خواتین

گھریلو تشدد کا شکار خواتین

tortureمنصور مہدی
گھنٹی کی مسلسل آواز پر عائشہ نے سوچا کہ اس وقت کون آگیا۔ سمیرا کے آنے کا تو ابھی وقت نہیں ہوا ۔ یہ سوچتی ہوئی عائشہ دروازے پر آئی اور جب دروازہ کھولا تو سمیرا کھڑی تھی۔ 32سالہ سمیرا عائشہ کے گھر چھ سال سے کام کر رہی ہے۔ پہلے اس کی والدہ کام کرتی تھی مگر اب ماں کے مرنے کے بعد سمیرا نے کام کرنا شروع کر دیا۔
عائشہ نے سمیرا کو اندر آنے کا اشارہ کیا اور واپس کمرے کی طرف چل دی۔ سمیرا نے دروازہ بند کیا اور عائشہ کے پیچھے پیچھے اس کے کمرے میں پہنچ گئی۔کمرے میں داخل ہوتے ہی سمیرا نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ اس کے ایک دم رونے سے عائشہ گھبرا گئی اور پوچھنے لگی کہ تمھیں کیا ہوا ہے؟ کیا آج بھی تمہارے شوہر نے تمہیں مارا ہے؟ اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے گردن سے ہاں کا اشارہ کیا۔
سمیرا کی شادی کو 12برس ہوگئے اور شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو کہ جس دن ان دونوں کی آپس میں لڑائی نہ ہوتی ہو۔ پہلے پہل تو یہ لڑائی زبانی ہی ہوا کرتی تھی مگر اب مار کٹائی تک نوبت آ گئی تھی۔ سمیرا کا شوہر مارتے ہوئے یہ بھی خیال نہیں کرتا تھا کہ کہیں ہاتھ پاﺅں ہی نہ توٹ جائے۔ وہ بڑی بے دردی سے مارتا تھا۔ سمیرا کے دو بچے بھی ہیں اگرچہ وہ ابھی چھوٹے ہیں مگر باپ کی مار سے وہ بھی نہیں بچتے۔ سمیرا کی جب شادی ہوئی تھی تب اس کا شوہرمحنت مزدوری کر کے روزی کماتا تھا مگر جب سے سمیرا نے عائشہ کے گھر کام کرنا شروع کیا تب سے انور نے مزدوری کرنا چھوڑ دی اور ہر وقت اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے لگا۔ نشہ وغیرہ بھی کرتا تھا۔
بہر حال عائشہ نے اسے تسلی دی اور پوچھا کہ آج کیا ہوا ہے؟ سمیرا نے بتایا کہ انور ( سمیرا کا شوہر) آج پھر رات کونہیں آیا۔ میں ساری رات اس کا انتظار کرتی رہی۔جب وہ صبح کے وقت گھر لوٹا تو میں نے اس سے گھر دیر سے آنے کا پوچھا تو گالیاں دینے لگا۔کہ تو کون ہوتی ہے مجھ سے پوچھنے والی۔ میں دیر سے آﺅں یا جلدی۔ سمیرا نے بتلایا کہ جب میں نے کہا کہ میں تمہاری بیوی ہوں ۔ اتنا تو مجھے حق ہے کہ میں تم سے دیر سے آنے کا سبب جانو ۔ تو وہ طیش میں آ گیا اور مجھے مارے لگا۔ پہلے تو اس نے تھپڑ اور مکے مارے بعد میں قریب ہی پڑا ہوا ڈنڈا اٹھا کر مارا جو میرے ہاتھ پر لگا۔
عائشہ نے جب غور سے دیکھا تو سمیرا نے اپنے ہاتھ پر اپنا دوپٹا باندھ رکھا تھا ۔ اس نے پوچھا ہاتھ تو بچ گیا؟سمیرا نے کہا شاید انگلی ٹوٹ گئی۔ بڑی تکلیف ہو رہی ہے۔عائشہ اٹھ کر سمیرا کے پاس آئی اور دوپٹہ کھول کر اس کا ہاتھ دیکھنے لگی ۔ سمیرا کو سخت تکلیف ہو رہی تھی اور اس کی چھوٹی انگلی لٹکی ہوئی محسوس ہوئی۔
عائشہ بڑی نیک دل خاتون ہیں جو کسی کی ذرا سے تکلیف سے بھی دل برداشتہ ہوجاتی ہیں۔عائشہ نے جب محسوس کیا کہ سمیرا کی انگلی ٹوٹی ہوئی ہے تو وہ اسے لیکر اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس لے گئی جس نے انگلی چیک کرنے کے بعد بتایا کہ انگلی کی ہڈی میں فریکچر آ گیا ہے تاہم ہڈی دو ٹکڑے نہیں ہوئی۔ لیکن کئی روز بینڈج کروانا ہوگی۔
ڈاکٹرسے مرہم پٹی کروا کر جب دونوں گھر آئے تو سمیرا کہنے لگی کہ اب میرا انور کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا۔ اب وہ روزانہ مجھے مارتا ہے ۔ اب تو اس نے زیادہ ہی نشہ بھی کرنا شروع کر دیا ہے اور روزانہ ہی نشے کے لیے پیسے مانگتا ہے۔جس دن پیسے نہ دو تو وہ ساری ساری رات باہر گزارتا ہے۔ کل بھی اس نے مجھ سے پیسے مانگے تو میں نے کہا کہ میرے پاس کہاں سے اتنے پیسے آئے کہ تجھے روزانہ دوں۔ کہنے لگا کہ جہاں سے مرضی لا کر دو۔ تب میں نے کہا کہ تو چاہتا ہے کہ میں کمائی شروع کر دوں۔ تو وہ بے غیرتی سے کہنے لگا کہ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ تو پیسے کیسے کما کر لائے گی، بس مجھے تو پیسے چاہیے۔ جس کے بعد انور گالیاں دیتا ہوا چلا گیااور ساری رات باہر گزار دی۔
تھوڑی دیر بعد سمیرا نے کہا کہ میں جمیلہ بی بی ( عائشہ کی وکیل دوست) سے ملنا چاہتی ہوں۔ کیوں ؟ عائشہ نے پوچھا۔ تو کہنے لگی کہ میں انور کے خلاف مقدمہ درج کرواﺅں گی۔تب ہی شاید اسے ہوش آ جائے۔ عائشہ کہنے لگی کہ مگر یہ تو مقدمہ بھی درج نہیں ہو گا کیونکہ تمہارا کیس تو گھریلو لڑائی کے زمرے میں آ تا ہے اور یہ میاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہے۔ پولیس اس میں کیا کرے گی۔ ویسے بھی ابھی چند دن پہلے میں ٹی وی پر ایک مذاکرہ سن رہی تھی کہ جس میں بتایا جا رہا تھا کہ عورتوں پر گھریلو تشدد کے قانون کا بل ابھی پارلیمنٹ سے پاس ہی نہیں ہوا۔ مذاکرے میں ایک شریک بتلا رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے 2009ءمیں قومی اسمبلی سے خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے ایک بل منظور کروایا تھا۔ جس میںگھریلو ملازمین، والدین، اولاد اور خواتین پر ہونے والے تشدد کو جرم قرار دے کر سزائیں تجویز کی گئی تھیں۔اور مجسٹریٹ کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ گھریلو مسائل اور دیگر مار پیٹ کے کیس وہ سن کر 30 دن میں فیصلہ دے اور بروقت انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ اس قانون کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں مرتکب افراد کے لیے سزا کی زیادہ سے زیادہ حد 3 سال اور ایک لاکھ روپے جرمانہ تجویز کی گئی تھی۔ مگر مقررہ آئینی مدت میں اس بل کو ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے قانون سازی نہ ہو سکی۔
بروقت سینٹ میں بل جمع نہ کروانے کی وجہ یہ بتلائی گئی کہ بعض مذہبی جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی تھی جس وجہ سے اس پر مزید پیش رفت نہ ہو سکی کیونکہ ان کے خیال میں یہ قانون سازی مغربی ملکوں کے دباو¿ میں کی جارہی تھی اور ویسے بھی یہ قانون ”قرآن و سنت کی تعلیمات اور معاشرتی روایات“ کے مخالف ہے۔ تب سے آج تک یہ معاملہ التوا کا شکار ہے۔تو ایسے میں جمیلہ کیا کرے گی۔ جب کوئی قانون ہی نہیں تو گھریلو تشدد کے خلاف کہاں سے اور کیسے داد رسی حاصل کرو گی۔
سمیرا کہنے لگی کہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ جب تک یہ بل منظور نہیں ہوگا تب تک عورتیں اسی طرح پٹتی رہیں گی۔عائشہ کہنے لگی مزید تو مجھے نہیں پتا کیونکہ ٹی وی مذاکرے میں یہی بیان کیا جا رہا تھا۔ سمیرا کے اصرار پر عائشہ نے جمیلہ کو فون کیا اور اس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور سمیرا کی پٹائی کا ذکر کیا تو جمیلہ نے انھیں اپنے دفتر آنے کو کہا۔ جس پر عائشہ اور سمیرا جمیلہ کے دفتر پہنچ گئیں۔
جمیلہ نے سمیرا کی تمام کہانی سننے کے بعد کہا کہ یہ درست ہے کہ گھریلو تشدد کا بل پارلیمنٹ سے ابھی پاس نہیں ہو سکا۔ یہ سیاستدانوںاور این جی اوز کے معاملات ہیں۔ مگر اس قانون کے نہ ہوتے ہوئے بھی ایسے قانون پاکستان میں رائج الوقت ہیں کہ جن کے ذریعے گھریلو تشدد کی صورت میں داد رسی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جمیلہ نے بتایا کہ پاکستان میں اگرچہ 1860ءکا بنا ہوا قانون جسے تعزیرات پاکستان کہا جاتا ہے لاگو ہے۔جو انگریزوں نے قانون بنایا تھا۔ مگر اس وقت کے قانون سازوں نے ان سب باتوں کا خیال رکھا تھا۔ کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ان کے دور میں کوئی شخص خواہ وہ شوہر ہی کیوں نہ و اپنی بیوی کی ٹانگ یا بازو توڑ دیں اور اسے گھریلو معاملہ قرار دیکر کچج نہ کہا جائے۔لہذا یہ قانون اب بھی پاکستان میں لاگو ہے اور اس کے تحت ہر اس عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شوہر کی طرف سے تشدد کی صورت میں داد رسی کے لیے رجوع کر سکے۔
جمیلہ نے بتایا کہ کسی بھی معاشرے میں گھر ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔جس میں افراد کے درمیان تعلقات کا خوش گوار ہونا معاشرے کے عمومی رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی لیے ہمارے دین میں بھی گھر کے اندر اس کے انتظام و انصرام کو چلانے کے لیے حقوق و فرائض کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ نکاح کے ذریعے مرد اور عورت کے درمیان حقوق و فرائض کے اس بنیادی یونٹ کو مستحکم بنانے کے لیے ان کی ذمہ داریوں کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ طے کر دیا گیا ہے۔ اگراس میں کوئی ایک فریق اپنے دائرہ کار سے بڑھ کر دوسرے فریق کے دائرے میں مداخلت کرتا ہے یا دوسرے فریق کو فرائض کی ادائیگی کے لیے جبراً دباو¿ ڈالتا ہے، تو اس صورت میں تشدد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس تشدد کے نتیجے میں کئی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں جن کی قانون میں اس طرح سے وضاحت کی گئی ہے۔
جمیلہ نے سمیرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتلایا کہ جیسے اس کے کیس میں انگلی کی ہڈی تو محفوظ ہے اور وہ ٹوٹ کر علیحدہ نہیں ہوئی تو ایسی صورت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 337کے تحت کاروائی کر سکتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی تشدد ( تشدد خواہ گھریلو ہو یا بیرونی )کے نتیجے میںکوئی ایسی ضرب آ ئے کہ جس سے جسم کی ہڈی دو ٹکڑے نہ ہوئی ہو تو ایسے میں 337-Aمیں درج سزا ہو سکتی ہے جو جرم کی نوعیت کے مطابق چند ماہ سے لیکر 14سال قید تک ہے۔ جمیلہ نے بتایا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 332سے لیکر 337-Zتک تشدد اور اس کے نتیجے میں آنے والی ضربات کو زیر بحث لایا گیا ہے جس میں دانستہ اور غیر دانستہ ہر دو طرح کے تشدد ، اس کی اقسام اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزائیں مقرر ہیں۔ اور اس قانون کے تحت اس بات کی بھی کوئی تخصیص نہیں کہ یہ گھریلو تشدد ہے اور میاں بیوی کا معاملہ ہے اس لیے کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ یہ بلا امتیاز سب پر لاگو ہے۔جمیلہ نے بتایا کہ بلکہ 1979ءمیں تعزیرات پاکستان میں کی گئی ترمیم کے تحت ان جرائم میں دیت بھی طلب کی جا سکتی ہے اور اسلامی قانون کے مطابق انگلی کے بدلے انگلی اور کان کے بدلے کان کی سزابھی ہو سکتی ہے۔
عائشہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سب قانون موجود ہیں تو اسمبلیوں میں یہ شور شرابا کیوں ہے۔ جمیلہ نے کہا کہ یہ سب باتیں بس سیاستدانوں کی سیاست ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s