متفرق

میانوالی سے عمران خان ہی جیتے گا

منصور مہدی
Imran-Khanمیانوالی صوبہ پنجاب کا ایک اہم مگر پسماندہ شہر ہے۔جس کی آبادی 1998ءکی مردم شماری کے مطابق 10,56,620 اور اب 14لاکھ کے قریب ہے۔ انتظامی طور پریہ تین حصوں میں تقسیم ہے۔جس میںتحصیل میانوالی،تحصیل عیسیٰ خیل اورتحصیل پپلاںشامل ہے ۔میانوالی ضلع 5840 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔

ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی کتاب تاریح میانوالی میں لکھا ہے کہ ماضی میں میانوالی کے کئی نام تھے۔یہ کبھی دھنوان اور کبھی شبوان کہلایا۔ کسی دور میں اسے رام نگر اور کسی میں ستنام کے نام سے پکارا گیا۔ سردار محمد خیات خان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ یہ علاقہ دریا کے کنارے پر ہونے کی وجہ سے کچھی بھی کہلایا۔تاریخ میانوالی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم ملک اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔ کہ کہ جب سندھ 712/711 عیسوی میں فتح ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہوا تو اس علاقے میں بھی مسلم مبلغ آنے شروع ہوئے تب ایک روایت کے مطابق مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں 1584ءمیں شیخ جلال الدین اپنے بیٹے میاں علی کے ہمرا تبلیغ و اشاعت دین کی خاطر بغداد سے ہندوستان آئے اور یہاں پر قیام کیا۔ چنانچہ میاں علی سرکارکے نام پر یہ میانوالی کہلوانے لگا۔

سرائیکی وسیب کے اس خطے میں انسانی آباد کاری کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ ماضی میں یہاں چار بڑی قومیں آباد ہوئیں۔ جیسے شمال مشرق سے اعوان، جنوب سے جٹ اور بلوچ جبکہ شمال مغرب سے پختون قبائل یہاں آکر آباد ہوئے ۔اعوان قوم کوہ نمک کے علاقے خدری،پکھر وغیرہ میںساتویں صدی عیسوی میں عرب حملہ آوروں کے دور میں یہاں آ کر آباد ہوئی۔پندرہویں صدی سے کچھ قبل جٹوں کے مختلف قبائل، سیال،چھینے اورکھوکھر وغیرہ دریائے سندھ کے جنوبی حصوں ملتان اور بہاولپور سے ہجرت کر کے ڈیرہ اسماعیل خان اورمیانولی کے زیریں حصے میں آباد ہوئے۔ان کے بعد بلوچوں نے اس خطے میں قدم رکھا۔ لیکن جٹوں کے بر عکس بلوچ قبائل منظم انداز میں اوربہت بڑی تعدا د میں کوہ سلیمان کے علاقوں میں آکر آباد ہوئے۔ اگرچہ میانوالی میں وہ اتنی بڑی تعداد میں آباد نہ ہوئے کہ جتنا ڈیرہ اسماعیل خان میں آئے۔

موجودہ ضلع میانوالی میں اتنی زیادہ قوموں خصوصاً پختونوں کی آبادی کے باوجویہ سرائیکی علاقے میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کی معروف نیازی برادری خالص سرائیکی بولتی ہے ۔حالانکہ آج سے کوئی ڈیڑھ سو سال قبل جب یہ قوم ٹانک سے نقل مکانی کر کے میانوالی میں آباد ہوئی تو اس وقت انکی زبان پشتو تھی۔اسکے علاوہ میانوالی شہر کے اندر شہباز خیل،موسیٰ خیل،موچھ اورساون برادری بھی سرائیکی بولتے ہیں۔ جٹ برادری بھی سرائیکی بولتی ہے۔میانوالی میں خٹک قوم کے افراد زیادہ تر عیسیٰ خیل ،بھنگی خیل،سلطان خیل اور مکڑ وال میں آبا دہیں ۔ جو بنیادی طور پر پشتو ن ہیں مگروہ بھی روانی سے سرائیکی بولتے ہیں۔ کوہ نمک کے علاقے میں اعوان قومبھی پوٹھوہاری لہجے میں سرائیکی بولتی ہے۔

ضلع میانوالی 2قومی اور 4صوبائی حلقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ق، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف چار بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ اگر 1970ءسے ابتک ہونے والے 8جماعتی اور ایک غیر جماعتی قومی انتخابات پر نظر ڈالی جائے تو میانوانی سے جیتے والی پارٹیوں میں بالترتیب پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان مسلم ق شامل ہیں۔جبکہ یہاں سے آزاد امیدواروں کے جیتنے کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر تمام انتخابات میں سیاسی پارٹیوں کو ایک اکائی اور آزاد امیدواروں کو دوسری اکائی تصور کیا جائے تو یہ دونوں اکائیاں ایک دوسرے کے برابر شمار ہوتی ہیں۔

اگر ماضی کے انتخابات کو نظر میں رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو اگر اس بار پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کی یہاں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو جاتی ہے تو ممکن ہے کہ نوابزادہ ملک عماد خان جو اس حلقے میں اس بار بھی امیدوار ہیں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بار ملک عماد خان کی بجائے ان کے بھائی ملک فواد خان انتخاب میں حصہ لیں گے۔ لیکن ان دونوں بھائیوں میں سے کسی ایک کے بھی حصہ لینے سے ان کا ووٹ بنک متاثر نہیں ہوگا۔

تاہم نواب فیملی کی عائلہ ملک نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہوئی ہے جو این اے 71سے عمران خان کی الیکشن مہم کی انچارج بھی ہے ۔ نواب خاندان کے ووٹ بنک کو متاثر کر سکتی ہیں۔ کیونکہ عائلہ ملک نے تاریخی بوہڑ بنگلہ کو پاکستان تحریک انصاف کاانتخابی دفتر بنا کر یہاں کی سیاسی فضا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ جبکہ عمران خان نے بھی دسمبر2012ءسے اپنے حلقے میں عوامی رابطہ مہم کرکے سارے شکوک و شبہات اور سیاسی چہ میگوئیوںکا قلع قمع کردیا ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس حلقے کی عوام عمران خان کے وزیراعظم کے امیدوار ہونے کی وجہ سے عمران خان کا بھرپور ساتھ دینے کو تیار ہے ۔جس کی وجہ سے دوسری جماعتوں کو پذیرائی ملنے کا امکان کم ہے۔ کیونکہ ایک تو عمران خان کی بحیثیت کرکٹر ، سماجی کارکن اور بین الاقوامی شخصیت کے طور پر یہاں کے عوام خصوصاً نوجوان انھیں پسند کرتے ہیں تو دوسری طرف عمران خان نے پاکستان کے روایتی حکمرانوں کے بارے میں جو سوالات ا±ٹھا رہے ہیں وہ اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں ۔اور کوئی بھی حکمران ان سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین اپنے ماضی سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے اور جیسے جیسے ملک کی معاشی بدحالی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عمران خان کی شخصیت نکھر کر سامنے آ رہی ہے۔

ضلع بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ق بھی توقع سے ہٹ محنت کر رہی ہے مگر کچھ عرصے سے پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف میانوالی میں ذاتی دلچسپی لےتے رہے ہیں۔ سیلاب زدگان کے امدادی کاموں کی نگرانی کی آڑ میں میاں شہباز شریف نے میانوالی کے10 کے قریب دورے کیے تھے۔ جن سے یقینا پاکستان مسلم لیگ (ن ) کییہاں پر پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے لاہور میں بھی اس حلقے کے حوالے سے کئی اجلاس منعقد کئے تھے۔ ان اجلاسوں کا مدعا بھی یہ ہی تھا کہ میانوالی میں دیگر سیاسی جماعتوں خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔

میانوالی کا علاقہ معدنیات کی دولت سے مالامال ہونے کے باوجود معاشی بد حالی میں مبتلا ہے۔حالانکہ موسیٰ خیل،مکڑوال،بوری خیل،اور عیسیٰ خیل کے پہاڑوں سے نکالی جا نے والی معدنیات پاکستان کی زیادہ تر صنعتوں کا پہیہ رواں رکھنے میں ممد و معان ہیں۔اس حلقہ میںخاطر خواہ انڈسٹری کے قیام کی جانب توجہ نہ دینے کی وجہ سے غربت،بیروزگاری عام ہے۔ داﺅد خیل میں آج سے تقریباً ساٹھ سال پہلے قائم کی گئی فیکٹریز اور کارخانوں میں مزید کوئی اضافہ نہ ہوا ہے۔ تا ہم یہاں کے امیر افراد نے زیادہ تر سرمایہ کاری دیگر اضلاع میں کی ہوئی ہیں۔

ضلع کی اہم سیاسی شخصیات میں عبیداللہ خان شادی خیل، عمران خان، عائلہ ملک، انعام اللہ نیازی، شوکت پرویز خان، امجد علی خان، حمیر حیات روکھڑی، انعام اللہ خان نیازی، ملک سجاد بھچر، خالد اعوان، گل کمند خان، حافظ جاوید اقبال ساجد، امانت اللہ شادی خیل، جمال احسن خان، عبدالرحمن خان ببلی، خورشید احمد خان، ڈاکٹر صلاح الدین نیازی، عادل عبداللہ روکھڑی، رضاءالمصطفیٰ خان،سردار بہادر خان سوانسی،عبدالوہاب خان نیازی، علی حیدر نور خان نیازی، آئی جی (ر) حبیب اللہ نیازی،احمد خان بھچر، شوکت پرویز خان، سردار سبطین خان، ملک محمد فیروز جوئیہ، صاحبزادہ سعید احمد، رخسانہ بنیاداور دیگر افراد شامل ہیں جبکہ کاروباری افراد میں یہاں پر زیادہ تر روکھڑی خاندان، نیازی خاندان، بندیال اور شادی خیل خاندان کے افراد شامل ہیں جو ٹرانسپورٹ کی صنعت سے منسلک ہیں۔

تاہم ابھی میانوالی کی سیاست کے بارے زیادہ وثوق کے ساتھ کسی بھی پارٹی کی جیت کے بارے میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہاں کی تاریخ بتلاتی ہے کہ یہاں پر زیادہ اثر ورسوخ نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کے خاندان اور ان کی اعوان برادری کا ہے۔ این اے 71سے ملک عماد خان بھی نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کے پڑ پوتے ہیں۔ جنہوں پاکستان کی تاریخ میں اس حلقے سے اب تک سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ روکھڑی خاندان بھی یہاں سے کامیاب ہوتا چلا آیا ہے۔ لہذا یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جن جماعتوں یا امیدواروں کو یہاں کی بڑی برادریوں کی حمایت حاصل ہو جائے گی وہ جیت جائیں گے۔

ضلع میانوالی کے دو قومی اور چار صوبائی حلقوں میں ووٹرز کی تعداد کچھ اس طرح ہے۔این اے 71میانوالی I کی کل آبادی 510911 نفوس پر مشتمل ہے جبکہ کل ووٹرز کی تعداد 307223 ہے۔جن میں سے مرد ووٹرز 158369اور خواتین ووٹرز 148854،این اے 72میانوانی II کی کل آبادی 545709 اور کل ووٹرز 312785 ہیں ۔ جن میںمرد ووٹرز 161705اور خواتین ووٹرز 151080ہیں۔پی پی 43میانوالی Iمیں کل ووٹرز 149576 ہیں ۔ جن میںمرد ووٹرز 76994 اورخواتین ووٹرز 72582ہیں۔پی پی 44میانوالی IIمیں کل ووٹرز157647ہیں۔ جن میںمرد ووٹرز 81375 اور خواتین ووٹرز 76272 ہیں۔پی پی 45میانوالی III میں کل ووٹرز 166009 ہیں جن میںمرد ووٹرز 84903 اور خواتین ووٹرز 81106 ہیں۔پی پی 46میانوانیIVمیں کل ووٹرز 146776ہیں۔ جن میںمرد ووٹرز 76802 اور خواتین ووٹرز 69974 ہیں۔

ضلع میانوالی کے دو قومی اور چار صوبائی حلقے میانوالی شہر، عیسیٰ خیل، داﺅد خیل، قمر مشانی، کالاباغ، تبوکائی خیل، لنڈا، شین گنڈ، چپڑی، سلطان خیل، ونجرائی، کلور، ترگ، موچھ، سن وان، روکھڑی، مسان، ڈبکائی، سمند والا، سلوان، کندیاں، میانوالی شہر، موسیٰ خیل، چھیدرو، نگائی، تبی، بھکرا، سجھاری، کبرائی، کھچی، بلوالہ، ہرنولی، فتح خان والا، کھوا وار، جھنگی، پیپلاںآلو والی، ڈب اور دیگر مضافاتی علاقے شامل ہیں۔

پنجابی ، بلوچ اور پشتون کلچر پر مشتمل اس علاقے میں مختلف برادریاں آباد ہیں۔یہاں پر نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کی ملک اعوان فیملی بڑے اثر و رسوخ کی مالک ہے۔ ان کے علاوہ اس حلقے میں جیلانی سادات اور کاظمی سادات بھی اثر و رسوخ کا حامل ہے۔جبکہ دیگر قبائل میں قریشی، قاضی، سنبل، مشانی، خٹک، بلوچ، مغل، بھچر، مہاجرین، خوجے اور وتہ خیل شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑی اثر و رسوخ والی فیملی نیازی ہے۔یہ بنیادی طور پر پشتون ہیں جو افغانستان سے آکر آباد ہوئے۔ آج بھی کچھ نیازی قبیلے پشتو بولتے ہیں جن میں سلطان خیل اور بوری خیل سر فہرست ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی اسی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔نیازیوں میں سب سے بڑا قبیلہ عیسیٰ خیل ہے۔ جس نے تمام نیازیوں کی نمایندگی کرتے ہوئے نادر شاہ کے ساتھ مل کر جنگ کی اور نواب کا خطاب پایا تھا۔ جبکہ نیازیوں کے دیگر قبائل میںبلوخیل، سلطان خیل، بوری خیل، موسیٰ خیل، سہراب خیل، بہرام خیل،زادے خیل، خنکی خیل، پنو خیل،شہباز خیل، شیرمان خیل،عالم خیل،تاجے خیل اور روکھڑی خیل شامل ہیں۔ تاہم ان میںاب روکھڑی فیملی بھی ایک اپنا علیحدہ مقام رکھتی ہے۔

اگرچہ کوئی بھی برادری مکمل طور پر کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کے ساتھ نہیں ہے ۔ مگر ملک اعوان برادری کا کچھ حصہ عائلہ ملک کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف، اور کچھ حصہ ملک عماد خان اور ملک فواد خان کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور کچھ حصہ پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں۔ اسی نیازی برادری کی ایک بڑی اکثریت پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان کے ساتھ ہے۔ کیونکہ عمران خان خود بھی نیازی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ نیازیوں میں سے ہی بہت سے خاندان پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں۔جبکہ انعام اللہ خان نیازی کی وجہ سے نیازی برادری کے بیشتر افراد کسی سیاسی جماعت کا ساتھ نہیں دے رہی کیونکہ انعام اللہ خان نیازی اس بار آزاد انتخاب لڑ رہے ہیں۔ عبیداللہ خان شادی خیل اور امانت اللہ شادی خیل کی وجہ سے شادی خیل براداری کی ایک بڑی اکثریت پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے۔ احمد خان بھچر کی وجہ سے بھچر برادری پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔

اگر نئی صدی کے صرف دو انتخابات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے تو 2002ءکے انتخابات میں این اے 71میانوالیIسے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 66733ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ یہ حلقہ ملکی سیاست میں ہمیشہ ایک اہم حلقہ انتخاب رہا ہے۔ یہ عمران خان کا آبائی حلقہ ہے۔اور پاکستان تحریک انصاف کا ایک مضبوط حلقہ رہا ہے اور اس حلقہ میں تنظیمی ڈھانچہ بھی انتہائی فعال رہا ہے۔جبکہ اسی انتخاب میں دوسرے نمبر 60533ووٹ لیکر پاکستان مسلم لیگ ق کے عبید اللہ خان شادی خیل رہے۔ جبکہ این اے 72میانوالی IIپاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر شیر افگن خان نے 50210ووٹ لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے ملک محمد فیروز جوئیہ نے 46246ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار انعام اللہ خان نیازی 13558ووٹ لیکر تیسری پوزیشن پر آئے۔

2002ءکے صوبائی انتخابات میں پی پی 43میانوانی I پاکستان مسلم لیگ ق امانت اللہ خان شادی خیل29379ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور پاکستان تحریک انصاف کے محمد وجیع الدین خان 17966ووٹ لے کر دوسے نمبر پر آئے۔پی پی 44میانوانی IIسے گل حمید خان نےپاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر32212ووت حاصل کیے اور کامیاب ہوئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سید جی ایم شاہ27761ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔پی پی45 میانوالی III سے پاکستان مسلم لیگ ق کے گل حمید خان22040ووٹ لیکر پہلے اور پاکستان مسلم لیگ ن کے ملک ممتاز احمد بچیار18168 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔پی پی 46میانوالی IVسے پاکستان مسلم لیگ ق کے محمد سبطین خان36815 ووٹ لیکر پہلے اور آزاد امیدوار ظفر سعید رانا دوسرے نمبر پر آئے۔
2008ءمیں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے این اے71میانوالیIسے آزاد امیدوار نوبزادہ ملک عماد خان 83098ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ جنہوں نے بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور جو اب وفاقی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کے عہدے پر فائز رہے۔ چنانچہ اس بائیکاٹ نے عمران خان کے اس حلقے کو کافی حد تک نقصان پہنچایا۔

2008ءکے انتخابات میں پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا ہوا تھا چنانچہ ان کے امیدوار میدان میں نہیں تھے۔ 2008ءمیںاین اے 71میانوانیIسے آزاد امیدوار نوابزادہ ملک احمد خان نے 83098ووٹ حاصل کیے اور کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار امانت اللہ خان شادی خیل نے 73013ووٹ لیے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صرف 4260اور پاکستان مسلم لیگ ن 2087ووٹ لے سکے۔ جبکہ این اے 72میانوالیIIسے آزاد امیدوار حمیر حیات خان روکھڑی49294ووٹ لیکر پہلی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے ڈاکٹر شیر افگن 46931ووٹ لیکر دوسری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے انعام اللہ نیازی 44868ووٹ لیکر تیسری پوزیشن پر آئے۔

2008ءکے صوبائی انتخابات میں آزاد امیدوار عبدل حفیظ خان 38022ووٹ لیکر پہلے،آزاد امیدوار امانت اللہ خان شادی خیل37419ووٹ لیکر دوسرے اور پاکستان مسلم لیگ ن کے حاجی محمد احمد خان 3836ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر آئے۔پی پی 44میانوالیIIسے پاکستان مسلم لیگ ن کے عادل عبداللہ خان روکھڑی 45501ووٹ لیکر پہلے، آزاد امیدوار ملک طارق معسود کھنڈ 36067ووٹ لیکر دوسرے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد سردار بہادر بابر خان تیسرے نمبر پر آئے۔

میانوالی کی نئے مجوزہ صوبے بہاولپور جنوبی پنجاب میں شمولیت کے حوالے سے بھی ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی میانوالی کی نئے صوبے میں شمولیت مخالفت کی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے بھی بیشتر کارکن مخالفت کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس حلقے کے عوام نئے صوبے کے قیام کے تو مخالف نہیں مگروہ نئے صوبے کی بجائے سینٹرل پنجاب کے ساتھ رہنے کے خواہشمند ہیں۔چنانچہ اس بار انتخابات میں سیاسی پارٹیاں جو دیگر کارڈ کھیل رہی ہیں ۔ان میں نئے صوبے کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

انتخابات 2013 ءمیںاین اے 71 میانوالی Iسے عبیداللہ خان شادی خیل پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں ۔ یہ شادی خیل برادری میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اور برادری کے لوگ بھی ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔ 2002ءکے انتخابات میں یہ پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس بار یہ ن لیگ کے امیدوار ہے۔ اگرچہ اس حلقے سے ان کے جیتنے کے امکانات کافی ہیں مگر اس بار ان کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان سے ہے جو اس حلقے سے ان کے مد مقابل ہے۔ جن کے یہاں سے جیتنے کی توقع کی جا رہی ہے۔اسی حلقہ سے انعام اللہ خان نیازی بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ پہلے پاکستان تحریک انصاف میں شامل تھے مگر پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہ ملنے پر یہ الگ ہو گئے اور اسی حلقہ سے اپنی پارٹی کے چیئر مین کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔شوکت پرویز خان پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ان کا بھی اس حلقہ میں بہت اثر و روسوخ ہے۔اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی کی گذشتہ دور میں کائی اچھی کارکردگی تو نہیں تھی۔ چنانچہ پارٹی بنیاد پر تو انھیں مخصوص ووٹ تو ضرور ملے گے مگر اصل ووٹ یہ اپنے خود نکالیں گے۔تاہم اس حلقے میں اصل مقابلہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کا ہی ہو گا۔

این اے 72 میانوالی IIسے امجد علی خان اس بار پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلے میں حمیر حیات خان روکھڑی پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔ خالد اعوان پاکستان پیپلز پارٹی اور حافظ جاوید اقبال ساجد جماعت اسلامی کے امیدوار ہیں۔اگرچہ چاروں جماعتوں کے یہ امیدوار اپنے اپنے طور بہت مضبوط ہیں اور ان کے ساتھ حلقے کی مختلف برادریوں کے افراد بھی ہیں مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس حلقے میںبھی اصل مقابلہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں ہی ہو گا۔اسی حلقے سے دو امیدوار آزاد الیکشن بھی لڑ رہے ہے۔ جن میں ملک سجاد بھچر اور گل کمند خان شامل ہیں۔ سجاد بھچر کے ساتھ بھچر برادری اور گل کمند خان کے ساتھ پشتون برادری کی ایک بڑی اکثریت ہے۔ یہ دونوں بھی اس حلقے میںصورتحال کو بدل سکتے ہیں۔

صوبائی سیٹ پی پی 43 میانوالی I سے امانت اللہ شادی خیل پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کے امیدوار ہیں ۔ یہ حلقہ این اے 71میں آتا ہے کہ جہاں سے عبید اللہ خان شادی خیل ن لیگ کے امیدوار ہیں۔ اس طرح شادی خیل برادری کی اکثریت ان کے ساتھ ہے۔جبکہ ان کے مقابلے میں جمال احسن خان پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ یہ بھی ایک بڑے مضبوط امیدوار ہیں۔ انھیں پارٹی کے علاوہ اپنی برادری کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ خورشید احمد خان جماعت اسلامی کے امیدوار ہیں۔جبکہ اس حلقے سے ، عبدالرحمن خان ببلی آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں۔
پی پی 44 میانوالی IIسے ڈاکٹر صلاح الدین نیازی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں اور ان کے مقابلے میں عادل عبداللہ روکھڑی پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔ یہ دونوں بڑے مضبوط امیدوار ہیں۔جبکہ سردار بہادر خان سوانسی پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی انہی کی ٹکر کے ہیں۔اگرچہ عبدالوہاب خان نیازی جماعت اسلامی کے بھی خاصے مضبوط امیدوار ہیں۔اسی صوبائی حلقے سے رضاءالمصطفیٰ خان آزاد، امیدوار ہیں۔ مگر اصل مقابلہ پاکستان پٹریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہی ہوگا۔

پی پی 45میانوالی III سے علی حیدر نور خان نیازی پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک مضبوط امیدوار ہیں اور ان کے مقابلے میں احمد خان بھچر پاکستان تحریک انصاف کے زبردست امیدوار ہیں۔ جبکہ شوکت پرویز خان پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔اسی حلقے سے ایک اور امیدوار آئی جی (ر) حبیب اللہ نیازی آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔اگرچہ آئی جی (ر) حبیب اللہ نیازی بھی کسی طرح کم مضبوط امیدوار نہیں ۔ تاہم اس حلقے میں بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی اصل مقابلہ ہوگا۔ مگر کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک آئی جی (ر) حبیب اللہ نیازی کے کامیاب ہونے کی پیشن گوئی کی جا رہی ہے۔

پی پی 46 میانوالی IV سے سردار سبطین خان پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ جن کے مقابلے میں ملک محمد فیروز جوئیہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔ اور رخسانہ بنیادپاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار ہیں۔اسی حلقہ سے صاحبزادہ سعید احمد آزاد امیدوار ہیں۔ مگر تزیہ کاروں کے نزدیک سردار سبطین خان ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ تاہم رخسانہ بنیاد بھی الیکشن کو اپ سیٹ کر سکتے ہیں۔

ابھی تک کی صورتحال میں تو مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ میانوالی میں کون سے پارٹی اکثریت حاصل کرے گی ۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان مسلم لیگ ن ہی کے درمیان ہی 11مئی کو اصل مقابلہ ہو گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s