متفرق

شرح سود میں کمی افراط زر میں کمی کا باعث ہو گی ؟

100_RUPEE_منصور مہدی
ابھی حال ہی میںسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا تھا ۔جس میں بنیادی شرح سود میں نصف فی صد کمی کی گئی۔ اس طرح بنیادی شرح سود 10.5سے کم ہوکر 10فیصد ہو گئی۔ یاد رہے کہ رواں مالی سال کے آغاز میں بھی سٹیٹ بینک نے شرح سود 12 فیصد سے گھٹا کر 10.5 فیصد کی تھی اور اب اسے مزید کم کیا ہے۔اس کا مقصد بتلاتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک یاسین انور نے کہا تھا کہ ملکی معیشت اس وقت بلند شرح افراط زر اور کم شرح نمو کی غیرمتوازن صورت حال میں گھری نظر آتی ہے۔ جس کی بڑی وجوہات بتلاتے ہوئے کہا تھا کہ توانائی کا بحران ، نجی سرمایہ کاری میں کمی، اندرونی قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بین الاقوامی غیریقینی معاشی حالات معاشی اعتماد کے حصول میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ سٹیٹ بنک کے گورنر نے کا کہنا تھا کہ ان حالات کی وجہ سے افراط زر کی شرح مسلسل پانچویں سال بھی دو ہندسوں میں برقرار ہے۔ جبکہ رواں مالی سال کے دوران افراط زر کی شرح کا ہدف 9.5 فیصد مقرر کیا تھا جو 10 سے 11 فیصد رہے گا۔ البتہ اس کا بڑا انحصار اسٹیٹ بینک کی طرف سے قرضوں کی حد پر عمل کرنے‘ بیرونی امداد اور بجلی کی بندش میں کمی پر ہو گا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ افراط زر کسی بھی معیشت کے اہم میکرو اکنامک اشاریوں میں اہم ترین ہوتی ہے۔ اس کے ملک پر نہایت گہرے اور دوررس سماجی اور معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں مرکزی بنک افراط زر کے رجحان پر نظر رکھتے ہیں اور اسی نسبت سے اپنی پالیسی ترتیب دیتے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2010-11کے دوران افراط زر کی شرح14 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی تھی جبکہ ہول سیل انڈکس میں افراط زر کی شرح23 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔ جبکہ 2011-12میں افراط زر کی شرح میں 13.23 فیصد رہی۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی اگرچہ افراط زر میں کمی کا کسی حد باعث ہو سکتی ہے۔ تا وقت کہ اس کے نتیجے میں نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔ مگر افراط زر میں کمی صرف اور صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ حکومت بنکوں سے قرضے لینے ترک کر دے ، جو قرضے لیے گئے ہیں وہ واپس کر دیئے جائیں ، ٹیکسوں کی ادائیگی بروقت ہو اور غیر ضروری طور پر نوٹ چھاپنا ختم کر دے توچند ماہ میں ہی افراط زر کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب حکومتوں کے اخراجات ان کی آمدن سے بڑھ جاتے ہیں تو وہ نہ صرف ملکی بنکوں سے قرضہ حاصل کرتی ہیں بلکہ نئے نوٹ چھاپ کراپنے اخراجات پوری کرتی ہیں۔ سٹیٹ بنک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2011-12 میں 3کھرب 73ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ چھاپے گئے جبکہ 2010-11 میں بھی 2کھرب63 ارب اور2009-10 میںایک کھرب53ارب روپے چھاپے تھے۔ چنانچہ ذرائع آمدن بڑھانے کی بجائے نوٹ چھاپ کر حکومتی خرچے پورے کرنے کی وجہ سے ا فراط زر میں اضافہ ہو گیا۔اور افراط زر یعنی زیر گردش نوٹوںکی مقدار اضافہ مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نوٹ چھاپ کر حکومتی اخراجات پورے کر نے کی روایت میں تیزی90کی دہائی سے آئی۔ جبکہ ہر سیاسی و فوجی حکومت نے حد سے زیادہ بڑ ھے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے زیادہ نوٹ چھاپنے کی روایت کو برقرار رکھا۔
پاکستان میں ہمیشہ بجٹ کے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے یا تو بیرونی اداروں سے قرضے لیے جاتے ہیں یا پھر نوٹ چھاپ کر خسارہ پورا کیا جاتا ہے۔قیام پاکستان کے بعد سے اب تک 1948 سے2012 کے دوران65 وفاقی بجٹ پیش ہو چکے ہیں جن میں سے صرف 12 بجٹ سرپلس تھے۔ یہ سرپلس بجٹ 1948 سے 1960 کے دوران پیش ہوئے۔ اس طرح60 کی دہائی سے ہی حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلئے بیرونی قرضے لینے اور کرنسی نوٹ چھاپنے کی ریت پڑ گئی۔
اقتصادی ماہرین کا بتلانا ہے کہ نوٹ چھاپنے کا بھی ایک طریقہ کا رمقرر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان کی کرنسی پر لکھا ہوتا ہے کہ”بنک دولت پاکستان ایک سو روپیہ( ہر نوٹ پر اس کی مالیت کے مطابق) حامل ٰہذا کو مطالبے پر ادا کرے گا ، حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری کردہ “۔بنک نوٹ پر لکھی اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ سٹیٹ بنک کاغذ کی اس رسید یا نوٹ کے بدلے اتنے ہی روپے کی چاندی یا سونا ادا کرے گا۔ کیونکہ پہلے چاندی اور سونے کے سکے چلتے تھے۔ جب کاغذی کرنسی آئی تو کاغذی کرنسی حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کی مالیت کے برابر مقدار میں چھاپی جاتی تھی۔
لیکن اگر کرنسی زیادہ چھاپی جائے تو افراط زر کی وجہ سے نوٹ کی قدر لامحالہ کم ہو جاتی ہے یعنی اس کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔
بنکر شکیل احمد کا کہنا ہے کہ معیشت کے اصولوں سے ہٹ کرکاغذی کرنسی کی زائد چھپائی سے ملکی معیشت کی جو گھمبیر صورتحال ہو چکی ہے وہ کسی بڑے طوفان کا پیش رو بن سکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گذشتہ تین چار سالوں میں حکومت نے جو 5کھرب مالیت تک کے جو نوٹ چھاپے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 17 کروڑ عوام پر ان کا اوسط تین ہزار اور کچھ روپے بنتا ہے۔ گویا ہر شخص کی جیب سے اتنی، اتنی رقمیں نکال لی گئی ہیں۔ ان عوام میں فٹ پاتھوں پر بیٹھ کے ہاتھ پھیلانے والے سوالی بھی ہیں، فاقہ زدگان بھی ہیں، قرض دار بھی ہیں، بیمار بھی ہیں، دو وقت کی روٹی کے محتاج ایک تہائی عوام بھی ہیں۔ محفوظ ذخائر سے بڑھ کر نوٹ چھاپنے سے نقصان شہریوں کو پہنچتا ہے۔ کرنسی نوٹ پر حکومت کی طرف سے یہ ضمانت لکھی ہوتی ہے کہ نوٹ اگر سو کا ہے تو پورے سو کا سونا حکومت کے خزانے میں موجود ہے۔ گاہک کی جب مرضی ہو نوٹ واپس کرے اور سونا لے جائے مگر حقیقت میں یہ ضمانت اکثر ملکوں میں جعلی ہوتی ہے۔ اتنے کا سونا ملکی خزانے میں موجود ہی نہیں ہوتا۔ اگلے برس جب نوٹ پھر چھپتے ہیں تو سونے کی مقدار اور بھی کم کی جا چکی ہوتی ہے۔ یہ کمی سال بہ سال جمع ہوتی ہوتی اتنی کم رہ جاتی ہے کہ سونا اپنے مطلوبہ وزن کا صرف چند فیصد رہ جاتا ہے۔ یہ کمی در کمی ایسی ہی ہے جیسے برف کے ڈلے کا ہر آن پگھلتے رہنا، جو آخرکار پوری کی پوری برف کو پگھلا کے ختم کر دیتا ہے۔ خریدار کو نقصان یہ پہنچتا ہے کہ جو کرنسی نوٹ وہ اپنی جیب میں لیے پھر رہا ہوتا ہے اس کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔ اسی کا نام افراط زر اور مہنگائی ہے۔ یعنی نوٹ زیادہ ، سونا کم۔
انھوں نے بتایا کہ بادی النظر میں فالتو کرنسی نوٹوں کی چھپائی جعلی سکے ڈھالنے سے بھی زیادہ مجرمانہ فعل ہے کیونکہ جعلی سکے ڈھالتے وقت اس میں سستے دھات کی ملاوٹ اتنی مقدار میں کم کی جاتی ہے کہ سکے کی اصلی رنگت بدلنے نہ پائے مگر فالتو نوٹ چھاپنے والوں کے آگے ایسی کوئی قید نہیں ہے، جتنے فالتو نوٹ چاہیں، چھاپیں۔ کیونکہ نئے نوٹ چھاپنے کے حوالے سے کبھی عوام کی طرف سے کوئی احتجاج کبھی نہیں آتا کیونکہ کاغذی کرنسی کا کمال یہ ہے کہ کسی کو اپنی بڑھتی ہوئی غربت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اگر کسی مزدور کی تنخواہ پانچ فیصد کم کر دی جائے تو اسے شدید اعتراض ہوتا ہے۔ لیکن جب افراط زر کی وجہ سے اسکی تنخواہ کی قوت خرید دس فیصد کم ہو جاتی ہے تو وہ اتنا اعتراض نہیں کرتا۔ جتنے سالوں میں کسی کی تنخواہ دوگنی ہوتی ہے اتنی ہی مدت میں سونے کی قیمت ( اور مہنگائی ) تین گنی ہو چکی ہوتی ہے۔ تاہم ہمارے ہاں افراط زر میں کمی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ جب یہاں پر توانائی کے مسائل حل ہوں ، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو،نیٹ ٹیکس کا دائرہ بڑھایا جائے اور ٹیکس کی ادائیگی کا نظام بروقت کام کرے۔ وگرنہ .5فیصد شرح سود کم کرنے سے افراط زر کم نہیں ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر سچ بات کی جائے تو پاکستان میں افراط زر کی شرح حکومتی دعوی کے برعکس کئی زیادہ ہے مگر حکومت اعداد و شمار میں ہیر پھیر کر کے عوام کو کم بتلاتی ہے۔ coins pakistan

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s