متفرق

پاکستان سے غربت کا خاتمہ ہو سکے گا؟

pakistan povertyمنصور مہدی
اشیائے خوراک کی بڑھتی قیمتوں نے دنیا بھر میں بھوک کی شرح میں اضافہ کرد یا ہے ۔جس سے اب ہر آٹھواں شخص بھوکا رہنے لگا ہے۔اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2010ء سے 2012ء کے دوران عالمی سطح پر 868 ملین لوگ بھوکے رہے جو دنیا بھر کا تقریباً 12.5 فیصد بنتا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس رپورٹ میں مختلف ممالک میں بڑھنے والی غربت کے حوالے سے بھی بتایا ہے۔ پاکستان میں غربت میں اضافے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان میں نصف سے زائد آبادی غربت کا شکارہے۔ ساٹھ فیصد آبادی یومیہ دو ڈالر سے بھی کم پر زندگی گزار رہی ہے۔ ملک میں8 کروڑ88 لاکھ افراد غربت کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں52 فیصد، سندھ میں33 فیصد، خیبر پختونخواہ میں32 اور پنجاب میں غربت کی شرح19 فیصد ہو گئی ہے۔
عالمی خوشحالی انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن میں پچیس درجے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ملک کا غریب ترین علاقہ صوبہ خیبر پختونخواہ کا ضلع کوہستان ہے۔ جس میں89 فیصد عوام غریب ہیں۔ جبکہ امیر ترین ضلع جہلم ہے جہاں غربت کی شرح3فیصد ہے ۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ رواں برس خوراک کی قیمتوں میں30 فیصد اضافہ سے غریبوں کی تعداد میں ایک کروڑ اضافے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ پاکستان میں33.3فیصد عوام سینی ٹیشن کی سہولتوں سے محروم ہیں۔30 فیصد والدین اپنے بچوں کا علاج نہیں کرواسکتے۔43 فیصدآبادی بچوں کی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتی۔91.3 فیصدبچے سکول میں داخل نہیں ہوتے۔9.8 فیصد بجلی، 8 فیصد پینے کے صاف پانی،14فیصد کھانے پکانے کے ایندھن کی سہولت جبکہ62 فیصد کسی قسم کی جائیداد و اثاثے سے محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے ۔جس کی وجہ مہنگائی میں آئے روز کا اضافہ ہے۔ دولت کی غیر مساوی تقسیم، وسائل کے استعمال کی درست حکمت عملی کا فقدان، بے روزگاری، جہالت اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔
پاکستان کے متعدد اقتصادی ماہرین کا بھی اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد میں3کروڑ کا اضافہ ہواہے۔ اس طرح غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی مجموعی تعداد سات کروڑ ساٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق خیبر پختونخواہ میں ہر تیسرا شخص اور فاٹا میں ہر دوسرا شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہاہے۔
کچھ اقتصادی ماہرین حالیہ برسوں کے دوران غربت میں اضافہ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔کہ ان وجوہات میںٹیکس چوری میں اضافہ کے علاوہ کرپشن،گیس،بجلی اور پٹرولیم مصنوعات ،گندم کی امدادی قیمت اور نرخوں میں بے پناہ اضافہ شامل ہیں۔ مہنگائی بھی ایک کلیدی وجہ ہے۔ جس کے باعث لوگوں کی قوت خرید میں کمی ہوئی۔ توانائی کی قلت کے باعث بے شمار کارخانے بند ہوئے یا ان کی پیداواری استعداد میں کمی واقع ہوئی۔ جس کے نتیجے میں بے روزگاری بڑھی۔ توانائی کا سنگین بحران، بنکوں کے حکومتی قرضوں میں اضافہ اور سرمایہ کاری کی شرح میں کمی بھی غربت میں اضافہ کا باعث بنی۔ چنانچہ امیر اور غریب کے درمیان فاصلوں میں مزید اضافہ ہوا ۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر ایسی ہی صورت قائم رہی اور دنیا بھر کے ممالک نے اس ضمن میں اقدامات نہ اٹھائے تو 2050ءتک دنیا بھر میں 3بلین سے زائد بھوکوں کا اضافہ ہوجائے گا۔ تاہم برازیل، چین، بھارت، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ اور ترکی اور دیگر ممالک اس حوالے سے درست سمیت میںبڑھ رہے ہیں۔ ان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور وہ اپنے عوام میں خوشحالی لانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ جبکہ بعض چھوٹی معیشتوں والے ممالک جیسے بنگلہ دیش، چلی، گھانا، ماریشس، روانڈا اور تیونس بھی اس حوالے کافی پیش رفت کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں برازیل، بھارت اور میکسیکو جیسے ترقی پذیر ممالک کے حوالے سے کہا ہے کہ ان ممالک کی حکومتوں نے معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے کیسے کیسے اقدامات کیے ہیں اور کم وسائل ہونے کے باوجود اچھی منصوبہ بندی اور اس پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہونے سے ان کے ہاں غربت میں کمی آئی ہے ۔
رپورٹ میں غربت میں اضافے کو سرمایہ کی غیر منصفانہ تقسیم بتاتے ہوئے کہا ہے کہ درست نظام نہ ہونے کی وجہ سے دولت سمٹتی ہوئی کچھ ممالک، اداروں اور افراد کے پاس جمع ہو رہی ہے۔ جبکہ دیگر افراد اور عوام مہنگائی کے سبب اپنی جمع پونجی بھی خرچ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی دو تہائی دولت چند ترقی یافتہ ممالک کے پاس جمع ہو چکی ہے جبکہ ایک حصہ 200کے قریب ممالک کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان چند ممالک کہ جن میں امریکہ، برطانیہ ، یورپ اور ایشیاءکے چند ممالک شامل ہیں کہ پاس 10.2ٹریلین زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ ہیں۔ صرف چین کے پاس ہی 3ٹریلین سے زائد ذخائر ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ ممالک ان ذخائر کا معمولی حصہ دنیا پر خرچ کر دیں تو دنیا بھر میں خوشحالی آجائے گی اور غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی میں ایک ارب اسی کروڑ جوانوں کی آبادی ہے۔جن میں سے نوے فیصد جوان ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ممالک میں رہتے ہیں۔ اگر ان کے لئے تعلیم اور ٹیکنیکل کام سیکھنے کے لئے اسباب فراہم ہوجائیں تو اقتصادی ترقی کے لئے ایک بڑی فوج بن سکتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک ان جوانوں کو یہ سہولت بآسانی مہیا کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس دولت اور ٹیکنالوجی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کام کے لیے جمع شدہ دولت کا ایک معمولی حصہ درکار ہوگا۔ جس سے ایک تو دنیا بھر کی قوموں میں خوشحالی آئے گی تو دوسری طرف امیر اور غریب ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کم ہو جائیں گے۔ جس سے دنیا بھر میں امن کو استحکام بھی ملے گا۔
رپورٹ میں غربت میں اضافے کی ایک اور وجہ آبادی میں بے دریغ اضافہ بتلایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق2050ءتک افریقہ اور ایشیا کے ممالک کی شہری آبادی میں از حد اضافہ ہو جائے گا۔ افریقہ کی شہری آبادی414 ملین سے بڑھکر ایک ارب دو سو ملین اور ایشیائی ممالک کی شہری آبادی ایک ارب نو سو ملین آبادی سے بڑھکر تین ارب تین سو ملین تک پہنچ جائے گی۔ اس طرح ان دونوں دو براعظموں کی شہری آبادی میں86فیصد اضافہ ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ نے اس رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھائے ہیں کہ کیا تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر افریقی اور ایشیائی ممالک نے عوام کو تعلیم اور رفاہی سہولیات فراہم کرنے کی کوئی منصوبہ بندی ہوئی ہے؟ کیا ان ممالک کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ اکیلے سے اپنے ممالک کی عوام کی ترقی کے لیے اقدامات کر سکیں؟ کیا یہ ممالک خود سے اس بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت سے نجات حاصل کر پائیں گے؟ کیا ان ممالک کے پاس غربت ا ور بےروزگاری سے مقابلے کے لئے روزگار، مکان، انرجی اور بنیادی وسائل موجود ہیں؟
اقوام متحدہ نے رپورٹ میں پوچھا ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت 2000ءمیں عالمی رہنماو¿ں کے اجلاس میں 2015ءجو اہداف رکھے گئے تھے جن میںدنیا سے بھوک، غربت اور بیماریوں کے خاتمے کا منصوبہ بھی تھا ، کا کیا بنا؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s