گلاب / درخت اور پودے

گلاب: خوبصورت شکل اور من پسند خوشبو کی وجہ سے پھولوں کا بادشاہ


گلاب اپنی خوبصورت شکل اور من پسند خوشبو کی وجہ سے پھولوں کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ اس کی کاشت پوری دنیا میں مختلف ناموں سے کی جاتی ہے۔

گلاب کی 100 سے زیادہ انواع (Species) ہیں۔جبکہ رنگوں کے اعتبار سے بھی یہ سفید، سرخ، سیاہ، صندلی اور کئی رنگوں میں ہوتا ہے۔ یہ سدا بہار ہے اور محبت کے اظہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

گلاب کے پودوں کی بہت سی اقسام ایشیاءمیں پائی جاتی ہیں۔جبکہ پاکستان میں بھی اب یہ تمام اقسام موجود ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گلاب ایسی جگہ اگانے چاہئیں، جہاں روزانہ چھ گھنٹوں تک اسے سورج کی روشنی میسر ہو۔جبکہ کچھ باغبانوں کا کہنا ہے کہ گملے میں لگے گلاب آسانی سے بڑے ہوتے ہیں۔ ان کی نشو نما اچھے طریقے سے ہوتی ہے۔ جب بھی آپ گلاب اگائیں تو گہرائی کی مٹی گیلی ہونی چاہیئے۔ پانی ہمیشہ صبح کے وقت دینا چاہیئے۔ لیکن بہت زیادہ پانی نہ دیں۔

گلاب برطانیہ اور امریکہ کا قومی پھول ہے۔ اور اس کے علاوہ یہ اسلام آباد وفاقی دار الحکومت کا علاقائی پھول بھی ہے۔

زمانہ قدیم میں گلاب اور اس کی دوائی خاصیتوں اور فوائد کے بارے میں رویات بہت عام تھیں۔ ڈاکٹر لِنڈ لے نے گلاب کے موضوع پراپنے مقالے میں صرف گلاب کے بارے میں ایک الگ قرابادین(فارماکوپیا) مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ عرق و عطر کی کشید سے پہلے،گلاب کے تمام اجزا علاجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ گلاب اس اعتبار سے ایک نہایت مفید عطیۂ خداوندی ہے کہ اس سے توانائی کے علاوہ صحت و تندرستی کے احساس میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

روغنِ گلاب کی خصوصیات:۔

گلاب دافع ورم،جراثیم کش،مانع تشنج اور دافع دق و سل ہوتا ہے۔ اس میں وائرس اور پھپوندی دور کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ گلاب کے روغن میں زخم بھرنے، پیشاب صاف لانے،بدبو دورکرنے،تقویتِ باہ کی خاصیت بھی پائی جاتی ہے۔ گلاب کا روغن بھول لگاتا، قبض دورکرتا اور تسکین بخش ہوتا ہے۔ روغن گلاب میں سمی اثرات نہیں ہوتے اس اعتبار سے یہ محفوظ ہوتا ہے۔ اسی طرح حمل کے دوران جنین پر بھی اس کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ خالص عطر گلاب کے لگانے سے بعض لوگ ہلکی خارش محسوس کرسکتے ہیں اس کے کھانے سے بھی کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں بھی اس کی مانع وائرس صلاحیت کی توثیق ہوئی ہے۔

عرقِ گلاب:۔

اس کے اثرات بھی روغنِ گلاب جیسے ہی ہوتے ہیں۔ اس کی لطیف خوش بو فرحت بخشتی ہے اور اس میں شامل قدرتی تیزاب ،موثر مانع ورم ہونے کی وجہ سے جلد کا اچھا محافظ ثابت ہوتا ہے۔ خشک اور نازک جلد کاعرق گلاب اچھا معاون ہوتا ہے۔ آنکھوں کی سوجن اور جلن اس سے دور ہوتی ہے۔

روغنِ گلاب کے طبّی استعمال:۔

روغنِ گلاب خشک اور شکستہ جلد کے علاوہ ایگزیما اور حساس جلد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے جلد کی خارش،خشکی اور ورم بھی دورہوتا ہے۔ بوڑھی ہوتی جلد پر اس کی مالش بہت مفید ثابت ہوتی ہے،یعنی جھریاں کم پڑتی ہیں۔ روغن گلاب سے تیار کیاہوا مرہم،اشعاع اور سورج کی کرنوں سے کی وجہ سے جلد کے سرطان میں مبتلا مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوا۔جلد کے ریشوں کی ٹوٹ پھوٹ بھی اس سے رُک گئی۔ جلد کے زخم کے سینکڑوں مریض جو اینٹی بایوٹکس سے ٹھیک نہیں ہوتے تھے، اس کے استعمال سے صحت یاب ہوگئے۔

نظامِ ہضم

اپنے مانع ورم و جراثیم خواص کی وجہ سے روغن گلاب آنتوں کے ورم اور معدے کے زخم کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس سے متلی دور ہوتی ہے اور آنتیں قوی اور درست ہوجاتی ہیں۔

سانس کا نظام

اس میں دمے،کھانسی اور بخارکاہی(ہے فیور) شامل ہے۔

نظامِ تولید

روغنِ گلاب نظام تولید اور جنسی صلاحیت پر اثرات مرتب کرتا ہے۔ سن یاس میں جب ایّام بے قاعدہ ہوں یا ان کی کثرت ہو، یہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ لیکوریا کی شکایات اور تشنج کے لیے بھی مفید ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s