متفرق

پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے بڑھتے ہوئے تعلقات

منصور مہدیtractor
پاکستان اور بھارت کی کمپنیوں نے پاکستان میں بھارتی ساختہ ٹریکٹرز متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے اورجوائنٹ وینچر اور تکنیکی تعاون کے ذریعے2013ءمیں 7500 بھارتی ٹریکٹرز پہلی مرتبہ براہ راست درآمد کیے جائیں گے۔ پاکستان کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ ملتے ہی ٹریکٹرز کی درآمد شروع ہو جائے گی۔جبکہ سال 2014ءمیں 10ہزار اور سال 2015ءمیں 12ہزار ٹریکٹر درآمد کیے جائیں گے۔ جبکہ ان ٹریکٹروں کی اسمبلنگ کیلیے پلانٹبھی تعمیر کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت پاکستان میں5لاکھ50 ہزار کے قریب ٹریکٹر زیر استعمال ہیں۔ 90کی دہائی کے آخری سالوں میں پاکستان میں 30000 سالانہ سے زائد ٹریکٹر فروخت ہوئے جبکہ گذشتہ برس 2011ءمیں ان کی تعداد 70000 سالانہ تک پہنچ گئی تھی ۔جبکہ پیداوار 80 ہزار یونٹ تھی جس میں سے 10 ہزار ٹریکٹر برآمد کئے گئے تھے۔
پاکستان کا کل رقبہ 1960ملین ایکڑ پر مشتمل ہے۔جبکہ 71.1ملین ایکڑ رقبہ قابل کاشت ہے اور71.1ملین ایکٹر رقبے میں سے صرف 54.5فیصد رقبہ زیر کاشت ہے۔ اس لحاظ سے ابھی بھی پاکستان میں 20سے30ہزار ٹریکٹر سالانہ کی کمی ہے۔ جو بھارت سے درآمد کر کے پوری کی جا سکتی ہے۔
چنانچہ پاکستان کی کمپنی یونیورسل ٹریکٹرز پاکستان لمیٹڈ نے بھارتی ٹریکٹر سازکمپنی ایسکورٹس (Escorts) لمیٹڈ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اگلے برس سے پاکستان میں بھارتی ٹریکٹرز کی درآمد شروع ہو جائے گی۔بھارتی کمپنی نہ صرف پاکستان میں ٹریکٹرز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹریکٹرز برآمد کرنا چاہتی ہے بلکہ وہ پاکستان میں اپنے پارٹنر کے ساتھ مل کر ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔یہ ٹریکٹرز واہگہ کے راستے درآمد کیے جائیں گے اور لاہور کے مضافات میں ویئر ہاﺅسنگ کی سہولت بنائی جائیگی جس کے بعد ملک بھر میں بھارتی ٹریکٹرز فروخت کیے جائیں گے۔
جبکہ اس معاہدے کے تحتپاکستان میںایسکورٹس کے ٹریکٹرز اسمبل کرکے ری ایکسپورٹ بھی کیے جاسکتے ہیں اور پاکستان میں تیار کردہ ٹریکٹرز بھارت میں بھی فروخت کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے مطابق پاکستان میں ٹریکٹروں میں استعمال ہونے والے 95 فیصد پرزے (سپیئر پارٹس) تیار کیے جاتے ہےں۔ جس سے سالانہ ایک ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوتی ہے جبکہ ٹریکٹر سازی کی صنعت سے وابستہ 300 انجینئرنگ کمپنیز 5 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ گذشتہ مالی سال کے دوران ان صنعتوں نے 5 ارب روپے کے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کروائے تھے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی ٹریکٹر انڈسٹری کو بھارت کی 10فیصد مارکیٹ بھی مل جائے تو پاکستان کو سالانہ 6.5لاکھ ٹریکٹرز کی مارکیٹ مل جائیگی۔جس سے مزید لاکھوں افراد کو روزگار میسر آئے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہبھارتی ٹریکٹرز قیمت میں پاکستان کے برابر ہیں جنہیں پاکستان میں اسمبل کر کے مزید سستا بنایا جاسکتا ہے۔ جبکہ دونوں ملکوں میں ٹریکٹر انڈسٹری کے اشتراک سے جدت کو فروغ ملے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹریکٹرز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اگر یورپ سے ٹریکٹر درآمد کیے جائیں تواس پر فی کنٹینر 4 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے اور ایک کنٹینر میں 3 ٹریکٹر آتے ہیں۔ اس طرح فی ٹریکٹر ایک لاکھ 33 ہزار روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ جس سے ٹریکٹر کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا جبکہ بھارت سے ٹریکٹر کی درآمد صرف 8 سے 10 لیٹر ڈیزل میں واہگہ کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ ٹریکٹر کو چلاکر واہگہ کے راستے پاکستان لانے سے فی ٹریکٹر خرچہ میں 1لاکھ 33 ہزار روپے کی بچت ہوگی۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پہلے ہی پانی کی کمی، زرعی زمین کی جگہ آبادیوں کی وسعت اور بہت سی دیگر غیر زرعی سرگرمیوں کے لئے استعمال میں لانا اور دیگر عوامل کی وجہ سے پاکستان کے زرعی رقبے میں 1.1ملین ہیکٹرز کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ جس سے زرعی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ زرعی ماہرین زرعی پیداوار میں کمی کی وجہ زرعی شعبے میں ٹریکٹروں کا ضرورت کے مطابق دستیاب نہ ہونا بھی بیان کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹریکٹروں کی طلب کے مطابق عدم دستیابی کی وجہ ،زرعی اجناس کی پیداوار پر مزید منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
زراعت پاکستان کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے زرعی شعبے کی ترقی ملک کی ترقی ہے۔ دنیا جدیدیت کی طرف سفر کر رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔اس کے برعکس ہم اب تک زراعت کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے بیشتر کسان ابھی تک ہل چلانے کے لئے بیلوں کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ دنیا کے دیگر ممالک جدید ٹریکٹروں کا استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے ملک کی فصلوں کی پیداوار ایک حد تک بڑھنے کے بعد رک گئی ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زراعت کی ترقی میں ٹریکٹر نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ لہذا کسان کی ضرورت اور اچھے اور سستے ٹریکٹرز مہیا کیے جائیں تو فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s