خواتین

میرا شباب بھی لوٹا دو میرے حق مہر کے ساتھ

hindu-bride-holding-flowers-in-her-handمنصور مہدی
ہمارے معاشرے میں کسی بھی عورت کے لئے طلاق کا لفظ کسی گالی سے کم نہیں ہوتا۔ایک طلاق یافتہ عورت کے لئے زندگی گزارنا اکثر اوقات ایک ناقابل برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔ طلاق صرف عورت کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ مرد اور بچے بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔
طلاق سے ایک ہنستا بستا گھر ویران ہو جاتا ہے اور وہاں مسائل ہی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ان میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ معاشی پیدا ہوتا ہے جس کا مقابلہ کرنا اکیلی عورت کے لیے ناممکن بن جاتا ہے۔ آجکل مہنگائی کے دور میں جہاں مردوں کی کمائی بھی پوری نہیں پڑتی اور روزمرہ استعمال کی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہوتیں وہاں اکیلی عورت کہاں تک مقابلہ کر سکتی ہے۔
رواں صدی کے ابتدا سے ہی پاکستان میں طلاق کی شرح میں ناقابل یقین اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں روزانہ 50سے 100طلاق کے مقدمات دائر ہو رہے ہیں۔ جبکہ کم و بیش اتنے ہی مقدمات پر فیصلے بھی ہو رہے ہیں ۔ ان کے علاوہ طلاق کے وہ معاملات جو عدالتوں تک نہیں پہنچتے اور عورت اور مرد یا پھر دونوں خاندانوں تک ہی محدود رہتے ہیں ، وہ تعداد ان کے علاوہ ہے۔ ایسی ہی کم و بیش صورتحال دیگر شہروں کی بھی ہے۔
طلاق کی اگرچہ ماہرین بہت سے وجوہات بیان کرتے ہیں مگر اس بات پر سب متفق ہیں کہ طلاق کے بعد عورت کے معاشی مسائل میں یکدم اضافہ ہوجاتا ہے اور اسے گھر اور بچوں کے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔
عورت کے نان و نفقہ کے قوانین
قرآن نے اگرچہ عورت اور بچوں کے نان و نفقہ کے بارے میں بیان کیا ہے ۔ اسی طرح پاکستان میں رائج الوقت قانون مسلم فیملی لا ءآرڈیننس مجریہ 1961 ءکی دفعہ 9میںعورت کو حق دیا ہے کہ وہ اپنی اور بچوں کی لازمی بہبود کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ اگرچہ اس میں مطلقہ عورت کی عدت کے بعد اور بیوہ نیز عمر رسیدہ خواتین اور جسمانی یا ذہنی طور پر معذور خواتین کی فلاح وبہبود کے لئے کو ئی داد رسی موجود نہیں ہے۔ اسی طرح پاکستان میں رائج ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125کے سب سیکشن 3کے تحت بھی مطلقہ اور منکوحہ ہر دو خواتین کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ بعض ناگزیر حالات میں اپنے نان و نفقہ کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔
نان و نفقہ کی حیثیت
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ چنانچہ اسلام نے خاوند پر بیوی کے کچھ حقوق رکھے ہیں۔ اسی طرح بیوی پر بھی اپنے خاوند کے کچھ حقوق مقرر کیے ہیں۔کچھ حقوق خاوند اور بیوی دونوں پر مشترکہ طور پر واجب ہیں۔جبکہ کچھ حقوق مشروط ہیں جو ایک فریق کے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ انہی میں نان و نفقہ کا حق بھی شامل ہے۔
علماءاسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ بیویوں کا خاوند پر نان ونفقہ واجب ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اگرعورت اپنا آپ خاوند کے سپرد کردے تو پھر نان و نفقہ واجب ہوگا۔ لیکن اگر بیوی اپنے خاوندکو نفع حاصل کرنے سے منع کردیتی ہے یا پھر اس کی نافرمانی کرتی ہے تو اسے نان ونفقہ کا حقدار نہیں سمجھا جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ نکاح کے بعد اور رخصتی سے قبل عورت کسی قسم کے نان و نفقہ کی حقدار نہیں ہوتی۔ اگرچہ نکاح کے فوراً بعد عورت مرد کی منکوحہ بن جاتی ہے مگر رخصتی تک چاہے وہ رخصتی ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک نہ ہو ، عورت کسی قسم کے نان و نفقہ کی حقدار نہیں ہوتی۔
نان و نفقہ کا مقصد
عقد نکاح کے بعد چونکہ عورت مرد کی سپردگی میں آ جاتی ہے اور مرد کے گھر تک محبوس ہوجاتی ہے جبکہ وہ مرد کے دیگر حقوق بھی ادا کرتی ہے تو اس کے بدلے میں یہ مرد کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کی ضروریات کو پورا کرے ۔ مثلا کھانا ، پینا ، رہائش وغیرہ ، یہ سب کچھ خاوند کے ذمہ ہے اگرچہ بیوی کے پاس اپنا ہی مال کیوں نہ ہو۔وہ ایک امیر گھرانے سے یا اعلیٰ ملازمت پر فائز ہو ، اپنی دولت اور جائیداد بھی رکھتی ہو مگر اس پر یہ فرض نہیں کہ وہ اپنی تنخواہ یا اپنی دولت سے اپنے اخراجات پورے کرے بلکہ یہ اس کے شوہر پر فرض ہے کہ وہ اس کے تمام اخراجات پورے کرے۔ مرد عورت کے نان و نفقہ کو فرض کرنے کا یہ بھی مقصد تھا کہ عورت مرد کی وفادار بن کر رہے۔ بیوی کے رہنے کی جگہ مہیا کرنا بھی نان و نفقہ میں ہی آ تا ہے۔ یہ بھی بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ خاوند اس کے لیے اپنی وسعت اور طاقت کے مطابق رہائش تیار کرے۔
نان و نفقہ کی مقدار کا تعین
اسلام نے اگرچہ ہندسوں میں نان و نفقہ کی مقدار تو متعین نہیں کی تاہم یہ تمام بنیادی ضرورتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ جو وقت اور زمانے کے ساتھ بدلتی رہتیں ہیں۔
طلاق کے بعد نان نفقہ کی حیثیت
طلاق کے بعد دوران عدت بھی عورت نان و نفقہ حاصل کرنے کی حقدار ہے۔ قرآن پاک مردوں کو ان کی مطلقہ بیویوں کے لئے معقول نان ونفقہ کا حکم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے کہ “اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دیا جائے، یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے ۔ ”
لفظ ” پرہیز گاروں پر واجب ہے” کے حوالے سے مفکرین کا کہنا ہے یہ لفظاپنے اندر ایک آفاقی معانی رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ مرد کو اپنی طلاق شدہ بیوی کے لئے ایک بارگی یا اسے دوسری شادی کرنے تک یا اسکے انتقال تک نان ونفقہ کی فراہمی کو ضروری نہیں قرار دیتا۔ نہ ہی نان نفقہ کی مدت اورمقدار کی وضاحت کی گئی ہے۔ تاہم یہ کہہ کر کہ یہ پرہیز گاروں پر واجب ہے ، یہ بات کہی گئی ہے کہ اپنے ذرائع آمدن اور استطاعت کے مطابق اپنی طلاق شدہ بیویوں کو ایک لا محدود وقت تک نان و نفقہ ادا کرتے رہو جس کا اجر انھیں ضرور ملے گا۔
مفکرین نے اس کی وضاحت اسی طرح بھی کی ہے کہ اس بات کا فیصلہ حالات اور مالی عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت یا ثالثوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس شخص سے جسکے ذرائع آمدنی محدود ہوں اور شادی کے بعد فوراً اپنی امیر بیوی کو طلاق دے رہا ہو اس مالدار شخص کے برابر مالی ذمہ داریوں کے حامل ہو نے کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے جو ایک طویل ازدواجی زندگی گزارنے کے بعد اپنی مفلوک الحال بیوی کو طلاق دے رہا ہو۔ بہر حال قرآن پاک مردوں کو عقل کے استعمال کی نصیحت کرتا ہے اور دلیل کے لئے بنیادیں بھی فراہم کرتا ہے۔
ایک اور مقام پر قرآن پاک ارشاد فرماتا ہے کہ
“تم پر اس بات میں (بھی) کوئی گناہ نہیں کہ اگر تم نے (اپنی منکوحہ) عورتوں کو ان کے چھونے یا ان کے مہر مقرر کرنے سے بھی پہلے طلاق دے دی ہے تو انہیں (ایسی صورت میں) مناسب خرچہ دے دو، وسعت والے پر اس کی حیثیت کے مطابق (لازم) ہے اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق، (بہر طور) یہ خرچہ مناسب طریق پر دیا جائے، یہ بھلائی کرنے والوں پر واجب ہے”
ایک اور جگہ پر ارشاد ہے کہ
“اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح ح±سنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو ”
قرآن کی ان واضح نصیحتوں کی روشنی میں مردوں کو شادی کے وقت مہر یا اس کے برابر مال(اگر یہ نہیں طے ہے) کو دینے کو کہا گیا ہے اور طلاق کے وقت معاملات کے حل کے لئے مہر کا ایک حصہ اپنے پاس برقرار رکھنا عقد نکاح کی روح کو کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح کئی سالوں پر مشتمل ازدواجی زندگی کے بعد ایک عورت کونان نفقہ دینے سے انکار کرنا قرآن پاک کی فراخ دلی کی روح کے خلاف ہے جسے ایک مرد سے اس کی مطلقہ بیوی کے معاملے میں توقع کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر بیوی کو چھونے سے قبل ہی طلاق ہو جائے تب بھی۔
قرآن پاک اپنی بیوی کو طلاق دینے والے مرد کو حاملہ بیوی کے معاملے میں دو سال تک تیمار داری تک کی مدت کی ذمہ داریوں کی بھی وضاحت کرتا ہے۔
“تم ا±ن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاو¿ کہ ا±ن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ا±ن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ا±ن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں (ایک دوسرے سے) نیک بات کا مشورہ (حسبِ دستور) کر لیا کرو،
پھر ایک جگہ پر ارشاد ہے کہ ” صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت (کے لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے، اور جس شخص پر ا±س کا رِزق تنگ کر دیا گیا ہو تو وہ ا±سی (روزی) میں سے (بطورِ نفقہ) خرچ کرے جو ا±سے اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ اللہ کسی شخص کو مکلّف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ ا±س نے اسے عطا فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا”
عدالت یا قاضی سے کیسے رجوع کیا جائے
قرآن پاک کی ان واضع ہدایات کے باوجود لوگ از خوداپنی بیویوں یا سابقہ بیویوں کے نان و نفقہ کے حقوق پورے نہیں کرتے تو اس مقصد کے لیے قاضی یا عدالتیں فریقین کی داد رسی کرتی ہیں۔
مسلم فیملی لا ءآرڈیننس مجریہ 1961 ءکی دفعہ 9 کے تحت شہر میں قائم سول کورٹ یا فیملی کورٹ میں درخواست دی جا سکتی ہے۔یہ درخواست ایک سادہ کاغذ پر دی جا سکتی ہے جس پر کوئی کورٹ فیس نہیں لگائی جاتی۔ عدالتیں اس قسم کی درخواستوں پر اگرچہ جلد فیصلہ کرنے کی پابند ہیں مگر دوسرے فریق کی نان و نفقہ نہ دینے کی ضد کی وجہ سے دیگر قانونی موشگافیوں کا فاہدہ اٹھا کر مقدمہ کی طوالت کو بڑھا دیتا ہے۔
اسی طرح ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125کے سب سیکشن 3کے تحت علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے۔ یہ درخواست بھی سادہ کاغذ پر لکھی جاتی ہے۔ ان قوانین کے تحت درخواست موصول ہونے کے بعد عدالت دوسرے فریق کو طلب کر کے اس کا جواب مانگتی ہے اور پھر شہادتوں کی سماعت کے بعد، شوہر کی مالی حیثیت اور دیگر حالات کو دیکھنے کے بعد نان و نفقہ کی مقدار کا تعین کرتی ہے۔ نان و نفقہ ادا نہ کر نے کی صورت میں عدالت کو اختیار ہے کہ وہ مرد کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد میں سے عورت کو نان و نفقہ دلوا ئے۔
ان قوانین کے تحت مطلقہ اور منکوحہ دونوں طرح بیویاں استفادہ حاصل کر سکتی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s