متفرق

اقبال کا شہر سیالکوٹ سیاستدانوں کی زد میں

منصور مہدی ، ظفر اقبال
Iqbal_Squareسیالکوٹ صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 30 لاکھ آبادی والا یہ شہر لاہور سے 125 کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ پاکستان کا ایک اہم صنعتی شہر ہے۔ جہاں سرجیکل اور کھیلوں کا سامان کثرت سے بنتا ہے۔
قدیم دور میں اسے نہ صرف آٹھ دروازوں کا شہر کہا جاتا تھا،بلکہ اسے مہاتماوں کی سرزمین کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔کیونکہ کشمیر کی ترائی میں واقع ہونے کی وجہ سے ہندو درویش اور گیانی یہاں سے گزر کر کشمیر کے پہاڑوں میں گیان دھیان کی غرض سے گزرتے تھے۔ہندو راجہ سل کے زمانے میں اسے سل کوٹ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔جو بعد میں وقت کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ کہلانے لگا۔اس شہر کی قدیم تاریخ کے مطابق اس کی بنیاد چار ہزار سال قبل راجہ سل نے رکھی تھی۔راجہ نے شہر کے وسط میں دہری فصیل والا قعلہ دفاع کے نقطہ نظر سے تعمیر کروایا۔ اس زمانے کا یہ شہرآج کے شہر کے علاقے ٹبہ ککے زئیاں،امام صاحب،ٹبہ سیداں،ٹبہ شوالہ،دھاروال اور پالا شاہ گیٹ پر مشتمل تھا۔ایک روایت کے مطابق سکند اعظم جب پنجاب آیا تو اس شہر سے بھی گزرا۔سکندر اعظم کے یہاں سے گزرنے کے تقریباً 23برس بعد دریائے راوی اور چناب میں زبردست طغیانی آنے سے سل کوٹ اور گردو نواح کے علاقہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں سل کوٹ ایک بار پھر آباد کیا گیا۔شاہ جہاں نے یہاں پر باغات اور ان میں بارہ دریاں تعمیر کروائیں۔مغلوں کے بعد اس شہر پرسکھوں نے قبضہ کر لیا اور ایک عرصہ تک قابض رہے۔ سکھ راجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد انگریزوں نے 1849ءمیں مہا راجہ دلیپ سنگھ کو معزول کر کے سل کوٹ اور ارد گرد کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ 1852ءمیں انگریزوں نے یہاں پر چھاﺅنی تعمیر کی۔ 1857ءکی جنگ آزادی کے دوران پنجاب میں جب انگریزوں کے خلاف ہنگامے شروع ہوئے تو پہلا مارشل لاءسیالکوٹ میں نافذ کیا گیا۔ جہلم اور راولپنڈی کے مسلم فوجیوں نے یہاں چھانیوں میں موجود انگریزی فوج پر ایک بڑا حملہ کیا۔ تاہم تین ماہ بعد انگریزوں نے شہر سے مارشل لاءختم کردیا۔
جب برصغیر میں صوفیاءکرام کی آمد شروع ہوئی تو سیالکوٹ میں متعدد بزرگان دین آئے۔تحریک پاکستان میں یہاں کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔تحریک کے دوران ہی 1944ءمیں مسلمانوں کے راہنما قاعد اعظم محمد علی جناح بھی سیالکوٹ کے دورہ پر آئے اور تالاب شیخ مولا بخش میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب بھی کیا۔ ان کے ہمراہ لیاقت علی خان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
سیالکوٹ شہر کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں بہادری دکھانے پر جن تین شہروں کو ہلال استقلال سے نوازا گیا۔ ان میں سیالکوٹ بھی شامل ہے۔ باقی کے شہر لاہور اورسرگودہا ہیں۔
عظیم مسلمان فلسفی شاعر، قانون دان اور مفکر علامہ محمد اقبال بتاریخ 9نومبر1877 ءکوسیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔جس وجہ سے اسے شہر اقبال بھی کہا جاتا ہے۔
آزادی کے وقت ضلع سیالکوٹ کی کل آبادی ایک لاکھ نفوس کے قریب تھی۔ 1998ءکی مردم شماری کے مطابق اس ضلع کی کل آبادی 2723481 تھی، جبکہ اب اس ضلع کی آبادی 42لاکھ کے قریب ہے۔ضلع کا رقبہ 3,016مربع کلو میٹر ہے۔ضلع سیالکوٹ انتظامی طور پر 5 تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ جن میں سیالکوٹ کے علاوہ پسرور،ظفر وال، ریااور ڈسکہ ہے۔
سیالکوٹ میں آزادی کے بعد بہت کم صنعتیں تھیں مگر اب سیالکوٹ میں صنعتوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس شہر کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے اور چیمبر ہی کی بدولت سے سیالکوٹ میں ایک انٹرنیشنل ائیر پورٹ بھی تعمیر کیا جا چکا ہے جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہ تھا اور ایک خطیر رقم سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے دی تھی۔

ضلع سیالکوٹ 5قومی اور11صوبائی حلقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں پر پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ اگر 1970ءسے ابتک ہونے والے 8جماعتی اور ایک غیر جماعتی قومی انتخابات پر نظر ڈالی جائے تو سیالکوٹ سے جیتے والی پارٹیوں میں بالترتیب پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم ق شامل ہیں۔2008ءکے انتخابات میں سیالکوٹ سے جیتنے والی بڑی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن تھی۔ قومی اسمبلی 5نشستوں میں سے 4سیٹیں مسلم لیگ ن اور ایک سیٹ پاکستان پیپلز پارٹی نے حاصل کی تھی ، جبکہ صوبائی اسمبلی کی 11نشستوں میں سے 8سیٹیں پاکستان مسلم لیگ ن، 2پاکستان پیپلز پارٹی اور ایک پاکستان مسلم لیگ ق نے حاصل کی تھی۔
2008ءکے انتخابات میںاین اے 110سیالکوٹ Iسے پاکستان مسلم لیگ ن کے خواجہ محمد آصف 73007کامیاب ہوئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے زاہد پرویز 32157ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر آئے۔ این اے 111سیالکوٹIIسے پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان 78925ووٹ لے کر پہلی اورپاکستان مسلم لیگ ق کے چوہدری امیر حسین 46372ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر آئے۔ این اے 112سیالکوٹ IIIسے پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا عبدل ستار 92182ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور پاکستان مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت حسین 42713ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔ این اے 113سیالکوٹ IVسے پاکستام مسلم لیگ ن کے صاحبزادہ سید مرتضیٰ امین 77819ووٹ لے کر پہلے اورپاکستان مسلم لیگ ق کے علی اسجد ملہی39186ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔ این اے 114سیالکوٹ Vسے مسلم لیگ ن کے زاہد حمید 62362ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ ق کے چوہدری عبدالستار 56343ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔
اسی طرح صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر پی پی 121سیالکوٹIسے پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا طارق محمود 49392ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق کے محمد اجمل چیمہ 26916 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔ پی پی 122سیالکوٹ IIسے محمد اخلاق پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 33959ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے راجہ امیر خان 11038ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر آئے۔ پی پی 123سیالکوٹ IIIسے پاکستان مسلم لیگ ن کے عمران اشرف31622ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے خواجہ اویس مشتاق 11638ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر آئے۔ پی پی 124سیالکوٹ IVسے پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا عبدالستار 36078ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور ملک طاہر اختر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 20226ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر آئے۔ پی پی 125سیالکوٹ Vسے چوہدری طاہر محمود ہنڈلی پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 27721ووٹ لیکر پہلے اور پاکستان مسلم لیگ ق کے چوہدری خوش اختر سبحانی 26360ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔
پی پی 126سیالکوٹ VIسے پاکستان پیپلز پارٹی کے تنویر السلام 30092ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور پاکستان مسلم لیگ ق کے سید اختر حسین رضوری19930ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 127سیالکوٹ VIIسے مسلم لیگ ن کے منور احمد گل 34318ووٹ لے کر پہلے اور پاکستان مسلم لیگ ق کے ارمغان سبحانی 26412ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔ پی پی 128سیالکوٹVIIIسے پاکستان مسلم لیگ ق کے محمد رضوان پہلے اور پاکستان مسلم لیگ ن کے 18072ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔ پی پی 129سیالکوٹ IXسے پاکستان مسلم لیگ ن کے جمیل اشرف36798ووٹ لیکر پہلے اور پاکستان مسلم لیگ ق چوہدری انصار اقبال بریار 20178ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔ پی پی 130سیالکوٹ Xسے ییحیٰ گل نواز پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 41803ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قاری ذوالفقار علی سیالوی15116ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔ پی پی 131سیالکوٹ XIسے پاکستان مسلم لیگ ن کے لیاقت علی گھمن 34823ووٹ لے کر پہلے اور پاکستان مسلم لیگ ق کے چوہدری محمد عظیم نوری گھمن 25605ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 110سیالکوٹ Iکی کل آبادی 494834نفوس پر مشتمل ہے ۔جن میں مرد ووٹرز130884اور خواتین ووٹرز116646ہیں۔ این اے 111سیالکوٹ IIکی کل آبادی 551698ہے جبکہ اس میں مرد ووٹرز167429اور خواتین ووٹرز154024ہے۔این اے 112سیالکوٹ IIIکی کل آبادی 547562ہے،جس میں مرد ووٹرز169982اور خواتین ووٹرز 154549ہیں۔ این اے 113سیالکوٹ IVکی کل آبادی 539024نفوس پر مشےمل ہے ،جس میں 168910مرد اور 149775خواتین ووٹرز ہیں۔ این اے 114سیالکوٹ Vکی کل آبادی 590363ہے جس میں 179304مرد ووٹرز اور164813خواتین ووٹرز ہیں۔
پی پی 121سیالکوٹ Iمیں کل ووٹرز170627ہیں جن میں 81882خواتین اور 88745مرد ووٹرز شامل ہیں۔ پی پی 122سیالکوٹ IIمیں کل ووٹرز 122980ہیں ،جن میں 64827مرد اور58153خواتین ووٹرز ہیں۔ پی پی 123سیالکوٹ IIIکے کل ووٹرز کی تعداد 116020ہے۔ جن میں 61590مرد اور 54430خواتین ووٹرزہیں۔ پی پی 124سیالکوٹ IVمیں کل ووٹرز146192ہیں۔ جن میں مرد ووٹرز کی تعداد75919اور خواتین ووٹرز کی تعداد 70273ہے۔ پی پی 125سیالکوٹ Vمیں کل ووٹرز 134166ہیں ، جن میںمرد ووٹرز70082اورخواتین ووٹرز 64084ہے۔ پی پی 126سیالکوٹ VIکے کل ووٹرز 151171ہیں ،جن میں خواتین ووٹرز کی تعداد72397اور مرد ووٹرز کی تعداد78774ہیں۔ پی پی 127سیالکوٹ VIIمیں کل ووٹرز 149969ہیں ، جن میں 78101مرد اور71868خواتین ووٹرز ہیں۔ پی پی 128سیالکوٹ VIIIمیں کل ووٹرز 128224ہیں ، جن میں 67879مرد ووٹرز اور 60345خواتین ووٹرز ہیں۔ پی پی 129سیالکوٹ IXمیں کل ووٹرز 140355ہیں ، جن میں 74268مرد اور66087خواتین ووٹرز ہیں۔ پی پی 130سیالکوٹ Xمیں کل ووٹرز 142864ہیں ، جن میں 75663مرد ووٹرز اور 67201خواتین ووٹرز ہیں۔ پی پی 131سیالکوٹ XIمیں ووٹرز کی کل تعداد153748ہے، جن میں 80661مرد ووٹرز اور73087خواتین ووٹرز ہیں۔

ضلع سیالکوٹ میں اگرچہ اب تمام قوموں کے افراد رہتے ہیں مگر یہاں کی بڑی برادریوں میں ملک گھمن، سلہری، باجواہ، چیمہ، چغتائی، اعوان، ککے زئی، بٹ، میر، شیخ، گجر، پٹھان، مغل اور ناگرا برداریاں شامل ہیں۔ ضلع سیالکوٹ میں بسنے والی قوموں کے حوالے سے2007ءکی ایک رپورٹ کے مطابق ضلع میں 30فیصد جٹ، 13فیصد ارائیں، 13فیصد کشمیری،14فیصد راجپوت، 25فیصد گجر اور5فیصد دیگر قومیں آباد ہیں۔

سیالکوٹ کا حلقہ این اے 110بشمول پی پی 122اور123سیالکوٹ شہر، سیالکوٹ کنٹونمنٹ ایریا، گنا کلاں پٹوار سرکل، ڈلوالی پٹوار سرکل، حاجی پورہ Iاور حاجی پورہIIپٹوار سرکل پر مشتمل ہیں۔ این اے 111سیالکوٹ IIبشمول پی پی 121اور124کوٹلی لوہاراںٹاﺅن کمیٹی، پھکلیان پٹوار سرکل، کوٹلی لوہاراں پٹوار سرکل، چھپر سرکل، جریاں کلاں سرکل اور دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔ این اے 112سیالکوٹ IIIبشمول پی پی 129اور131بھوپلاں والا کمیٹی، سمبڑیال میونسپل کمیٹی، جامکے چیمہ ٹاﺅن کمیٹی، کھمبراں والا قانونگو حلقہ، جھریاں کلاں پٹوار سرکل، مرزا گورایہ، گوجرہ، جےسار والا، راجہ گھمن ، موسیٰ والا پٹوار سرکل پر مشتمل ہے۔ این اے 113بشمول 128اور130ڈسکہ میونسل کمیٹی، کلاس والا کمیٹی، وڈالہ سندھواں ، بڈھا گورایہ قانونگو حلقہ، سوکن ونڈ، کلاس والا، تلونڈی عنایت شاہ، جیون ڈھلواں، رسول پور، کالا پور، روپو والی، پہا رنگ اوچا پٹوار سرکل، میاں ہرپال پٹوار سرکل، تخت پو ر پٹوار سرکل، آدمکے ناگرہ پٹوار سرکل، بان پٹوار سرکل بجوا سرکل اور کل بجوا پٹوار سرکل کے علاقے شامل ہیں۔ این اے 114سیالکوٹ Vبشمول پی پی 126اور127میں پسرور میونسپل کمیٹی، چونڈہ تاﺅن کمیٹی، چوبارہ قانونگو حلقہ، کنگرہ قانونگو حلقہ، چونڈہ قانونگو حلقہ، آدمکے ناگرہ پٹوار سرکل،کلاس والا کے تلونڈی عنایت شاہ قانونگو حلقہ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

این اے 110سیالکوٹI
11مئی 2013کے انتخابات کے لیے مختلف سیاسی پارٹیوں نے ضلع سیالکوٹ کے تمام قومی و صوبائی حلقوں سے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کر دیے ہیں۔ جن میںسےالکوٹ کے دو حلقے اےن اے 110 سیالکوٹ Iاور اےن اے 111 سیالکوٹ IIملک بھر مےں کافی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہےں۔ جہاں پر مسلم لےگ (ن)، پاکستان پےپلز پارٹی اور پاکستان تحرےک انصاف کے درمےان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے ۔ حلقہ اےن اے 110 سیالکوٹ Iسے پاکستان مسلم لےگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ محمد آصف ہمےشہ کی طرح امےدوار ہےں جو کہ اس حلقہ سے متعدد مرتبہ اےم اےن اے منتخب ہو چکے ہےں اور1985ءسے ےہ حلقہ پاکستان مسلم لےگ ن کا ایک مظبوط گڑھ تصور کےا جاتا ہے ۔ حلقہ اےن اے 110سے جماعت اسلامی کے امےدوار ارشد محمود بگو بھی خاصے متحرک نظر آرہے ہےں ۔ سےالکوٹ کے مجموعی صورتحال مےں حلقہ اےن اے110جہاں پر پےپلز پارٹی اپنی امےدوار سابق وفاقی وزےر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو آزمانا چاہتی ہے جو کہ قومی اسمبلی کے حلقہ اےن اے111سے پےپلز پارٹی کی بھی امےدوار ہےں ۔ عام تاثر ےہ ہے کہ پےپلز پارٹی کو اےن اے110مےں کوئی اہل اور مظبوط امےدوار نظر نہےں آرہا جس کی وجہ سے سابق وفاقی وزےر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو انتخابی مےدان مےں اتارا جائے گا۔ حلقہ اےن اے 110جہاں پر زےادہ تر تجارت پےشہ لوگ بستے ہےں اور ےہ مکمل طور پر شہری حلقہ ہے ےہاں کے شہری پےپلز پارٹی کی سابقہ حکومتی پالےسےوں سے سخت نالاں ہےں اور وہ مسلم لےگ (ن) کی تجارتی پالےسےوں کو زےادہ اہمےت دےتے ہےں ۔ےہاں سے پاکستان تحرےک انصاف کے نو وارد امےدوار عثمان ڈار ہےں جو کہ سابق تحصےل ناظم سےالکوٹ امتےاز الدےن ڈار کے بےٹے اور تحرےک انصاف کے مرکزی ڈپٹی جنرل سےکرٹری عمر ڈار کے بھائی ہےں۔ وہ بھی اس حلقہ سے اپنی کامےابی کے لئے پر امےد ہےں ۔
جبکہ این اے 110میں حلقہ پی پی 122 اور پی پی 123آتے ہیں کہ جہاں سے پاکستان مسلم لیگ ن نے پی پی 122سے چوہدری اکرام اور حلقہ پی پی 123سے خواجہ محمد آصف کو ٹکٹ دیا ہے۔ ارشد محمود بگو متحدہ مجلس عمل کے پلےٹ فارم سے صوبائی حلقہ پی پی 122سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو چکے ہےں۔

این اے 111سیالکوٹ II
قومی اسمبلی کے حلقہ اےن اے 111جہاں پر ڈاکٹر فردو س عاشق اعوان خاصی متحرک اور مظبوط امےدوار تصور کی جاتی ہےں وہاں پر پاکستان مسلم لےگ (ن) نے ورےو خاندان کے سپوت و سابق صوبائی وزےر چوہدری ارمغان سبحانی کو ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے مقابلہ مےں اتارا ہے ۔ ےاد رہے کہ حلقہ اےن اے111مےں گزشتہ ضمنی انتخاب او ر آزادکشمےرکے انتخاب مےں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے حماےت ےافتہ امےدوارچوہدری صغےر سلطان اور چوہدری شوکت وزےر علی شکست سے دوچار ہو گئے تھے اسی حلقہ اےن اے111مےں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے رےکارڈ ترقےاتی کام کروا ئے ہےں ۔
این اے 111میں صوبائی حلقے پی پی 121اور124آتے ہیں۔ ان دونوں حلقوں سے پاکستان مسلم لیگ ن نےحلقہ پی پی 121سے سےالکوٹ رانااقبال ہرناہ اور پی پی 124سے رانا شمےم احمدخان ٹکٹ دیا ہے۔ان کے مقابلے میں پی پی 121سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں عابد جاوید ہیں اور پی پی 124سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک طاہر اختر ہیں، جو ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
این اے 112سیالکوٹ III
قومی اسمبلی کے حلقہ اےن اے112سے رانا عبد الستار خان جو کہ اسی حلقہ سے سابق رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے مسلم لےگ (ن) نے اس مرتبہ بھی قومی اسمبلی کے حلقہ اےن اے112سے انہےں ٹکٹ جاری کےا ہے اس حلقہ سے مسلم لےگ (ق) کے امےدوار چوہدری سلےم برےار کو پارٹی ٹکٹ جاری کےا گےا ہے جو سابق جنرل پروےز مشرف کے دور مےں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔
این اے 112میں پی پی 129اور پی پی 131آتے ہیں کہ جہاں سے پاکستان مسلم لیگ نے پی پی 129سے محسن اشرف اور پی پی131سے ارشد جاوےد وڑائچ کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ پی پی 129سے پاکستان پیپلز پارٹی کے حافظ شہباز اورپی پی 131سے پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار نہیںہے۔

این اے 113سیالکوٹ IV
قومی اسمبلی کے حلقہ اےن اے113سے سابق رکن قومی اسمبلی مرتضیٰ امےن کی جگہ سےد افتخار الحسن المعروف ظاہرے شاہ کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دےا گےا ہے ۔ این اے 113میں آنے والے صوبائی حلقوں 128اور 130سے پاکستان مسلم لیگ ن نے بالترتیب رانا افضل اےڈووکےٹ اور130سے ےحےیٰ گلنواز کو کھڑا کیا ہے۔ پی پی 128سے پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار نہیں تاہم130سے قاری ذوالفقار ہیں۔

این اے 114سیالکوٹV
قومی اسمبلی کے حلقہ اےن اے114سے زاہد حامد کو ٹکٹ جاری کےے گئے ہےں جبکہ اسی حلقے میں آنے والے صوبائی حلقوں پی پی 125 سے پاکستان مسلم لیگ ن کے چوہدری طارق سبحانی ، پی پی 126سے رانا لےاقت علی ، پی پی 127سے منور گل کھڑے ہیں۔ پی پی 126سے پاکستان پیپلز پارٹی نے تنویر السلام رانا کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ 127سے سیٹ خالی چھوڑ دی ہے۔جن سیٹوں پر پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے ، ان حلقوں پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدواروں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

گذشتہ انتخابات کے نتائج کو اگر مدنظر رکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ حسب سابق اس بار بھی ضلع سیالکوٹ سے پاکستان مسلم لیگ ہی پہلی پوزیشن پر آئے گی، مگر اس بار شاید کچھ صورتحال بدل جائے۔ کیونکہ گذشتہ انتخاب میں جس جس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کامیاب ہوئی تھی وہاں پر دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔ اس بار چونکہ یہ دونوں جماعتیں متعدد سیٹوں پر اتحار کر چکی ہیں اور پاکستان تحریک انصاف بھی میدان ہے تو پاکستان مسلم لیگ ن کو اپنی2008والی پوزیشن کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہوگا۔ بحرحال اب الیکشن زیادہ دور نہیںہیں جس میں نتیجہ نکل آئے گا کہ ضلع سیالکوٹ کا میدان کون سی جماعت مارتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s