خواتین

پنجاب اسمبلی : قانون ساز ادارہ یا مچھلی منڈی

23 December 2011 - PML and PPP Women MPA Newsمنصور مہدی
جب بھی کسی سے سنا تو یہی سننے میں آیا کہ عورتیں نہ صرف باتونی ہوتی ہیں بلکہ جھگڑالو بھی ہوتی ہیں۔ مگر 2008ءکے انتخابات کے تحت معرض وجود میں آنے والی پاکستان کی پارلیمانی اسمبلیوں کے مرد اراکین نے کئی مواقع پر اس بات کو جھٹلا دیا کہ عورتیں ہی جھگڑالو اور لڑاکا ہوتی بلکہ مرد بھی اس میدان میں عورتوں سے کم نہیں۔
اگرچہ لڑائی جھگڑے انسانی سرشت کا لازمی حصہ ہیں مگر انسانی تہذیب کے ارتقاءسے جہاں دیگر انسانی خامیاں معدوم ہوئی وہاں تعلیمی شعور نے لڑائی جھگڑوں کی شدت کو بھی کم کیا۔ یہی وجہ ہے انسانی جبلت ہونے کے باوجود جب پڑھے لکھے افراد لڑائی جھگڑا کرتے ہیں تو ان پر حیرت ہوتی ہے۔اور خصوصاً جب مرد عورتوں سے جھگڑا کرنے لگیں یا ایسی حرکتیں کریں کہ جن سے فساد شروع ہو جائے تو یہ اور بھی باعث شرم بن جاتا ہے۔
پاکستان کی قومی اور چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کی اگرچہ قانون سازی کے حوالے سے کارکردگی بہت اچھی رہی مگر وہاں ان اسمبلیوں نے لڑائی جھگڑوں اور ہنگامہ آرائی میں کئی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ جن کی ان سے پہلے پاکستانی پارلیمانی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ان ہنگاموں میں جہاں دھینگا مشتی اور کرسیوں کا آزادانہ استعمال ہوا وہاں خواتین ارکان بھی محفوظ نہیں رہیں۔ بلکہ بیشتر ہنگاموں میں مرداراکین نے خواتین ارکان کو نشانہ بنایا۔ان جھگڑوں میں جہاں مرد ارکان کی پگڑیاں اچھالی گئی تو وہاں مردوں نے خواتین ارکان پر تہمتیں بھی باندھی۔ خواتین کو تھپڑ پڑے تو مردوں کے کپڑے بھی پھاڑ دیے گئے۔
قومی اسمبلی اور چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کی اگر دیکھا جائے تو ان پانچوں اسمبلیوں میں مرد اراکین کے درمیان یا پھر خواتین ارکان کے درمیان تو متعدد بار آپس میں تکرار ہوتی رہی ہے اور چند بار ایسے مواقع بھی آئے کہ جب یہ تکرار ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔مگر مرد اور خواتین ارکان کے درمیان ہنگامہ آرائی نہ تو کبھی خیبر پختونخواہ اسمبلی اور نہ ہی بلوچستان اسمبلی میںہوئی ۔ ایک آدھ بار سندھ اسمبلی میں خواتین ارکان کے درمیان لڑائی ہوئی مگر پنجاب اسمبلی وہ واحد اسمبلی ہے کہ جہاںکئی بار مرد اور خواتین ارکان کے درمیان انتہائی شدید لڑائیاں دیکھنے میں آئیں۔
قومی اسمبلی کے پانچ سالوں میں بھی کئی بار ارکان آپس گتھم گتھا ہوئے۔ایک بار تو پیپلز پارٹی کے جمشید دستی نے فریال تالپور کے بارے میں بات کرنے پر پاکستان مسلم لیگ ق کے فیصل صالح حیات کا گریبان پکڑ لیا تھا۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میںبھی خواتین ارکان کے درمیان کئی بار تکرار چلتی رہی۔ ایک بار شازیہ مری اور ماروی راشدی کی آپس میں خوب لڑائی ہوئی۔ مگر یہ لڑائی بھی مار کٹائی کی نوبت تک نہیں پہنچی۔ بس شازیہ مری نے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ماروی کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے ماروی کو اپنی انگریزی درست کرنے کا بھی مشورہ دیا جس پر ماروی آپے سے باہر ہو گئی اور انھوں نے شازیہ کے میک اپ کو تنقید کا نشانہ بنا کر اپناغصہ نکالا۔
مگر پنجاب اسمبلی میں نہ صرف خواتین ارکان بلکہ مردوں اور خواتین ارکان کے درمیان کئی مرتبہ لڑائیاں ہوئیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ گذشتہ برس جون میں پیش آیا کہ جب پنجاب اسمبلی قانون ساز ایوان کم اور اکھاڑہ زیادہ نظر آئی۔ 21جون کو شدید گرمی میں عین دوپہر کے وقت پنجاب اسمبلی کا ایوان اور احاطہ میدان جنگ بن گیا۔ حکومتی و اپوزیشن مرد و خواتین ممبران ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے۔ ایک دوسرے پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کردی۔ اپوزیشن کی ممبر ثمینہ خاور حیات نے حکومتی مرد رکن کی قمیص پھاڑ ڈالی۔
اس واقعہ کی وجہ ایک دن قبل پنجاب اسمبلی میں فارورڈبلاک سے تعلق رکھنے والے حکومتی رکن شیخ علاﺅالدین کا اپوزیشن خواتین ارکان کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ کہنا تھا کہ جس پر ایوان میں بدترین ہنگامہ آرائی شروع ہوئی ۔ شیخ علاﺅالدین حواس باختہ ہوگئے اور جو منہ میں آیا،بولتے گئے۔جس پرایوان میں حکومتی و اپوزیشن اراکین کے مابین جوتے بھی چلے۔ جبکہ(ق) لیگ کی رکن سیمل کامران ایوان میں رونے لگیں۔ اپوزیشن کی خواتین نے شور مچانا شروع کردیا اور شیخ علاو¿الدین کی جانب جوتی پھینکی۔ جو شیخ علاو¿الدین کی خوش قسمتی سے ان تک نہ پہنچی لیکن راستے میں موجود بے چارے غلام ربانی کے سر پر جا لگی۔جبکہ مسلم لیگ (ن)کی ایک خاتون نے بھی اپنی جوتی اتار کر پھینکی ۔
اس واقعہ کے اگلے روز اگرچہ سپیکر نے حکومتی رکن شیخ علاو¿الدین اورمسلم لیگ (ق) کی رکن سیمل کامران کی جاری سیشن تک کیلئے رکنیت معطل کر دی،تاہم پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں لڑائی کا دوبارہ آغاز وہیں سے ہوا، جہاں ایک روز قبل ختم ہوا تھا۔
اس روز عوامی نمائندوں کی جھجک اس قدر ختم ہو چکی تھی کہ مردوخواتین ممبران میں تمیزکرنا مشکل ہو گیا۔ ایوان میں فری سٹائل دھکے دیکھے گئے اور ایک رکن نے دوسرے کا گریبان پکڑ لیا۔ سپیکر رانا محمد اقبال کی اوئے اوئے کی آوازیں مائیک پر گونجتیں رہیں۔مگر کوئی بھی سپیکر کی آواز سننے کو تیار نہ ہوا۔ اسی دوران مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکان پنجاب اسمبلی بھی لڑائی میں کود پڑیں اور اپوزیشن ارکان سے ہاتھاپائی تک نوبت جا پہنچی اور ایک دوسرے ممبران کے کپڑے پھاڑ دیے اور دانتوں سے کاٹا۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان ایوان میں کھڑے ہوگئے اور حکومت کے خلا ف نعرے بازی شروع کر دی۔ مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے رانا ارشد نے ثمینہ خاور حیات پر حملہ کرنے کے لیے کرسی اٹھا لی جس پر سپیکر نے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے روک دی اور تمام اراکین ایوان سے باہر نکل گئے۔
وقفے کے بعد سکیورٹی گارڈز نے پابندی کا شکار خواتین کو ایوان میں داخلے سے روک دیا جس پر انہوں نے زبردستی اندر داخل ہونے کی کوشش ہوئی لیکن سکیورٹی گارڈز نے سیمل کامران اور ثمینہ خاور حیات کو داخلے سے روک دیا۔ چنانچہ سیمل کامران کی خاتون سکیورٹی اہلکار سے ہاتھا پائی ہوئی جس کے بعد وہ رونے لگیں۔پیپلز پارٹی کی ساجدہ میر نے انہیں گلے لگایا اور خود بھی رونے لگیں۔جبکہ اسی دوران سیمل کامران بے ہوش ہوکر گر گئیں، انہیں ایمبولینس میں فوری طور پر ہسپتال بھجوا دیا گیا۔
اسی طرح پنجاب اسمبلی ایک اور دلچسپ شور شرابہ اس وقت شروع ہوا کہ جب پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی حسن مرتضیٰ نے ایوان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) لیگ کی رکن اسمبلی ڈاکٹرغزالہ کو اے آروائی کے ڈرامے بلبلے کی “مومو©© ” قرار دیا۔ جس پر اپوزیشن ارکان کے زوردار قہقہے ایوان میں گونجے لگے۔، پیپلز پارٹی کے رکن حسن مرتضیٰ نے اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر غزالہ کے بارے میں کہا کہ جناب اسپیکر اس “مومو” کو چپ کرائیں، یہ بلبلے ڈرامہ نہیں پنجاب اسمبلی کا ایوان ہے، جس پر ایوان کشت زعفران بن گیا۔اپوزیشن کے ارکان تو ان جملوں سے لطف اٹھاتے رہے لیکن سرکاری بینچوں نے اس مذاق پر خوب احتجاج کیا۔ اسپیکر کے ڈائس کے سامنے اس احتجاج سے ایسا لگتا تھا کہ حکومتی ارکان نہیں بلکہ اپوزیشن ارکان احتجاج کر رہے ہوں۔
ایک سنگین نوعیت کا اور بھی ہنگامہ پنجاب اسمبلی میں پیش آیا کہ جب ارکان اسمبلی میں نہ صرف ہاتھا پائی ، گالی گلوچ ہوئی بلکہ تھپڑ بھی چل گئے۔ یہ واقعہ 2009میں اس وقت شروع ہوا کہ جب پاکستان مسلم لیگ (ق) کی ایک رکن اسمبلی بشری گردیزی وزیر اعلی شہباز شریف کیخلاف ریمارکس لکھا ہوا پلے کارڈ ایوان میں لہرایا۔ جس پرشہباز شریف کیخلاف نعرہ درج تھا۔ ان کے پلے کارڈ لہراتے ہی صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور کو جوش آ گیا اور وہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بشریٰ گردیزی کی نشست پر پہنچ گئے اور خاتون ممبر سے پلے کارڈ چھیننے کی کوشش کی۔ دھکم پیل کے بعد اگرچہ وہ پلے کارڈ چھیننے میں ناکام رہے مگر اسی دورانپاکستان مسلم لیگ( ق) کے دیگر مرد ارکان بھی بشریٰ گردیزی کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے صوبائی وزیر کو واپس دھکیل دیا۔ اسی دوران پاکستان مسلم لیگ( ق) کی ایک اور رکن سعمیہ امجد نے ڈیسکوں پر پڑے کتابچے اٹھا کر چودھری غفور پر مارنا شروع کر دیئے۔ جواباً چودھری غفور نے بھی خواتین پر یہ کتابچے مارے اور ایوان مچھلی منڈی بن گیا اور سپیکر کی طرف سے بار بار اعلان ہوتا رہا مگر ان کی تمام کوششیں ناکام رہی۔اپوزیشن کے جانے کے بعد حکومتی خواتین ارکان نے بھی چودھری عبدالغفور کے رویہ کی مذمت کی جبکہ مسلم لیگ ن کی خواتین ارکان نے بشری گردیزی کی جانب سے وزیر اعلی پنجاب کے خلاف توہین آمیز پوسٹر لہرانے پر علامتی واک آو¿ ٹ کیا۔
مئی 2011ءمیں پنجاب اسمبلی کا ایک اجلاس اس وقت ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگیا جب حکومتی خاتون رکن غزالہ رانا نے پوائنٹ آف آرڈر پر پیپلزپارٹی کی رکن عظمیٰ بخاری سے یہ پو چھا کہ ان کے والد ریمنڈ ڈیوس کے وکیل تھے ،وہ بتائیں دیت کی رقم کہاں سے آئی اور کتنی تھی جس پر عظمیٰ بخاری غصے سے بے قابو ہوگئیں اور حکومتی خواتین کو ان پڑھ اور جاہل قراردے دیا۔ عظمیٰ بخاری نے غصے میں کہا کہ ان کو اپنے باپ کے بڑا آدمی ہونے پر فخر ہے اور اگر کسی کا باپ اس قابل نہیں کہ ان کے باپ سے مقابلہ کر سکے تو وہ کیا کریں۔جس پر حکومتی بنچوں سے شیم شیم کے نعرے لگنے لگے جس پرعظمیٰ بخاری کہنے لگیں کہ کرو،کروعظمیٰ بخاری کے غصے سے اسپیکر رانا اقبال بھی نہ بچ سکے۔بات یہیں پہ ختم نہ ہوئی اوراسمبلی میں شورشرابہ جاری رہا۔
یہ بات بھی قارئین کے لیے کسی طرح دلچسپی سے کم نہیں کہ پنجاب اسمبلی میں ہونے والے ان ہنگاموں کی زیادہ تروجہ مرد ارکان ہی بنے کہ جب انھوں نے ایسی درفتنی چھوڑی کہ ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔چنانچہ خواتین کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ہی لڑاکا اور جھگڑالو ہیں ، درست نہیںہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s