متفرق

سرگودہا کی سیاسی صورتحال

منصور مہدی ، محمد عمران گورائیہ
sargodhaپاکستان کا دسواں اور پنجاب کا پانچواں بڑے شہر سرگودہا کو شاہینوں کا شہر بھی کہتے ہیں۔انیسویں صدی سے قبل کی تاریخ میںسرگودہاکا کوئی ذکر موجود نہیں، تاہم اس کے نام کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے بھی کئی روایات موجود ہیں۔لیکن ایک اہم روایت کے مطابق سرگودہا دو الفاظوں “سر ” اور “گودہا “سے مل کر بنا ہے۔ قدیم پنجابی زبان میں “سر” کے معنی” تالاب” کے ہیں اور “گودھا” ایک فقیر کا نام ہے جو کسی دور میں یہاں پر واقع ایک تالاب کے کنارے بیٹھا کرتا تھا۔چنانچہ اس فقیر کی نسبت سے اس جگہ کا نام سرگودھا پڑگیا۔ ایک روایت کے مطابق تالاب کے پاس ایک کنواں تھا جسے گول کھوہ کہتے تھے ۔جہاں وہ فقیر بیٹھتا تھا۔یہاں دیگر مسافر بھی آرام کے لیے بیٹھتے تھے۔ آج اس مقام پر ایک خوبصورت سفید مسجد ہے جسکا نام گول مسجد ہے اور اسکے نیچے گول مارکیٹ ہے۔
چند تاریخی روایات کے مطابق مغل بادشاہ بابر اور شیر شاہ سوری بھی اس علاقے سے گزرے تھے۔ سرگودہا کا ذکر19ویں صدی کے آخری عشرہ اور 20ویں صدی کے شروع کی تواریخ میں ملتا ہے۔ 1849ءمیں جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تو اس وقت تک سرگودہا ایک چھوٹا سا اور غیر معروف شہر تھا۔بیشتر علاقہ بے آباد اور جھاڑیوں سے اٹا ہوا تھا۔انگریز دور میں ہی آبپاشی کے لیے دریائے جہلم سے رسول کے مقام پر بند باندھ کر ایک نہر نکالی گئی، جسے لوئر جہلم کہا جاتا ہے۔ اس نہر کا باضابطہ افتتاح 1903ءمیں ہوا۔ اسی دور میں انگریز افسروں نے سرگودہا کے سول لائن کے علاقے میں اپنی رہائش کے لیے گھر تعمیر کیے۔
تاہم سرگودہا اپنے جغرافیائی محل و وقوع کی وجہ سے جلد ہی رائل ائرفورس کی نظر میں آگیا۔چنانچہ انگریزوںنے یہاں پر فوجی نوعیت کا ایک ہوائی اڈا تعمیر کیا۔جو آزادی کے بعد پاکستان ائر فورس کے استعمال میں آگیا اور ابتک زیر استعمال ہے۔اسی ائر بیس کی وجہ سے سرگودہا کو شاہینوں کا شہر بھی کہتے ہیں۔
انگریز دور حکومت میں سرگودہا ایک تحصیل تھا جبکہ شاہ پور کو ضلع کی حیثیت حاصل تھی۔تاہم 1914ءمیں سرگودہا کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔پاکستان بننے کے بعد 1958ءمیں اسے اول نمبر میونسپل کمیٹی کا درجہ ملا۔ دسمبر1960میں ضلع کو ڈویژن بنا دیا گیا۔ اس کے پہلے ڈپٹی کمشنر ای سی ڈیلے تھے۔
انگریز دور میںہی اس علاقے میں غیر آباد رقبہ کو گھوڑی پال سکیم کے تحت شاہ پور، گجرات، سیالکوٹ ، گجرانوالہ اور مشرقی پنجاب کے اضلاع کے لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جنہوں نے بعد میں سرگودہا میں آ کر 300 سے زائد چکوک بسائے، بعد ازاں انھیں ہی مالکانہ حقوق دے دیے گئے۔ انگریز دور ہی میں یہ شہر آباد ہوا۔ چنانچہ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر ہونے والے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔
ضلع کے شمال میں ضلع جہلم، مشرق میں گجرات اور گوجرانوالہ، جنوب میں ضلع جھنگ اور مغرب میں ضلع خوشاب ہے۔ 1998کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی کل آبادی 26,65,979تھی جس میں سے 28.01فیصد شہروں اور باقی کی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ضلع کا کل رقبہ 5854مربع کلو میٹر ہے۔س ضلع میں چھ تحصیلیں ہیں۔تحصیل بھلوال میں 31یونین کونسلیں، تحصیل کوٹ مومن میں 22، تحصیل سلانوالی میں16، تحصیل شاہ پور میں 16،تحصیل ساہیوال میں14، تحصیل سرگودہا میں 62یونین کونسلیں ہیں۔ ضلع سرگودہا کی شرح خواندگی58فیصد ہے۔ جن میں مرد67فیصد اور خواتین کی شرح خواندگی46فیصد ہے۔
سرگودہا شہر کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں بہادری دکھانے پر جن تین شہروں کو ہلال استقلال سے نوازا گیا۔ ان میں سرگودہا بھی شامل ہے۔ باقی کے شہر لاہور اور سیالکوٹ ہیں۔
ضلع سرگودھا 5قومی اور 11صوبائی حلقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ق، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف چار بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ اگر 1970ءسے ابتک ہونے والے 8جماعتی اور ایک غیر جماعتی قومی انتخابات پر نظر ڈالی جائے تو سرگودہا سے جیتے والی پارٹیوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان مسلم ق ہی شامل ہیں۔جبکہ یہاں سے آزاد امیدوار بھی متعدد بار جیت چکے ہیں۔

ضلع سرگودہا کے 5 قومی اور11 صوبائی حلقوں میں ووٹرز کی تعداد کچھ اس طرح ہے۔این اے 64سرگودہاIمیں کل آبادی 550142ہے جس میں کل ووٹرز کی تعداد 329668ہے۔ ان میں 174845مرد ووٹرز اور 154823خواتین ووٹرز ہیں۔این اے 65سرگودہاIIمیں کل آبادی502676ہے جس میں کل ووٹرز287545ہیں۔ ان میں 155553مرد اور131992خواتین ووٹرز ہیں۔ این اے 66سرگودہاIIIمیں کل آبادی546411ہے، جس میںکل ووٹرز 282320ہیں۔ ان میں 151024مرد ووٹرز اور131296خواتین ووٹرز ہیں۔ این اے67سرگودہاIVمیں کل آبادی530289ہے۔ جس میں 161267مرد ووٹرز اور144112خواتین ووٹرز ہیں۔این اے 68سرگودہاVمیں کل آبادی 536461ہے۔ جس میں161490مرداور146311خواتین ووٹرز ہیں۔
پی پی 28سرگودہاIمیں کل ووٹرز140690ہیں۔ جن میں 74800مرد اور65890خواتین ووٹرز ہیں۔پی پی 29سرگودہاIIمیں کل ووٹرز کی تعداد145022ہے۔جن میں 77446مرد اور67576خواتین ووٹرز ہیں۔پی پی 30سرگودہاIIIمیں کل ووٹرز126914ہیں۔ جن میں67816مرد اور59098خواتین ووٹرز ہیں۔ پی پی 31سرگودہاIVمیںکل ووٹرز 124219ہیں جن میں 67812مرد ووٹرز اور56407خواتین ووٹرز شامل ہیں۔پی پی 32سرگودہاVمیںکل ووٹرز156950ہیں ۔جن میں82449مرد اور74501خواتین ووٹرز شامل ہیں۔پی پی33سرگودہاVIمیں کل ووٹرز 134242ہیں۔ جن میں72286مرد اور61956خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ پی پی34سرگودہاVIIمیں کل ووٹرز102459ہیں۔ جن میں54492مرد اور47967خواتین ووٹرز ہیں۔پی پی 35سرگودہاVIIIمیں کل ووٹرز145501ہیں۔ جن میں77080مرد اور68421خواتین ووٹرز ہیں۔پی پی 36سرگودہاIXمیںکل ووٹرز142050ہیں،جن میں75434مرد اور66616خواتین ووٹرز ہیں۔پی پی 37سرگودہاXمیں کل ووٹرز 143149ہیں، ان میں74883مرد اور68266خواتین ووٹرز شامل ہیں۔پی پی 38سرگودہاXIمیں کل ووٹرز 151517ہیں، ان میں79681مرد ووٹرز اور71836خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
ضلع سرگودہا کے قومی اسمبلی کے حلقوں میں آنے والی صوبائی حلقوں کی ترتیب اس طرح سے ہے کہ این اے64سرگودہاIمیں پی پی 28سرگودہاIاورپی پی29سرگودہاIIآتے ہیں۔ این اے 65سرگودہاIIمیںپی پی30سرگودہاIIIاورپی پی 31سرگودہاIVآتے ہیں۔ این اے66سرگودہاIIIمیںپی پی33سرگودہاVIاور پی پی 34سرگودہاVII، این اے 67سرگودہاIVمیںپی پی 32سرگودہاV، پی پی 35سرگودہاVIII,اورپی پی 36سرگودہاIX، این اے 68سرگودہاVمیں پی پی 37سرگودہاXاور پی پی 38سرگودہاXIشامل ہیں۔

ضلع کی اہم برادریوں میں بلوچ، رانجھا، گوندل، سید، قریشی،لک، ٹوانہ، نون، کھوکھر،بھٹی،میکن، ہرل اور دیگر چھوٹے قبیلے بھی ہیں۔ انتخابات میں یہ قومیں بہت اثر انداز ہوتی ہیں مگر اب ہر سیاسی پارٹی کسی حلقے سے کھڑے ہونے امیدوار کے مقابلے میں اسی قوم کے دوسرے فرد کو کھڑا کر دیتی ہے جس سے ان قبیلوں، برادریوں کا زور ٹوٹ جا تا ہے۔ تاہم پھر بھی بڑے خاندان جس امیدوار کی تائید کریں تو اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ضلع سرگودہا میں2008ءمیں ہونے والے انتخابات کو اگر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ این اے 64سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن 65628ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد فاروق بہاول حق نے 60460ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی۔این اے 65سے مسلم لیگ ق کے چوہدری غیاث الدین احمد میلہ نے53518ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے مہر خالق یار لک نے 53257ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ این اے 66سے پاکستان پیپلز پارٹی کے تسنیم احمد قریشی69943ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور مسلم لیگ ن کے چوہدری حامد حمید نے 65020ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ این اے 67سے مسلم لیگ ق کے چوہدری انور علی چیمہ 83594ووٹ لیکر پہلی اورپاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر ذولفقار علی بھٹی66392ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر رہے۔ این اے 68سے مسلم لیگ ن کے سید جاوید حسنین شاہ 80120ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ق کے میاں مظہر احمد قریشی 56946ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر آئے۔ تاہم جاوید حسنین شاہ جعلی ڈگری کے باعث نا اہل ہو گئے چنانچہ اس سیٹ پر 5اگست2010ءکو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پھر مسلم لیگ ن کے سردار شفقت حیات بلوچ88952ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔

اگر صوبائی حلقوں کو دیکھا جائے تو پی پی 28سے مسلم لیگ ق کے ڈاکٹر مختار احمد بھرت45686 لیکر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے حاجی مشتاق احمد گوندل19477ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر آئے۔ پی پی 29سے مسلم لیگ ن کے مہر ربنواز لک 28909ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور پیپلز پارٹی کے خالق داد بھڈ ھیار28527ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔پی پی 30سے آزاد امیدوار طاہر احمد سندھو20802ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے میاں فیصل رانجھا 16523ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 31سے پیپلز پارٹی کے اویس اسلم منڈھیانہ 25902ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور مسلم لیگ ن کے مظہر علی رانجھا 15840ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر آئی۔ پی پی 32سے مسلم لیگ ق کے عامر سلطان چیمہ 48522ووٹ لیکر پہلی اورپیپلز پارٹی کے خالد کلیار34853ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔ پی پی 33سے مسلم لیگ ن کے عبدالرزاق ڈھلوں 34941ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور پیپلز پارٹی کے محمد افضال مرزا28741ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 34سے مسلم لیگ ن کے رضوان گل 19255ووٹ لیکر پہلے اور پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر نادیہ عزیز 16723ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر حاصل کی۔ تاہم مسلم لیگ ن کے رضوان گل جعلی ڈگری کی وجہ سے نااہل ہوگئے اور 26جولائی2010ءکو ہونے والے ضمنی انتخاب میں آزاد امیدوار اعجاز کاہلوں کامیاب ہو گئے اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔پی پی 35سے پیپلز پارٹی کے کامل شمیل گجر 35518ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ق چوہدری فیصل فارق چیمہ 32753ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر رہے۔ پی پی 36سے پیپلز پارٹی کے رانا منور غوث 33221ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور مسلم لیگ ق کے فیصل جاوید گھمن 30427ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر آئے۔ پی پی 37سے مسلم لیگ ن کے غلام نظام الدین سیالوی 31539ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار محمد علی لاہڑی29892ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔پی پی 38سے مسلم لیگ ن کی شہزادی عمر زادی ٹوانہ 57510ووٹ لیکر کامیاب ہوئیں جبکہ مسلم لیگ ق کے محمد منیر قریشی 28268ووٹ لیکر دوسری پوزیشن پر آئے۔

11مئی2013ءکو ہونے والے انتخابات میں سرگودہا سے قومی و صوبائی حلقوں سے مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں پر نظر ڈالی جائے تو نظر آتا ہے کہ ان میں دو درجن کے قریب ایسے امیدوار ہیں جو اپنی وفادریاں تبدیل کر کے اب دوسری جماعتوں کے ٹکٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پی پی 28 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈا کٹر مختا ر بھر تھ نے 2008ءکے عا م انتخابات میں مسلم لیگ ق کے پلیٹ فا ر م سے کا میا بی حا صل کی تھی اور بعد میں مسلم لیگ ن میں شمولیت کر لی تھی اور اب بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہو لڈ ر ہیں ان کے مد مقا بل دونو ں امیدوار بھی اپنی سیا سی وفاداریاں تبدیل کر چکے ہیں تحر یک انصا ف کے امیدوار حسن انعا م پرا چہ اس سے قبل پیپلز پارٹی بعد میں مسلم لیگ ق سے وابستہ رہ چکے ہیں ان کے والد انعا م الحق پراچہ مسلم لیگ ق کے پلیٹ فا ر م سے سرگودھا کے ضلع نا ظم رہ چکے ہیں جب کہ ان کے تا یا احسان الحق پراچہ پیپلز پارٹی کے بزرگ سیا ست دا ن اور پیپلز پارٹی کے سا بق وفاقی وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں مسلم لیگ ق کی کمز ور حا لت کو دیکھتے ہو ئے پراچہ خا ندا ن نے تحر یک انصا ف میں شمولیت اختیا ر کی تھی اسی حلقہ میں خا تو ن امیدوار زوبیہ ربا ب بھر تھ جو اس سے قبل مسلم لیگ ق کی مخصو ص نشستوں پر رکن پنجا ب اسمبلی رہ چکی ہیں اس مر تبہ انہو ں نے بھی اپنی وفاداری تبد یل کر تے ہو ئے پیپلز پارٹی کی طر ف سے انتخاب لڑنے کو تر جیح دی ہے ۔

این اے 64سرگودہا I
ضلع سرگودھا میں قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی گیارہ نشستوں کے لئے مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے امیدواروں کے علاوہ آزاد حثیت میں انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔سرگودھا کے حلقہ این اے 64 میں پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے امیدوار ندیم افضل چن کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر امین الحسنات شاہ سے ہوگا اس حلقہ میں تحریک انصاف کی طرف سے قومی اسمبلی کی نشست کے لئے بظاہر کوئی مضبوط امیدوار سامنے نہیں آیا ۔مسلم لیگ ن کی خواہش تھی کہ حلقے میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ون ٹو ون مقابلہ ہو بہتر حکمت عملی کے باعث مسلم لیگ ن کو اس کی خواہش کے مطابق ون ٹو ون مقابلے کا موقع تو فراہم ہو گیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ حلقے میں کامیابی کون سے جماعت حاصل کرتی ہے ۔
این اے 64میں پی پی 28اور پی پی 29کے صوبائی حلقے آتے ہیں۔ حلقہ پی پی 29 کی صورت حا ل بھی کسی سے مختلف دکھا ئی نہیں دیتی یہا ں سا بق وزیر ٹرا نسپورٹ پیپلز پا رٹی سے مسلم لیگ ق میں اور بعد میں تحر یک انصا ف اور اب مسلم لیگ ن کے پلیٹ فا ر م سے انتخا ب میں حصہ لینے والے مہر غلا م دستگیر لک ان دنو ں میا ں نواز شر یف کے جھنڈ ے تلے انتخا ب لڑ رہے ہیں اسی حلقے سے مسلم لیگ ن کے سا بق ایم پی اے مہر رب نواز لک مسلم لیگ ن کی ٹکٹ نہ ملنے کے باعث مسلم لیگ ق کی طر ف سے انتخا ب میں حصہ لے رہے ہیں اس طر ح دو نو ں امیدوار اپنی سیا سی جما عتیں تبد یل کر کے نئی صف بند ی کے بعد نئی جما عتوں کی ٹکٹو ں پر الیکشن لڑ رہے ہیں ۔

این اے 65سرگودہا II
سرگودھا کے حلقہ این اے 65 میں مسلم لیگ ق کے امیدوار چوہدری غیاث احمد میلہ اپنی نشست کا دفاع کریں گے وہ گذشتہ دس سال سے اس حلقے سے قومی اسمبلی کا انتخاب جیت رہے ہیں ان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے امیدوار محسن شاہ نواز رانجھا اور تحریک انصاف کے امیدوار کرنل اعجاز حسین منہاس کے علاوہ آزاد خاتون امیدوار مدیحہ مظہر رانجھا سے ہو گا۔حلقے میں چوہدری غیاث احمد میلہ کی پوزیشن خاصی بہتر دکھائی دے رہی ہے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کو باہمی انتشار کے باعث مشکلات کا سامنا ہے ۔
این اے 65میں پی پی 30اور پی پی 31کے حلقے آتے ہیں۔ حلقہ پی پی 30 سے آ ز ا د حیثیت میں الیکشن جیتنے کے بعد مسلم لیگ ن میں شا مل ہو نے والے طا ہر سند ھو کا مقا بلہ تحر یک انصا ف اور جمعیت علما ءاسلام ف سے ہو گا ۔ حلقہ پی پی 31 میں سا بق ڈپٹی سپیکر پنجا ب اسمبلی میا ں منا ظر علی را نجھا جو اس سے قبل مسلم لیگ ق کی طر ف سے صوبا ئی وزیر بھی رہ چکے ہیں اس مر تبہ مسلم لیگ ن نے انہیں اپنا امیدوار نا مزد کیا ہے اور وہ اپنے بھا ئی مظہر علی رانجھا کے مد مقا بل امیدوار ہیں جو 2008 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے جب مسلم لیگ ن مشکل حالات سے دوچا ر تھی لیکن اب بہتر حا لا ت ہو جا نے کے باعث مسلم لیگ ن نے مظہر علی را نجھا کر تر جیح دینے کی بجا ئے سیا سی وفاداری تبد یل کر نے والے منا ظر علی را نجھا کو ٹکٹ دیا ہے ۔ جب کہ مظیر علی را نجھا آ زا د حیثیت میں الیکشن لڑیں گے ۔

این اے 66سرگودہاIV
حلقہ این اے 66 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار تسنیم احمد قریشی مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری حامد حمید جماعت اسلامی کے امیدوار ڈاکٹر ارشد شاہد جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار عبداللہ ممتاز کاہلوں سے ہوگا ۔اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے بیشتر رہنما پارٹی وابستگی چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شامل ہوچکے ہیں جبکہ تسنیم احمد قریشی اپنی تینوں صوبائی نشستوں پر سابقہ امیدوار دستیاب نہ ہونے کے باعث نئے امیدواروں کے ساتھ انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں ۔ان کے لئے بظاہر انتخاب جیتنا خاصا مشکل دکھائی دے رہا ہے لیکن حتمی فیصلہ گیارہ مئی کو ڈالے گئے ووٹ ہی کریں گے ۔ حلقہ این اے 66 سے آ ل پا کستان مسلم لیگ کی خا تون امیدوار قومی اسمبلی طیبہ ضمیر قر یشی بھی مسلم لیگ ن چھوڑ کر پر و یز مشر ف کی جما عت آ ل پا کستان مسلم لیگ میں شا مل ہو ئی ہیں وہ اس سے قبل مسلم لیگ ن کی مخصو ص نشستون پر پنجاب اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں ۔ طیبہ ضمیر قر یشی اس وقت مسلم لیگ ن سے وابستہ رہیں جب شر یف خا ند ا ن جنر ل پر و یز مشر ف کے اقتدار میں آ تے ہیں زیر عتا ب آ گیا تھا ۔ اب پر و یز مشر ف کا برا دور شروع ہو تے ہیں طیبہ ضمیر قریشی نے شر یف خا ندا ن کو خیر با د کہہ کر پر ویز مشر ف کی حمایت شروع کر دی ہے ۔
این اے66میں پی پی 33اور34کے صوبائی حلقے آتے ہیں۔حلقہ پی پی 33 میں بھی مسلم لیگ ن نے جس شخصیت کو ٹکٹ دیا ہے وہ اس سے قبل پا کستا ن پیپلز پا رٹی اور مسلم لیگ ق کی طر ف سے تحصیل نا ظم سرگودھا سمیت سا بق رکن پنجا ب اسمبلی بھی رہ چکے ہیں ملک شعیب اعوان اس مر تبہ پی پی33 سے مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر مسلم لیگ ق کے امیدوار چو ہد ر ی عا مر سلطان چیمہ کا مقا بلہ کر یں گے ۔ سرگودھا کنٹو نمنٹ بورڈ کے علاقے پی پی 34 سے بھی مسلم لیگ ن نے سیا سی وفاداری تبدیل کر نے والی خاتون کو ٹکٹ دیا ہے ڈاکٹر نا د یہ عز یز اس سے قبل پیپلز پارٹی کے پلیٹ فا ر م سے رکن پنجا ب اسمبلی رہ چکی ہیں لیکن اس مر تبہ وہ مسلم لیگ ن کی امیدوار ہیں اس حلقہ میں پیپلز پا رٹی کے امیدوار بھی اپنی ما ضی کی سیا سی جماعت پی ٹی آ ئی کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں خا ن آ صف خان پیپلز پارٹی کے با نی کا ر کنو ں میں شا مل ہیں تا ہم پارٹی سے بعض معا ملا ت میں اختلا فات کے بعد انہو ں نے پی ٹی آ ئی میں شمو لیت اختیا ر کر لی تھی اور عمرا ن خا ن کے قر بی سا تھیو ں میں شا مل تھے 2010 کے ضمنی الیکشن میں آصف خا ن نے عمر ا ن خا ن سے اختلافا ت کے باعث تحر یک انصا ف چھوڑ دی تھی ۔
این اے 67
حلقہ این اے 67 میں سابق وفاقی وزیر پیدوار چوہدری انور علی چیمہ کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی اور جماعت اسلامی کے امیدوار شمس نوید چیمہ سے ہو گا۔ اس حلقہ میں انور علی چیمہ گذشتہ سات مرتبہ مسلسل رکن قومی اسمبلی چلے آرہے ہیں اور اس مرتبہ بھی ان کی انتخابی مہم سے یہ تاثر عام ہے کہ شاید وہ باآسانی اپنا انتخاب جیت لیں گے ۔
این اے 67میں پی پی 35اور36کے صوبائی حلقے آتے ہیں۔ پی پی 35 میں بھی ایسے تین امیدوار حصہ لے رہے ہیں جو اپنی ما ضی کی جما عتوں کو خیر با د کہہ چکے ہیں پیپلز پارٹی کے سا بق ایم پی اے سردار کا مل شمعیل اب مسلم لیگ ن کے پلیٹ فا رم سے الیکشن لڑ رہے ہیں جب کہ محمو د بخش گیلا نی مسلم لیگ ق چھوڑ کر تحر یک انصا ف کی طر ف سے پنجا ب اسمبلی کی نشست کے امیدوار ہیں ۔ مسلم لیگ ق کے مو جو د ہ امیدوار فیصل فا رو ق چیمہ بھی مسلم لیگ ن میں شمو لیت اختیا ر کر نے کے بعداب واپس مسلم لیگ ق میں شا مل ہو کر اسی پلیٹ فا ر م سے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔حلقہ پی پی 36 میں بھی مسلم لیگ ن نے دیگر حلقو ں کی طر ح پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر آ نے والے سا بق ایم پی اے را نا منو ر غو ث کو ٹکٹ جا ر ی کی اجس کے باعث اس حلقے میں ن لیگ کے رہنما نذیر سو بھی آ زا د حیثیت میں انتخا ب لڑ رہے ہیں اس حلقے میں سا بق صو با ئی وزیر چو ہد ری فر خ جا وید گھمن کے صا حبزادے فیصل جا و ید گھمن جو اس سے قبل مسلم لیگ ن میں چلے گئے تھے اس مر تبہ مسلم لیگ ق کی طر ف سے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔
این اے 68
سرگودھا کا حلقہ این اے 68 اس لئے اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف خود الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سید نصرت علی شاہ اور تحریک انصاف کے امیدوار نور حیات کلیار سے ہو گا۔ نواز شریف کے مقابلے میں بظاہر یہ دونوں امیدوار کوئی زیادہ مضبوط دکھائی نہیں دے رہے تاہم نواز شریف مخالف امیدواروں کی انتخابی مہم زور شور سے جاری ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ نواز شریف کو کسی صورت بھی کامیابی حاصل کرنے نہیں دیں گے یہاں پر مسلم لیگ ن اگرچہ صوبائی امیدواروں کے مسئلے پر انتشار کا شکار ہیں تاہم میاں محمد نواز شریف کے انتخاب لڑنے سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں پایا جانے والا انتشار کسی حد تک ختم ہو جائے گا۔میاں محمد نواز شریف کی انتخابی مہم سابق صوبائی وزیر چوہدری عبدالغفور چلارہے ہیں وہ اس سے قبل 2010 کے ضمنی انتخاب میں سرگودھا کے حلقہ پی پی 34 کی انتخابی مہم کے انچارج تھے لیکن مسلم لیگ ن یہاں سے نشست ہار گئی ۔
این اے68میںپی پی 37اور38آتے ہیں ۔ پی پی 37 میں پی ٹی آ ئی کے امیدوار غلا م علی اصغر لا ہڑ ی، مسلم لیگ ق کی طر ف سے تحصیل نا ظم سا ہیوال کے عہد ے پر فا ئز رہے ہیں لیکن اب جماعت تبدیل کر کے تحر یک انصا ف کے امیدوار ہیں یہی صو ر ت حا ل پی پی 38 میں ہے جہا ں مسلم لیگ ن کے امیدوار منیر قر یشی اس سے قبل مسلم لیگ ق کے پلیٹ فا ر م سے رکن پنجا ب اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں اور اب مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں اسی حلقے میں تحر یک انصا ف کے امیدوار افتخا ر گو ند ل بھی اب اپنی سا بق جما عت چھوڑ کر پی ٹی آ ئی کے ٹکٹ پر صو با ئی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔

اگر 2008ءکے انتخابات کو مڈنظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیٹ ایدجسٹمنٹ کی وجہ سے سرگودہا کی بیشتر سیٹوں سے پاکستان مسلم لیگ ن کا کامیاب ہونا بہت ہی مشکل نظر آ رہا ہے۔ تاہم اب دن دور نہیں ہے اور میدان سجنے والا ہے۔ اس میں کون سی پارٹی کون کون سی سیٹ سے کامیاب ہوتی ہے یہ وقت ہی بتلائے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s