات کو دیکھا جائے کہ جنہوں نے معاشرے میں اور معاشرے کے مختلف طبقات میں انقلاب برپا کیے ہیں۔ یا دیگر نوعیت کے اہم درجات حاصل کیے ہیں۔توان کی سوانح حیات کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے ان کی کامیابی کاراز دو شخصیات کی مرہون منت ہے۔ ایک وہ ماںکہ جس کی تربیت کی وجہ سے اس کی اولاد کامیابی کے عظیم مقام تک پہنچ گئیاور دوسرے وہ باوفا اور جان نثار بیوی کہ جس کی مدد سے اس کا شوہر کامیابی کے بلند درجے تک پہنچ گیا۔
تاریخ اسلام کو اگر بغور دیکھا جائے تو ہمیں اس میںبہت سی ایسی مو¿منہ اور فداکار خواتین نظر آتی ہیں کہ جنہوں نے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ سیاسی اور اجتماعی امور میں اپنی فعالیت اور کردار کو بخوبی نبھایا ہے۔ اولاد کی صحیح تربیت دینے کے علاوہ اپنے مردوں کے شانہ بہ شانہ رہ کر دین اورمعاشرے کی اصلاح کی ہیں۔اسی طرح کربلا کے میدان میں بھی خواتین نے عظیم کارنامے سرانجام دیے ہیں۔
اصل میں واقعہ کربلا کوئی یکدم ہونے والے واقعات میں سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک تحریک کے نتیجے میں برپا ہوا۔ اور یہ تحریک اسی دن سے شروع ہو گئی تھی کہ جب اسلام میں ملوکیت کا دور دورہ شروع ہوا۔ یہ تحریک بڑے نشیب و فراز سے گزر تے ہوئے کربلا تک پہنچی۔چونکہ یہ تحریک امت مسلمہ کی بیداری کی تحریک تھی لہذا اس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
کربلا کی ان مثالی خواتین نے ملوکیت کی پروردہ قوتوں کے مقابل اپنے معصوم بچوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا، یہاں تک کہ اپنے سہاگ کو بھی راہ خدا میں قربان ہوتے دیکھا لیکن رسول اسلام کے دین کی کشتی انسانیت کو ڈوبنے نہیں دیا۔واقعہ کربلا کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ معرکہ کربلا میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی شید الشہد ا امام حسین ؑ ادھورا ہی رہ جاتا۔ یہی سبب ہے کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملوکیت کے مقابلے میں بیداری امت کی تحریک میں اپنے ہمراہ اسلامی معاشرے کی آئیڈ یل خواتین کو میدان کربلا میں لائے تھے۔
چنانچہ کربلا کی ان شیردل خواتین نے بھی مصائب کی شدت میں گرفتار ہو کر اپنے کردار وعمل سے یہ ثابت کردکھایا کہ آزادی ضمیر انسانی کے امام کربلا میں ان خواتین کو بے مقصد نہیں لائے تھے۔ فاتح کوفہ وشام جناب زینب بنت علی ؑ کے بے مثل کردار وقربانیوں سے تاریخ کربلا کا ہرورق روشن نظر آتا ہے۔آپ نے اپنے جگر پاروں عون ومحمد کو اپنے نانا کے دین پر یہ کہہ کر قربان کردیا کہ اگرتم نے نصرت امام میں اپنی قربانیاں پیش نہیں کیں تو تمہیں دودھ نہیں بخشوں گی۔ حق اورفرض شناسی کی راہ میں دنیا کی ماو¿ں کے لیے یہ جذبہ درس عبرت ہے۔
اسی طرح امام حسین ؑ کی شریک حیات جناب ام لیلیٰ اور جناب ام ارباب کے بے مثل کردار آج بھی آزادی ضمیر کا نعرہ لگانے والوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتے۔ زوجہ حضرت عباس علمدار ؑ جنہوں نے اپنے بچوں اور اپنے سہاگ کو راہ خدا میں قربان کردیا فراموش کر دینے کے قابل نہیں ہےں۔ زوجہ حضرت قاسم بن حسنؑ کا کردار بھلائے نہیں بھولتا، کہ جنہیں حالات کی ستم ظریفی نے ایک ہی شب میں بیوگی کی چادر اوڑھنے پر مجبور کردیا۔کربلا کی خواتین کے ان بے مثل کرداروں کے درمیان کم سن بچی سکینہ کا کردار بھی اہل دل کے قلوب کو گرما ئے بغیر نہیں رہتا۔جناب سکینہ جو امام حسینؑ کی سب سے کمسن بیٹی تھیں واقعہ کربلا سے لے کر زندانِ شام تک مصائب کے پہاڑ برداشت کرتی رہیں لیکن کوئی تاریخ یہ نہیں بتلاتی کہ اس کمسن بچی نے مصائب اور پیاس کی شدت سے تنگ آکر امام حسین ؑ سے کہا ہو کہ بابا یزید کی بیعت کیوں نہیں کرلیتے۔
اسی طرح دنیا کی کوئی تاریخ یہ بھی نہیں بتاتی کہ کسی ماں نے اپنے شیر خوار بچے کو میدان جنگ کے لیے رخصت کیا ہو۔ کربلا کی جنگ میں ایسا بھی ہوا کہ ام رباب نے اپنے چھ مہینے کے معصوم علی اصغر ؑ کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ ایک ایک کر کے سب کے باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹے شہید ہوتے رہے ۔ آخر کار ان خواتین کے امتحان کی وہ صبر آزما منزل آ گئی کہ جب امام حسین ؑ خود رخصت آخر کے لئے خیمہمیں تشریف لائے تھے۔مگر انھوں نے وہ مرحلہ بھی بڑے صبر سے گزارا۔ واقعہ کربلا کے بعد بھی اسیری کے دوران پیش آنے والے روح فرسا مصائب کو برداشت کیا،کوفہ و شام کے بازاروں سے گزرنا گوارا کیا مگرملوکیت کے سامنے دین کے اصولوں کا سودا نہیں کیا۔
میدان کربلا میں صرف خاندان رسالت کے اہل حرم نے ہی قربانیاں پیش نہیں کیں تھیں بلکہ اس گھرانے کی کنیزوں اوردیگر انصار خواتین نے بھی اپنے ایثار وقربانی کے ایسے جوہر دکھائے جو آج بھی تاریخ انسانیت کے ماتھے کا جھومر بن کر چمک رہے ہیں۔زوجہ حبیب ابن مظاہر کا کردار بھی حق کے مثلاشیوں کے لیے لائق تقلید ہے کہ جنہوں نے اپنے شوہر حبیب ابن مظاہر کوامام حسین ؑ کے ساتھ قربان ہونے کے لیے آمادہ کیا۔
اسی طرح وہب کلبی کی والدہ گرامی کاکرداربہت متاثر کن ہے جو کوفہ کے نصرانی ( عیسائی) قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے 18سالہ بیٹے وہب جن کی شادی کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا ،کو روزِ عاشورہ نصرت امام حسین ؑ پر قربان کردیا۔ اس خاندان کو یہ بھی اعزاز ہے کہ نہ صرف وہب کربلا کے پہلے شہید ہےں بلکہ ان کی زوجہ کربلا کی واحد خاتون شہید بھی ہیں۔ وہب کی والدہ اپنے بیٹےکو شہادت کی ترغیب دلاتی تھیں کہ میرے بیٹے اٹھو، اور فرزند رسول کی مدد کرو کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ لوگ کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے نانا کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا اور ان کے غلام کے اذان نہ دینے پر سورج ہی طلوع نہیں ہوا تھا۔
وہب میدان جنگ میں لڑتے ہوئے جب شہید ہو گئے تو ان کی والدہ ان کی لاش پر پہنچیں توشمر نے وہب کلبی کا کٹا ہوا سرماں کی جانب پھینک دیا۔ لیکن اس شیر دل ماں نے اپنے بیٹے کے سرکو واپس یزیدی فوج کی طرف پھینکتے ہوئے کہا رسول کے خاندان پر قربان کی ہوئی چیزوں کو ہم واپس نہیں لیتے۔ اس خاتون نے صرف اتنا ہی نہیں کیا بلکہ بیٹے کی تلوار اٹھا کر یزیدی فوج کی طرف بڑھیں کہ اتنے میں امام حسین ؑ نے انھیں اس حالت میں دیکھ کر کہا کہ رک جاﺅ وہب کی ماں کہ اسلام میں مردوں کی موجودگی میں خواتین کو جہاد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہوہ واپس آگئیں مگر جب وہب کی بیوہ شوہر کی لاش پر پہنچیں تو یزیدی فوج نے ان کے سر پر نیزہ مار کر انھیں شہید کر دیا۔
جناب عباس ؑ کی والدہ کا کرادر بھی مثالی تھا کہ جنہوں نے مدینہ سے روانگی کے وقت اپنے چاروں بیٹوعباس،عبداللہ ، جعفر اورعثمان اور ایک پوتے کو امام حسین ؑ کے ساتھ روانہ کیا اور اپنے ساتھ ایک بھی نہیں رکھا۔ ان کے علاوہ عبداللہ بن الحسین ؑکی ماں جناب رباب، عون بن عبداللہ بن جعفر کی والدہ ، قاسم بن الحسن کی ماں ر ملہ، عبداللہ بن الحسن کی ماں، عبداللہ بن مسلم کی ماں رقیہ، محمد بن ابی سعید بن عقیل کی ماں،عمر بن جنادہ کی ماں، علی ابن الحسین ؑکی ما ں لیلیٰ، زہیر بن قین کی زوجہ دیلم بنت عمرو بھی ان خواتین میں شامل تھیں کہ جنہوں نے بیدار ی اسلام کی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
یہ وہ خواتین ہیں کہ جنہوں نے واقعہ کربلا کے بعد اسیری کے دوران جناب زینب بنت علی ؑ کی رہنمائی میں شام و کوفہ کے بازاروں میں سے گزرتے ہوئے اور یزید کے دربار میں اپنے خطبوں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں حضرت علی علیہ السلام کے خطبوں کی یاد تازہ کردی۔ انہوں نے اپنے خطبوں اور تقریروں کے ذریعے اس تحریک کو عام لوگوں تک پہنچایا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر خواتین حضرت امام حسین ؑ کا ساتھ نہ دیتی تو امت مسلمہ کی بیداری کی یہ تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی بلکہ یہ کربلا میں ہی ختم ہوجاتی ۔ ان خواتین نے ہی اس واقعہ کی یاد کو زندہ اور پائندہ بنایا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s