سچی کہانیاں

کنٹینر میں دم گھٹنے سے ہلاک ہونے والے 21پاکستانیوں کا قاتل گرفتار

منصور مہدی
human trafficking
21تارکین وطن کے قتل میںملوث انسانی سمگلر آغا عنایت ڈیرھ سال مفرور رہنے کے بعد آخر کار گرفتار ہوگیا۔ جبکہ اس گینگ کے دو اہم ارکان سیالکوٹ کا صادق شاہ اور ڈسکہ کا محمد حنیف پہلے ہی 16اگست 2011ءکو گرفتار ہو چکے ہیں۔ آغا عنایت میں انسانی سمگلنگ کے حوالے سے درجنوں مقدمات درج ہیں۔ مگر ایک اہم کیس 21پاکستانیوں کی ہلاکت کے بارے میں ہے۔ کہ جنہیں یہ سمگلر ترکی کے راستے ایک چھوٹے سے کنٹینر میں بند کر کے یورپ لیجارہے تھے۔ کہ راستے میں دم گھٹنے سے کنٹینر میں بند سب افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے ان افراد میں سے 6ڈسکہ، 2لالہ موسیٰ ، 9کراچی اور 4وزیرآباد کے رہائشی تھے۔
آغا عنایت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک عرصے سے انسانی سمگلنگ میں ملوث چلا آرہا ہے اور اپنے اثر و رسوخ سے آج تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے بچا رہا۔ یہ زیادہ تر گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، منڈی بہاو¿الدین اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جو بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانا چاہتے ہیں کو ورغلا کر نہ صرف ان سے لاکھوں روپے بٹور لیتا ہے بلکہ ان میں سے بیشتر کو ایران، ترکی اور یورپ کے راستے میں تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ جن میں سے اکثر اسی ملک میں گرفتار ہو جاتے ہیں یا در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے اور مشکلات سے دوچار ہوتے ہوئے یا تو منزل پر پہنچ جاتے ہیں یا پھر گرفتار ہو کر وطن واپس آجاتے ہیں۔
وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے اسی فیصد افراد کا تعلقگوجرانوالہ ریجن اور اس سے ملحقہ چھ اضلاع سے ہے جبکہ ایف آئی اے کی ریڈ بک میں شامل70 فیصد انسانی سمگلر بھی گوجرانوالہ ریجن کے ہیں۔
انسانی سمگلنگ اور تارکین وطن سے متعلق کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم FAIR BE (بی فیئر) کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ اورتارکین وطن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ جبکہ اکیسویں صدی میں انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی طور پر ترک وطن کرنے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ’اس وقت دو سو ملین لوگ اپنا وطن ترک کرکے مہاجرین کی طرح زندگی گزار رہے ہیں یہ انسانی آبادی کا تیسرا حصہ ہے۔ ہر35 میں سے ایک فرد نقل مکانی کی صورتحال سے دو چار ہے ہر سال 45 ملین لوگ نقل مکانی کے عمل سے گزرتے ہیں‘۔
جبکہ پاکستان اس غیر قانونی انسانی سمگلنگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ یہاں سے نہ صرف انسانی سمگلنگ ہوتی ہے بلکہ اس کو گزرگاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بنگلہ دیش ،سری لنکا، برما اور انڈیا سے خواتین ، بچوں اور مردوں کو غیر قانونی طور پر خلیجی ممالک ، ترکی، ایران اور یورپ پہنچانے کے لیے ہوائی ، سمندری اور زمینی راستوں سے سمگل کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہخوشحال مستقبل کی تلاش کے لئے بیرون ملک جانے کی خواہش میں ہر سال نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد انسانی اسمگلروں کے جال میں پھنس کر نہ صرف روپے پیسے سے بلکہ اپنی جانوں سے محروم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے غیر قانونی کاروبار کا حجم کروڑوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔انسانی اسمگلر بیرون ملک جانے کی خواہش مند نوجوانوں کو غیر قانونی طریقوں سے پر خطر زمینی اور فضائی راستوں سے منزل تک پہنچاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ راستے میں ہی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا وہ منزل پر پہنچ کر بد تر غلاموں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ بے روزگاری، خراب معاشی حالات اور امن و امان کی صورتحال انسانی سمگلنگ کا سب سے اہم سبب ہے۔کچھ دہائیاں پہلے تک جب ملک میں زیادہ مہنگائی نہیں تھی تب صرف گھر کاسربراہ کام کرتا تھا اور تمام گھر والے اس آمدن میں گزارا کرتے تھے تواس وقت کوئی پاکستانی بیرون ملک جانے کا نہیں سوچتا تھا کیونکہ اکثریت کی سوچ یہ ہوا کرتی تھی کہ اپنے گھر میں رہ کر آدھی روٹی اچھی ہے بجائے اس کے کہ پردیس میں جاکر پوری روٹی کھائی جائے۔ مگر 1973 میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دلچسپی سے جب عرب اور یورپی ممالک میں پاکستانیوں کے جانے کے لیے راہ ہموار ہوئی تو اکثریت نے ادھر کا رخ کیا جس وجہ سے ان خاندانوں اور بتدریج ملک میں خوشحالی آنے لگی تو دیگرلوگوں میں بھی بیرون ملک جانے کی خواہش بڑھنے لگی مگر اس وقت حالات مختلف تھے اور بیرون ملک جانے والوں کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ ایک عالمی مسئلہ ،منظم جرم ، منافع بخش کاروبار اور پیسہ کمانے کا آسان طریقہ ہے۔ جس میں ایجنٹس کے پورے پورے نیٹ ورک ملوث ہیں۔ پاک ایران سرحد پر انسانی سمگلنگ کی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہیں۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد 900 کلومیٹر طویل ہے جہاں سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہیں کیونکہ صرف تافتان کے مقام پر دونوں ملکوں کے درمیان امیگریشن مرکز ہے اور وہ بھی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہے۔ چنانچہ ایسے حالات انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے لیے خاصی کشش کا باعث ہیں۔
پاکستان میں بلوچستان سے ایران پھر ترکی اور پھر وہاں سے یونان یہ ایک روایتی راستہ رہا ہے اور جب اسمگل کیے جانے والے افراد وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ بشمول یورپی ملکوں میں تو وہاں موجود ایجنٹس انھیں ان کی مرضی کی منزلوں پر بھیج دیتے ہیں۔ یہ ایک بہت اذیت ناک سفر ہوتا ہے جس کے دوران اکثر لوگ گرفتار یا پھر مارے جاتے ہیں۔ بلوچستان کی سرحد پر ایران میں مند بیلو کا علاقہ انسانی اسمگلروں کے زیر استعمال ہے۔ یہاں سے یہ بڑے بحری جہازوں یا کشتیوں میں مسقط جاتے ہیں اور پھر وہاں سے یہ مشرق وسطی کی ریاستوں میں نکل جاتے ہیں۔ ایران سے سالانہ تقریبا 15 ہزار جب کہ عمان سے لگ بھگ 7 ہزار پاکستانیوں کو گرفتاری کے بعد ملک بدر کرکے پاکستانی حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔ تاہم انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے افراد کی سالانہ مجموعی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی اقتصادی بدحالی اور امن وامان کی خراب صورت حال سے پریشان وہاں کے باشندوں کو مغربی اور خلیجی ممالک کی طرف اسمگل کرنے کے لیے پاکستان کو راہداری کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان 2400 کلومیٹر طویل سرحد پر صرف چمن اور طورخم کے مقام پر دو امیگریشن پوسٹیں ہیں اور ان پر بھی محض پانچ فیصد افراد بین الاقوامی مسافر ہوتے ہیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق یورپ میں ویزا اور امیگریشن کے نظام میں موثر تبدیلیوں کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے تعاون سے خصوصا ہوائی اڈوں پر جدید مشینری کی تنصیب کی مدد سے اب جعلی سفر ی دستاویزات کی بنیاد پر ہوائی راستوں سے پاکستان سے انسانی اسمگلنگ مشکل ہونے کے بعد اب انسانی اسمگلنگ کے لیے زیادہ تر غیرقانونی سرحدی راہداریوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انتہائی محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان میں سرگرم عمل انسانی اسمگلر اس غیرقانونی کاروبار سے تقریبا 11 کروڑ ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔
امیگریشن حکام کی طرف سے سختی کے بعد اب انسانی سمگلروں نے لوگوں کو لوٹنے کا ایک اور طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ ان سمگلروں نے طالب علموں کوبیرون ملک تعلیم دلوانے والے ادارے بنا لیے اور بیرون ملک تعلیمی کالجوں میں داخلہ کرانے اور وظائف دلوانے کا جھانسہ دیکر”سٹوڈنٹ ویزہ ” کے نام پرمتعدد طالب علموں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ اب نہ صرف گوجرانوالہ اور اس ملحقہ اضلاع بلکہ لاہور اور کراچی سمیت بلکہ پورے ملک میں ایسے اداروں کا جال پھیل چکا ہے جو طالب علموں کو دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً امریکا، کینیڈا، جرمنی، آئر لینڈ، سکاٹ لینڈ، آسٹریلیا، آسٹریا، ملائشیا، یونان، چین، یوکرائن، روس اور دیگر یورپی اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں قائم کالجوں، سکولوں اور دیگر فنی اور غیر فنی اداروں میں داخلے دلوانے کی سہولت فراہم کر نے کا کام کرتے ہیں۔
ان میں سے متعدد ادارے وظائف دلوانے اور تعلیمی ویزا دلوانے کا بھی کام کرتے ہیں۔ ان اداروں کے مالکان خود کو ان غیر ملکی اداروں کا نمائندہ ظاہر کر کے مختلف کورسز جیسے اے لیول، بی اے آنرز، اکانٹنگ، بزنس ایڈمنسٹریشن، قانون کی ڈگری،ماسٹر ڈگری، ڈاکٹریٹ، انگلش زبان کے کورسز، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات میں داخلے کے ساتھ وہاں کا ویزا دلوانے کی گارنٹی بھی دیتے ہیں اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مستقبل کی تلاش میں سرگرداں نو آموز طالب علموں کو اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں اور مشاورت کے نام پر ان سے ہزاروں روپے وصول کر کے مختلف نوعیت کے فارموں اور کاغذوں پر دستخط کروا لیتے ہیں اور جب ویزا نہیں لگتا اور داخلہ نہیں ملتا تو یہ رقم طالب علموں کو واپس کرنے کی بجائے مشورہ فیس کہہ کر ہضم کر جاتے ہیںاور پھر ان کو بغیر ویزے کے غیر قانونی طور پر باہر بھجوانے کی ڈیل کرکے اپنے چنگل میں پھنسایا جاتا ہے۔
جیسا کہ لاہور کا عاصم ملک جس کے خلاف اب تک 100کے قریب مقدمات درج ہو چکے ہیں اور جو گذشتہ 10سے زائد سالوں سے یہی دھندا کر رہا تھا۔ مگر ہائی کورٹ کے حکم پر جب اس کے خلاف قانون کی گرفت سخت ہونی شروع ہوئی تو وہ ہزاروں لوگوں سے بٹورے کروڑوں روپے لیکر بیرون ملک فرار ہو گیا۔
اصل میں یہ فراڈیے لوگ انٹر نیٹ سے مختلف ممالک میں قائم کالجوں کی تفصیل اور داخلے کا طریقہ کار معلوم کر تے ہیں اور نیٹ کی مدد سے ان ممالک کی ویزا پالیسی معلوم کر تے ہیں اور پھر خود ماہر تعلیم اور ماہر ویزا جات بن کر لوگوں کو پھانستے ہیں۔ یہ ادارے کسی بھی سرکاری محکمے سے منظور شدہ بھی نہیں ہوتے البتہ کچھ ادارے بطور فرم کے رجسٹر ہوتے ہیں اور کچھ کمپنی کے طور پر اپنی رجسٹریشن کرواتے ہیں جبکہ چند ایک ادارے اپنے نام کا ٹریڈ مارک اور کاپی رائیٹ لے کرخود کو حکومت پاکستان کا منظور شدہ لکھ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
انسانی سمگلنگ کے حوالے سے ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اب ایف آئی اے نادرا سمیت بارہ ممالک کے ساتھ آن لائن رہنے کے لیے ایک جامع پلان پر عمل کر رہی ہے جس سے انسانی سمگلنگ اور ترک وطن کرنے والے افراد کی روک تھام میں کافی مدد مل سکتی ہے جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک ملک میں توانائی کے مسائل حل نہیں ہوتے اور بے روزگاری شرح کم نہیں ہوتی اور ملک میںخوشحالی نہیں آتی تب تک انسانی سمگلنگ کو روکنا بہت مشکل کام ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s