متفرق

پاکستان میں موبائل بینکنگ

Mobile-Banking-in-Pakistanمنصور مہدی
پاکستان میں موبائل بینکنگ اکاونٹس کی تعداد 18 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ جبکہ برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس کا نیٹ ورک 90فیصد شہروں میں31,637 تک پہنچ گیا۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں فعال برانچ لیس اکاونٹس کی تعداد 66 فیصد بڑھ گئی۔ جبکہ صرف ان تین ماہ کے دوران 31لاکھ 50ہزارسودوں کے ذریعے 139ارب روپے کا لین دین کیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹرانزیکشنز کا اوسط حجم 4ہزار 420روپے رہا جبکہ موبائل فون بینکنگ سے روزانہ 3لاکھ 49ہزار ٹرانزیکشنز کی جا رہی ہیں۔ اس عرصے میں برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس کے ذریعے تین ماہ میں 46 کروڑ 40 لاکھ روپے کے قرضوں کی وصولیاں بھی کی گئیں۔ایجنٹوں کی کارکردگی بھی اس سہ ماہی کے دوران بہت بہتر دکھائی دی۔ اوسطاً ایک ایجنٹ نے 2012ء میں 944 ٹرانزیکشنز کیں۔ جو گزشتہ کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہیں۔
پاکستان میں اس وقت چار ادارے برانچ لیس موبائل بینکنگ کر رہے ہیں ۔ جن میں ایزی پیسہ، اومنی، موبائل کیش اور ٹائم پے شامل ہیں۔ پاکستان میں برانچ لیس موبائل بینکنگ ( ای بینکنگ )کا آغاز 2006ءمیں ہوا۔
موبائل بینکنگ سے مراد بیلنس چیک، کھاتے کی لین دین، ادائیگی، کریڈٹ ایپلی کیشنز اور دیگر بینکاری لین دین موبائل فون ڈیوائس کے ذریعے کرنا ہے۔ اسے ای بینکنگ یا ایس ایم ایس بینکنگ بھی کہا جاتا ہے۔1999 ءمیں دنیا میں سب سے پہلے یورپی بینکوں نے موبائل بینکنگ کی پیشکش اپنے صارفین کی سہولیات کے لئے ایس ایم ایس کے ذریعے شروع کی۔ موبائل بینکاری کی بدولت صارفین کو ٹیکسز کی مد میں ادائیگی بھی کم کرنی پڑتی ہے۔
پاکستان میںاس برانچ لیس بینکنگ سروس کا مقصد شہری اوردیہی علاقوں میں بسنے والے کم آمدنی کے حامل طبقے کی بینکنگ کی ضروریات کو پوری کرنا ہے۔ اس سروس کے تحت لوگ جلدی اور آسانی سے موبائل فون کے ذریعے رقم اپنے اکاو¿نٹ سے دوسرے شخص کے بینک اکاو¿نٹ میں بھیج سکتے ہیں اور یہ طریق کار زیادہ محفوظ مانا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر موبائل بینک سروسز کی وسیع تر گنجائش موجود ہے۔کیونکہ پاکستان کی صرف 12فیصد بالغ آبادی کو باقاعدہ بینکنگ سروسز تک رسائی حاصل ہے۔ اِس وقت پاکستان میں 12کروڑسے زائد موبائل صارفین ہیں۔ جو کہ موبائل بینکنگ سروسز کے لحاظ سے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ جس میں تھری جی لائسنسنگ کا اطلاق ہونے سے کئی گنا اضافہ ہوگا۔
چھٹی موبائل بینکنگ کانفرنس کے دوران اسٹیٹ بینک کے گورنر یاسین انور کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نوے فیصد اضلاع میں برانچ لیس بینکنگ کے ایجنٹس موجود ہیں اور آئندہ سہ ماہیوں میں ترقی کی توقعات کہیں زیاہ بلند ہیں۔کانفرنس کا مقصد متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون میں اضافہ کرناہے۔ تاکہ ملک کے باقی کے حصوں میں بھی برانچ لیس بینکنگ سروسز فراہم کی جا سکیں۔
کانفرنس میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر چارارب لوگ بینکنگ سے وابستہ ہیں اور ان کی دو تہائی آبادی کم اور درمیانی آمدن رکھنے والے ملکو ں میں رہتی ہے۔تاہم برازیل، جنوبی افریقہ، بھارت اور کینیاجیسے ملکوں کی مثال اس بات کا واضح اظہار ہے کہ برانچ لیس بینکنگ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔جبکہ پاکستان میں بھی شفاف پالیسی اور ریگولیٹری نظم کے باعث ہمارے ٹیلی کام سیکٹر میں آزادی ، پرائیویٹ سیکٹر کی زیادہ شمولیت اور مقابلے کی فضا دیکھنے میں آئی ہے۔موبائل سیکٹر مےں اس وقت پرائیویٹ اداروں کو بالا دستی حاصل ہے جو کہ نئی ٹیکنالوجی ، قیمتوں اورکسٹمر سروسز میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
برانچ لیس بینکنگ انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کی وجہ سے ترقی کر رہی ہے۔ جس کو فنا نشل سروسز فراہم کرنے والے تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران ماہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ فنانشل سروسز کی بنیاد کلائنٹس اور سروسز فراہم کرنے والوں کے باہمی اعتماد پر ہے اورہم برانچ لیس بینکنگ کو ایک متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ایک اہم اضافے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک سٹڈی کے مطابق پاکستان کی 12فیصد بالغ آبادی روائٹی بینکنگ سروسز تک رسائی رکھتی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ٹیلی نار کی ایزی پیسہ سروس کے اعداد و شماربینکنگ کے اس شاندار موقع کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سروس سے 6لاکھ یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی ہوئی جس سے ایک ارب روپے کی رقم ٹرانسفر ہوئی۔یہ یقینا اس مختصر مدت میں بہت بڑی کامیابی ہے۔اس طرح گلوبل جی ایس ایم اے موبائل ایوارڈز کے سلسلے میں ایم سی بی کو حال ہی میں موبائل منی سروسز کیٹگری میں پہلے چار نمبروں مےں شامل کےا گےا ہے۔
بنےادی طور تین متوازی آپٹیکل فائبر نیٹ ورک ، بہترین ٹیکنالوجی تک رسائی اور فائبر کے ، اہم نیٹ ورک تحصیل ہیڈ کوارٹرکی سطح پر موجود ہیں۔ٹیلی کام کا وسیع انفراسٹرکچراور انفارمیشن کی بہترین صلاحیت لائسنس یافتہ سروس فراہم کنند گان کو دستیاب ہے تاکہ وہ بینکنگ کے نئے شعبوں کو متعارف کروا سکیں۔پاکستان میں موبائل فون کا بڑھتا ہ±وا استعمال برانچ لیس بینکنگ کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہاہے۔
پاکستان میں برانچ لیس موبائل نیکنگ کی 4سروسز کے علاوہ اب پانچویں سروس بھی جلد ہی متعارف ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے نوکیا اور ایم سی بی بینک کے درمیان جولائی 2011 میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ جسکے تحت ایم سی بی بینک نوکیا کے اشتراک سے پاکستان میں موبائل بینکنگ کی نئی سروس متعارف کروائے گا۔ Money Nokia نامی یہ موبائل سروس نوکیا اور ایم سی بی بینک کے تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔ جسکے ذریعے صارفین موبائل فون کے ذریعے رقوم کی منتقلی ، بلوں کی ادائیگی اور خریداری کرسکیں گے۔ اگرچہ ایم سی بی بینک اپنے صارفین کے لیے موبائل بینکنگ کی سہولت پہلے ہی فراہم کر رہا ہے لیکن نوکیا کے شامل ہونے سے امید ہے کہ سروس کے معیار اور فیچرز میں مزید بہتری آئے گی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s